India Said We Will Have Breakfast In Sialkot, One Of Our Colleagues Replied Today That We Also Like To Drink Tea ☕️ In Deoband.
Maulana Fazlur Rehman @MoulanaOfficial
او بابا
فوجی کی ذمہ داری ملک کا دفاع کرناہے اسی فرض کے لیے وہ وردی پہنتا اور تنخواہ لیتاہے۔
اس لیے اپنے خون کا احسان عوام پر نہ جتاؤ.
کیونکہ یہ تنخواہ بھی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے جمع ہونے والے ٹیکس سے ملتی ہے۔
@MoulanaOfficial#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور
پی ٹی آئی صوبائی صدر ایم این اے جنید اکبر خان نے خود اعتراف کیا کہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے موقع پر صرف جےیوآئی نے ٹیکس کی مخالفت کی، جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں نے اسکے حق میں ووٹ دیا تھا.
یہ بگوڑا @ImranRiazKhan اب برطانیہ میں تقریریں کر رہا ہے اور سیاستدان بنا ہوا ہے، حالانکہ یہ ایک پیڈ صحافی تھا۔
جب فوج اس کے ساتھ تھی اور سب کچھ اس کی مرضی کے مطابق چل رہا تھا، تب نہ تو اسے پی ٹی ایم (PTM) والوں پر ترس آ رہا تھا، نہ ہی پختونوں پر اور نہ ہی بلوچستان کے لاپتہ افراد (Missing Persons) پر
اب چونکہ اس کے مفادات فوج سے وابستہ نہیں رہے، اس لیے یہ فوج پر تنقید کرتا ہے اور اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کر رہا ہے
مولانا فضل الرحمٰن کی جے یو آئی بازی لے گئی۔
جب خیبرپختونخوا اسمبلی سے مراعات بل کی منظوری کے حق میں پی ٹی آئی دیگر اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اے این پی پیپلز پارٹی پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے ساتھ مل کر پریس کانفرنسز اور مہم میں مصروف تھی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کو مشترکہ مفادات کونسل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا تو اس موقع پر صرف جے یو آئی نے خود کو اس سیاسی گناہ کے ارتکاب سے بچایا ۔
اس نے کسی بھی طور اس بل کی حمایت اور مفادات کے اس کھیل کا تحفظ نہیں کیا ۔
پھر کہتے ہیں کہ مولوی کو سیاست نہیں آتی بھئی سیاست سیکھنے کے مولانا فضل الرحمٰن کی شاگردگی کرنی ہوگی چند روز کے دوران خیبرپختونخوا میں جو کُچھ ہوا اس نے ثابت کر دیا کہ سیاسی فہم و بلوغت میں باقی تمام جماعتیں جے یو آئی سے کہیں پیچھے رہ گئی ہیں ۔
سنئیر صحافی آصف نثار غیاث
فاٹا میں ٹیکس مخالف صرف جمعیت علمااسلام نے کی تھی
جنید اکبر نے بڑی حقیقت تسلیم کرلی
ہم نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ فاٹا کو آئین دیں قانون دیں
ہم نے یہ نہیں کہا تھا کہ فاٹا میں ٹیکس لائیں
فاٹا کا ایم این اے پورے پاکستان کیلئے قانون سازی کرتا ہے پی ایس ڈی پی بناتا ہے لیکن فاٹا کیلئے قانون سازی نہیں کرسکتا
اس قانون میں سب شامل ہیں
ڈرامہ کوئی نہ کرے
میں اس سٹیج پر یہ تسلیم کرتا ہوں کہ تنہا جمعیت علما اسلام کی جس نے اس قانون کی مخالفت کی ہے
ہر پارٹی اس کے حق میں تھی
آج کوئی یہ تنقید کرتا ہے کہ میں شامل تھا اور دوسرا نہیں تھا
اگر آپ کی جماعت کی قیادت نے خود سوزی کرلی ہے تو ہم بھی کرلیں گے
لیکن ایسا نہیں ہوگا کہ اپنی قیادت کو بچائیں گے اور دوسروں پر تنقید کریں گے
آئیں اتفاق سے بات کرتے ہیں اتحاد کی بات کریں گے
ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے
جب قوم اکٹھی ہوتی ہے تو حکومت ریاست ادارے اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے
صوبائی صدر پی ٹی آئی جنید اکبر خان کا بٹخیلہ ملاکنڈ میں ٹیکس کیخلاف آل پارٹی احتجاج سے خطاب
پی ٹی آئی صوبائی صدر ایم این اے جنید اکبر خان نے خود اعتراف کیا کہ 2018 میں 25ویں آئینی ترمیم کے موقع پر صرف جےیوآئی نے ٹیکس کی مخالفت کی، جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتوں نے اسکے حق میں ووٹ دیا تھا.
جب امریکہ نے تمہارے اوپر پابندی لگائی کہ ہم فوجی امداد پاکستان کو نہیں دیں گے تو میں خارجہ امور کا چیئرمین تھا۔
میں نے نیویارک میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ساتھ بات کی پاکستان کی خاتون سفیر اس وقت موجود تھیں ہماری میٹنگ میں میرا ترجمہ وہی کیا کرتی تھیں۔
ایک میٹنگ کے اندر اندر ہم نے ان کو وہ قانون واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔
امریکی میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا!
ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں معدنی ذخائر میں ہم نے کہا سرمایہ کاری سے بے نیاز تو خود امریکہ, روس اور چین بھی نہیں ہے۔
@MoulanaOfficial
#عوامی_حقوق_کانفرنس_قصور
#teamJUIswat
تفصیل سن لیجئے شہباز شریف کے راج میں سب پیٹرولیم کمپنیوں کے منافع دو تین گنا بڑھ گے
مگر اس دوران پاکستان میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے سرک گے
غریب سے لوٹ کر الیٹ کو دینے کا ماڈل بھی شہباز ماڈل کہلائے گا
اپنے ملک کا تو یہ حال ہے، ہندوستان کے ساتھ پوری سرحد بند، افغانستان کے ساتھ پوری سرحد بند، مغربی سرحدیں بھی بند، مشرقی سرحدیں بھی بند۔ ایران ایسے حالات میں ہے کہ وہ نہ اچھے کا ہے، نہ برے کا۔ چین اپنا اعتماد اٹھا چکا ہے تم لوگوں سے۔ وہ ایک چھوٹا سا کوریڈور ہے جو، اگر تجارت کے لیے کھلتا ہے، تو آپ نے ان کو دھوکے دیے ہیں، ہم نے ان کو دھوکے دیے ہیں، ہم نے ان کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا ہے۔ اس وقت پاکستان محصور ہے، حکمرانوں کی پالیسیوں کے ہاتھوں محصور ہے، اور حکمران اس لیے مجبور ہیں کہ وہ بھی تو محصور ہیں۔
ہم حکمرانوں کی مجبوری کو جانتے ہیں، لیکن یہ کوئی بھی نوزائیدہ نہیں ہیں۔ یہ جتنے اس وقت فیصلہ کن لوگ ہیں، فیصلہ کن قوتیں ہیں، وہ عاقل و بالغ ہیں، سمجھدار ہیں، لیکن ان کے اندر آزادی و حریت کی رمق نہیں ہے۔ وہ غلامانہ ذہنیت کے حامل ہیں، اور وہ کسی طاقتور ملک کے لیے پراکسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنی جنگ نہیں لڑ رہے۔
اگر تم افغانستان پر اعتراضات کرتے ہو، افغانستان سے مجھے بھی شکایت ہے، لیکن کچھ معاملات ہوتے ہیں جو طاقت سے حل نہیں ہوا کرتے، وہ سفارتی عمل سے حل ہوا کرتے ہیں، ڈپلومیسی سے حل ہوا کرتے ہیں۔ میں الیکشن سے پہلے گیا، جمعیۃ علماء کا ایک مؤقر وفد لے کر، ایک ہفتے میں تمام معاملات حل کر کے آ گیا۔ یہاں میں نے رپورٹ کی، میری دادِ تحسین کی گئی کہ آپ نے زبردست کامیابی حاصل کی، لیکن پھر الیکشن میں اسی جماعت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہے ان کی رواداریوں کا صلہ۔ ہم ملک کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہم ملک کو کس طرح مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں؟
شاید آپ نوجوانوں کو یاد نہ ہو، دو ہزار تین میں، جب مشرف کی حکومت میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس حد تک کشیدہ ہو گئے کہ ہمارے زمینی رابطے ختم، فضائی رابطے ختم، ہماری فضاء ان کی پروازوں کے لیے، اور ان کی فضاء ہماری پروازوں کے لیے بند ہو گئی۔ وہاں کا ہمارا ہائی کمیشن، یہاں ان کا ہائی کمیشن، ایک اسٹینوگرافر چلا رہا تھا، مکمل خالی ہو گئے تھے۔
اس وقت جمعیۃ علماء کا چار ارکان پر مشتمل وفد گیا، میں ساتھ تھا۔ ہم نے وہاں دس دن گزارے، تمام پارٹیوں سے ہم نے بات کی، اور دس دن کے بعد واپس ہوئے۔ چار پانچ مہینوں کے بعد تعلقات بحال ہو گئے۔ یہ جمعیۃ علماء کی کارکردگی تھی۔
جب امریکہ نے تمہارے اوپر پابندی لگائی کہ ہم فوجی امداد پاکستان کو نہیں دیں گے، تو میں خارجہ امور کا چیئرمین تھا۔
میں نے نیویارک میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ساتھ بات کی۔ پاکستان کی خاتون سفیر اس وقت موجود تھیں، ہماری میٹنگ میں میرا ترجمہ وہی کیا کرتی تھیں۔
ایک میٹنگ کے اندر اندر ہم نے ان کو وہ قانون واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔
امریکی میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، معدنی ذخائر میں۔ ہم نے کہا: سرمایہ کاری سے بے نیاز تو خود امریکہ بھی نہیں ہے، سرمایہ کاری سے بے نیاز تو روس بھی نہیں ہے، چین بھی نہیں ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا میں کام کرتی ہیں، پیسہ لگاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرے گا تو ہم کیوں روکیں گے؟ لیکن سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق پاکستان اور آپ کے درمیان کھلا معاہدہ ہونا چاہیے، عوام سے خفیہ مت رکھو۔ پھر جس علاقے میں معدنی ذخائر پیدا ہوتے ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ کرنا آپ کی بھی ذمہ داری ہوگی، پاکستان کی بھی ذمہ داری ہوگی، اور یہ اصول ہے۔
بظاہر تو وہ مان گئے، لیکن آج قبائلی پہاڑوں میں اگر کوئی جنگ ہے تو وہ اسی بنیاد پر ہو رہی ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کو بیچا جا رہا ہے، اور مقامی آبادی کو بے اختیار کر کے اس سے اس کا اختیار چھینا جا رہا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خود ہی یہ کاروبار کر سکتے ہیں۔ نہیں، یہ پاکستان کے بچوں کی ملکیت ہے۔
یہ ان علاقوں کے بچوں کی ملکیت ہے۔ بلوچستان کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ پنجاب کے عوام اور ان کے بچے پنجاب کے وسائل کے مالک ہیں۔ سندھ کے عوام اور ان کے بچے سندھ کے وسائل کے مالک ہیں۔
کسی کا کوئی مائی کا لال ان کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا، اور اگر ڈالا جائے گا تو پھر یہی بے چینیاں آئیں گی جو آج سندھ میں ہیں، وہی بے چینیاں جو آج بلوچستان میں ہیں، وہی بے چینیاں جو آج خیبر پختونخوا میں ہیں، اور یہی بے چینیاں کل پنجاب میں اتر سکتی ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
مولانا فضل الرحمٰن کا بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بد امنی کی صورتحال پر قصور میں جلسے سے خطاب
مقتدرہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔
ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔
آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔
بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔
یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔
پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔
میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔
آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
ملک اجڑ رہا ہے حکمران کہاں ہیں؟
بلوچستان کے بعد پشتون علاقے خون میں نہا گئے
دو تین دن میں پچاس سے زائد لاشیں؟
فوج سیاست کرنا چاہتی ہے تو وردی اتارے!
صوبوں میں حکومت کی رٹ ختم؟
مولانا فضل الرحمٰن کا تہلکہ خیز خطاب
دل کے کان کھول کر سن لو!
#MaulanaFazlurRehman #Balochistan #KhyberPakhtunkhwa
فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے
اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو
خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے
مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی
جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی
پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے
آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں
تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے
تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں
کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا قصور میں جلسے سے خطاب