واقعہ کربلا ایثاروقربانی، صبرو رضا اور باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#لبيك_ياحٌسين_لبیک
امام عالی مقام حضرت امام حسین اورکربلا کے دیگر شہی��وں کی عظیم اور لازوال قربانیاں تاقیامت یاد رکھی جائیں گی
واقعہ کربلا ایثاروقربانی، صبرو رضا اور باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے، امام عالی مقام حضرت امام حسین نے میدان کربلا میں اپنا اور اپنے خاندان کاسر کٹانا گوارا لیکن یزید ملعون کی بیعت گوارا نہیں کی
نواسہِ رسولؐ حضرت امام حسینؑ اور ان کے رفقاء نے میدانِ کربلا میں بے مثال قربانی دے کر حق و باطل کے درمیان واضح تفریق کردی اور رہتی دنیا کیلئے مثال قائم کردی کہ طاقت رکھنے کے باوجود ذلت ورسوائی یزیدی باطل قوتوں کا مقدر رہے گی اور ہردور میں حسینیت کا پرچم بلند رہے گا، حسینیت کے پیروکار تاقیامت حضرت ��مام حسین اور دیگر معصومین کربلا کوخراج عقیدت اور سلام عقیدت پیش کرتے رہیں گے
یوم عاشور کاتقاضا ہے کہ حضرت امام حسین اور ان کے رفقاء کی تعلیمات کے مطابق انسانیت کااحترام کیا جائے اور نتائج کی پرواہ کیے بغیر باطل قوتوں کے سامنے کلمہ حق بلند کیا جائے
میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء، مشائخ اور عوام سے اپیل کرتا
ہوں کہ وہ محرم الحرام کے دوران ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھیں ،آپس میں اتحاد اور احترام انسانیت کو فروغ دیں ،مساجد ،امام بارگاہوں ،ایک دوسرے کے مذہبی جذبات اور جان ومال کی حفاظت کریں۔
الطاف حسین
26جون،2026ء
کربلا کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر تم حق پر ہو تو تنہا ہونے سے مت ڈرو کیونکہ سچ ہمیشہ تعداد سے نہیں اپنے مقام سے پہچانا جاتا ہے
#LiftBanOnAltafHussain
اور ہم اپنے قائد اپنے رہبر اپنے رہنما کہ ساتھ دن کا اوجالا ہو یہ رات کا اندھیرا ہمیشہ ساتھ تھے اور راہینگے
@AltafHussain_90
Mohtaram Saad Rafique Sahib, Aik sawal maira bhi shamil.ker lain kay kab Sheri #Sindh aur bilkhasoos #Karachi kay asal waris intaqabaat main hissa lay saktay hain. Yeh naam nihad toolay na Karachi ko own ker saktay hain aur na hee yeh asli numayenday hain.
ایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے ملیر سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے 8 محرم الحرام کو لنگر کی تقسیم
@AltafHussain_90@OfficialMQM
👇👇👇
ایم کیو ایم کے بزرگ وکیل ادریس علوی ایڈوکیٹ اورسلمان ایڈوکیٹ کوکس قانون کے تحت اغواکیاگیا؟ الطاف حسین
#ReleaseAllMQMWorkers
ایم کیوایم ایک قانون پسنداورپرامن جہوری جدوجہد کرنے والی جماعت ہے لیکن اس کے خلاف برسوں سے فوجی آپریشن کیاجارہاہے، ہماری پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کردی گئی جوسراسر غیرآئینی وغیرقانونی ہے۔ 11جون 2026ء کوایم کیوایم کوجنم دینے والی طلبہ تنظیم اے پی ایم ایس او کے 48 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ایم کیوایم کے بزرگ کارکنان کراچی میں آئی آئی چندریگر روڈ کے علاقے میں واقع سینئر صحافی، یوٹیوبر اوروی لاگرتحسین عباسی کے پاکستان ٹائمز نیوزکے دفتر میں یو م تاسیس پرک��ک کاٹنے کے لئے جمع ہوئے تھے کہ پولیس اوررینجرز نے ان کارکنوں کو چھاپہ مارکر گرفتار کرلیا۔ان گرفتارکارکنان میں ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، رکن ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے رکن محمدسلمان ایڈوکیٹ، سینئرصحافی، یوٹیوبرتحسین عباسی، بزرگ کارکنان عمرملک،محمدناصر، آفاق عالم،سید حمید پاشا،مرزا وسیم، سلیم شیخ، محمد حارث اورسینئرصحافی، یوٹیوبرتحسین عباسی کے 15سالہ بیٹے حسین علی شامل ہیں۔ پولیس وانتظامیہ نے پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترکوبھی سیل کردیا۔ایم کیوایم کے ان گرفتارشدگان پرایک جھوٹا مقدمہ قائم کردیاگیا اور سٹی کورٹ میں پیش کرنے کے بجائے سینٹرل جیل میں قائم عدالت میں پیش کیا اور ریمانڈ دیکرعدالتی تحویل میں جیل منتقل کردیا۔ایم کیوایم کے وکلاء نے گرفتارشدگان کی ضمانت کے لئے عدالت میں درخواست جمع کرائی۔توپولیس نے گرفتارشدگان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ بھی قائم کردیا۔ عدالت نے 20جون 2026کو ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے ارکان ادریس علوی ایڈوکیٹ اورمحمد سلمان ایڈوکیٹ کی ضمانت منظورکرلی اوران کی رہائی کاحکم دیا۔ 24جون 2026ء کوان دونوں کے ریلیز آرڈرجاری ہوئے۔جب سینٹرل جیل کراچی سے ادریس علوی ایڈوکیٹ اورمحمدسلمان ایڈوکیٹ کوریلیز کیا تو جیل کے دروازے پر موجود پولیس اورسادہ لباس اہلکاروں نے انہی�� دوبارہ اغواکرلیااورموبائل میں ڈال کر لے لئے۔ پولیس اورسادہ لباس اہلکاروں نے موجود ایم کیوایم لیگل ایڈکمیٹی کے وکلا سے بھی بدتمیزی کی۔ادریس علوی ایڈوکیٹ بیمار ہیں، بزرگ ہیں انہیں اورسلمان ایڈوکیٹ کولاپتہ کردیاگیا ہے، یہ سراسرظلم ہے۔ آخر پاکستان میں یہ کیا ہورہاہے؟ کس قانون کے تحت ہورہاہے؟ خدارا یہ ظلم بند کیاجائے، ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ اورتمام گرفتارشدگان کوفی الفور رہاکیاجائے، یہ گرفتاریوں اورجبری گمشدگی کاسلسلہ بند کیاجائے۔ اورحضرت علیٰ کرم اللہ وجہہ کے اس قو ل کویادرکھاجائے کہ حکومت کفرسے تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم وجبر اورانصافی سے قائم نہیں رہ سکتی۔میں تمام ترجبروستم کے باوجود کام کرنے والے ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے وکلاکو سلام تحسین پیش کرتاہوں۔
الطا ف حسین
ٹک ٹاک پر 421 ویں ہنگامی فکری نشست سے ٰخطاب
24جون 2026ء
2/2
فوج ملک کی محافظ ہوتی ہے، محترم ہوتی ہے لیکن وہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض تک محدود ہوتی ہے، وہ ملکی معاملات اور سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ بدقسمتی سے پاکستان کی فوج سیاست اورملکی معاملات میں مداخلت کرتی ہے، عدالتوں پر اثرانداز ہوتی ہے، آج ملک کے تمام سویلین اداروں میں حاظر اورریٹائرڈ جرنیلوں کومقررکردیا گیا ہے جنہیں ان سول اداروں کے بارے میں بالکل معلوم نہیں ہے لیکن تمام سویلین اداروں میں فوجی افسران کوتعینات کرکے عوام کویہ بتایاجارہاہے کہ سویلین نااہل ہیں، یہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔ لہٰذا میں ملک کے عوام سے کہوں گا پاکستان کوجمہوری فلاحی اور ترقی کے راستے پر ڈالنے کے لئے ملک کوفوج کے اس ناجائز اثر سے آزاد کرائیں۔
بدقسمتی سے 79سال تک پاکستان کے عوام کوجھوٹی اورمسخ شدہ تاریخ پڑھائی گئی، انہیں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے سے روکنے اورملک میں رائج اسٹیٹس کو کاغ��ام بنائے رکھنے کے لئے مذہب کا چورن دیکران کے ذہنوں کو مفلوج بنایا جاتا رہا لیکن آج کی نئی نسل، آج کی جین زی باشعور ہے، پروگریسو ہے، وہ علم اورتحقیق یریقین رکھتی ہے اور اپنے حق کے لئے آوازاٹھانا جانتی ہے، وہ انشاء اللہ اسٹیٹس کوتوڑے گی اورملک کوحقیقی معنوں میں آزاد کرائے گی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر421 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
24جون 2026ء
ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے، حق اور انصاف مانگنے پر قتل کئے جارہے ہیں، ایسے حالات میں زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ الطاف حسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کاراج ہے، اپنا حق اور انصاف مانگنے والے قتل کئے جارہے ہیں، عدالتیں تک قید ہیں، جج بوٹوں تلے دبے ہوئے ہیں، انصاف کا گلا گھونٹ دیا گیا اورملک کے 98 فیصد عوام حقوق سے ہی نہیں بلکہ پانی، بجلی،گیس اور بنی��دی سہولتوں تک سے محروم ہیں،ایسے حالات میں ہم زندہ باد کے نعرے کس طرح لگائیں؟ آدھاملک ظلم اور ناانصافیوں کے نتیجے میں پہلے ہی علیحدہ ہوچکا، باقیماندہ ملک میں ہر جگہ بے چینی ہے،لوگ غربت وافلاس کا شکارہیں، تمام مظلوم قومیں اپنے حقوق کے لئے آوازیں بلند کررہی ہیں، ملک میں جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں مگر ان کی فریادوں کوسننے کے بجائے ان پر گولیاں چلائی جارہی ہے،لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں ، لوگوں کوجھوٹے مقدمات بناکر قید کیاجارہا ہے،انہیں سزائیں دی جارہی ہیں، کیا ایسے حالات میں اس نظام ریاست اور ظالم حکمرانوں کی تعریف کی جائے اور انہیں زندہ باد کہاجائے کہ وہ اسی طرح قائم ودائم رہیں، مظلوموں کو محروم رکھیں اورحق مانگنے پر انہیں مارتے رہیں؟ قید کرتے رہیں؟غائب کرتے رہیں؟
78برسوں سے اپناحق مانگنے پر بلوچوں کاقتل کیا جارہا ہے،ان کی نسل کشی کی جارہی ہے، انہیں لاپتہ کیاجارہا ہے، لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے ایک بلوچ بیٹی ماہ رنگ بلوچ دیگربلوچ ماؤں بہنوں کے ساتھ پرامن احتجاج کرنے نکلی تواس پر حملے کئےگئے،اسے نظربند کیا گیا اوراب ایک جھوٹےمقدمے میں ماہ رنگ بلوچ کو عمرقید کی سزا دیدی گئی ہے، مہاجروں نے اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کی تو ان کے خلاف فوج کشی کردی گئی، ان کی واحد نمائندہ جماعت ایم کیوایم کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگادی گئی، پشتونوں نے اپنے حق کے لئے آوازبلند کی تو پشتون تحفظ موومنٹ کوطاقت کے ذریعے دبا دیا گیا،ان کے رہنماعلی وزیر کوطویل عرصہ سے قید میں رکھا ہواہے، پشتونوں پر ڈرون حملے کئے جارہے ہیں، آزاد کشمیرجوبرصغیرکی تقسیم کے وقت ایک آزاداورخودمختارریاست تھی، جہاں ڈوگرہ راج تھا،1947ء میں تقسیم کے وقت جب انہیں اس بات کاحق دیا گیا کہ وہ آیا بھارت کے ساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں یاپاکستان کے ساتھ تو اس وقت ریاست کشمیرکے حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء کوانڈیا کے ساتھ الحاق کرلیااورالحاق نامے پر دستخط کرلئے جس کے تحت پوری ریاست جموں وکشمیر انڈیا کا حصہ بن گئی تھی لیکن قبائلی لشکروں کوبھیج کرکشمیرکے آدھے حصے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا گیا۔79سال سے انڈین کشمیر کی آزادی کے نام پر کشمیری عوام کو بیوقوف بنایا گیا،آزادکشمیر اپنے معاملات چلانےمیں آزاد نہیں ہے،کشمیری عوام نے اپنے حق کے لئے کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنائی اور پرامن جدوجہد شروع کی توان پر فوج کشی کی جارہی ہے، ان کے احتجاج کوطاقت کے ذریعے کچلا جارہا ہے، ان پر گولیاں چلائی جارہی ہیں، ان کے رہنماؤں کوغیرملکی ایجنٹ اور ملک دشمن قرار دیا جارہا ہے۔وہ جماعتیں جو79سال تک کشمیرکی آزادی کے نام پر کیمپ لگاتی رہیں، کشمیریوں سے قربانیاں، چندے وصول کرتی رہیں وہ آج کہاں ہیں؟
نظام ریاست نے پالیسی بنالی ہے کہ جو اس کے ناجائز اقدامات کے خلاف آواز اٹھائے اسے راستے سے ہٹادیاجائے، عمران خان نے جب اسٹی��لشمنٹ کی پالیسیوں کوچیلنج کیا توسازش کے تحت ان کی حکومت ختم کردی گئی، انہیں گرفتار کرکے جھوٹے مقدمے میں سزادیدی گئی، عمران خان اوران کےرہنماؤں شاہ محمود قریشی، ڈاکٹریاسمین راشداور دیگر رہنماؤں کوتین سال سے قیدمیں رکھا ہوا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان مقدمات کوسننا شروع کیا توفوج کے افسران نے عدالت پردباؤ ڈالنا شروع کردیاکہ فیصلہ وہ دو جو ہم کہیں، ججوں پردباؤڈالا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں ��ے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کومشترکہ طورپرخط کے ذریعےشکایت کی کہ فوج اورآئی ایس آئی کے افسران انہیں دھمکاتے ہیں، دباؤ ڈالتے ہیں، ہمیں بلیک میل کرنے کے لئے ہمارے اہل خانہ اورقریبی عزیزوں کو ہراساں کیاجارہا ہے،ہمارے گھرکے اطراف، گھر کے اندر حتیٰ کہ بیڈروم کے اندر تک خفیہ کیمرے لگائے گئے، دوسال گزرگئے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کو انصاف نہیں ملابلکہ الٹا انہیں سزا کے طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ سے ہٹاکر دوسری عدالتوں میں بھیج دیا گیا۔ جب ہائیکورٹ کے ججوں تک کوانصاف نہ مل سکے،سپریم کورٹ بھی بے بس ہوتو عوام حکمرانوں کے ناجائز اقدامات کے خلاف انصاف کے لئے کہاں جا��یں؟ جب ملک میں غنڈہ گردی اورطاقت کا راج ہو، انصاف کی اعلیٰ عدالتیں تک قید ہوں، جج بوٹوں تلے دبے ہوئے ہوں، ہائیکورٹ کے ججوں تک کوانصاف نہ مل رہا ہو اور پورانظام ریاست طاقت اورغنڈہ گردی کی بنیاد پر چل رہا ہو تو پھر اسے زندہ باد کیسے کہا جاسکتا ہے؟
1/2
ایم کیوایم کے بانی وقائد جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے قصبہ علیگڑھ سیکٹر کے وفاپرستوں کی جانب سے 9 محرم الحرام کو لنگر کی تقسیم
@AltafHussain_90@OfficialMQM
👇👇👇
ایم کیوایم کے بانی و قائد جنا��
@AltafHussain_90 بھائی
کی جانب سے سیکٹر A حیدرآباد زون کے وفاپرستوں کی جانب سے 7 محرم الحرام کو نیاز و لنگر کا اہتمام کیا گیا
👇👇👇
@WAFAUSA1
پریس ریلیز 🚨
کراچی: 24 جون 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے متحدہ قومی موومنٹ لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئر ارکان ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کو سینٹرل جیل کراچی کے مرکزی دروازے کے باہر سے آج پھر غیر قانونی طور پر اغوا کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کو 11 جون 2026ء کو سندھ پولیس کے میٹھادر تھانے کی جانب سے گرفتار کیا ��یا تھا، جس کے بعد وہ عدالتی تحویل میں تھے۔ 20 جون 2026ء کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نمبر دو(ATC-II)، نے ان کی ضمانت منظور کی۔ آج ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد دونوں وکلاء سینٹرل جیل کراچی سے رہا ہوئے، تاہم تقریباً رات 8 بجے سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے کے باہر سے سادہ لباس اہلکاروں اور سندھ پولیس نے انہیں اہل خانہ اور وکلاء کے سامنے بغیر کسی وارنٹ کے زبردستی زدو کوب کرکے جبراً اپنے ساتھ لے گئے۔
رابطہ کمیٹی کے مطابق اس کارروائی میں ��مان ٹاؤن اور کورنگی انڈسٹریل ایریا کی پولیس موبائلیں بھی موجود تھیں۔ عدالت سے ضمانت ملنے اور رہائی کے فوراً بعد دوبارہ حراست میں لینا قانون، آئین، عدالتی عمل اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
رابطہ کمیٹی نے کہا کہ MQM کے بے گناہ کارکنان، ہمدردوں اور قانونی معاونت فراہم کرنے والے افراد کے خلاف اس طرح کی کارروائیاں سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور غیر قانونی طرزِ عمل کا تسلسل ہیں۔ اگر ایم کیو ایم کے کسی بھی کارکن کے خلاف کوئی الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے، نہ کہ سادہ لباس اہلکاروں کے ذریعے لاپتہ کیا جائے۔
رابطہ کمیٹی نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، آئی جی سندھ، محکمہ داخلہ سندھ، انسانی حقوق کی تنظیموں، سندھ بار کونسل، کراچی بار ایسوسی ایشن اور وکلاء برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایڈووکیٹ ادریس علوی اور ایڈووکیٹ محمد سلیمان کے غیر قانونی اغوا کا فوری نوٹس لیں اور ان کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہنگامی اقدامات کریں۔
رابطہ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ ��ونوں وکلاء کو فوری طور پر رہا کیا جائے یا قانون کے مطابق کسی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے، اور اس غیر قانونی کارروائی میں ملوث عناصر کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
PRESS RELEASE 🚨
Karachi: 24 June 2026
The Coordination Committee of the Muttahida Qaumi Movement (MQM) has strongly condemned the illegal abduction of senior members of the MQM Legal Aid Committee, Advocate Idrees Alvi and Advocate Muhammad Suleman, who were once again forcibly taken away today from outside the main gate of Central Jail Karachi.
The Coordination Committee stated that Advocate Idrees Alvi and Advocate Muhammad Suleman had been arrested by Sindh Police’s Mithadar Police Station on 11 June 2026 and were subsequently held in judicial custody. On 20 June 2026, the Anti-Terrorism Court-II (ATC-II) granted them bail. Today, after the submission of surety bonds, both lawyers were released from Central Jail Karachi. However, at approximately 8:00 PM, plainclothes personnel along with Sindh Police forcibly assaulted and seized them outside the main gate of the jail, in full view of their family members and legal representatives, without presenting any warrant or legal authorization.
According to the Coordination Committee, police vehicles from Zaman Town and Korangi Industrial Area were also present during the operation. Re-arresting individuals immediately after a court has granted bail and ordered their release constitutes a blatant violation of the law, the Constitution, due process, judicial authority, and fundamental human rights.
The Coordination Committee further stated that such actions against innocent MQM workers, sympathizers, and individuals providing legal assistance are a continuation of political victimization, state repression, and unlawful conduct. If any MQM worker is accused of an offence, they must be produced before a court of law and dealt with in accordance with legal procedures, rather than being forcibly disappeared by plainclothes personnel.
The Coordination Committee has called upon the Chief Justice of Pakistan, the Chief Justice of the Sindh High Court, the Inspector General of Sindh Police, the Sindh Home Department, human rights organizations, the Sindh Bar Council, the Karachi Bar Association, and the legal community to take immediate notice of the illegal abduction of Advocate Idrees Alvi and Advocate Muhammad Suleman and to take urgent measures to ensure their safe recovery.
The Coordination Committee demands the immediate release of both lawyers or, alternatively, that they be produced before a competent court of law without delay. It further calls for a transparent investigation into this unlawful action and for all those responsible to be held accountable under the law.
⭐️⭐️⭐️⭐️⭐️
0+0+0+0+0=0 😂
Project 1: Aafaq/Aamir
Project 2: Kamal/Anis
Project 3: Khalid Mqbool/Sattar
Project 4: Hammad (Upcoming)
Result: Zero+Zero=Zero
(Try, Try, and Try again)
But think about it!!!
No one can takes place of Altaf Hussain Bhai.
GA Altaf Hussain Bhai
SADA GA
@AwazEHaq90