آؤ مریم نواز! میں تمہیں بتاتی ہوں تم نے پنجاب کو کیا دیا ہے!
میرا تعلق بھی پنجاب کی دھرتی سے ہے، اور میں تمہیں اس پنجاب کی سچی اور کڑوی حقیقت بتاتی ہوں جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
2018ء سے 2022ء تک عمران خان کے دور میں ہم نے کوٹ ادو کی 17 لاکھ آبادی کے لیے ترقی کے دروازے کھولے۔ ہم نے وہاں اربوں کا مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال دیا تاکہ ہماری ماؤں بہنوں کے بچے سڑکوں اور رکشوں میں پیدا نہ ہوں۔ صحت کارڈ سے غریب کا مفت علاج یقینی بنایا۔ کسان دوست پالیسیوں سے زرعی نمو 4.4 فیصد تک پہنچائی۔ کامسیٹس (COMSATS) یونیورسٹی کیمپس کا تحفہ دیا اور کوٹ ادو کو ضلع کا درجہ دے کر 17 لاکھ لوگوں کو ان کی دہلیز پر انتظامی سہولیات دیں۔
لیکن مریم نواز! بغضِ عمران میں جب تم آئیں، تو تم نے ہمارے 17 لاکھ لوگوں سے انتقام لیا!
تم نے ضلع کوٹ ادو کو فعال ہونے سے روک دیا، یونیورسٹی کیمپس کا کام ٹھپ کر دیا، مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال کو التوا میں ڈالا اور کسانوں کو سڑکوں پر رول کر رکھ دیا۔
تمہاری ترقی کی حقیقت یہ ہے مریم نواز کہ تم بہترین پبلسٹی کرتی ہو، سب سے بہترین اشتہارات، سکرینوں اور سپیچ میں تمہاری ترقی نظر آتی ہے—حقیقت یہی ہے، تلخ ہے لیکن حقیقت ہے!
یہ منصوبے کسی سیاست دان کی جاگیر نہیں، ہمارے بچوں کا مستقبل تھے۔ ہمیں تمہاری نعرے بازی اور سکرینوں کی ڈرامے بازی نہیں، اپنے مکمل منصوبے چاہئیں۔ کوٹ ادو کے بچوں کا حق بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا باقی بچوں کا!
۱۱ اکتوبر کو پورے پاکستان سے لوگ صوابی انٹرچینج پر آئینگے۔ پورے پاکستان سے پارلیمینٹیرینز اور تنظیمی عہدیدار ورکرز کو صوابی انٹرچینج تک پہنچائے۔ کل سے کسی بھی طریقے سے اُن کا پہنچنا شروع کریں۔ تمام پاکستانی بھی اُسی دن پہنچے۔
۱۳ اکتوبر کو خیبرپختونخواہ کا پشاور ریجن، ملاکنڈ ریجن اور کوہاٹ ڈویژن بشمول کرک صوابی انٹرچینج پر پہنچے گا۔ تمام پارلیمینٹیرینز اور تنظیم کو میں نے ہدایت دے دی ہے کہ وہ ورکرز کو صوابی انٹرچینج پر پہنچائے۔
ہزارہ ریجن، بنوں ڈویژن اور ڈی آئی خان ڈویژن ۱۴ اکتوبر کو وہاں آئینگے جہاں ہم صوابی انٹرچینج سے آگے کا لائحۂ عمل دیں گے۔
انشاءاللہ ۱۴ اکتوبر کو ہم صوابی سے آگے پیش قدمی کریں گے۔
جس طرح پاکستانی قوم کو اللہ رب العزت نے ایک بہادر اور با کمال، وطن کی مٹی اور عوام سے وفادار رہنما عمران خان سے نوازا ہے اسی طرح اللہ اس قوم کو آزادی کے مواقع بھی دے رہا ہے۔
نسلوں تک غلامی یا اپنے حق کی آزادی
راستہ عوام نے چُننا ہے۔
#مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی
@BakiSpeaks@Dr_Morbius_ اگر وہ نہ آتے تو تمھارے جیسے ناجائز بچے پیدا ہو کر ایسی بغض سے بھری اور فرقہ وارانہ گفتگو نہ کر رہے ہوتے. اور یہ ان کے پھیلائے ہوئے اسلام کی کا ثبوت ہے جو وہ تب کرتے تھے اور تم ان کی اولادیں آج تک کر رہے ہو..تاریخ تم نہیں چھپا سکتے نہ ہی چھپ سکتی ہے
اور پاکستان میں تیرے جیسے حرامزادے مزہب کے دلے پیدا ہوگئے جنہوں نے فرقہ واریت کی آگ میں ملک کو جھونک دیا۔
ایران 50 سال سے معاشی پابندیاں بھگت رہا ہے اسرائیل سے مقابلہ کررہا ہے
اور جن ملکوں کے تم نام لے رہے وہ سب اسرائیل کی گود میں بیٹھے ہیں۔
حرامزادہ
ٹرمپ (لعین ) جب تقریر کرنے آیا تو ایران کا وفد باہر چلا گیا ایک وہ طبقہ ہے جو ٹرمپ کے ناشتوں پر فخر کرتا ہے اور دوسرا وہ جو ٹرمپ جیسے ظالم کو اس کی زمین پر رسوا کرتا ہے
"پاپا... آپ ظالم تو نہیں ہیں نا؟"
"انسان کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر اس کے اپنے بچے اور بزرگ اس سے شرمندہ ہوں... یاد رکھیں، ظالم اور ظلم اسی دنیا میں بے نقاب ہو جاتے ہیں۔"
ضمیر کی عدالت اور بچوں کی معصومیت سے جڑا ایک ہلا دینے والا پیغام۔ ہر صاحبِ اقتدار اور اختیار کے لیے لمحہ فکریہ!
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
اگر سیاسی حکمت عملی کے تحت لانگ مارچ کی تاریخ ہفتہ یا دو ہفتے آگے کردی جائے تو فوج پر ہزاروں اہلکار اسلام آباد رکھنے ، چھٹیاں بڑھانے ، کنٹینر کھڑے رکھنے کی مصیبت بڑھے گی۔ آپ لڑائی میں ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تھکا سکتے ہیں۔ تھکا دیں۔
WTF IS GOING ON IN PAKISTAN!
They arrest the former Prime Minister Imran Khan, put him in solitary confinement for years, do the same to his wife, then start arresting his family
And now arrest his sister, who's in her 70s, because she's speaking out in support of her brother! the former PRIME MINISTER!!!
Enough is enough! THE FAMILY HAS BEEN THROUGH ENOUGH!
پہلے محمود اچکزئی نے ، پھر بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کو تسلیاں دیں کہ تھوڑا انتظار کرو سب ٹھیک ہونے والا ہے ابھی تحریک شروع مت کرنا۔ سہیل آفریدی نے یہ معلومات اپنے فرنٹ مین اسلام آباد والے صحافتی ٹولے کو پہنچائیں۔ ادارہ ہذا کا خیال یہ ہے کہ صحافتی ٹولے کو آبپارہ سے بھی لائن ملتی ہیں۔ یہ سارے مل جل کر وقت گزارتے رہے اور ٹھنڈی ہوائیں چلاتے رہے۔
پھر اسکے کرنل نے بھی تصدیق کی ، اس کی اعلی شخصیت نے بھی تصدیق کی ،اسکے کرنل نے بھی بتایا ، پھر سعودی عرب ترکی کا دباؤ آیا ہے جیسے تجزیے ہوئے ، دراڑ تو آگئی نا جیسے نعرے، کچھ کی جانب سے ویلکم بھی ہوا ، یعنی پوری ہوا بنائی گئی۔ مقصد صرف ایک تھا وقت گزارنا۔ اس دوران آپ کا بھائی لگاتار آپ کو منع کرتا رہا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔
اب فوج نے سہیل آفریدی کا کافی سارا ڈنگ نکال کر اسکی احتجاجی تحریک پر کریک ڈاون شروع کردیا ہے۔ یہی ہونا تھا۔ اس سے نا کچھ آگے نا کچھ پیچھے۔ اب اگر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف کسی احتجاجی تحریک کے لیے سنجیدہ ہیں تو پنجاب یا قومی اسمبلی ، کسی ایک جگہ سے استعفوں کا اعلان کریں اور سہیل آفریدی پریس کانفرنس کے ذریعے ایک ایک ملاقات ایک ایک یقین دہانی اور ایک ایک آفر کی تفصیلات سامنے لائیں۔
اگر یہ سب نہیں کرسکتے تو پھر کسی بھی قسم کے ایڈوانچر سے باز رہیں۔
عندما كان أجدادنا يكسون الكعبة بالحرير المطرّز بالذهب الخالص، كان أجدادك في نجد يقطعون الطريق على الحجاج وينهبونهم.
ثم تأتي اليوم لتقذف أحفاد الأنصار باستهداف كعبتهم المشرفة، متناسيًا أن أجدادك أعلنوا إسلامهم خوفًا من سيوفهم، ثم ارتدّوا مرارًا وعادوا بالسيف والدم؟
هزلت.
یہ میرا گھر ہے جس کو تباہ کر دیا گیا قصور یہ کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو گھر میں رہنے کے لیے جگہ کیوں دی ؟ میرے گھر کی کوئی چیز نہیں چھوڑی قیمتی چیزیں ساتھ لے گئے ہیں
میں کس سے سوال کروں ؟ کونسی عدالت مجھے انصاف دے گی کیا کوئی عدالت پوچھے گی ؟ یہ کس نےکیا ہے ایجنسیوں نے کیا ہے پولیس نے کیا ہے پنجاب حکومت نےکیاہے کس کیا ہے ؟
ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بنا گھر آج تباہ کر دیا گیا۔ ہم کہاں رہیں کہاں جائیں؟ کوئی ہے مجھے انصاف دلوانے والا؟
If historical context is looked Mecca & Ka’aba had been repeatedly struck up in the past during Muslim Ruler. The army of Muslim Ruler Yazid, accepted by a lot of Sahabis, burned Ka’aba in 63 Hijri & hanged Abdullah Ibn Zubair’s dead money on the gate. Read history & relex.
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
سولہویں صدی سے مکہ مکرمہ ترک عثمانیوں کے پاس تھا۔ پھر نجدی یعنی وہابی فورسز نے 1803 میں مکہ مکرمہ پر قبضہ کیا۔ پہلی مرتبہ اپنے وہابی عقائد کی روشنی میں وہاں موجود مختلف مزارات اور تاریخی عمارتیں گرا دیں۔ 1813 میں ترک گورنر محمد علی پاشا نے مکہ مکرمہ کو وہابیوں کے قبضے سے چھڑوا لیا۔
حسین شریف آف مکہ نے 1916 میں جنگ عظیم اول کے دوران ترکوں سے بغاوت کرکے اس خطے کو آزاد ڈکلئیر کردیا۔ جلد ہی 1924 میں سلطان عبدالعزیز کی وہابی فورسز نے مکہ مکرمہ کا کنٹرول سنبھالا اور تب سے یعنی قریب سو سال سے آل سعود یہاں حکمران ہیں۔
امویوں نے کئی مرتبہ مکہ مکرمہ پر حملے کیے۔ حجاج بن یوسف کے حملوں کی تفصیلات خاصی افسوسناک ہیں۔ اسی طرح اسماعیلی قرامطیوں نے شدید یلغار کی ، خانہ کعبہ کو نقصان پہنچایا حجر اسود ساتھ لے گئے اور تاوان کے عوض اسے عباسیوں کو واپس کیا۔
بے تحاشا وسائل کے باوجود سعودی عرب کوئی لمبی چوڑ فوج نہیں بنا پایا۔ جہاز ، گاڑیاں ، اسلحہ کے ڈھیر تو ہیں لیکن لڑنے کا تجربہ رکھنے والی فوج نہیں ہے۔ عرب ممالک میں اقتدار کی منتقلی کا بادشاہی نظام ہے۔ محمد بن سلمان نے جس طرح کنٹرول سنبھالا ہے اس نے محمد بن سلمان کے دشمن بھی پیدا کیے ہیں۔ اب سعودی عرب کا زیادہ انحصار دفاعی معاہدوں ، غیر ملکی افواج اور وغیرہ وغیرہ پر ہے۔
سعودی عرب نے بوسنیا سے لیکر افریقہ تک ، جنوبی ایشیا ، افغانستان ہر جگہ اپنے مدرسے ، اپنے علماء اور اپنا فرقہ پروموٹ کیے۔ کیونکہ یہ پیداوار سعودی فنڈنگ کے تھے تو یہ اسلام اور آل سعود کو الگ نہیں کرپاتے۔ انکی ہمدردیاں آل سعود کیساتھ ہیں۔ لیکن یہ ہمدردیاں کسی لشکر یا اس فوجی حمایت میں تبدیل نہیں ہوسکتیں جسکی اس وقت سعودی عرب کو ضرورت ہے۔
ہمارے ملک کے تناظر میں اگر عاصم منیر سعودی عرب کو جنگ کے لیے فورسز مہیا کرتا ہے یا نہیں کرتا ہے تو اسکی وجہ حالات و واقعات ، امریکی حکم ، سعودی عرب کی جانب سے دیا جانے والا ریٹ یا پھر پاک فوج کی جنگی قابلیت پر منحصر ہوگا۔ اس کا فیصلہ پاکستانیوں یا وہابی پاکستانیوں کے جذبات پر نہیں ہوگا۔
موجود حالات دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تشویشناک ہیں۔ کوئی بھی مسلمان یہ نہیں چاہتا کہ یہ مقدس مقامات ایک بار پھر کسی تنازعے کی زد میں آئیں۔ یہاں جو کچھ ہورہا ہے اس کا حل ایک ہے۔ وہ حل ہے مذاکرات۔ امن ہے اور سبھی عرب ممالک کا اتحاد یا کم از کم آپس میں برداشت ہے۔