`رســــول الـــلّٰـــه ﷺ نے فرمایا :`
*قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے اصحاب ( یعنی قرآن پڑھنے اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئےگا۔*
> ﴿صحيح مسلم : 1874﴾✨🫀
`
منڈی بہاؤالدین میں خاتون نے چوری کے ڈر سے سونا اور کاغذات گندم کی بوری میں چھپاۓ۔ اتفاق سے اس کی غیر موجودگی میں شوہر نے گندم کی تمام بوریاں منڈی میں فروخت کر دیں۔ حقیقت پتہ چلنے پر پریشانی چھا گئی۔ آڑھتی سے رابطہ کیا۔ جواب آیا: "گندم ابھی فروخت نہیں ہوئی۔ آپ آئیں، ہر بوری آپ کے سامنے کھولی جائے گی۔ اگر امانت موجود ہوئ تو آپ کی ہے، ہمارے لیے حرام ہے۔" ایک ایک بوری خالی کی گئی، اور آٹھویں بوری سے زیورات اور کاغذات برآمد ہو گئے۔
آڑھتی نے بغیر کسی لالچ کے پوری امانت مالک کے حوالے کر دی۔
'میری پوری امت کو معاف کر دیا جائے گا سوائے اعلانیہ (گناہ) کرنے والوں کے'، اور یہ وہ لوگ ہیں جو گناہ کرتے ہیں اور پھر اپنے کیے کا تذکرہ (دوسروں سے) کرتے ہیں۔"
[فتاویٰ نور علی الدرب: 14/1]
اپنا گناہ ظاہر نہ کرو...
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے فرمایا:
"جس شخص نے کوئی گناہ کیا اور پھر اس سے توبہ کر لی، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی دوسرے کو اس کی خبر دے؛ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی طرف سے ڈالے گئے پردے کو فاش کرنا ہے اور یہ عافیت کے خلاف ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے:
اگر کوئی شخص اپنے دل میں اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اور اس پر اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔اور ہر وہ بات جس پر انسان اپنی زبان نہ ہلائے، وہ محض دل کا خیال (وسوسہ) ہے، جو بنی آدم سے معاف کیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ
کتاب الام، جلد 5 / صفحہ 261
جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی (اللہ کے لیے) مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کردینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
سورۃ آل عمران
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان بندہ بیمار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے (عمل كے لئے فرشتہ سے )كہتا ہے:جب تك میں اسے تندرست نہ كردوں اس كے لئے صحتمندی کی حالت میں اس کے افضل عمل کے مطابق عمل لکھتے جاؤ
سلسلہ صحیحہ ٢٢٨٣
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جو شخص کسی مسلمان کی ایک مصیبت کو دور کرے، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک بڑی مصیبت کو دور فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کے عیب کو چھپائے اللہ تعالیٰ قیامت میں اس کے عیب چھپائے گا۔
[صحيح البخاري/حدیث: 2442]
آج مسلمانوں کی گردنوں میں سریے گھسے ہوئے، اکثر لوگ سلام میں پہل کرنے کو اپنی توہیں سمجھتے ہیں،
صاحب کو آپ خود پہلے سلام کریں !
آپ ﷺ نے فرمایا:
یہ کہ ( اللہ کی مخلوق کو ) کھانا کھلاؤ اور سلام کرو اسے بھی جسے تم پہچانتے ہو اور اسے بھی جسے نہیں پہچانتے۔
(بخاری، جز حدیث 6236)
جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دِین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دِین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
﴿سورۃ آل عمران، ۸۵﴾
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میں اس سورۂ اخلاص سے محبت کرتا ہوں،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
اس محبت نے تجھے جنت میں داخل کر دیا۔
(مسند احمد ،۸۸۶۳)