جس طرح ایک حیوان اپنی جبلتوں کا اسیر ہوتا ہے اسی طرح ایک فعال سیاستدان سیاسی حرکیات اور ایشوز کا قیدی ہوتا ہے۔اس کے ہاں اصول،اخلاق اور اقدار سب اعتباری ہوتے ہیں۔یعنی وہ انھیں سیاسی نفع و نقصان کے میزانیہ پر پرکھ کر ترک یا اختیار کرتا ہے۔جماعت اسلامی اصولی اسلامی جماعت کا دعویٰ لیکر اٹھی اور جب کارگاہ سیاست میں سرگرم ہوئی تو کچھ پیدائشی سیاستدان بھی اسکا حصہ بن گئے۔یہ ممکن ہے کہ اب ایسے ہی لوگ جماعت پر غالب آ چکے ہوں لیکن اس کا اصل خمیر اصول پرستی کا ہے۔جب کوئی پیدائشی سیاستدان جماعت کے اصولوں کو اپنی پرواز کے راستے میں حائل دیکھتا ہے تو وہ فطری اصول "کل شیئ یرجع الی اصلہ" کے مطابق اپنے طبعی میلان سے مطابقت رکھنے والے گروہ کی طرف مراجعت کر جاتا ہے۔نون لیگ کی قیادت کا بڑا حصہ ایسے ہی افراد پر مشتمل ہے جنھیں جماعت کا میدان سیاست اپنی پرواز کی وسعت سے کم نظر آیا۔آج کل جماعت کے ایسے عناصر کا پسندیدہ گروہ وہی ہے جدھر سنیٹر صاحب جگہ بناتے نظر آ رہے ہیں۔جبکہ ایک بڑا حصہ جماعت میں رہتے ہوئے اس طرف دل اٹکائے ہوئے ہے۔چناچہ ہوں کہنا چاہیے کہ جماعت میں رہتے ہوئے جن کی اصل حقیقت ڈھکی رہتی ہے وہ جماعت چھوڑ کر اپنی اصلیت ظاہر کر دیتے ہیں۔
راتوں رات پیٹرول کی قیمت بڑھاتے تمھیں شرم نہی آئی دل نہی ہلا عوام جو روٹی نہی کھا سکتی دوائی نہی لے سکتی اس کے لئے پیٹرول بڑھا دیا : سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب
کیا یہ حکومت مہنگائ کو ختم کرسکتی ہے ؟
نہیں کرسکتی کیونکہ جس تیزی سے دنیا میں تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں دنیا کے ہر ملک کی معیشیت پر براہ راست اثر پڑرہا ہے ۔ یہ کرونا کے دور سے زیادہ بدتر صورتحال ہے۔
کیا یہ حکومت دہشت گردی ختم کرسکتی ہے ؟
فوری نہیں کرسکتی کیونکہ دہشت گردوں کی جڑیں بے انتہا گہری ہیں اور ہمارے طاقتور دشمن اس کے پیچھے ہیں ۔
پھر یہ حکومت کیا ختم کرسکتی ہے ؟
یہ حکومت سرکاری اداروں کا رویہ بہتر کرسکتی ہے سرکاری اداروں میں عوام کی جو دُرگت بنائ جاتی ہے اُس کو ختم کرسکتی ، سرکاری اداروں سے کرپشن ختم کرسکتی ہے کم از کم براہ راست عوامی سہولت کے اداروں سے، بے جا کے پروٹوکولز ختم کرسکتی ہے، سرکاری خزانے کا بے دریغ استعمال ختم کرسکتی ہے ، نجی اداروں جیسے سیلولر کمپنیز ائر لائنز بنکس کی بدمعاشی ختم کرسکتی ہے ، سرکاری خزانے سے بے مقصد غیر ملکی دورے ختم کرسکتی ہے، بلیو پاسپورٹ سے پھیلنے والی بے چینی ختم کرسکتی ہے ، عوامی نمائندوں کے فالتو کے فنڈز ختم کرسکتی ہے ، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بغیر مصرف کے اجلاس ختم کرسکتی ہے جہاں کورم پورا ہوتا نہیں مگر بلز سب کے بن جاتے ہیں ، یہ سارے اخراجات قابو کرکے پٹرول پر لیوی کم کرسکتی ہے ، غیر اہم سفارت خانوں کے اخراجات اور اسٹاف کم کرسکتی ہے۔ پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی لوٹ مار ختم کرسکتی ہے ۔
حکو مت اگر یہ سب کرلیتی ہے تو عوام کا اعتبار حکومت پر بڑھ جاۓ گا عوام رد عمل ہی تب دیتی ہے جب یہ ساری عیاشیاں دیکھتی ہے اور ساتھ لیکچر سُنتی ہے کہ ملک مشکل میں ہے۔
جب روز روز پیٹرول کی قیمتیں طے کرنے والا منصوبہ دیا تو راتب خوروں نے کہا کہ اس سے عوام کو فوری رلیف ملے گا اب کل 35پیسے پیٹرول سستا کر کے آج 5روپےلیٹر مہنگا کر دیا جمعہ سے آج تک تقریباً 45 روپے ڈیزل مہنگا کر چکے ہیں
شہباز شریف کے ہاتھوں عوام کو رلیف مل جائے یہ ناممکن ہے یہ صرف اور صرف الیٹ کے پیٹ بھرنے کے لیے آیا ہے
پاکستان میں دانشور بننے کی ترکیب
۔
ایک خالی دماغ دیگچی لیں قیام پاکستان کے خلاف دلائل گھڑیں۔ علیحدگی پسند اور مرکز گریز قوتوں کی تعریف کا ابال دیں۔
مذہب اور مولوی کو گالی بکنے کا تڑکا لگائیں۔
الحاد کی دھیمی آنچ پرحسب ضرورت پاکستان اور بالخصوص پنجاب کو گالی دیتے رہیں
ہو گیا دانشور تیار