کائنات۔۔۔ قرآن کی نظر میں۔۔۔ قسط 6
کائنات۔۔۔ اطاعت میں ہے، پھر انسان کیوں نہیں؟
آپ نے کبھی غور کیا ہے...
اس لمحے...
جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہیں...
ایک پوری کائنات...
خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
سورج...
اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے۔
چاند...
اپنی منزلیں طے کر رہا ہے۔
زمین...
اپنے مدار میں گردش کر رہی ہے۔
سمندر...
اپنی حدوں میں قائم ہیں۔
ہوائیں...
اپنے مقرر کیے ہوئے نظام کے مطابق چل رہی ہیں۔
یہ سب...
خاموشی سے ہو رہا ہے۔
کائنات کا ہر نظام ایک مقررہ نظم کے تحت چل رہا ہے۔
کوئی چیز اپنی حد سے تجاوز نہیں کرتی، بلکہ پوری کائنات اپنے رب کے مقرر کیے ہوئے راستے پر قائم ہے۔
کبھی کسی سورج نے...
اپنی مرضی سے راستہ بدلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔
کبھی کسی چاند نے...
اپنی منزل چھوڑنے کی ضد نہیں کی۔
کبھی کسی سمندر نے...
یہ نہیں کہا...
کہ آج اپنی حدیں توڑ دوں۔
ہر چیز...
اپنی جگہ پر ہے۔
اپنی حد میں ہے۔
اپنے رب کے حکم پر ہے۔
پوری کائنات...
خاموش ہے۔
مگر...
اس خاموشی کے اندر...
ایک حقیقت مسلسل بول رہی ہے۔
اطاعت کی حقیقت۔
پھر...
قرآن...
اسی خاموش کائنات کا ایک ایسا منظر دکھاتا ہے...
جہاں اطاعت...
صرف ایک خیال نہیں رہتی۔
بلکہ...
ایک حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔
ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا ۖ قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ
"پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا، جبکہ وہ دھواں تھا، پھر اس نے آسمان اور زمین سے فرمایا: خوشی سے آؤ یا مجبوراً۔ دونوں نے عرض کیا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔"
(سورۃ فصلت: 11)
ذرا...
اس منظر کو اپنے ذہن میں دیکھیے۔
خالق کا حکم...
اور آسمان و زمین کا جواب۔
نہ کوئی سوال۔
نہ کوئی ہچکچاہٹ۔
نہ کوئی تاخیر۔
صرف ایک جواب...
"أَتَيْنَا طَائِعِينَ"
"ہم خوشی سے حاضر ہیں۔"
یہ صرف ایک جواب نہیں...
یہ پوری کائنات کا تعارف ہے۔
اللہ کے حکم کے سامنے...
بغیر تردد...
سرِتسلیم خم کر دینا۔
یہی...
کائنات کی اطاعت ہے۔
اور...
یہ صرف آسمان اور زمین کی بات نہیں۔
قرآن...
اس منظر کو مزید وسیع کر دیتا ہے۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يَسْجُدُ لَهُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُومُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ...
"کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور تمام جاندار اللہ ہی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں۔"
(سورۃ الحج: 18)
ذرا غور کیجیے...
یہاں...
کوئی اکیلا نہیں۔
سورج بھی...
چاند بھی...
ستارے بھی...
پہاڑ بھی...
درخت بھی...
اور زمین پر چلنے والی ہر مخلوق بھی۔
سب...
ایک ہی رب کے سامنے ہیں۔
ایک ہی حکم کے تابع ہیں۔
جہاں بھی نگاہ اٹھتی ہے...
وہاں...
بندگی کا ایک ہی منظر دکھائی دیتا ہے۔
اور...
یہ سجدہ...
صرف آسمانوں کی بلندیوں میں نہیں۔
قرآن...
ہماری نگاہ زمین کی طرف بھی پھیرتا ہے۔
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِّلَّهِ...
"کیا انہوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں میں سے کسی کو نہیں دیکھا کہ ان کے سائے دائیں اور بائیں جھکتے ہیں، اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے۔"
(سورۃ النحل: 48)
ذرا...
کسی درخت کے سائے کو دیکھیے۔
صبح سے شام تک...
وہ خاموشی سے...
اپنا رخ بدلتا رہتا ہے۔
نہ ایک لمحہ پہلے۔
نہ ایک لمحہ بعد۔
نہ اپنی رفتار بدلتا ہے۔
نہ اپنا راستہ۔
خاموشی...
کبھی کبھی...
سب سے گہری اطاعت کی زبان بن جاتی ہے۔
کائنات...
آج بھی...
اسی خاموشی سے...
اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔
سورج...
اپنے راستے پر ہے۔
چاند...
اپنی منزل پر۔
زمین...
اپنے مدار میں۔
اور...
ایک درخت کا سایہ بھی...
اپنے رب کے مقرر کیے ہوئے نظام کے مطابق...
خاموشی سے اپنا سفر مکمل کر رہا ہے۔
ہر چیز...
اپنے رب کے حکم پر قائم ہے۔
صرف انسان ہے...
جسے سوچنے کی صلاحیت دی گئی۔
اختیار دیا گیا۔
اور انتخاب دیا گیا۔
شاید...
اسی لیے...
قرآن...
بار بار...
ہمیں کائنات کی طرف دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
تاکہ...
ہم صرف...
اس کی وسعت نہ دیکھیں۔
بلکہ...
اس حقیقت کو بھی پہچانیں...
کہ جس رب کے حکم پر...
پوری کائنات قائم ہے...
اسی کے سامنے...
انسان کو بھی...
اپنا سر جھکانا ہے۔
کائنات...
اپنے رب کے حکم پر قائم ہے۔
اب...
سوال صرف انسان سے ہے۔
آج روایتی بحث کے بجائے عقل اور قرآن کی روشنی میں میرے ان 6 سیدھے سوالوں کا علمی جواب دے دیں:
1. قرآن کی رو سے اہل بیت کون ہے؟
سورہ ہود (آیت 73) میں اللہ نے حضرت ابراہیمؑ کی بیوی کو صاف 'ل"اہل البیت" کہا ہے۔ اگر اللہ کی نظر میں بیوی اہل بیت ہے، تو آپ لوگ قرآن کی نفی کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کو اہل بیت ماننے سے کیوں انکار کرتے ہیں؟
2. حضرت خدیجہؓ کے ساتھ ناانصافی کیوں؟
وہ پہلی خاتون جو ایمان لائیں، جنہوں نے اپنا سب کچھ اسلام پر لٹایا، جو سیدہ فاطمہؓ کی سگی والدہ ہیں اور جن سے حضور ﷺ کی نسل چلی۔ ایک بیوی اور ماں تو گھر (بیت) کی بنیاد ہوتی ہے۔ آپ لوگ انہیں "اہلِ بیتِ اطہار" کی اس مستقل لسٹ میں شامل کیوں نہیں کرتے؟
3. کیا جنت و جہنم کا فیصلہ صرف رشتہ داری پر ہوگا؟
کیا آخرت میں اللہ تعالیٰ صرف اہل بیت کی محبت پر فیصلے کرے گا؟
اگر ایسا ہے تو قرآن میں توحید، نماز، روزے، اخلاق اور تقویٰ کا جو بار بار ذکر آیا ہے، اس کا کیا مقصد ہے؟
محبت کا معیار عمل ہے یا صرف خون کا رشتہ؟
4. کیا اہل بیت کو جنت صرف حضور ﷺ کی رشتہ داری کی وجہ سے ملے گی؟
اگر ایسا ہے تو نبی ﷺ نے اپنی سگی بیٹی سے کیوں فرمایا تھا کہ "اے فاطمہ! عمل کر لو، میں اللہ کے ہاں تمہارے کام نہیں آؤں گا"؟
ثابت ہوا کہ ان کا مقام ان کے اپنے تقویٰ اور عمل کی وجہ سے ہے، صرف رشتہ داری کی وجہ سے نہیں۔
5. اہل بیت سے سچی مودت کا مطلب کیا ہے؟
کیا ان کی محبت کا مطلب ان کے نانا ﷺ کے لائے ہوئے دین (قرآن و سنت) پر چلنا ہے، یا ان کے نام پر من گھڑت سیاسی نظریات گھڑنا اور مسلمانوں پر کفر و منافقت کے فتوے بانٹنا ہے؟
6. سیدنا حسنؓ کی بیعت پر کیا فتویٰ ہے؟
آپ نے لکھا کہ سچی محبت والا باطل کی بیعت نہیں کرتا۔ سیدنا حسن مجتبیٰؓ نے امت کے امن کی خاطر امیر معاویہ ( میں انہیں صرف امیر ھی سمجھتا ھوں) کے ہاتھ پر بیعت کی اور حکومت ان کے حوالے کی۔ اگر آپ کی نظر میں امیر معاویہ مسلمان نہیں تھے تو پھر ایک اسلامی حکومت غیر مسلم حکمران کے حوالے کیوں کی گئی؟
آپ کے اس فلسفے کے مطابق (نعوذ باللہ) سیدنا حسنؓ کے اس فیصلے پر کیا حکم لگتا ہے؟
کائنات۔۔۔ قرآن کی نظر میں۔۔۔ قسط 5
کیا ہر چیز پیمائش کے ساتھ پیدا ہوئی؟
آپ نے کبھی غور کیا ہے...
اگر اس کائنات سے صرف ایک چیز ختم کر دی جائے...
پیمائش۔
تو کیا باقی بچے گا؟
ایک دریا...
جو کبھی نہ رکے۔
ایک درخت...
جو بڑھتا ہی چلا جائے۔
بادل...
جو برستے ہی رہیں۔
کیا ایسی دنیا میں زندگی باقی رہ سکتی ہے؟
شاید نہیں۔
کیونکہ زندگی صرف چیزوں کے موجود ہونے سے نہیں، بلکہ ہر چیز کے اپنی حد میں رہنے سے قائم رہتی ہے۔
قرآن صرف یہ نہیں بتاتا...
کہ کائنات کو کس نے پیدا کیا۔
وہ یہ بھی بتاتا ہے...
کہ اسے کس اصول پر قائم کیا۔
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
"بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازے کے ساتھ پیدا کی ہے۔"
(سورۃ القمر: 49)
یہ صرف تخلیق کا اعلان نہیں...
یہ ایک ایسے نظام کا اعلان ہے جس میں ہر چیز اپنی مقدار، اپنی حد اور اپنے مقررہ دائرے کے ساتھ وجود میں آئی ہے۔
پھر قرآن ایک اور حقیقت بیان کرتا ہے۔
وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ
"اور اس کے ہاں ہر چیز ایک مقررہ مقدار کے ساتھ ہے۔"
(سورۃ الرعد: 8)
یعنی...
اس کائنات میں کچھ بھی بے حساب نہیں۔
ہر چیز...
اپنے وقت پر آتی ہے۔
اور اپنی حد پر رک جاتی ہے۔
یہی خاموش پابندی...
کائنات کے حسن کی بنیاد ہے۔
پھر قرآن ہماری نگاہ زمین کی طرف لے جاتا ہے۔
وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ
"اور ہم نے زمین میں ہر چیز نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی۔"
(سورۃ الحجر: 19)
ذرا ایک بیج کو دیکھیے...
بظاہر وہ مٹی میں پڑا ایک معمولی سا دانہ ہے، مگر اسی کے اندر ایک پورا درخت پوشیدہ ہوتا ہے۔
وہ بڑھتا ہے۔
شاخیں نکالتا ہے۔
پھل دیتا ہے۔
مگر...
ایک مقام پر آ کر رک جاتا ہے۔
یہ رک جانا...
اس کے اگنے سے کم حیرت انگیز نہیں۔
قدرت صرف بڑھانا نہیں جانتی۔
وہ رکنے کی حد بھی مقرر کرتی ہے۔
اگر درخت بڑھتے ہی چلے جائیں...
اگر گھاس پوری زمین پر پھیل جائے...
اگر ہر جاندار کی افزائش کبھی نہ رکے...
تو کیا زمین پر انسان کے لیے کوئی جگہ باقی رہ جائے گی؟
شاید نہیں۔
اسی لیے قرآن کہتا ہے۔۔
مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ
یعنی...
ہر چیز...
توازن کے ساتھ۔
پیمائش کے ساتھ۔
اور ایک ایسی حد کے ساتھ...
جو اس کے خالق نے مقرر کی ہے۔
پھر قرآن ایک اور پردہ اٹھاتا ہے۔
وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ
"اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور ہم اسے ایک معلوم مقدار کے ساتھ ہی نازل کرتے ہیں۔"
(سورۃ الحجر: 21)
ذرا اس آیت پر ٹھہریے...
کوئی چیز ایسی نہیں...
جس کے خزانے اللہ کے پاس نہ ہوں۔
بارش...
ہوا...
روشنی...
رزق...
شفا...
یہ سب اسی کے خزانوں سے آتے ہیں۔
مگر... "بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ"
ایک معلوم اندازے کے ساتھ۔
اسی لیے...
بارش حد سے بڑھ جائے...
تو رحمت بھی سیلاب بن جاتی ہے۔
ہوا بے قابو ہو جائے...
تو زندگی طوفان میں بدل جاتی ہے۔
اور آگ...
اپنی حد سے نکل آئے...
تو روشنی نہیں...
تباہی بن جاتی ہے۔
گویا...
کائنات میں صرف نعمت اہم نہیں۔
اس کی مقدار بھی اہم ہے۔
پھر سورۂ الرحمٰن اعلان کرتی ہے۔
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ
"اور آسمان کو بلند کیا، اور میزان قائم کر دی۔"
(سورۃ الرحمٰن: 7)
قدر...
مقدار...
موزون...
میزان...
الفاظ الگ ہیں۔
مگر حقیقت ایک ہی ہے۔
یہ پوری کائنات...
ایک قائم شدہ توازن پر چل رہی ہے۔
ستاروں کی گردش ہو...
زمین کی پیداوار ہو...
یا زندگی کا کوئی بھی نظام...
ہر جگہ ایک ہی میزان دکھائی دیتا ہے۔
اسی لیے قرآن...
ہمیں آسمانوں اور زمین میں غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
تاکہ...
ہم صرف وسعت نہ دیکھیں...
بلکہ اس کے پیچھے موجود حکمت کو بھی پہچانیں۔
پھر...
ایک سوال...
جو شاید پوری گفتگو کا حاصل ہے۔
جس رب نے سورج کے لیے راستہ مقرر کیا...
چاند کے لیے منزلیں مقرر کیں...
زمین میں ہر چیز کو نپی تلی مقدار کے ساتھ اگایا...
اور اپنی ہر نعمت کو بھی ایک معلوم اندازے سے عطا کیا...
کیا وہ انسان کی زندگی کو...
بغیر کسی میزان...
بغیر کسی حد...
اور بغیر کسی حساب کے چھوڑ دے گا؟
ذرا سوچیے...
اگر اس کائنات سے صرف ایک چیز ختم کر دی جائے...
پیمائش۔
تو کیا باقی بچے گا؟
اگر انسان بھی...
اپنی زندگی سے...
اللہ کا مقرر کیا ہوا میزان نکال دے...
تو اس کی زندگی میں کیا باقی بچے گا؟
کائنات کبھی اپنے میزان سے بغاوت نہیں کرتی۔
سورج...
چاند...
سمندر...
پہاڑ...
درخت...
سب اپنے رب کے مقرر کیے ہوئے نظام کے پابند ہیں۔
صرف انسان...
یہ گمان کر بیٹھتا ہے...
کہ آزادی...
ہر حد سے نکل جانے کا نام ہے۔
کائنات کبھی اپنے میزان سے بغاوت نہیں کرتی...
صرف انسان کرتا ہے۔
کائنات - قرآن کی نظر میں
یہ کائنات اللہ کی خاموش گواہی ھے-
کبھی رات کے اندھیرے میں آسمان کی طرف دیکھیے۔
کروڑوں ستارے… بے شمار کہکشائیں… ناقابلِ تصور وسعت…
پھر خود سے ایک سوال کیجیے:
اگر یہ سب کسی خالق کے بغیر وجود میں آ گیا، تو پھر اس کائنات میں اتنا حیرت انگیز نظم کہاں سے آیا؟
دن اور رات ایک لمحہ بھی اپنی ترتیب نہیں توڑتے۔
سورج اپنے مقررہ راستے پر رواں ہے۔
چاند اپنی منزلیں طے کرتا ہے۔
زمین ایک خاص رفتار سے گردش کر رہی ہے۔
ہوا، پانی، کششِ ثقل، موسم، زندگی… سب ایک دوسرے سے اس طرح مربوط ہیں کہ اگر ان میں معمولی سا بگاڑ آ جائے تو زندگی کا وجود خطرے میں پڑ جائے۔
یہی وہ منظر ہے جسے قرآن صرف دیکھنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے پیش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق، رات اور دن کے بدلتے رہنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔"
(آل عمران: 190)
قرآن کی دعوت یہ نہیں کہ انسان آنکھیں بند کرکے ایمان لے آئے۔
قرآن بار بار کہتا ہے: دیکھو، غور کرو، سوچو، سمجھو۔
ایک اور مقام پر فرمایا
"زمین میں یقین رکھنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں، اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا تم دیکھتے نہیں؟"
(الذاریات: 20-21)
یہ قرآن کا منفرد انداز ہے۔
وہ انسان کو کسی پراسرار دنیا میں نہیں لے جاتا، بلکہ اسی دنیا کو دلیل بنا دیتا ہے جس میں انسان ہر روز سانس لیتا ہے۔
یہ کائنات ایک خاموش کتاب ہے۔ اس کا ہر ذرہ اپنے خالق کی گواہی دے رہا ہے۔ مسئلہ نشانیوں کی کمی نہیں، بلکہ انسان کی غفلت ہے۔ جو شخص تعصب سے آزاد ہو کر کائنات کو دیکھتا ہے، وہ اسے ایک بے مقصد حادثہ نہیں بلکہ حکمت، نظم اور منصوبہ بندی کا شاہکار پاتا ہے۔
جدید سائنس نے جتنا کائنات کا مطالعہ کیا، اتنا ہی یہ واضح ہوا کہ کائنات انتشار پر نہیں بلکہ انتہائی باریک اور قابلِ پیمائش قوانین پر قائم ہے۔
سائنس یہ بتاتی ہے کہ قوانین موجود ہیں؛ لیکن یہ نہیں بتاتی کہ یہ قوانین آئے کہاں سے، اور اتنی حیرت انگیز ہم آہنگی کیوں رکھتے ہیں۔
قرآن اسی سوال کی طرف انسان کی توجہ مبذول کراتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
"ہم انہیں عنقریب اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔"
(حم السجدہ: 53)
غور کیجیے…
قرآن یہ نہیں کہتا کہ صرف مسجد میں اللہ کو تلاش کرو۔
وہ کہتا ہے کہ آسمان کو دیکھو، زمین کو دیکھو، اپنے وجود کو دیکھو؛ ہر طرف نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔
کائنات صرف مادّہ نہیں، پیغام بھی ہے۔
ہر طلوعِ آفتاب ایک اعلان ہے۔
ہر غروب ایک یاد دہانی ہے۔
ہر ستارہ ایک سوال ہے۔
اور ہر سانس ایک گواہی ہے کہ اس کائنات کا ایک رب ہے۔
شاید ایمان کا آغاز وہاں سے نہیں ہوتا جہاں انسان پہلی بار آسمان کو دیکھتا ہے؛ ایمان کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں وہ پہلی بار آسمان کو "غور" سے دیکھتا ہے۔
کائنات ۔۔۔۔ قرآن کی نظر میں ۔۔ قسط 2
کائنات میں کچھ بھی اتفاقیہ نہیں۔۔!!!
اگر میں آپ سے پوچھوں...
کیا کبھی آپ نے سورج کو چند منٹ دیر سے طلوع ہوتے دیکھا ہے؟
یا...
کیا کبھی زمین نے اچانک اپنی گردش روک دی؟
یا...
کیا کبھی سمندر نے یہ فیصلہ کیا کہ آج کششِ ثقل کے قانون کو نہیں ماننا؟
جواب واضح ہے: نہیں۔
کیوں؟
کیونکہ یہ کائنات اتفاق پر نہیں، قانون پر چل رہی ہے۔
اور یہی حقیقت قرآن چودہ سو سال پہلے بیان کر چکا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
"بے شک ہم نے ہر چیز ایک مقررہ اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔"
(القمر: 49)
ایک اور مقام پر فرمایا
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ہ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ ہ
"اور سورج اپنے مقررہ راستے پر چل رہا ہے، یہ غالب اور خوب جاننے والے کا مقرر کیا ہوا نظام ہے، اور چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں۔"
(یٰس: 38-39)
ذرا ٹھہر کر سوچیے...
کائنات صرف چل نہیں رہی...
ناپی جا رہی ہے۔
ستاروں کے فاصلے...
زمین کی رفتار...
ہوا کا دباؤ...
پانی کی ساخت...
روشنی کی رفتار...
یہاں تک کہ آپ کے دل کی ہر دھڑکن بھی ایک مقررہ نظام کے تابع ہے۔
یہ دنیا "تقریباً" پر نہیں، بلکہ "بالکل" پر چلتی ہے۔
اگر زمین سورج سے ذرا سی زیادہ قریب ہوتی تو زندگی جھلس جاتی، اور اگر ذرا سی زیادہ دور ہوتی تو برف کی چادر اوڑھ لیتی۔
اگر کششِ ثقل میں معمولی سا فرق ہوتا تو نہ سمندر اپنی جگہ قائم رہتے، نہ فضا برقرار رہتی، نہ زمین زندگی کے قابل رہتی۔
کائنات کا ہر ذرہ ایک حقیقت پکار رہا ہے۔
یہاں کچھ بھی بے حساب نہیں۔
کچھ بھی بے قاعدہ نہیں۔
کچھ بھی بے مقصد نہیں۔
ہر ستارہ...
ہر سیارہ...
ہر قانون...
اپنے مقررہ دائرے میں کام کر رہا ہے۔
آج سائنس بھی یہی بتاتی ہے کہ کائنات نہایت دقیق اور قابلِ پیمائش قوانین کے تحت قائم ہے۔
کششِ ثقل...
طبیعت کی بنیادی قوتیں...
اور کائنات کے بنیادی مستقلات...
سب ایک نہایت نازک توازن پر قائم ہیں۔
اگر ان میں معمولی سی تبدیلی بھی آ جائے تو نہ ستارے وجود میں آئیں، نہ سیارے بن سکیں، اور نہ زندگی ممکن رہے۔
پھر سوال یہ ہے...!!
کیا اتنی حیرت انگیز پیمائش خود بخود وجود میں آ سکتی ہے؟
یا اس کے پیچھے ایک قادر، حکیم اور علیم ہستی کا ارادہ کارفرما ہے؟
قرآن سورج کی رفتار نہیں بتاتا...
بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اس کی رفتار مقرر کس نے کی۔
وہ چاند کا فاصلہ نہیں بتاتا...
بلکہ یہ بتاتا ہے کہ اس کی منزلیں کس نے مقرر کیں۔
یہی قرآن کا منفرد اسلوب ہے۔
وہ انسان کو اعداد و شمار میں نہیں اُلجھاتا، بلکہ ان کے پیچھے کارفرما حکمت تک پہنچاتا ہے۔
اگر ایک معمولی گھڑی دیکھ کر ہم یقین کر لیتے ہیں کہ اس کا کوئی گھڑی ساز ہے...
تو پھر اربوں کہکشاؤں، کھربوں ستاروں اور بے مثال قوانین پر قائم اس عظیم کائنات کو دیکھ کر یہ یقین کیوں نہیں جاگتا کہ اس کا بھی ایک خالق ہے؟
شاید یہی وہ سوال ہے جہاں سے سائنس کا سفر رُک جاتا ہے...
اور معرفتِ الٰہی کا سفر شروع ہوتا ہے۔
کائنات کا سب سے بڑا معجزہ اس کی وسعت نہیں، بلکہ اس کا حیرت انگیز "اندازہ" ہے۔ اور جہاں ہر چیز اندازے سے ہو، وہاں اتفاق نہیں، ایک حکیم خالق کی نشانیاں ہوتی ہیں۔
کائنات ۔۔۔۔ قرآن کی نظر میں ۔۔ قسط 3
اگر کائنات خاموش ہے۔۔۔ تو قرآن کیوں کہتا ہے کہ وہ تسبیح کر رہی ہے؟
کائنات خاموش نہیں... تسبیح کر رہی ہے
کبھی کسی پہاڑ کی وادی میں کھڑے ہو کر...
یا رات کے سناٹے میں آسمان کو دیکھ کر...
یہ احساس ہوتا ہے کہ سب کچھ خاموش ہے۔
لیکن قرآن اس احساس کو درست نہیں مانتا۔
وہ ایک اور حقیقت بیان کرتا ہے:
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَن فِيهِنَّ ۚ وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ
ساتوں آسمان، زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں، اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو... (الإسراء: 44)
یہ آیت صرف ایک خبر نہیں دیتی...
یہ ہمارے عام مشاہدے کو چیلنج کرتی ہے۔
جو ہمیں خاموشی نظر آتی ہے، وہ قرآن کے مطابق خاموشی نہیں۔
پھر ساتھ ہی ایک وضاحت آتی ہے
وَلَٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِحَهُمْ
لیکن تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔
(سورۃ الإسراء 17:44)
یعنی مسئلہ کائنات کی آواز کا نہیں...
مسئلہ انسان کے فہم کی حد کا ہے۔
جیسے ایک شخص ریڈیو کے سامنے کھڑا ہو...
ہر طرف آواز موجود ہو...
مگر اگر اس کی فریکوئنسی درست نہ ہو تو اسے کچھ سنائی نہیں دیتا۔
آواز ختم نہیں ہوتی...
بس سننے والا اس تک رسائی نہیں پا سکتا۔
اسی طرح کائنات کی یہ تسبیح بھی موجود ہے...
مگر ہمارے ادراک کی حد سے باہر ہے۔
قرآن یہاں انسان کو ایک نئی بصیرت عطا کرتا ہے...
کہ جس دنیا کو تم “خاموش” سمجھ رہے ہو...
وہ دراصل ایک مسلسل “ذکر” میں ہے۔
پھر قرآن کہتا ہے
يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ
جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ کی تسبیح کرتا ہے۔ (الحشر: 1)
اب ذرا اپنے آپ سے پوچھیے...
اگر پوری کائنات اپنے رب کی تسبیح میں مصروف ہے...
تو اس کائنات میں صرف انسان ہی کیوں اپنی زبان، اپنے دل اور اپنی زندگی کو اس تسبیح سے غافل رکھے؟
وہ سورج، جسے تم ہر روز طلوع ہوتے دیکھتے ہو...
وہ چاند، جو ہر مہینے اپنی منزلیں طے کرتا ہے...
وہ پہاڑ، جو صدیوں سے اپنی جگہ قائم ہیں...
وہ درخت، جو خاموش کھڑے ہیں...
قرآن کہتا ہے...
یہ سب اپنے رب کی حمد بیان کر رہے ہیں۔
اس پوری کائنات میں شاید صرف ایک مخلوق ہے جسے اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے اپنے رب کو یاد کرے...
اور چاہے غفلت میں زندگی گزار دے۔
وہ مخلوق...
انسان ہے۔
شاید اسی لیے قرآن بار بار انسان کو کائنات کی طرف دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
اس لیے نہیں کہ وہ صرف ستاروں کی گنتی کرے...
بلکہ اس لیے کہ وہ ان کے رب کو پہچانے۔
اس لیے نہیں کہ وہ صرف فطرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو...
بلکہ اس لیے کہ وہ فطرت کے ساتھ مل کر اپنے رب کا ذکر کرنے لگے۔
جس کائنات میں ہر ذرہ اپنے خالق کی تسبیح میں مصروف ہو، وہاں سب سے بڑی غفلت انسان کی خاموشی ہے۔
قرآن، کائنات اور انسان۔۔۔
اللہ نے انسان کو عقیدے کا اختیار کیوں دیا؟
کائنات کا ہر ذرّہ اپنے رب کے حکم کا پابند ہے...
اربوں ستارے، بے شمار کہکشائیں، سورج اور چاند کا مقرر راستہ، زمین کا حیرت انگیز توازن، اور ہر چیز ایک ایسے قانون کے تحت چل رہی ہے جس سے ایک ذرّہ بھی سرتابی نہیں کرتا۔
جس رب کے ایک حکم سے پوری کائنات جھک جاتی ہے، اسی رب نے انسان کے دل کو زبردستی ایمان پر نہیں جھکایا۔
کیوں؟
یہ سوال صرف مذہب کا نہیں، انسان کے وجود کا سوال ہے۔
اگر اللہ چاہتا تو روئے زمین پر ہر انسان مومن ہوتا۔
وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
"اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ پھر کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ایمان لے آئیں؟"
(سورۃ یونس: 99)
لیکن اللہ نے ایسا نہیں کیا۔
کیونکہ انسان کو صرف حکم ماننے والی مخلوق نہیں بنایا گیا، بلکہ حق کو پہچاننے، اس پر غور کرنے اور شعوری طور پر اسے اختیار کرنے والی مخلوق بنایا گیا۔
اسی لیے اللہ نے اسے عقل دی، ضمیر دیا، کائنات میں اپنی نشانیاں رکھ دیں، رسول بھیجے، کتابیں نازل کیں اور فرمایا:
إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا
"ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، اب چاہے وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔"
(سورۃ الإنسان: 3)
اور فرمایا
وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ
"اور ہم نے اسے دونوں راستے دکھا دیے۔"
(سورۃ البلد: 10)
اگر ایمان زبردستی دل میں ڈال دیا جاتا تو امتحان ختم ہو جاتا۔
مجبوری سے جھکا ہوا سر عبادت نہیں ہوتا، اور بغیر اختیار کے ایمان، ایمان نہیں رہتا۔
اسی لیے قرآن اعلان کرتا ہے
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
"دین میں کوئی زبردستی نہیں۔"
(سورۃ البقرہ: 256)
اور ساتھ ہی انسان کو اس کے انتخاب کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے
وَقُلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ ۖ فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ
"کہہ دیجیے: حق تمہارے رب کی طرف سے آ چکا ہے، اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے انکار کرے۔"
(سورۃ الکہف: 29)
انسان چاہے تو اپنے رب کو پہچانے، چاہے تو انکار کرے۔
انسان کی دیدہ دلیری دیکھیں کہ کیسےلوگ اللہ کی ذات کے بارے میں ایسے عقائد اختیار کرتے ہیں جنہیں قرآن انتہائی سنگین قرار دیتا ہے
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ہ لَقَدْ جِئْتُمْ شَيْئًا إِدًّا ہ تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا ہ
"انہوں نے کہا کہ رحمان نے اولاد بنا لی ہے۔ یقیناً تم ایک بہت بڑی بات لے آئے ہو۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر پڑیں۔"
(سورۃ مریم: 88–90)
لیکن غور کیجیے...
انسان اللہ کی شان میں ایسی باتیں کرتا ہے، پھر بھی اللہ فوراً اس سے اختیار واپس نہیں لیتا۔
وہ مہلت دیتا ہے۔۔
وہ بار بار سمجھاتا ہے۔۔۔
وہ اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔۔۔
سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ
"ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے وجود میں بھی۔"
(سورۃ فصلت: 53)
اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا
فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ ہ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ
"آپ نصیحت کرتے رہیے، آپ صرف نصیحت کرنے والے ہیں، آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔"
(سورۃ الغاشیہ: 21–22)
یہی اس سوال کا جواب ہے!
اللہ نے اختیار دیا، کیونکہ یہ امتحان تھا۔
مہلت دی، کیونکہ وہ رحمان و رحیم ہے۔
اور حساب رکھا، کیونکہ وہ عادل ہے۔
اگر اختیار نہ ہوتا تو امتحان کا مفہوم ختم ہو جاتا۔
اگر مہلت نہ ہوتی تو رحمت کا دروازہ بند ہو جاتا۔
اور اگر حساب نہ ہوتا تو عدل کا فیصلہ بے معنی ہو جاتا۔
اسی لیے دنیا میں انسان کو انتخاب دیا گیا ہے، مگر انتخاب کے نتائج سے آزادی نہیں دی گئی۔
وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُم مَّسْئُولُونَ
"انہیں روک لو، یقیناً ان سے پوچھا جائے گا۔"
(سورۃ الصافات: 24)
دنیا میں انسان کو عقیدے کا اختیار دیا گیا ہے...
مگر آخرت میں اسی اختیار کا حساب ہوگا۔
یہی امتحان کا قانون ہے...
یہی رحمت کا تقاضا ہے...
اور یہی عدل کا فیصلہ ہے...
اہلِ بیتؓ کی محبت پر کسی مسلمان کو اعتراض نہیں۔ قرآن و سنت نے ان کی محبت، احترام اور ادب کی تعلیم دی ہے، اور ہم بھی اس پر ایمان رکھتے ہیں۔
لیکن الہامی مذاہبِ انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعے آئے " کے لیے " نہیں آئے۔
لیکن آپ نے پھر وہی کیا جو ہر بار کرتے ہیں: محبت کو نجات کا واحد معیار بنا دیا، جبکہ قرآن نے نجات کا معیار ایمان اور عملِ صالح بتایا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ...﴾
اور متعدد مقامات پر نجات کو ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح سے جوڑا ہے، کسی خاندان کی نسبت سے نہیں۔
آپ نے ایک پوری عقیدتی عمارت چند آیات کے اپنے مخصوص مفہوم پر کھڑی کر دی، مگر کسی آیت میں یہ نہیں دکھایا کہ:
صرف اہلِ بیتؓ سے محبت رکھنے والا ہی نجات پائے گا۔
اعمال قبول ہونے کی شرط یہی ہے۔
کلمہ قبول ہونے کی شرط یہی ہے۔
یہ سب آپ کے اپنے اعتقادی نتائج ہیں، قرآن کے الفاظ نہیں۔
اور آخر میں...
میں نے آباد ہونا ہے یا برباد، اس کی فکر آپ نہ کریں۔ میرے لیے میرا رب کافی ہے۔
﴿حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ﴾ "میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں۔" (سورۃ التوبہ 9:129)
میں قرآن کو بھی مانتی ہوں، رسول اللہ ﷺ سے بھی محبت رکھتی ہوں، اہلِ بیتؓ کا بھی احترام کرتی ہوں، اور تمام صحابۂ کرامؓ کا بھی۔ لیکن نجات کا فیصلہ نہ آپ کریں گے، نہ میں؛ وہ صرف رب العالمین کرے گا۔
جو بات اس ملک کے صحافی اس ملک کے چوبیس لاکھ علما کرام کو کرنی چاہیے تھے ۔ وہ بات اک ٹی وی اداکارہ نے کر دی ہے ۔ جنکا ہر لفظ سونے کی سیاہی سے لکھنے کے مترادف ہے ۔
حنا خواجہ نے کہا ہے کہ اجکل میں جب بھی نماز پڑھنے کھڑی ہوتی میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے ۔ دل رو پڑتا ہے کیونکہ میں دیکھتی ہو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں وہ پاک ملک جو مسلمانو کی خاطر بنا تھا ۔
وہاں مسلمانو کے ساتھ کیا ہورہا ہے ہمارے سیاست دان ہمارے حکمران جو بات بات پر اسلام کا تذکرہ کرتے ہیں ۔اپ تو ہمارے سر براہ ہیں اپ نے تو ہمارے سروں پر ہاتھ رکھنا تھا اپ ہماری چادریں کیوں اتار رہے ہیں ۔۔
اج جب میں دیکھتی ہوں سوشل میڈیا پر ہر جگہ خواتین کے ساتھ پکڑ دھکڑ ہورہی ہے کبھی یونیفارم میں تو کبھی بغیر یونیفارم میں مرد حضرات انہیں گاڑیوں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں ۔
کبھی انہیں اغوا کیا جاتا تو کبھی وہ کاروکاری ہورہی ہیں تو کبھی خود ۔ کشی کر رہی ہوتی ہیں کبھی وہ ہراساں ہو رہی ہیں مرد اپنے گھر نہی چلا پارہے ۔
ٹیکس پہ ٹیکس لگ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سانس لیں گے تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا ۔ اگر درخت ہو گا تو اس پر بھی ٹیکس لگے گا کیونکہ وہاں سے اکسجن نکلتی ہے ۔
اپ کیوں بھول گے ہیں ہمیں حکم ملا ہے حالت جنگ میں بھی عورتوں بچوں اور بزرگوں کو نقصان نہی پہچانا ۔ یہ کیسا نظام ہے جیلوں میں لوگ بھرے ہوے ہیں جرم ثابت نہی ہوتا ۔ مگر سزائیں چل رہی ہیں ۔
یہ ظلم کا نظام ہے یہ کفر کا نظام ہے دین اسلام کا نہی ہے ۔ یہ اللہ کا نظام نہی ہے خدارا سمجھ جائیں سنبھل جائیں ۔
ابھی بھی وقت ہے بچا لیں اپنے ملک کو بچا لیں اپنے بچوں پر رحم کریں رحم کا صلہ رحم ہوتا ہے اللہ اپ پر بھی رحم فرمائیں گے غلطیوں کو تسلیم کریں ۔
عالمی طاقتوں سے نہُ ڈریں اس طاقت سے ڈریں جو سب مٹاتا ہے سب بناتا ہے ۔ اس دنیا سے خالی ہاتھ جائیں گے ساتھ جاے گا تو صرف اعمال نامہ ۔
پاکستان کی مشہور اداکارہ حنا خواجہ نے یہ بات کر کے ثابت کر دیا کہ چاہے اپ کس فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں جب اپکے سامنے ظلم ہو رہا ہو تو اواز حق بلند کرنا فرض بن جاتا ہے ۔ سلام ہے حنا خواجہ صاحبہ کو جنہوں نے پچیس کڑور گونگے بہروں کی ترجمانی کی ہے ۔
علیمہ خان کا اہم پیغام: 🚨🚨
"اطلاعات ہیں کہ عمران خان سے ایک 'خاموش ملاقات' کی پلاننگ کی جا رہی ہے تاکہ باہر آ کر سچ نہ بولا جا سکے، اور پھر مستقل طور پر خان صاحب تک رسائی کا راستہ ہی بند کر دیا جائے۔ یاد رکھیں! خان صاحب کا عوام اور پارٹی سے رشتہ کوئی ڈیل یا بند کمرے کی سازش ختم نہیں کر سکتی۔ ہم ڈرنے والے نہیں!"
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے