جب جنرل محمد ضیاءالحق سے کام لے لیا تو امریکہ نے 1988 کے اوائل میں میں کئی میسجز دیے کہ جنرل ضییییییآ جو کام ہم نے تم سے لینا تھا لے لیا اب اپنی اوقات میں واپس آجاؤ۔ فاتح بننے کی ضرورت نہيں ہے۔ تم فاتح نہيں ہو۔ ہم فاتح ہیں جو تم جیسوں کو استعمال کرتے ہیں۔
لیکن جنرل صاحب تو مرد مومن مرد حق بن چکے تھے۔ اسلام کے سپہ سالار اعظم۔ سی آئی اے کے ڈالروں سے لڑائی لڑ کر ان کا مورال ارب پتی پراپرٹی ڈیلر کے فشار خون کی طرح شوٹ کرچکا تھا۔ زمین پر واپسی ناممکن تھی۔
امریکہ نے وزیراعظم محمد خان جونیجو سے جنیوا کنونشن پر جنرل ضیاء کو سائیڈ لائن کر کے سائن کروائے۔ یہ پہلا میسج تھا۔ ضیاءالحق ریڈ نہ کر پایا۔
اوجھڑی کیمپ کا واقعہ ہوا تو امریکہ کی ایما پر وزیراعظم جونیجو نے انکوائری شروع کروا دی۔ کس کے خلاف؟ چئیرمین جانئٹ چیف آف اسٹاف اور سابق انٹیلیجنس چیف جنرل اختر عبدالرحمن کے خلاف۔ یہ دوسرا میسج تھا۔ ضیاءالحق نہ سمجھا۔
جنرل ضیاء نے بدلتی ہوئی صورتحال کو سمجھ کر فیصلہ کرنے کی بجائے محمد خان جونیجو کی حکومت ہی برطرف کردی۔ کہا یہ اسلامی نظام ٹھیک سے نہیں لا رہی۔ میں نوازشریف کے ذریعے اسلامی نظام لاؤں گا اور ہم ملکر بیس سال مزید حکومت کریں گے۔
بالآخر
امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ صدر رونلڈ ریگن نے امریکی کمپنی لاکہیڈ کے دیوہیکل جہاز سی 130 ہرکولئیس کو حکم دیا کہ ان سب ناہنجار جرنیلوں کو جہاز سے نیچے پھینک دو۔ یہ ہمارے جہاز میں بیٹھ کر اکڑ رہے ہیں۔
جہاز نے بہاولپور کے نزدیک ایک نہر کا کنارہ خالی دیکھ کر انہیں پھینک دیا۔
پاکستانی ملٹری کی ساری ٹاپ براس ایک جھٹکے میں ختم ہوگئی۔ اظہر لودھی اور حسین حقانی نے پاکستان ٹیلی ویژن پر رو رو کر برا حال کر لیا۔
جنرل اسلم بیگ جو بعد میں آرمی چیف بنے اس کو امریکہ کے سی 130 نے سوار کرنے سے منع کردیا۔
ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔ مراد سعید
"نواز شریف کو عدالت نے 8 ہفتے کی ضمانت دی، حکومت نے 7 ارب روپے کی ضمانت مانگی مگر عدالت نے اسے بھی ختم کردیا، نوازشریف کو عدالت نے 3 دفعہ بلایا وہ واپس نہیں آئے واپس تب آئے جب عمران خان کی حکومت جا رہی تھی"۔ شاہزیب خانزادہ۔۔ "علاج اگر چار دن میں ہو جاتا تو چار دن میں آ جاتے لیکن علاج چار سال میں ہوا"۔ رانا ثناءاللہ۔۔ "علاج تب مکمل ہوا جب عمران خان کی حکومت ختم ہوئی"۔ شاہزیب خانزادہ ۔۔"یہ تو ڈاکٹر بہتر جانتا ہے"۔ رانا ثناء اللہ
سورس جاننے کیلئے QR Code سکین کریں
🚨🚨خان کی بہن مریم منیر کی طرح جھوٹ بھی بول سکتی تھی ۔
سچ بتانے پر بھی لوگ سیاست کر رہے ہیں ۔
اب کیا خان کی بہن مریم منیر کی طرح چار ہارٹ اٹیک والے جھوٹ بولتی ۔۔۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کل کا ڈیل ڈیل کا گانا گا رہے تھے آج کچھ نہیں ملا تو بہن کا سچ بیچنے نکلے ہیں ۔
اللہ ایسے لوگوں کے ہدایت نہ ہی دے تو اچھا ہے ۔
پمز کے ڈاکٹر نے کہا کہ عمران خان کا ایک آنکھ کا ٹیسٹ فورآ ہونا چاہیے ، میں نے کہا کہ آپ فکر نہ کریں ہم شفا انٹرنیشنل جارہے ہیں، مکمل ٹیسٹ کروانے ہیں، یہ بھی کروا لیں گے، عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا گیا ،پھر لے جا کے آنکھ میں انجکشن لگایا گیا ، عمران خان خوش تھے کہ شفا سے ان کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے اور پھر اڈیالہ چلے جائیں گے، ڈاکٹر عظمیٰ
عمران خان کو خدانخواستہ کوئی زہر آلود چیز تو نہیں دی گئی؟ یہ شک دور کرنے کیلئے خان صاحب کا بلڈ ٹیسٹ کروانا لازمی ہے
تاکہ پوری قوم کو تسلی ہو جاۓ کہ اس ملک کا ناقابل تلافی نقصان کرنے کی کوشش نہیں کی جا رہی۔
خدارا، سپریم کورٹ پاکستان کی مدد کرے اور لگا دے ان بدبختوں پر توہین عدالت
جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا ، اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ کی پریس کانفرنس
سہولتکار سیاسی مداخلت نہ کرنے کا حلف اٹھاتے ہیں لیکن بعد میں مکر جاتے ہیں اور بھرپور مداخلت کرتے ہیں... موجودہ حکمران آئین اور قانون کے مطابق چلنے کا حلف لیتے ہیں لیکن قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، آئین کو جوتے کی نوک پھر رکھتے ہیں... انکے لیے سپریم کورٹ تو کوئی چیز ہی نہیں
بلوچستان کے حالات کس قدر خراب ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ کل ایک ایل پی جی باوزر گاڑی تفتان سے کوئٹہ بحفاظت پہنچ گئی جس پر ڈرائیور اور مالکان خوشی سے رقص کر رہے ہیں
خان کی یہ بات یاد رکھیے گا اور محمد مرسی کے قتل کی داستان ضرور پڑھیے گا۔ 25 اکتوبر 2025 کو محمد مرسی کے مبینہ قاتل سے عاصم منیر کی ملاقات ہوئی۔ اسکے بعد سے عمران خان کو محمد مرسی والے حالات کا سامنا ہے۔
ماضی میں ڈکٹیٹر بھی عدالت سےفیصلہ لے کر قوم کو بتاتےتھے کہ اب ان کےپاس حکمرانی کاآئینی جواز آگیاہے،لیکن یہ کیسا جمہوری دور ہےجہاں ملک کی اعلیٰ عدالت کےفیصلوں کے اوپر عمل درآمد نہیں ہوتا۔عدالتی فیصلہ بلکل واضح ہےکہ عمران خان کوشفاانٹرنیشنل ہسپتال شفٹ کیاجائے۔منیب فاروق سے گفتگو
مان جاؤ کہ عمران خان کو ڈیل سےنفرت ہے2دن مناتےرہےکہ بنی گالہ پھربرطانیہ بھیج دیں گےبس کچھ وقت دےدیں لیکن اس نےثابت کیا کہ وہ آل شریف میں سےنہیں ہے
ڈیل کاسارا بیانیہ راولپنڈی اسلام آبادکی گلیوں میں غرق ہوگیا البتہ پھولوں کی پتیاں اور عوام کا جوش و خروش آپکی بےچینی کیلیےکافی ہے