ایمرجنسی ایمرجنسی ایمرجنسی🚨🚨 🚨🚨
تحریک انصاف قیادت کو ابھی تک اسمان سر پر اٹھا دینا چاہیے تھا
ڈرون حملے ہو رہے ہیں میزائل حملے ہو رہے ہیں لیکن قیادت ہنگامی بنیادوں پر پریس کانفرنس کر کے عمران خان کی رہائی اور حفاظتی اقدامات کے لیے اواز نہیں اٹھا رہے
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“اس ملک کی حقیقی آزادی کی خاطر ہم آخر تک لڑیں گے۔
اڈیالہ جیل کو ایک کرنل غیر قانونی طور پر کنٹرول کیے ہوئے ہے جو بالکل غیر قانونی ہے۔ جیل مینول کے مطابق جیل اتھارٹی انچارج ہے لیکن کرنل قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے سب کچھ قابو کیے ہوئے ہے۔ میری اہلیہ سے میری ملاقات جیل مینول میں اجازت کے باوجود بار بار رکوائی جا رہی ہے۔ یہ تیسری دفعہ ہے کہ میری ملاقات بشری بی بی سے نہیں کروائی گئی۔ عدالت کے احکامات کے باوجود مجھے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔میری سیاسی لوگوں سے بھی ملاقات نہیں کروائی جاتی، دور دراز سے لوگ مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں ان کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن ان کو اجازت نہیں دی جاتی۔ میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کا مقصد مجھ پر اور میری اہلیہ پر دباؤ بڑھانا ہے لیکن ہم ٹوٹنے والے نہیں ہیں!!
انسانی حقوق سے متعلق ہماری پٹیشنز ابھی تک لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس باقر نجفی، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء ہیں جن پر اب تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ملک میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہے، غیر قانونی چھاپے مارے جا رہے ہیں ہمیں ایک جلسہ یا کنونشن تک کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آئین ہمیں یہ حق دیتا ہے کہ ہم جلسے کریں لیکن ہم سے ہمارے آئینی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔ ملک میں ہر طرف انسانی حقوق پامال ہیں اور اندھیروں کا دور دورہ ہے۔
پاکستان کو کرکٹ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملتی آئی ہے مگر اب اس شعبے کی بھی منظور نظر افراد کی بھرتیاں کر کے تباہی کر دی گئی ہے۔ محسن نقوی کی ساکھ کیا ہے؟ سوائے اس کے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کا ٹاؤٹ ہے۔ اس نے کرکٹ کی تباہی کر دی ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے پورا نظام چیئرمین کے زیر سایہ ہوتا ہے، محسن نقوی کے پاس کرکٹ کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں ہے۔ کسی بھی باؤلر کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتا ہو تاکہ اس میں stamina موجود ہو مگر یہاں ٹیم میں ایسی سلیکشن کی گئی ہے جس میں کھلاڑیوں نے ایک ٹیسٹ میچ تک نہیں کھیلا۔ جب میں وزیراعظم تھا تو رمیز راجہ کو چیئرمین بنایا تھا جو کرکٹ کا کھلاڑی اور تجربہ کار تھا۔
محسن نقوی کو پہلے نگران وزیراعلٰی لگایا گیا اس کے دور میں جس طرح انسانی حقوق کی پامالی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آٹھ فروری کو ملک کا سب سے بڑا فراڈ ہوا تب بھی یہی نگران وزیراعلٰی تھا اور اس کی سرپرستی میں پنجاب میں انتخابی فراڈ ہوا۔ اب یہ وزیر داخلہ ہے اور پاکستان میں امن و امان کے حالات خراب ہیں یہ شخص ہر شعبے میں ناکام ہے۔ محسن نقوی آصف زرداری کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے وہی آصف زرداری جس کے مسٹر ٹین پرسنٹ کے قصے پوری دنیا میں مشہور ہیں جس شخص کا آئیڈیل آصف زرداری جیسا شخص ہو اس کی کارکردگی کیا ہی ہو سکتی ہے۔
میرے مقرر کردہ پارٹی عہدیداران ہی پارٹی پالیسی دینے کے مجاز ہیں-
پارٹی ڈسپلن کی بہت اہمیت ہے- جنگ باہر والوں کے خلاف ہوتی ہے اپنے لوگوں کے خلاف بات کر کے اور اصل موضوعات سے توجہ ہٹا کر دوسری جماعتوں کا ایجنڈا پروان چڑھتا ہے۔ میرے بار بار منع کرنے کے باوجود شیر افضل مروت بیانات دینے سے نہیں رکا اسی لیے اس کو پارٹی سے نکالا گیا ہے”
چئیرمین عمران خان کا سالِ نو کے حوالے سے پیغام
قوم کو سالِ نو مبارک ہو! یقینِ کامل ہے کہ سال ۲۰۲۵ حقیقی آزادی کا سال ہو گا۔
میں اپنی قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے باوجود فسطائیت کے وقت کے فرعونوں کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ ۸ فروری کو بھی اپنا واضح فیصلہ سنایا، اور ایسی جماعت کو ووٹ دیا جس پر اس کا انتخابی نشان چھین کر عملاً پابندی لگا دی گئی تھی۔ استقامت اور ہمت کا استعارہ بن کر پاکستانی قوم باقی ماندہ سال بھی ڈٹ کر کھڑی رہی۔ آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، انشاء اللہ
رجیم چینج کا تجربہ نہ صرف قومی معیشت بلکہ ملک کے مکمل نظام پر بہت بھاری پڑا ہے۔ 6% شرح نمو پر ترقی کرتی معیشت کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ملک کو اب تک اس کھلواڑ سے 42 ارب ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے۔ شرح نمو 6.1% سے سکڑ کر 0.17% پر آ چکی ہے۔ اداروں اور انصاف کے نظام کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ فوجی عدالتوں سے سویلینز کی سزاؤں کے بیوقوفانہ فیصلوں نے عالمی برادری کو ملک پر تنقید کا ایک اور موقع فراہم کر دیا ہے۔
ملک میں رائج فسطائی رجیم نے قوم کو خوفزدہ کرنے کے لیے ہر قسم کے جابرانہ و آمرانہ حربے آزمائے لیکن خوف کی ایک خاص مدت ہوتی ہے۔ اس نئے سال میں، میں جبر و فسطائیت کے پہاڑ توڑنے والوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے قوم کے خوف کے بت توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب پورا نظام اپنے گھٹنوں پر آ چکا ہے اور اپنی نوشتہ دیوار شکست کو مختلف حربوں سے موخر تو کر سکتا ہے لیکن ٹال نہیں سکتا۔ فتح انشاء اللہ جمہور کی ہو گی، اور بہت جلد ہو گی
Former Prime Minister Imran Khan's New Year Message - January 1st, 2025
Happy New Year to the nation! I have the utmost faith that 2025 will be the year of our genuine freedom.
I want to thank my nation for refusing to bow before the tyrants of this era, despite facing fascism.
On February 8, the people gave a decisive verdict and voted for a party that had been practically banned by stripping it of its election symbol.
The Pakistani nation stood as a symbol of resilience and courage, remaining steadfast throughout the year. God willing, your sacrifices will not go in vain.
The regime change experiment has proven disastrous not only for the national economy but for the entire system of the country. An economy growing at 6% has been destroyed, resulting in losses of $42 billion so far. The growth rate has shrunk from 6.1% to just 0.17%. Institutions and the justice system have been rendered ineffective.
Absurd decision to sentence civilians in military courts have provided global community with yet another opportunity to criticize the country.
The fascist regime imposed on the nation has tried every kind of oppressive and authoritarian tactic to instill fear, however, fear has its limits.
In the new year, I also want to thank those responsible for this blatant fascism and cruelty, as they inadvertently played a pivotal role in helping the nation break the shackles of fear. The entire (authoritarian) system is now on its knees. While it may delay its inevitable defeat with various tactics, such efforts are futile. God willing, victory will belong to the people and is imminent.
پاکستان ہر مہینے ساڑھے چار سے پانچ ارب ڈالرز کی امپورٹ ادائیگیاں کرتا ہے، جبکہ ڈھائی ارب ڈالرز کی ایکسپورٹ انکم ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ غیرملکی قرضہ جات کی مد میں ماہانہ ادائیگیاں تقریباً ڈھائی ارب ڈالرز کی ہوتی ہیں۔
یعنی ہر مہینے 7 ارب ڈالرز کی پیمنٹ اور انکم ڈھائی ارب ڈالرز۔
ایسے میں اوورسیز پاکستانیوں کی ریمیٹنسز ہی لائف لائن بنتی ہیں جن کے ذریعے ہر مہینے تقریباً 3 ارب ڈالرز آجایا کرتے تھے۔
اب ذرا اگلے چھ ماہ کی آؤٹ لُک دیکھیں:
جون 2025 میں 13 ارب ڈالرز کا قرضہ میچور ہونے جارہا ہے۔
ترسیلات زر میں خاطرخواہ کمی آنے کا امکان ہے۔
سردیوں میں گیس کی قیمتیں جبکہ اپریل سے جون کے دوران تیل کی قیمتیں بڑھیں گی جس کی وجہ سے امپورٹ پیمنٹس مزید بڑھ سکتی ہیں۔
موجودہ رجیم اس وقت تنی ہوئی رسی پر چل رہی ہے جس کا ایک سرا سعودی عرب اور چین کے رول اوور قرضے پر ٹکا ہے اور دوسرا سرا اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات پر کھڑا ہے۔
اوورسیز پاکستانیو!
تمہارا ہلکا سا جھٹکا بھی بہت زور سے لگے گا ۔ ۔ ۔
تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قوم کے لوگ بیرون ملک رہتے ہوئے اپنے ملک میں آمریت کا تختہ الٹنے جارہے ہیں۔ ۔ ۔
یہ اعزاز بھی انشا اللہ پاکستانیوں کو ملے گا!!!
Former Prime Minister Imran Khan’s Important Conversation with Lawyers:
“The efforts of the party’s negotiation committee are commendable. To ensure that the negotiation process is meaningful, it is essential for me to engage with the negotiation team I have nominated to gain a clear understanding of the issues at hand. I have appointed Sahibzada Hamid Raza as the spokesperson for PTI’s negotiation process.
If the government wants productive negotiations, we have two demands:
1) The release of under-trial political prisoners.
2) Formation of a judicial commission, comprising the most senior judges, to investigate the events of May 9 and November 26.
If these demands are met, we will postpone our civil disobedience movement. However, I fear that the government will attempt to sideline our demand for investigations into the events of May 9 and November 26. We will not allow this to happen.
I reject the unconstitutional decisions of the military courts. These decisions are tarnishing Pakistan’s international reputation, and such inhumane actions could subject the country to economic sanctions. Such decisions are a slap in the face of the so-called ‘constitutional bench’.
Even the judiciary has now admitted that political engineering is taking place in the country. This clearly means that PTI is being crushed, which, in turn, has severely undermined democracy, judicial independence, and the rule of law.
No country can develop without external and internal investment, and investment cannot come without the rule of law. People are transferring their capital out of Pakistan because neither the judiciary is independent here nor is there any respect for the law. After the 26th constitutional amendment, the judiciary’s hands have been completely tied. The establishment of the constitutional bench and its decisions have undermined the dignity of the Supreme Court.”
رچرڈ گارنیل نے چند ماہ قبل " ریلیز عمران خان " کا ٹویٹ کیا تھا جسے صرف تحریک انصاف کے حلقوں میں ہی پذیرائی ملی۔
چند روز قبل خبر آئی کی ٹرمپ نے اسے اپنی ایڈمنسٹریشن میں شامل کیا ہے تو تحریک انصاف والے اس امید پر رچرڈ کے پرانے ٹویٹ شئیر کرنے لگ گئے کہ شاید وہ عہدہ سنبھالنے کے بعد عمران خان کے حوالے سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈال سکے۔
معاملہ یہاں تک رہتا تو شاید زیادہ اثر نہ پڑتا لیکن اس جرنیلی دانش کا کیا کریں جو دماغ کی بجائے پچھواڑے سے سوچنے پر یقین رکھتی ہے۔
فوراً سے پہلے ٹاؤٹس سے کہا گیا کہ رچرڈ کا بیک گراؤنڈ چیک کریں اور اس کا یہودیوں سے تعلق ڈھونڈیں تاکہ عمران خان کے خلاف پراپیگنڈہ کرسکیں۔ یہودیوں سے تعلق تو نہ ملا البتہ یہ پتہ چل گیا کہ رچرڈ ہم جنس پرست ہے۔
یہاں سے جرنیلی دانش نے ایک دفعہ پھر جھٹکا کھایا اور جیو سے کہا کہ وہ بیانیا بنائے کہ رچرڈ ہم جنس پرست ہے اور وہ عمران خان کا حامی ہے۔
میر شکیل کا ادارہ پاکستانی سیاستدانوں کو بلیک میل کرنے کا عادی تھا، اس نے فوراً سے پہلے تابعداری کرتے ہوئے ٹویٹ داغ دیا کہ ٹرمپ نے ہم جنس پرست کو اپنی انتظامیہ میں شامل کرلیا۔
انصافیوں نے اس اردو کے ٹویٹ کو ٹرانسلیٹ کرکے رچرڈ کو ٹیگ کرنا شروع کردیا۔ ایکس پر اوسط فالؤنگ رکھنے والے رچرڈ نے جب اتنی سارے ٹیگز دیکھے تو جیو والوں کے جواب میں ایک دفعہ پھر کہہ دیا کہ " ریلیز عمران خان "
جیو نے گھبراہٹ میں ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا۔ انصافیوں نے جیو اور کمپنی کی آتما رولنی شروع کردی۔ رچرڈ کا ٹویٹ ایک کروڑ سے زائد ویوز لے گیا۔
معاملہ یہاں تک رہتا تو شاید پھر بھی زیادہ خراب نہ ہوتا۔ جرنیلی دانش ایک مرتبہ پھر بروئے کار آئی اور جیو سے کہہ کر دوبارہ ٹویٹ کروایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی ٹاؤٹس بشمول عمر چیمہ، حسن ایوب، رضی گانڈا، ابصار چوتیا، طلعت دلا کے ذریعے رچرڈ پر تنقید شروع کروائی گئی۔
اب کھیل دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگیا۔ رچرڈ کو اندازہ ہوگیا کہ ملٹری کس قدر گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ وہ باقاعدہ آستینین چڑھا کر میدان میں آگیا، اس کا ہر ٹویٹ لاکھوں کے ویوز لینے لگ گیا، اس کی دیکھا دیکھی امریکی کانگریس کے درجن سے زائد اراکین بھی میدان میں آگئے اور انہوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اور عمران خان کے حق میں ٹویٹ کرنا شروع کردیئے۔
اب جرنیلی دماغ یعنی پچھواڑے سے گاڑھا سیال مادہ نکلنا شروع ہوگیا۔ اس نے جیو سمیت تمام مقامی میڈیا سے کہا کہ فوری طور پر رچرڈ کے خلاف مہم بند کی جائے - لیکن اب دیر ہوچکی تھی۔
اس دوران رچرڈ انصافیوں کے ساتھ مسلسل انگیج ہوتا گیا اور اب اس نے ارسطو احسن اقبال کو اس کی پرانی ٹویٹ پر سمن جاری کردیا اور اپنے امریکی سفارتخانے سے بھی رپورٹ مانگ لی کہ اس نے کس چکر میں ارسطو کی ٹرمپ کے خلاف کی گئی ٹویٹ کو شئیر کیا۔
بند دماغ اور تعلیم کی کمی کس قدر تباہی لاتی ہے، یہ سارا واقعہ اس کی ایک تازہ مثال ہے۔ جرنیلوں نے اپنی اس دانش کی وجہ سے پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچایا ہوگا، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے!!!
پہلے بائیکاٹ مہم End consumer تک تھی۔ یعنی خریدار اشیاء کا بائیکاٹ کررہا تھا۔ اب ایک اسٹیج اوپر جانے کا وقت ہے۔ اب سپلائی چین توڑنے کا وقت ہے۔ ہر وہ دوکاندار ، کریانہ سٹور ، کھوکھا جہاں سے آپ روزانہ خریداری کرتے ہیں انہیں مطلع کردیں کہ اگر آپ عسکری مصنوعات بیچا کریں گے تو ہم آپ کی دوکان آپ کے کھوکھے کا بھی بائیکاٹ کریں گے۔ اگر آپ اسے کہہ نہیں سکتے تو یہ پیغام سادہ کاغذ پر لکھ کر خاموشی سے دوکان میں چھوڑ آئیں۔
آپ کی بائیکاٹ مہم نے بڑی بڑی کارپوریشنز کو جھٹکے دے دیے ہیں چھوٹے سٹورز تو شے ہی کوئی نہیں۔ درمیانے درجے کا مہینے کا دو تین لاکھ کمانے والا دوکاندار دس فیصد گاہکی بھی کم ہونا برداشت نہیں کر پائے گا۔ وہ عسکری مصنوعات لانا اور ڈسپلی کرنا چھوڑ دے گا۔ آپ نے ہر انکل کو ، صوفی صاحب کو ، شاپ والے انکل کو ، سٹور والے بھیا کو کہہ دینا ہے کہ یا آئندہ آپ کی دوکان میں نور پور نظر آئے گا یا ہم نہیں آئیں گے۔
امریکہ سے لے کر افریقہ اور ہندوستان تک، سول نافرمانی کی تحاریک جب بھی اٹھیں، ان کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگیاں بند کی گئی، مظاہرے کئے گئے، ہڑتالیں کی گئیں، جلسے جلوس نکالے گئے۔
دو دن بعد پاکستان میں بھی سول نافرمانی کی تحریک شروع ہونے جارہی ہے لیکن یہ ذرا مختلف انداز میں شروع ہوگی۔
اس کے ذریعے:
سب سے پہلے اوورسیز پاکستانیوں کے ذریعے ریمیٹنسز بند کی جائیں گی۔ اندرون ملک عسکری پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم میں شدت لائی جائے گی۔
پھر دکانداروں سے پکی رسیدوں کی بجائے کچی رسیدیں مانگی جائیں گی تاکہ دکانداروں کو سیلزٹیکس نہ جمع کروانا پڑے۔ ایسا کرتے وقت گاہکوں کو کچھ ڈسکاؤنٹ بھی ملنا شروع ہوجائے گا۔
سول نافرمانی کا مطلب ہے حکومتی احکامات ماننے سے انکار۔ چنانچہ پرامن رہتے ہوئے ہر وہ کام کیا جائے گا جو سول نافرمانی میں کیا جاتا ہے۔
ہر شہر، ہر قصبے کے سرکاری دفاتر کے سامنے دھرنے اور احتجاج منعقد ہوں گے۔
اگلے مرحلے میں یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی بیک وقت پورے ملک میں بند کردی جائے گی۔
اوورسیز پاکستانی دنیا کے تمام اہم ممالک میں ہفتہ وار احتجاج کا سلسلہ شروع کریں گے۔
بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس کو انگیج کیا جائے گا، آرٹیکلز لکھے جائیں گے جن میں پاکستان میں جاری فسطائیت کو اجاگر کیا جائے گا۔
سوشل میڈیا پر مزید گرمجوشی دکھائی جائے گی اور فسطائیت کے سر پر ہتھوڑے برسانے کا کام تیز کیا جائے گا۔
یہ ابھی ابتدائی خاکہ ہے ۔ ۔ ۔ اس کی انتہا تک پہنچنے سے قبل ہی پتلونیں اترتی جائیں گی، دوڑیں لگتی جائیں گی!!!
آپ کے پاس 8 دن بچے ہیں، دسمبر ختم ہونے سے قبل عسکری بنک سے اپنے پیسے نکال کر کسی دوسرے بنک میں ٹرانسفر کروا لیں۔
آپ کے اکاؤنٹ میں چاہے پانچ سو روپے ہی کیوں نہ ہوں، جب آپ اکاؤنٹ بند کروائیں گے تو بنک کی ریٹنگ پر فرق پڑے گا۔
آپ کی یہ معمولی سی کاوش نہتے شہریوں کے قتل کا بدلہ لینے میں بہت مددگار ہوگی۔
عسکریت کو جڑ سے اکھاڑنے میں ہماری مدد کریں!!!
یہ دو بہت اہم ویڈیوز ہیں ۔
ان دونوں ویڈیوز کو بطور ثبوت انٹرنیشنل کمیونٹی کے ساتھ شئیر کیا جانا چاہے ۔ ان ویڈیوز میں تقریباً 200 سے زائد گاڑیاں ہیں جنہیں گولیوں کے ذریعے یا پھر دوسرے ہتھیاروں سے تباہ کیا گیا ہے
A massacre has unfolded in Pakistan at the hands of security forces under the brutal, fascist military regime led by the Shehbaz-Zardari-Asim alliance. The nation is drowning in blood. Today, armed security forces launched a violent assault on peaceful PTI protesters in Islamabad, firing live rounds with the intent to kill as many people as possible. Pakistan is experiencing its darkest hour since the massacre in East Pakistan in 1971. The rulers have learned nothing from history and are prepared to destroy the country to cling to their illegitimate power. With hundreds dead and countless injured, the interior minister’s threat to kill and then the declaration of "victory" over slaughtered innocents is enough evidence of the regime’s inhumanity.
The world must condemn this atrocity and the erosion of democracy and humanity in Pakistan. The international community must take a strong stand against this brutal crackdown.
#IslamabadMassacre
#PakistanUnderFascism
@ICRC@realDonaldTrump@elonmusk@UN_HRC@JusticeMyanmar@USAmbHRC@FLOTUS@USAmbUN@hrw@UN_Spokesperson@Declaracion@KamalaHarris@BIHRhumanrights@FCDOHumanRights@amnestyusa@amnesty@amnestypress@ONU_derechos@hrw_espanol@UN@UN_Women@AJEnglish@arabnews@BBCWorld@TRTWorldNow
پاکستان کے مسلمان چینلز تو اپنی روح بیچ چکے ہیں اور سچ کو چھپا کر بلکہ گھما کر مظلوموں کی بجائے ظالموں کے ساتھ کھڑے ہیں
لیکن انٹرنیشنل میڈیا جو غیر مسلم ہے سچ دکھا رہا ہے
زوال کی پستی کی انتہا ہے
اپنی زمداری سمجھ کر ریٹویٹ کریں اور ایلن ماسک کو مینشن کریں 🚨
Dear Elon @elonmusk !
Millions of Pakistanis are marching for restoration of democracy, protection of constitution and upholding of human rights, in their country this Sunday, November 24th.
The world needs to see and hear their remarkable story!
The illegitimate, authoritarian regime has not only shut down @X since February 2024, abducted and tortured social media activists as well as their family members, but is now planning on shutting down the internet altogether.
𝐏𝐚𝐤𝐢𝐬𝐭𝐚𝐧 𝐍𝐞𝐞𝐝𝐬 𝐒𝐭𝐚𝐫𝐥𝐢𝐧𝐤!
#PakistanUnderFascism
#UndeclaredMartialLaw
“اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
غلامی کی زندگی سے موت بہتر ہے ۔ میں پہلے صرف تحریک انصاف سے منسلک افراد کو احتجاج کی کال دیتا رہا ہوں مگر 8 فروری کے بعد اس ملک میں جمہوریت کے تابوت میں جو آخری کھیل ٹھونکا گیا ہے اسکے بعد پوری قوم کا فرض ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف باہر نکلیں۔ جس طرح آپ لوگ 8 فروری کو ہر مشکل کے باوجود اپنے ووٹ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے باہر نکلے تھے اسی جذبے سے 24 نومبر کو بھی نکلیں ۔
ملک میں اس وقت جمہوریت کے بنیادی ستون :قانون کی حکمرانی، صاف و شفاف انتخابات اور آزادی اظہار رائے تینوں معطل ہیں ۔ میڈیا پر سنسرشپ نافذ ہے، میرے بیانات نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی عائد ہے، اس کے علاوہ میڈیا ہر طرح سے پابندی کا شکار ہے، عوام کی زبان بندی کے لیے انٹرنیٹ میں بار بار خلل اندازی سے اس سال ملک کو 550 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے اور اخبارات کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کی کارکردگی صرف 27 فیصد تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ سب گھناونے اقدامات صرف اس لیے اٹھائے جا رہے ہیں تا کہ کسی طرح تحریک انصاف کو کچلا جا سکے اور تحریک انصاف کی آواز دبائی جا سکے ۔
شہباز گل سے لیکر انتظار پنجوتھہ تک تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ جبری گمشدگیوں، فسطائیت اور تشدد کا ایک پورا سلسلہ ہے جس میں ابھی تک کسی کو انصاف نہیں ملا۔ پنجاب حکومت اور پولیس یہ کہہ کر جان چھڑا لیتی ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کو فوج کہہ رہی ہے۔ فوج ایک قومی ادارہ ہے، یہ کسی ایک شخص یا پارٹی کی نہیں اور ان واقعات سے ہمارے قومی سلامتی کے ادارے کی بدنامی ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف ہر طرح کے مشکل وقت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے اور اب بھی تیار ہے۔ تحریک انصاف بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑی ہوئی جو ڈونلڈ لو اور جنرل باجوہ کی ملی بھگت تھی۔ جس کے بعد بوگس انتخابات کروا کہ بوگس اسمبلیاں تخلیق کی گئیں جنھوں نے عدلیہ کی آزادی پر حملہ کیا اور جمہوریت کا وجود ، آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن ہی نہیں
میں ملک کے لیے ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہوں ۔ نگران حکومت سے جب بھی مذاکرات کی بات کی انھوں نے اسکا جواب فسطائیت سے دیا ہمارے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ سٹالن کی آمریت میں بھی ایسا جبر نہیں ہوا جیسا رجیم چینج کے بعد کے دورانیے میں تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ ہم نے جب وقت پر انتخابات کا کہا تو انھوں نے نواز شریف اور قاضی فائز عیسی کے آنے کا انتظار کیا ۔ یہ کونسی جمہوریت ہے جس میں بر وقت انتخابات کو من پسند افراد کے لیے معطل کر دیا جائے اسلیے مذاکرات کا نہ ہونا ہماری نہیں انکی غلطی ہے ۔
24 نومبر کو احتجاج میں شامل ہونا سب پر لازم ہے ۔ اگر تحریک انصاف کا کوئی بھی رہنما یا ٹکٹ ہولڈر احتجاج میں شرکت کو یقینی نہیں بنا سکتا تو اسے جماعت سے لاتعلقی کر لینی چاہیے کیونکہ یہ فیصلہ کن وقت ہے جب پوری قوم آزادی کے لیے نکلے گی اور اس موقع پر کسی قسم کا عذر قوم کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتا ۔
یہ موقع پاکستان کو حقیقی آزادی دلانے کا ہے ۔ غلام قومیں تو اپنی موت آپ مر جاتی ہیں اسی لیے ہمیں بحیثیت قوم موت کو غلامی پر ترجیح دینی ہو گی۔ لہذا 24 نومبر کی کال صرف تحریک انصاف کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ہے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی تو آزادی اور جمہوریت کا مطلب بہت بہتر سمجھ سکتے ہیں جتنا وہ لوگ اپنے ممالک میں آزاد ہیں ویسی آزادی کا مطالبہ اپنے ہم وطن پاکستانیوں کے لیے بھی کریں ۔ اوورسیز پاکستانی بھی اپنے اپنے ملک میں احتجاج ریکارڈ کروائیں اور تحریک انصاف کی فنڈنگ میں بھی بھرپور حصہ لیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے قوم کے نام پیغام
Message from Former Prime Minister, Imran Khan
(November 15, 2024)
After keeping me and my wife in jail for a year, the Prosecutor General has admitted in the High Court that there was a mistrial in the ToshaKhana (Gift Repository) case, and that the requirements of justice were not observed. This is an admission of political vengeance by the Mafia who are holding the state hostage and using NAB for victimisation. It is a big question mark on our judicial system. Following this admission, I demand the resignations of the Chairman NAB, the Prosecutor General, and the investigation officers, and the relevant judges. Disciplinary action must be taken against them for the mistrial of the country's most popular leader at the behest of the occupying mafia.
I was sentenced in five frivolous cases in an equally ridiculous manner and two more bogus trials are speedily being conducted so that I can be detracted from the movement for genuine sovereignty, democracy, and rule of law. But I will continue the fight for the genuine freedom of Pakistanis until the very last drop of my blood!
Following the passing of the 26th Constitutional Amendment, the High Court and the Supreme Court have become no more than kangaroo courts, and their status now is similar to any government department. By curbing the power of the judiciary, the country’s already corrupt judicial system will come to a complete stand still. It is said that democracy is in danger. But is there any democracy left in the country? Democracy means liberty, rule of law, and the free provision of justice. Democracy in the country has been annihilated. The country has been turned into a Banana Republic!
This is why I am calling upon the Pakistani nation, that this is the time, to not only come out on November 24, but for every individual to take on the responsibility to launch a movement for mass mobilization. Through this movement will the dream of genuine freedom, democracy, and rule of law be realized. Otherwise, life-long slavery will remain the nation’s destiny.
If not now, then when? If not you, then who?
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے طلباء و طالبات اور نوجوانوں کے لیے خاص پیغام:
“ہزاروں نوجوانوں کو ہر ماہ روزگار ڈھونڈنے کے لیے ملک چھوڑ کر جانا پڑ رہاہے، لیکن کتنے نوجوان باہر جا سکیں گے؟ سب کو تو ویزا نہیں مل سکتا نا ہی سب کے پاس اتنے وسائل ہیں-
ملک میں جمہوریت ختم ہو گئی ہے، Rule of Law بالکل نہیں رہا، انہوں نے اب عدلیہ کو بھی ٹیک اوور کر لیا ہے، اس لیے اگر آپ نے اپنے مستقبل کے لیے، اپنے حقوق کے لیے اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے تو آپ کے پاس اس بوگس نظام کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے-
24 نومبر کو تمام نوجوان خصوصاً طلبأ و طالبات اپنے حقوق کے لیے ہمارے ساتھ نکلیں کیونکہ اب اس ملک میں نوجوانوں کا مستقبل شدید خطرے میں ہے-“