"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
میں سمجھتا ہوں کہ گورنر راج مسئلے کا حل نہیں۔ گورنر بالی ووڈ کے ہیرو تو نہیں کہ ایک دن کے وزیراعلیٰ بن کر سب کچھ ٹھیک کر دیں۔ پختونخوا کے بہت سے بنیادی مسائل ہیں جو گورنر راج سے حل نہیں ہوں گے۔ دونوں طرف انا اور اقتدار کی لڑائی چل رہی ہے، جبکہ عوام کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
"We have built a world with flawless logistics for war and broken logistics for food"
"This is not Nepal's private misfortune. Ask Bangladesh. Ask Bhutan. Ask India. Ask the Maldives. Ask Pakistan. Ask Sri Lanka"
Nepal PM Balen Shah
صوبائی صدر میاں افتخار حسین اور صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی کی جانب سے سابق رکنِ صوبائی اسمبلی مختیار خان کی صاحبزادی کو خان عبدالغفار خان کی خودنوشت زما ژوندو جدوجہد پر پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کرنے پر دلی مبارکباد
#ANP | #ANPPakhtunkhwa
Earlier today, 7 policemen were martyred in Lakki Marwat. PTI's CM Pakhtunkhwa and leaders were busy addressing a press conference for Imran Niazi today. The police and our people in Pakhtunkhwa continue to be killed by Taliban terrorists every day. PTI's govt remains missing.
آج نیشنل اسمبلی میں منتخب رکن خوشحال خان کاکڑ کی تقریر کو سنسر کیا گیا اور بعد میں اسپیکر قومی اسمبلی نے ان کا مائیک بھی بند کر دیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے،اس سے پہلے بھی نیشنل اسمبلی میں حق پرستوں کے ساتھ ایسا ہی ہو چکا ہے، اور ہم خود پختونخوا اسمبلی میں بھی اس قسم کی صورتحال سے کئے بار گزر چکے ہیں۔ جب آپ سچ اور حق کی بات کرتے ہیں تو مائیک بند کر دی جاتی ہے، کیونکہ ہمیشہ سے سچ بولنے والوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ پچھلے سال ہارڈ اسٹیٹ کی اصطلاح متعارف کرائی گئی، جس پر سیاسی و سماجی کارکنوں اور ہمارے دانشوروں نے طویل بحث کی۔ ہارڈ اسٹیٹ دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بظاہر ملک میں جمہوری سیٹ اپ موجود ہے اور منتخب حکومتیں نظر آتی ہیں، مگر عملی طور پر فیصلوں کی باگ ڈور کہیں اور ہے،اور تمام تر اختیارات اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں۔ پارلیمان سے ربڑ سٹیمپ بنایا گیا ہے، میں نے کئی بار فلور آف دی ہاؤس پر اس بنیادی مسئلے پر بلا جھجک اور دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ آج صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے پاس اہم فیصلوں کے اختیارات نہیں رہے، بلکہ ریاستی ڈھانچے میں طاقت کا اصل مرکز وہ قوتیں ہیں جنہیں جرنیل شاہی کہا جاتا ہے۔ اسمبلی میں اسی قسم کی تقریروں کی وجہ سے میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، نا تو ھم نے کوئی جرم کیا ہے اور نہ ہی کسی قانون کی خلاف ورزی کی ہے، ھمارا قصور یہ ہیں، کہ ہم اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر سوال اٹھاتے ہیں,اور ریاستی پالیسیوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔انکے جنگی اقتصاد یعنی بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہے۔۔۔۔یہی وہ حقیقت ہے جو برداشت نہیں کی جاتی، اور اسی لیے منتخب نمائندوں کو مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دبانے اور خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں خوشحال خان کاکڑ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے جرات اور دیانت کے ساتھ فلور آف دی ہاؤس پر اپنی بات رکھی۔ جمہوریت کا اصل حسن یہی ہے کہ عوام کے نمائندے بلا خوف اپنی قوم کی آواز بن سکیں۔ ایک سیاسی نظریاتی کارکن خاموش نہیں رہ سکتا،سچ کو وقتی طور پر تو دبایا جا سکتا ہے مگر اسے ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ھم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ھمیں خاموش نہیں کرایا جاسکتا، جب جب اور جہاں جہاں موقع ملے ھم اپنی پشتون قوم کے حقوق، اپنے وسائل پر اختیار، اپنے مادر وطن میں پائیدار امن، ریاست کی جنگی معیشت کے خاتمے، پارلیمان کی حقیقی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے...!
@KhushalPKNAP@ANPMarkaz
جب نیشنل عوامی پارٹی کے راہنماؤں کو بھٹو دور میں حراست میں لیا گیا تو ایک ایسا شخص تھا جو بہت ہی خستہ حال تھا، اس کو گرفتار کر کے حیدرآباد جیل لایا گیا۔ جیلر نے اس پریشان حال شخص کو دیکھا اور حقارت سے کہا کہ اگر تم عبدالولی خان کے خلاف بیان لکھ کر دے دو تو ہم تم کو رہا کر دیں ورنہ یاد رکھو اس کیس میں تم ساری عمر جیل میں گلتے سڑتے رہو گے اور یہیں تمہاری موت ہو گی۔ یہ سن کر اس شخص نے جیلر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور مسکرا کر کہا جیلر صاحب جیل میں تو شاید میں چند برس زندہ بھی رہ لوں لیکن اگر میں نے یہ معافی نامہ لکھ دیا تو شاید چند دن بھی نہ جی پاؤں ۔ اصولوں او عزم و ہمت کی اس دیوار کا نام حبیب جالب تھا۔
منقول
بنوں؛ ڈومیل میں ایک معصوم بچی پر دہشتگردوں کا تشدد، اے این پی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کی واقعے کی مذمت
⬛️ایک کمسن بچی کو حلال مزدوری کی سزا دینا انسانیت اور اسلام دونوں کی توہین ہے
⬛️کیا اپنے خاندان کی کفالت کے لئے حلال روزگار اختیار کرنا کوئی جرم ہے؟
⬛️دہشتگرد مذہب کو ڈھال بنا کر دراصل مذہب کی بدنامی کررہے ہیں
⬛️رمضان کے مقدس مہینے میں اس طرح کی بربریت اسلام کی کون سی خدمت ہے؟
⬛️اس سے قبل ننھی کرکٹر آئینہ وزیر کے معاملے میں بھی دھونس کا استعمال ہوا تھا
⬛️اس کی ویڈیو بنانے والے شخص کو اغواء کرکے اس پر تشدد کیا گيا تھا
⬛️حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں ہیں اور کیوں خاموش ہیں؟
⬛️پختونوں کے لئے الگ قانون اور باقی پاکستان کے لئے الگ قانون قابل قبول نہیں
⬛️کوہاٹ سے وزیرستان تک ریاست کے اندر دہشتگرد اپنی ریاست چلا رہے ہیں
#ANP | #AimalWaliKhan
@MeFaheem Shame on you. This isn’t expected from you at all. First you’re subtly justifying violence by using ifs and buts and secondly you’re not providing any reason.
افغان بارڈر پر کشیدگی، فائرنگ اور عسکری کارروائیوں کے باعث چترال کے سرحدی علاقے ارندو اور دیگر ملحقہ دیہات کے مکین بے گھر ہو کر دروش اور لوئیر چترال کے مختلف مقامات پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ یہ خاندان اس وقت کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اے این پی لوئیر چترال کے ذمہ داران اور خدائی خدمتگار آرگنائزیشن اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کی حتی المقدور امداد کر رہے ہیں، مگر یہ ایک محدود کوشش ہے۔ مقامی افراد کے مطابق نہ صوبائی حکومت کہیں دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام سامنے آیا ہے۔
دروش میں ایک کالج کے دو ہال آئی ڈی پیز کے لیے مختص کیے گئے ہیں جہاں خواتین اور مرد ایک ہی جگہ قیام پر مجبور ہیں، جو نہ صرف غیر مناسب بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔ بنیادی سہولیات، خوراک، طبی امداد اور علیحدہ رہائش کا انتظام فوری طور پر ناگزیر ہے۔ رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر ان متاثرہ خاندانوں، بالخصوص خواتین اور بچوں کی حالتِ زار پر رحم کریں اور ان کے باعزت قیام، خوراک، صحت اور سکیورٹی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بے یار و مددگار نہ چھوڑے۔
روزِ اوّل سے ہمارا یہی ایک مطالبہ رہا ہے کہ خدارا افغانستان کو افغانستان ہی رہنے دیں، اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوشش نہ کریں۔ آج افغانستان سے جو دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں، ان کا لقمۂ اجل بھی ہم ہی بن رہے ہیں،کوئی سویلین کپڑے پہن کر اپنے معصوم بچوں کو بے سہارا چھوڑ رہا ہے تو کوئی پولیس، ایف سی اور فوج کا یونیفارم پہن کر۔
جب جنرل ضیاء ڈالروں کے عوض مہاجرین آباد کر رہا تھا اور اسی آڑ میں دہشت گرد تیار ہو رہے تھے، تب بھی مخالفت صرف خان عبدالولی خان کر رہے تھے۔ پھر جب آپ لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان کے ٹیلی وژن اسکرینیں تک توڑ رہے تھے اور ایک انتہا پسند ذہنیت پروان چڑھائی جا رہی تھی، تب اسفندیار ولی خان اسمبلی میں کھڑے ہو کر ان پالیسیوں کی مخالفت کر رہے تھے، مگر آپ نے بات نہ مانی بدلے میں ہمیں اسمبلیوں سے ہی باہر کردیا۔
جب طالبان آ رہے تھے تو کوئی اسے غلامی کی زنجیریں توڑنے سے تعبیر کر رہا تھا اور کوئی انہیں “ذہین مخلوق” کہہ کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہا تھا۔ میں اُس وقت بھی کہہ رہا تھا کہ امریکہ نکلا نہیں، صرف اقتدار کسی اور کے حوالے کیا ہے، مگر اس کے جواب میں آپ نے اپنے پالتو ہمارے اوپر چھوڑ دیے۔
آج وہی “ذہین لوگ” جو کچھ کر رہے ہیں، کیا کسی کے پاس اس کا جواب ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟
دونوں اطراف کے عوام امن چاہتے ہیں۔ جنگ کو غیر ضروری طور پر نہ بھڑکایا جائے۔ امن ہی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ ہم بہت لاشیں دیکھ چکے ہیں؛ خدارا اس عالمی جنگ کو ہماری سرزمین پر مزید نہ پھیلنے دیں۔
جن جن لوگوں نے کابل کے سقوط پر جشن منایا تھا اور طالبان کی آمد پر پرجوش ہو کر مٹھائیاں بانٹی تھیں، آج کی اس تمام صورتحال کے وہی ذمہ دار ہیں۔
"Afghan Taliban"
@mazdaki
آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان جو کشمکش جاری ہے، اس کا پس منظر پچاس برس سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ ان حالات کو سمجھنے کے لیے تاریخ کے ان ابواب کو پڑھنا ضروری ہے جنہیں جان بوجھ کر نظر انداز کیا جاتا رہا۔ چار نسلوں سے ہم چیخ چیخ کر اپنی ریاست کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے، مگر ہماری آواز کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
باچا خان نے برملا کہا تھا کہ یہ روس اور امریکہ کی جنگ ہے، یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے۔ مگر نہ قوم نے اس بات پر توجہ دی اور نہ ہی مقتدر حلقوں نے۔ پھر ولی خان نے خبردار کیا کہ اگر آپ کسی کے گھر بارود بھیجیں گے تو بدلے میں آپ کو پھول نہیں ملیں گے، مگر انہیں "روسی ایجنٹ" قرار دے دیا گیا۔ اسفندیار ولی خان نے اسمبلی کے فلور پر ہاتھ جوڑ کر کہا کہ میرے بچے کو کارتوس اور کلاشنکوف نہیں، قلم دیا جائے؛ اسے خودکش جیکٹ نہیں، اسکول بیگ دیا جائے۔ مگر انہیں "امریکی ایجنٹ" کہہ کر رد کر دیا گیا۔
لاکھوں خدائی خدمتگاروں، پختون قوم پرستوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور لوگوں نے اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر ریاست کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ تشدد کا راستہ تباہی کی طرف لے جاتا ہے، مگر افسوس کہ آج تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
آج جو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں، یہ کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں۔ ہم نے جو بویا تھا، آج وہی کاٹ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کے بیج بوئے گئے، نفرت کو ہوا دی گئی، اور پوری ایک نسل کو ذہنی طور پر جنگ اور تشدد کے بیانیے کے سپرد کر دیا گیا۔ اگر خدانخواستہ یہ آگ آج دوبارہ بھڑک اٹھی تو پھر یہ کسی سرحد، کسی قومیت اور کسی ریاست کی تمیز نہیں کرے گی۔
ہم آج بھی یہ مؤقف دہراتے ہیں کہ ہماری قوم بحیثیت مجموعی امن پسند ہے۔ جو جنگ لڑی جا رہی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کی جنگ نہیں بلکہ عالمی قوتوں کی جنگ ہے، اور اس کے لیے اس خطے کو برسوں سے میدان بنایا جاتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا افغانستان میں قائم حکومت واقعی عوام کی مرضی کی نمائندہ ہے؟ کیا پاکستان اور خصوصاً پختونخوا میں بیٹھی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوام کی رائے سے وجود میں آئی ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان حکومتوں کے قیام میں عوامی منشا سے زیادہ دیگر قوتوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
میں آج بھی دونوں اطراف کے مقتدر حلقوں سے یہی گزارش کروں گا کہ جو بھی پالیسیاں بنائی جائیں، ان میں عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے۔ سرحد کے دونوں جانب کے عوام جنگ نہیں چاہتے، وہ امن، روزگار، تعلیم اور باعزت زندگی چاہتے ہیں۔
اگر آپ خود کو مسلمان کہتے ہیں تو اپنی مسلمانی کی خاطر امن کو ترجیح دیں۔ اگر آپ پختون ہیں تو پختونولی کی روایات کو یاد رکھیں، جن کی بنیاد عزت، رواداری اور جرگے کے ذریعے مسائل کے حل پر ہے۔ اگر آپ افغان ہیں تو افغانیت کا تقاضا بھی امن ہے، اور اگر آپ پاکستانی ہیں تو پاکستانیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے ہی لوگوں کو جنگ کی آگ میں نہ جھونکا جائے۔ جنگ کبھی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں بنی۔
میں اپنی قوم سے بھی یہی کہوں گا کہ اس وقت میرے بس میں جو ہے، میں وہ کر رہا ہوں۔ اگر اس سے بڑھ کر کچھ کر سکتا تو ضرور کرتا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ہوش، صبر اور شعور کا دامن نہ چھوڑیں اور نفرت کے بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
یہ اسلام آباد جی الیون مرکز ھے آج ایک بینک جانا تھا۔۔ایک جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کرنے کو کوشش کی۔۔ ایک بچہ آیا کہا کہ یہ شوروم کی جگہ ھے۔۔ میں نے کہا یہ سارے گاڑیاں شوروم والوں کی ہیں ۔کہا کہ ایک نہی چار شورومز کی گاڑیاں ہیں اور یہ والی جگہ ھماری ھے۔۔۔اس مرکز میں جگہ فٹوں کے حساب سے کرائے پر ملتی ھے مگر جب میل ملاپ ھوں تو کنالوں کے حساب عوامی جگہ مفت قبضہ کرسکتے ھو۔
اس ویڈیو سے بخوب اندازہ ہوسکتا ھے کہ عوامی جگہوں کی اسلام باد انتظامیہ کیسے بندربانٹ کرتی ھے ۔۔
@dcislamabad@MohsinnaqviC42@KlasraRauf
بہت شکریہ حماد صاحب ، اگر آپ میری تعریف کرتے تو مجھے خود کے بارے بھی بدگمانی ہوجاتی ۔ فرمائش تو آپ کو میرے بارے ہوئی ہوگی مگر ہمارے دوست حسین شاہ یوسفزئی کو آپ نے بروزن قافیہ شامل کرلیا ۔
شاہ پرستوں سے ہمیں کوئی سند نہیں درکار ، عوامی نیشنل پارٹی کے سامنے واحد راستہ مستقل مزاحمت کا ہے ۔ مزاحمت کی اولین سیڑھی ہر قسم کے خاکی انتظام کی رد ہے ، ایسی سیاست نہیں چاہئیے جس میں عوام نہ ہوں ، ایسے انتخابات کو کیا کرنا جس میں ووٹ کی پرچی بے وقار اور نتائج برائے فروخت ہوں ، ایسا نظام کس کام کا جس میں عدالتیں بے اختیار ہوں اور ایسی حکومت کسے عزیز ہوسکتی ہے جس میں اقتدار نہ ہو ، جبر ایسا کہ ایک ٹویٹ پر 17 برس کی قید کی سزا ملے،مگر حماد صاحب نظام پھر بھی انکے ہاتھ سے ریت کی ذرات کی طرح پھسل رہا ہے ۔
ویسے اسی روز جب ایمان مزاری نے ٹویٹ کیا تھا وہی بات میں نے بھی کی تھی ، اپنے دوستوں سے کہیں میرے سوشلز بھی دیکھ لیں ۔