ہیلو آئی ایل ایف ، حامد خان ، سلمان اکرم راجہ ، بیرسٹر علی ظفر ، گزشتہ و آئندہ بار امیدواران کوئی ہلکی پھلکی ریلیاں ہی نکال دیں بار رومز میں ہی جلسیاں کردیں۔ کچھ تو پنجاب میں ہل جل کردیں۔
#HappyBirthdayImranKhan
I don’t know any leader in the World from this era that can match your aura, statesmanship, resilience & love for their nation.
We must have done something right as a Nation to deserve your leadership. Thank you for being our identity, we love it!
یہ الجزیرہ ٹی وی چینل ہے جس پر لانگ مارچ کی قوت اور سچ دکھایا جارہا ہے ۔
الجزیرہ چینل پر اسرائیل پر پابندی عائد ہے ۔ لیکنُ کشمیر وں کا احتجاج دکھانے پر پاکستان نے بھی پابندی عائد کر رکھی ہے ۔ ظالم کسی مذھب سے ہو سچ سے ڈرتا ہے
پاکستان کا کوئی اور وزیر اعلی ، وزیر اعظم ، صدر ، چیف سیکرٹری ، چیف جسٹس یا کوئی اور اہم شخص ، اس طرح بغیر سیکورٹی عوام میں گھل مل سکتا ہے اور وہ بھی اس صوبے میں جہاں دہشت گردی عروج پر ہے ، سوائے اس وزیر اعلی سہیل آفریدی کے
جو دلوں کو فتح کرلے وہئں فاتح زمانہ
#HappyBirthdayImranKhan
You are the Pride of Pakistan
You are the Identity of Pakistan
You are the Mentor of Pakistan
You are the Leader of Pakistan
Nation Loves You
Happy Birthday sir!
مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
پس ثابت ہوا ، سلمان اکرم راجہ ، بیرسٹر گوہر ، پنجوتھہ ، مروت جیسے ناتجربہ کار لوگوں کو پارٹی امور کا ذمہ دار بنانا عمران خان کا غلط فیصلہ تھا۔
درست سیاسی فیصلے بھی سیاسی لوگ لے سکتے ہیں اور ان کا بوجھ بھی سیاسی لوگ اٹھا سکتے ہیں۔ اب عمران خان کو ان وکلاء کی جگہ بھی سیاسی لوگ بٹھانے ہوں گے۔
عاصم منیر، بات سیدھی ہے، سرنڈر کرنا پڑے گا، ہر حال میں۔
سرنڈر کیسا؟ جیسے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں کیا تھا۔
تم کہتے ہو 9 مئی سے زیادہ خطرناک انجام ہوگا۔ عاصم منیر، تمہارے پلے کیا ہے؟ جو فیصلہ ایک گھنٹے میں ہو سکتا ہے، تمہاری کور کمانڈرز کی میٹنگ پندرہ گھنٹے سے چل رہی ہے۔
یہ عمران خان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگیں گے۔
مذاکرات رات بھی ڈیڈلاک پر پہنچ گئے، یہ اپنی جان نہیں بچا سکے۔
میرا ستر سال کا تجربہ ہے؛ جو کچھ کہہ رہا ہوں، ایسے ہی ہوگا اور عنقریب ہوگا!
قوم خود اگر نہیں دیکھ سکتی، میں قوم کی آنکھوں سے سب دیکھ سکتا ہوں۔
عاصم منیر، نوکری چھوڑنی پڑے گی؛ سرنڈر کرنا پڑے گا۔
دوبارہ الیکشن ہوگا، جس میں فوج کا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔
پاکستان کے ہر مسئلے کی وجہ تم ہو، اور اب!
تمہارا وقت قریب ہے، اس سے پہلے سنبھل جاؤ۔
اس سے پہلے کہ تمہارے پیروں کے نیچے زمین گرم تانبہ ہو جائے، توبہ کر لو۔
ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے، قوم کے سامنے سرنڈر کر دو۔
کور کمانڈرز کانفرنس میں فیلڈ مارشل آمر عاصم منیر کی پاکستان تحریکِ انصاف کو سیاسی عسکری دھمکی، اس سے پہلے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہندوستان کے خلاف اپنی پریس کانفرنس میں ڈائیلاگ مارا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اگلے روز ہی فیلڈ مارشل نے سیاسی دھمکی دے دی، یہ عوامی مینڈیٹ کو پتہ نہیں کیا سمجھتے ہیں ان کا خیال ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کوئی ایک اکیلا جوان ہے، سہیل خان آفریدی ایک صوبے کی عوام کا منتخب نمائندہ ہے جو دو تہائی اکثریت کی جماعت کے ساتھ حکومت میں ہے، سہیل خان آفریدی کے پیچھے صوبے کی 5 کروڑ پشتون عوام کھڑی ہے، خیبر پختونخوا پچھلے 45 سال سے فوج کی غلط پالیسیوں کی قیمت اپنا خون بہا کر ادا کر رہا ہے، دہشتگردی کے خلاف ہر جنگ خیبر پختونخوا کی عوام نے فرنٹ لائن پر لڑی ہے چاہے پاکستان کی جنگ ہو یا کشمیر کی جنگ ہو پشتونوں نے اپنا خون پیش کیا ہے، فوج اور وفاق خیبر پختونخوا پر الزام لگاتی ہے کہ وزیرِ اعلیٰ دھشتگردی کی جنگ میں تعاون نہیں کر رہا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اپنی پولیس کے لیے جو اسلحہ مانگا ہوا ہے تاکہ وہ پوری طاقت سے دھشتگردی کا مقابلہ کر سکیں جس کے پیسے بھی اسلحہ فیکٹری کو دے چکے ہیں وہ بھی آرمی اسٹیبلشمنٹ نہیں دے رہی ہے جبکہ پوری دنیا میں اسلحہ بانٹتے امن معاہدے کرواتے پھر رہے ہیں، اسلحہ دے نہیں رہے اور اوپر سے الزام تراشیوں میں لگے ہوئے ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw