پاکستان میں قیام کے دوران ایک گھر میں چوری کے واقعے کا سیاق و سباق سمجھنے کے بعد چند سال قبل ایک تھریڈ لکھا، جو اب مکمل شئیر کر رہا ہوں:
کچھ عرصہ قبل جاننے والوں کے گھر 16 سالہ لڑکی (جو 15 ہزار ماہوار پر 24 گھنٹے ملازم تھی) نے گھر سے کچھ کپڑے و جوتیاں چوری کیں۔ مجھے خاتون خانہ نے شکایت و غصے بھرے لہجے میں بتایا کہ کیسے دن رات انکے گھر رہنے والی نے اپنی اصلیت دکھائی اور احسان فراموشی کی تو میں بھینچ کر رہ گیا۔
صرف اتنے الفاظ ادا ہوئے کہ ایک متمول خاندان کی ہم عمر لڑکیوں کو دن رات قیمتی ملبوسات میں دیکھ کر پتہ نہیں اس کے اندر کیا بیتتی ہو گی، لیکن ان خاتون کے دل و دماغ پر ایک دھیلے کا اثر نہ ہوا۔ چند دن بعد کوئی اور اس گھر میں انکی بیٹیوں و بیٹوں کی خدمت پر معمور ہوا۔
بچپن میں پورے محلے و خاندان میں ہمارا واحد گھر تھا جہاں کبھی کوئی کام کرنے والی نہیں آئی۔ کچن، کپڑے والدہ، جبکہ اپنا کمرہ، باتھ روم صاف کرنے کی ذمہ داری ہر ایک کی اپنی تھی۔ برآمدہ کوئی ایک دھو لیتا۔ میں دوستوں کے گھر صفائی کرنے والی دیکھتا تو اپنی قسمت کو کوستا۔
اس زمانے میں روز گھر آ کر صفائی کرنے والی کی تنخواہ بمشکل سو دو سو تھی جو ہم افورڈ کر سکتے تھے۔ ایک دفعہ شکایت کی تو جواب ملا کہ اتنی کم تنخواہ ظلم ہے اور جتنی ان کا حق ہے اتنی ہماری مالی حیثیت نہیں۔ یہ بات ساری زندگی کا سبق بن کر رہ گئی اور اپنا کام خود کرنے کی عادت ہو گئی۔
کام کے عوض پرانے کپڑے یا سالن نہیں بلکہ پوری اجرت دیں۔ ورنہ کسی ملازم کے چوری کرنے پر غصہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کیونکہ اس سے پہلے آپ خود چوری کے ساتھ ظلم کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ کوئی نماز کوئی صدقہ کسی مفلس کی مجبوری کا فائدہ اٹھانے کے ظلم کا حساب نہیں چکا سکتا۔
سادہ سا اصول ہے۔ اتنا سوچیے کہ اپنے والدین یا اولاد کو کتنی تنخواہ کے عوض کسی کے گھر کام پر رکھوا سکتے ہیں، جتنی رقم ذہن میں آتی ہے اتنی ہی ملازمین کو دیں۔ دوسری صورت میں تمیز سیکھنے کے ساتھ، اپنے کام خود کریں اور اولاد کو بھی سکھائیں۔ کسی کی مدد مقصود ہے تو صرف اتنا کام کروائیں۔
Up until a few years ago, kids in the neighborhood would ring my doorbell and take off running. I'd usually see them and deliberately let them think they'd gotten away with their ding-dong ditch. 🙂
This video brought a huge smile to my face. The boy is lucky to have a father like that:
Walking through #Taxila, it’s impossible not to be struck by the depth of Pakistan’s history. For centuries, this was a centre of learning that connected people, ideas & cultures from across the region & beyond. A fascinating visit and a beautiful reminder of 🇵🇰 rich heritage.
کئی سال ہو گئے لکھتے ہوئے، لیکن جانے یہ افسر کس مٹی کے بنے ہیں کہ انہیں کوئی شرم ہی نہیں آتی۔ بھائی بس کر دو، کسی اور منصوبے سے پیسے بنا لو۔
پورے پاکستان میں ان پام کے پودوں پر پابندی لگنی چاہئے، ورنہ یہ پاکستان کو دبئی بنانے کے چکر میں، دبئی والا صحرا بنا کر چھوڑیں گے۔
@MaryamNSharif Madam CM, the palm tree scam continues unabated. Some officials make big packets purchasing these useless trees. Pakistan has hot summers, we need shade trees, not this rubbish. Also, these trees sequester very little carbon. No good against warming.
@realikramnasim@sarfrazsirohey اسکا مجھے علم نہیں باقی سب علم ہوتا بھائی آپکو کے اب وہاں سکول یونیفارم یہ اب وہ لیکن یہ علم نہیں بقول آپکے ہی اگر یہ سابقہ پرچم ہے تو یہ لوگ افغانستان کے باہر اس کو کیوں لہراتے ہیں افغانستان جا کہ نام نہاد امارت اسلامیہ کا اٹھا لیتے ذرا تحقیق کر کے بتائے گا۔
@ch_sajaad congratulation sir, and salute to you with both hands as you were providing the information and you are sucha a true patriot, a lot respect 😍