Travelport Pakistan has taken an initiative to conduct series of on-site training sessions. These highly informative and engaging sessions provided invaluable insights into Travelport products.
شہریوں کیلئے اہم اطلاع
سادہ کپڑوں میں ملبوس کسی شخص کو تلاشی مت دیں۔ ایسے کسی بھی شخص کے روکنے پر نہ رکیں۔ پولیس اہلکار ہمیشہ یونیفارم میں ملبوس ہوں گے اور پولیس کی گاڑی یا موٹرسائیکل پر ہوں گے۔
بغیر یو��یفارم اگر کوئی شخص آپکو روکے، تلاشی لے یا کوئی مشکوک حرکت کرتا نظر آئے تو فوراً پکار-15 پر اطلاع کریں
#ICTP #OPS #Islamabad #Police
اصلی اور جعلی کرنسی نوٹوں کی پہچان کا طریقہ
پاکستان میں کرنسی نوٹ خصوصی کاغذ پر تیار کیے جاتے ہیں جن میں پروڈکشن کے وقت سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جبکہ سیکیورٹی دھاگہ اس کاغذ میں اس طریقے سے شامل کیا جاتا ہے کہ اسے کسی صورت باہر نہیں نکالا جاسکتا۔ یہ نوٹ کے سامنے والے حصے کے بائیں جانب ہوتا ہے۔ اگرکسی سطح پر رکھ کر اسے دیکھا جائے تو دھاگہ چھوٹے چھوٹے وقفے کے ساتھ نظر آئے گا۔ لیکن جب اسے روشنی میں دیکھا جائے تو پورا دھاگہ نظر آتا ہے۔
نوٹ کی مالیت دھاگے پر پرنٹ ہوتی ہے۔اگر آپ کو یہ فیچرز نظر نہ آئیں تو اسے لینے سے گریز کریں۔ جعل ساز کسی جعلی نوٹ میں یا تو گہری پٹی پرنٹ کردیتے ہیں یا پوری پٹی کاغذ کی دو شیٹوں کے درمیان رکھ دیتے ہیں۔نوٹ کو جانچنے کا ایک طریقہ قائداعظم کی واٹر مارک تصویر ہے جو سامنے کے حصے میں بائیں جانب ہوتی ہے۔ جب کسی سطح پر رکھ کر دیکھا جائے تو ہلکا سفید خاکہ نظر آنے لگتا ہے۔ نوٹ کو روشنی میں دیکھا جائے تو قائداعظم کی تصویر کرنسی مالیت کے ساتھ نظر آتی ہے۔
واٹر مارک پرنٹ نہیں کیا جاسکتا بلکہ اسے کاغذ کی موٹائی میں تبدیلی لاتے ہوئے تخلیق کیا جاتا ہے۔اگر آپ اپنی انگلی نئے نوٹ کے کاغذ کی سطح پر رگڑیں تو آپ کو سطح میں تبدیلی کا احساس ہوگا۔ اگر آپ کوئی بھی چیز ان باتوں سے ہٹ کر محسوس کریں تو نوٹ کو لینے سے انکار کردیں، جعل ساز واٹر مارک کو تخلیق کرنے کی بجائے پرنٹ کرتے ہیں۔ کرنسی نوٹ کا کاغذ کبھی بھی اس طرح الگ نہیں ہوسکتا جیسے ٹشو پیر ہوجاتے ہیں، اگر آپ نوٹ کے کناروں کو ایک دوسرے سے الگ دیکھیں تو اسے لینے سے انکار کردیں۔ کیونکہ حقیقی نوٹ استعمال کے دوران کبھی بھی دو حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا اور جعل ساز جعلی نوٹ بناتے ہوئے آگے اور پیچھے کے حصوں کو پرنٹ کرکے گلو سے جوڑتے ہیں۔
حقیقی کرنسی نوٹ کا رنگ الٹراوائلٹ روشنی میں کبھی نہیں بدلتا۔ یہ جعلی کرنسی کو جانچنے کا بنیادی طریقہ ہے کہ سیاہ روشنی یا الٹرا وائلٹ روشنی نوٹوں کے بنڈل پر ڈالی جائے اور اگر آپ کسی نوٹ کو چمکتے ہوئے دیکھیں تو اسے مسترد کردیں۔ ایک اصلی نوٹ سادہ سفید کاغذ کی شیٹ پر رکھیں اور لائٹس بند کرکے اس پر الٹراوائلٹ یا سیاہ روشنی ڈالیں جس سے اچانک ہی سفید کاغذ ہلکی نیلگوں روشنی میں جگمگانے لگے گا جبکہ کرنسی نوٹ کا رنگ تبدیل نہیں ہوگا۔کاغذ کی طرح کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ کا طریقہ کار بھی خاص ہوتا ہے اور اس میں متعدد سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جاتے ہیں جس سے آپ کے لیے جعلی نوٹوں کی شناخت کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ پرنٹنگ کے لیے خصوصی سیاہی کو استعمال کیا جاتا ہے جو بھیگنے سمیت کسی بھی صورت خراب نہیں ہوتی۔
جعلی نوٹوں کی سیاہی عام طور پر گیلی ہونے کے بعد پھیل جاتی ہے اگر آپ کو کسی نوٹ پر شبہ ہو تو اس کا وہ حصہ ڈبو دیں جہاں زیادہ سیاہی استعمال ہوتی ہے اور پھر انگلی سے رگڑیں، اگر وہ خراب نہ ہو تو نوٹ اصلی ہے دوسری صورت میں جعلی۔ تیکنیکی طور پر سیاہی کو کاغذ پر قائداعظم کی ابھری ہوئی شیروانی اور نوٹ کے کناروں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ کو اس حوالے سے یہ جاننے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نوٹ چاہے جتنا بھی پرانا ہو مگر قائداعظم کی شیروانی ہمیشہ ہاتھ پھیرنے پر ابھری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔
نوٹ کے کنارے پر موجود لکیریں صرف سامنے کی جانب سے ابھری ہوئی ہوتی ہیں۔اپنے انگوٹھے کا ناخن سامنے کے حصے کے کنارے پر پھیریں جبکہ شہادت کی انگلی باقی حصے پر رگڑے، اگر آپ کو ابھرا ہوا یا کھوکھلا حصہ محسوس ہو تو وہاں روک جائیں اور روشنی میں دیکھنے پر آپ کو چھیدنے کے نشانات نظر آجائیں گے۔جعل ساز سامنے کے جانب ناہمواری کا اثر پیدا کرتے ہوئے نوٹوں پر سوئی سے چھیدنے کے نشانات بناتے ہیں۔ نوٹ کے سامنے کی بائیں جانب لکیریں سی ہوتی ہیں مگر یہ لائنز فوٹو کاپی یا اسکین اور پھر پرنٹ کیے جانے کی صورت میں جادوئی انداز میں غائب ہوجاتی ہیں، لہذا اگر یہ لکیریں نوٹ پر نہ ہو تو جان لیں کہ وہ جعلی ہے۔
پانچ سو، ایک ہزار اور پانچ ہزار والے نوٹوں پر جھنڈے مختلف پہلوﺅں سے دیکھنے پر اپنی رنگت بدل لیتے ہیں۔ اگر جھنڈا اپنا رنگ نہ بدلے تو وہ نوٹ جعلی ہے۔ ایک نوٹ پر قائداعظم کی تصویر کے قریب مالیت کا ہندسہ چھپا ہوتا ہے۔ اس چھپے ہوئے ہندسے کی تصویر کو دیکھنے کے لیے نوٹ کو روش��ی کے سامنے لاکر دیکھیں وہ ہندسہ جادوئی انداز میں نمودار ہوجائے گا۔ نوٹوں کا ہندسہ اردو رسم الخط میں نوٹ کے بائیں جانب اوپر پرنٹ ہوتا ہے۔ جب آپ کسی سطح پر نوٹ کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ ہندسہ نامکمل اعداد کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ جب نوٹ کو اٹھا کر دیکھا جائے اور اس پر سے روشنی آر پار ہو تو یہ ہندسہ مکمل نظر آتا ہے۔جعل ساز یہ فیچر گہری اور ہلکے رنگوں میں پرنٹنگ کے ذریعے شامل کرتے ہیں1/2
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنے پچھترویں یومِ تاسیس پر پچھتر روپے کا نیا کرنسی نوٹ جاری کیا ہے۔ یہ نیا نوٹ قیامِ پاکستان کے پچھتر برس مکمل ہونے پر جاری ہونے والے نوٹ سے ک��نا مختلف ہے اور اس میں نیا کیا ہے؟ بتا رہی ہیں سدرہ ڈار۔
سیاستدان لوگوں کو خوشحالی، روزگار اور امن و امان کے خواب بیچتا ہےکُچھ پورے بھی کرتا ہے۔لوگوں کی زندگی میں بہتری لانا سیاست کا مقصد ہے۔
فاشسٹ اپنا آپ بیچتا ہے کہ میرے ہونے سے ہی سب کُچھ ہے، میں نہ رہا تو سب کُچھ برباد ہو جائے گا، میری حفاظت کرو، میرا حکم مانو۔ یہی فلاح کا راستہ ہے
ان چار لائنوں میں پنجاب کی ایک عام لڑکی کی پوری زندگی کے سفر کو سمو دیا گیا ہے کہ کس طرح ہماری خواتین کو ہم بچپن سے اپنے خاندان کی عزت غیرت ناموس کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں سب سے پہلے اسے اپنے خاندان کی عزت کی حفاظت کرنی پھر اپنے باپ بھائیوں کے رتبے کا خیال کرنا شادی کے بعد اپنے شوہر اور اس کے خاندان کی عزت کا پاس کرنا یہ کرتے کرتے عمر بسر کر دینی کسی بھی جگہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں اس کی سزا موت بھی ہو سکتی
@iqrarulhassan اقرار بھائی ، پی ٹی آئی کے خلاف بات سوچ کر کرنی چاہئے ، پی ٹی آئی کے سپورٹر اپنے خلاف ذرا سی بات بھی برداشت نہیں کرتے ، پھر بتمیزی کا طوفان شروع ہو جاتا ہے