گوتم بدھ لکھتے ہیں کہ دکھ کا سبب تشنگی ہے، یعنی ہر وقت کچھ اور چاہتے رہنا، اور جو ہے اس سے مطمئن نہ ہونا۔ بدھ کے نزدیک مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کے پاس کتنا ہے، مسئلہ وہ رسی ہے جو آپ کو اس چیز سے باندھے رکھتی ہے جو آپ کے پاس نہیں ہے۔
کمال سر
@YasirPirzada
بہت شکریہ
بھکاریوں کے گھر کا لڑکا صبح بھیک مانگنے نکلا تو باپ نے کہا: ” پُتّر، تم مشرق، مغرب یا جنوب کی سمت تو جا سکتے ہو مگر شمال کی جانب مت جانا۔“ لڑکے نے وجہ پوچھی تو باپ نے کہا: ”شمال میں نحوست ہے، اس لیے اجتناب کرنا“ لڑکے نے ہنس کر جواب دیا: ”ابا، میں بھیک مانگنے جا رہا ہوں، اس سے بڑھ کر نحوست اور کیا ہوگی؟“
https://t.co/FovZdn8Htw
سانحہ چکوال
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ننھی ہانیہ کو 11گولیاں لگیں،بچی کی ٹانگوں، بازو ،پیٹ سمیت جسم کے مختلف حصوں میں گولیاں لگیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زخموں نے شدید جسمانی صدمہ پہنچایا
شدید خون بہنا اور کارڈیو پلمونری اریسٹ موت کی بنیادی وجوہات قرار
اگر آپ درزی ہیں تو آسٹریا جائیں۔
گوشت کا کام کرنا یے تو ہنگری جائیں۔
فارمنگ اور ہوٹلنگ کا شعبہ یے تو سلووینیا آئیں۔
اگر بجٹ 10 سے 12 لاکھ ہے تو سلووینیا آئیں۔
اگر بجٹ 10 سے 13 لاکھ ہے تو کروشیا جائیں۔
اگر بجٹ 11 سے 14 لاکھ ہے تو ہنگری جائیں۔
اگر بجٹ 11 سے 15 لاکھ ہے تو سلوواکیہ جائیں۔
اگر بجٹ 12 سے 15 لاکھ ہے تو چیک ریپبلک جائیں۔
اگر بجٹ 12 سے 16 لاکھ ہے تو پولینڈ جائیں۔
اگر بجٹ 12 سے 16 لاکھ ہے تو لٹویا جائیں۔
اگر بجٹ 12 سے 16 لاکھ ہے تو لیتھوانیا جائیں۔
اگر بجٹ 13 سے 17 لاکھ ہے تو ایسٹونیا جائیں۔
اگر بجٹ 14 سے 18 لاکھ ہے تو یونان جائیں۔
اگر بجٹ 15 سے 20 لاکھ ہے تو پرتگال جائیں۔
اگر بجٹ 16 سے 22 لاکھ ہے تو اسپین جائیں۔
اگر بجٹ 16 سے 22 لاکھ ہے تو اٹلی جائیں۔
اگر بجٹ 18 سے 25 لاکھ ہے تو آسٹریا جائیں۔
اگر بجٹ 18 سے 28 لاکھ ہے تو فرانس جائیں۔
اگر بجٹ 20 سے 30 لاکھ ہے تو جرمنی جائیں۔
اگر بجٹ 20 سے 35 لاکھ ہے تو بیلجیم جائیں۔
اگر بجٹ 20 سے 35 لاکھ ہے تو نیدرلینڈز جائیں۔
اگر بجٹ 22 سے 40 لاکھ ہے تو آئرلینڈ جائیں۔۔
You can be soooooo popular at your workplace, but trust me, if you're laid off today, no one from work will call you after 1 week. Avoid gossip. Don't brag. Do your job. Get paid. Go home. Dear son, Keep your private life to yourself.
اکانومسٹ کے ایک تازہ مضمون کی سرخی ہے: War will drain the Gulf’s $6trn treasure chest یعنی جنگ سے خلیجی ریاستوں کا چھ ہزار ارب ڈالر کا خزانہ خالی ہوجائے گا۔ یہ کتنی بڑی رقم ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان کا اس سال کا پورا بجٹ 68 ارب ڈالر ہے۔
اکانومسٹ کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک کے فنڈز گزشتہ برسوں میں عالمی سرمایہ کاری کے میدان میں نمایاں حیثیت اختیار کرگئے تھے۔ بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے 2021 کے بعد سے سیکڑوں ارب ڈالر مختلف شعبوں میں لگائے، جن میں مصنوعی ذہانت، نجی قرضے، انفراسٹرکچر اور کھیلوں کے ادارے شامل ہیں۔ ان فنڈز کے زیرانتظام مجموعی اثاثے کھربوں ڈالر ہوگئے۔
لیکن اب جنگ نے اس حکمت عملی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران کے حملوں سے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس کی مرمت کے لیے خطیر رقوم ڈالر درکار ہوں گی۔ خلیجی ممالک کو دفاعی اخراجات بھی بڑھانے پڑرہے ہیں۔ توانائی کی برآمدات میں خلل کے باعث معیشت کی رفتار بھی سست ہو رہی ہے۔
ایسے حالات میں ان ممالک کو اپنی ان فنڈز کی ضرورت پڑے گی جس کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے وہ سرمایہ نجی اور لیکوئیڈ اثاثوں میں لگا ہوا ہے جسے فوری طور پر فروخت کرنا مشکل ہے یا نقصان کے بغیر بیچنا ممکن نہیں۔
خلیجی ممالک اپنے معاشی ڈھانچے کو تیل پر انحصار سے ہٹانے کے لیے بھی بڑے منصوبوں پر کام کررہے تھے لیکن جنگ نے ان منصوبوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
جنگ کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ سیاحت، ہوابازی اور رئیل اسٹیٹ جیسے شعبے متاثر ہوئے ہیں، جس سے مقامی کمپنیوں کی آمدنی متاثر ہورہی ہے۔ کئی بڑے ترقیاتی منصوبے منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوچکے ہیں۔ کئی میں بڑے مالی نقصانات کا خدشہ ہے۔
اگر یہ صورتحال برقرار رہی ہے تو خلیجی ریاستوں کو اپنا سرمایہ نئے منصوبوں میں لگانے کے بجائے پرانے ڈھانچے کی بحالی پر خرچ ہوگا۔
JUST IN: President Trump said he could travel to Islamabad to seal a deal, praising Pakistan’s leadership and signaling he “might go” if an agreement is signed there:
“The field marshal has been great. The Prime Minister has been really great in Pakistan so I might go.”
@pdoocy
This hospital at the centre of a child HIV outbreak in Pakistan is caught reusing syringes in a BBC investigation.
📺 Watch the full documentary on our YouTube channel: https://t.co/5yUuOtrmZx
جب میں یہ لکھ رہا ہوں، جنگ کا نواں دن ہے۔ تیل کی تنصیبات پر حملے ہوچکے ہیں اور سیاہ دھوئیں کے ستون افق کو تاریک کررہے ہیں۔ اب مجھے سورج بھی نظر نہیں آرہا۔ میں اس خوف سے جلدی جلدی لکھ رہا ہوں کہ کسی بھی لمحے مارا جاسکتا ہوں۔ ایسی عجلت میں لکھنا الفاظ کی کفایت کا تقاضا کرتا ہے۔ اگر میری زندگی کے چند ہی منٹ باقی ہوں تو کیا میری باتوں کی کوئی قدر ہوگی؟ مجھے کیا لکھنا چاہیے جو اس دنیا میں میری کوئی نشانی چھوڑ سکے یا ہمارے وقت کی کوئی دستاویز بن سکے؟
شراب، غم اور محبت کی طرح جنگ بھی انسان کی بنیادی پابندیاں مٹا دیتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ اسے جنگ کی تقدیس نہیں سمجھیں گے لیکن کہنا چاہتا ہوں کہ جنگ کے زمانے میں، محبت کی طرح، انسان کبھی کبھی زیادہ خوبصورت اور زیادہ بہادر ہوجاتا ہے۔ کچھ لمحے پہلے کسی نے مجھے ایک پولیس اسٹیشن کی تصویر بھیجی۔ تقریباً مکمل طور پر تباہ شدہ لیکن میں اس کے کھنڈرات سے بھی اسے پہچان گیا۔ اگر آپ نے وہ سب نہیں جھیلا، جو ہم جھیل چکے ہیں تو شاید آپ کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو کہ کوئی شخص چھت سے یہ دیکھ کر خوش کیوں ہوسکتا ہے کہ دشمن نے ایک پولیس اسٹیشن پر بمباری کی ہے۔
آپ نے شاید ایسی ویڈیوز دیکھی ہوں جن میں ہزاروں خاندان اپنے عزیزوں کی قبروں پر ناچ رہے ہیں۔ یہ غم کے ساتھ ساتھ مزاحمت کے رقص ہیں، سرکاری سوگ کے بیانیے کو مسترد کرنے کے لیے۔ ہم صرف دو مہینوں سے نہیں بلکہ کئی سال سے سوگ میں ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس غم میں ہم بالکل اکیلے ہیں۔ اس جنگ کے پہلے دن ایک اسکول پر حملہ ہوا، جس میں تقریباً 180 افراد، زیادہ تر بچے، مارے گئے۔ اس قتل کا جواز کون دے سکتا ہے؟ ہم ان بچوں کا بھی سوگ مناتے ہیں اور ان بچوں کا بھی جو جنوری کے مظاہروں میں مارے گئے۔ ہم بیرونی حملہ آوروں کے بھی خلاف ہیں اور اپنی حکومت کے بھی۔ ہمیں ایسی حکومت چاہیے جو ہمیں محفوظ رکھے، نہ کہ ہمیں نشانہ بنائے۔ ہم دوہری تنہائی کا شکار ہیں۔ یہ غم ہمارا اپنا ہے، اور ہم اسے خود ہی سہہ رہے ہیں۔
۔۔۔
تہران کی چھتوں سے کے عنوان سے یہ طویل مضمون نیویارک ریویو آف بکس نے 27 مارچ 2026 کو شائع کیا۔ مکمل ترجمہ میں نے فیس بک پر اپنے سبسکرائبرز کو پیش کیا ہے۔
Pakistan, once isolated by Washington for harboring Osama bin Laden, is assuming a surprisingly prominent position in the multinational effort to push the U.S. and Iran toward the negotiating table https://t.co/rHZAb3nKkl
"What is now clear is that what started in Gaza is continuing elsewhere in the world. The genocidal US-Israeli war machine is expanding, and by doing so, it is waging war on humanity itself."
— #AJOpinion by @yarahawari ⤵️ https://t.co/RbxcdkeD9c
Exclusive: The U.S. military has fired more than 850 Tomahawk cruise missiles in four weeks of war with Iran, burning through the precision weapons at a rate that has alarmed some Pentagon officials, said people familiar with the matter. https://t.co/7ZOT1ukiH5