This is your very difficult to us. Our captain was not with us last 5 months. Moving 2024 with this hope our captain will be back and he will be become next prime Minister of Pakistan ❤️
بے خبر ذرایع کے مطابق اٹھائیسویں ترمیم تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔
اس کی وجہ آفتاب اقبال کی وہ گفتگو بتائی جارہی ہے جس میں انہوں نے مصدقہ ذرائع سے معلوم کرکے بتایا ہے کہ اللہ نے ایک شخص کو مملکت کے حالات سدھارنے کیلیے بھیج دیا ہے۔
اس شخص کی عمر 45 سال ہے اور تعلق بنو ہاشم سے ہے۔
اب اٹھائیسیوں ترمیم میں کچھ اہم نکات شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
1۔ سن اڑسٹھ میں پیدا ہونے والے تمام شہریوں کے شناختی کارڈ میں ترمیم کی جائے گی۔
2۔ یہ تمام شہری اپنی پیدائش کالعدم تصور کریں گے
3۔ ان کی پیدائشن سن اناسی سے تصور کی جائے گی۔ ان کے مستقل اور عارضی پتوں پر بھی کام ہوگا۔
4۔ ایک صاحب، جن کو سورہ احزاب بھی یاد ہوگی، ان کا قبیلہ بدل کر بنو ہاشم کر دیا جائے گا۔
مذکورہ نئے اور اہم نکات کو شامل کرنے کی وجہ سے اٹھائیسویں ترمیم ذرا سی موخر ہوگئی ہے، تاہم انتسویں ترمیم فوری طور پر لائی جائے گی۔ اس میں سادہ سے تین نکات ہوں گے۔
1۔چونکہ بنو ہاشم کا لڑکا آچکا تھا، تو اب یہ تصور کرنا لازم ہوگا کہ پاکستان کے حالات اچھے ہوگئے ہیں۔
2۔ جو ایسا تصور نہیں کرے گا وہ یقینا آئین کی خلاف ورزی کرے گا۔
3۔ کسی نے سوچے سمجھے بغیر پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا تو اس کو تین ماہ کے لیے لامکان اکیڈمی بھیجا جائے گا۔
وہاں اسے بہت پیار محبت سے سکھایا جایے گا کہ بیٹا پلین انگریزی میں آئین ایسے پڑھتے ہیں۔
After finishing my grocery run, I refilled my snack stash and grabbed a cup of tea from the filling station...
It somehow made my entire day.
No idea why, but that tea just hits differently. ☕
Have you ever tried tea from a filling station?
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے بیانہ ساز اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ عوام کو اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا نظام کیسا ہے جمہوریت ہے مارشل لاء یا بادشاہت ہے بلکہ اگر عوام کا میعار زندگی اچھا ہو رہا اور ان کو روٹی کپڑا مکان میسر ہے تو نظام جو بھی ہو وہ خوش ہوتے ہیں یہ بات بالکل حقیقت کے بر خلاف ہے روٹی کپڑا مکان انسان کی بنیادی ضروریات ہیں مگر اس سے زیادہ انسانی فطرت میں یہ شامل ہے کے حکمران اس کی مرضی کا ہو ، شخصی آزادی حاصل ہو ، اظہارے رائے کی آزادی ہو اور جان و مال کا تحفظ ہو ان چار چیزوں میں سے ایک بھی نہ ہو اور روٹی کپڑا مکان میسر ہو تب بھی انسانی شعور خود کو قیدی محسوس کرتا ہے
یہ تمام چیزیں موجودہ دور میں انسان کو جمہوریت نے دی ہیں ان ان حقوق کی خواہش روٹی کپڑا اور مکان سے زیادہ رکھتا ہے کیونکہ یہ حقوق عزت نفس ، انسانی خود مختاری اور انسان ہونے کا احساس ہیں
کامیاب سے کامیاب ترین بادشاہتوں میں بھی بغاوتیں اس لیے نہیں ہوتی رہی کے لوگوں کو روٹی کپڑا اور مکان میسر نہیں تھا بلکہ وہاں بادشاہت ایک نظام کی صورت میں ہونے کے باوجود لوگ یہ سمجھتے تھے کے موجودہ بادشاہ ان کی مرضی کا نہیں اس سے آگے بڑھیں اور خلافت راشدہ میں جائیں خلیفہ سوئم جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے خلاف بغاوتوں کے اصل محرکات یہی تھے وہاں حضرت عثمان کی شخصیت اور کردار کے سب لوگ گواہ تھے فتوحات کی وجہ سے مسلمانوں کا معیار زندگی بہترین تھا اس کے ساتھ مسلمان اس وقت کی ایک عالمی طاقت تھے ان سب کے ساتھ حضرت عثمان کو صحابی ہونے کا ٹائٹل بھی حاصل تھا مگر باغیوں کا مطالبہ کیا تھا وہ سمجھتے تھے کے حکومتی معاملات میں ہمیں نظر انداز کر کے مرضی کے فیصلے کیے گے یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس نے مسلمانوں کے ہاتھوں خلفیہ کا خون کروا دیا اور مسلمان دو حصوں میں بٹ گے وہاں خلیفہ کو ہٹانے کا چونکہ نظام موجود نہیں تھا تو اس کا یقینی نتجہ قتل غارت نکلا پھر آپ اسی چیز کو پوری مسلمانوں کی تاریخ میں دیکھیں گے کے کتنے حکمران اقتدارِ کی منتقلی کا طریقہ نہ ہونے کی وجہ سے قتل ہوئے بلاآخر مغرب نے آ کر انسانیت پر احسان عظیم کیا اور ایک ایسا نظام دیا جس میں حکمران کی تقریری اور برطرفی کا اختیار قوم کے ہاتھ میں بغیر خون بہائے آ گیا
اس لیے یہ کہنا کے عوام کو نظام سے کوئ غرض نہیں ایک لغو غیر علمی اور گمراہ کن بات ہے انسان صرف پیٹ نہیں رکھتا بلکہ شعور وقار آزادی کی خواہش بھی رکھتا ہے اور اس خواہش کو وہ پیٹ سے پہلے رکھتا ہے اور کوئ بھی نظام اس کو دبا نہیں سکتا انسانی تاریخ کا ہر طالب علم اس بات کا گواہ ہے
بقلم خود
عالیہ حمزہ نے کس کے کہنے پر عمران خان کے نام پر جھوٹ بول کر احمد چھٹہ کی جگہ علی امیتاز واڑئچ جیسے نااہل شخص کو سینٹرل پنجاب کا صدر لگایا
@aliya_hamza@MashwaniAzhar