فوج کسی بھی صوبے کے اندر بغیر قانونی اجازت کے آپریشن نہیں کر سکتی۔ آپکی حکومت نے فوج کو خصوصی اختیار دے رکھا ہے جسے ختم کرنے کے لیے آپکو صرف سپریم کورٹ سے اپنی ریویو پٹیشن واپس لینا ہوگی اور اسکے لیے صوبائی اسمبلی میں سادہ قانون سازی بھی کی جا سکتی ہے۔ بے گناہوں کے قتلوں کی مذمت کرکے آپکی زمہ داری ختم نہیں ہو سکتی۔
"چھبیسویں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اندر ’ڈیپ اسٹیٹ‘ وہ آئینی بینچ ہے — ایک ریاست کے اندر ریاست۔ اور چیف جسٹس؟ زیادہ سے زیادہ دیواروں پر رنگ دیکھنا یا پنکھوں کی جانچ کرنا ہی ان کا کام رہ گیا ہے
“پی ٹی آئی عدالتوں میں انصاف نا ملنے کے باوجود اس لیے جاتی ہے کہ کوئی یہ نا کہے ہم تصادم چاہتے ہیں۔
آپ 9 مئی کی مزمت چاہتے ہیں،
کسی دن یہ عوام قیادت کے بغیر نکل آئی پھر آپ کو مزمت کی مہلت بھی نہیں ملے گی”۔
جنید اکبر خان
آج کل وکلاء کی دلچسپی ایک ادارے کے ساتھ چل کر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے پر ہے یا وکلاء میں پلاٹ تقسیم کرنے میں ہے، ینگ وکلاء تو ابھی بھی جمہوریت ، آئین و قانون کی سربلندی کےلیئے جدوجہد کر رہے ہیں جبکہ سینیئر وکلاء وقتی فوائد کو آئین پر ترجیح دے رہے ہیں، بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی
میں ایک ماں کے طور پر کہتی ہوں کہ میں ضرور پوچھوں گی کہ میرے بیٹے(حسان نیازی ) کو اتنی سزا کیوں دی ؟ اس ظلم کے خلاف میرا احتجاج جاری رہے گا۔نورین نیازی
گوجرانوالہ میں قاسم کھوکھر ایک نوجوان بچہ جو ملٹری کورٹ کی سزا کاٹ رہا تھا وہ بیمار ہو گیا ،اس نے بتایا کے میرے سینے میں درد ہے نہ اس کو اسپتال لے کر گئے نہ ڈاکٹر کو دیکھایا،اور جب اس کی لاش پوسٹ ماٹم کے لیے لے کر آئے تو اس کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھی۔یہ مسلمان ملک ہے اگر کوئی اور ملک کرتا تو ہم کہتے۔۔۔۔نورین نیازی
نورین آپا کے بیٹے ( حسان نیازی ) کو بھی ملٹری عدالت کے ذریعے 10 سال کی سزا دی گئی ہے، اکرم عثمان کو بھی ملٹری عدالت نے 2 سال کی سزا دی تھی۔سپریم کورٹ سے اپنے فیصلے میں کہا جس میں انھوں نے اگرچہ ملٹری عدالتوں کو بحال رکھا ،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غلط فیصلہ ہے۔سلمان اکرم راجہ
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نورین آپا کا بیٹا اور ہمارے تمام دوست جنہیں ملٹری عدالتوں نے ناحق اور غیر آئینی سزائیں دیں ہیں ان کو اپیل کا حق دیا جائے۔سلمان اکرم راجہ
🚨ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی حفاظتی ضمانت منظور
ہمیں عدالتی کاروائی دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ جس طرح عزت اور تحمل سے سائلین سے بات کی جا رہی تھی ایسا صرف پشاور میں نہیں ہر جگہ ہونا چاہیے، ایمان مزاری کی گفتگو
افغانستان کی جنگ میں جانے کا فیصلہ جرنیلوں اور ادارے کا تھا، اور آج ان جرنیلوں کے بچے اس جنگ کی وجہ سے اربوں پتی ہیں، دریوں پر بیٹھنے والے مولوی اس جنگ کی وجہ سے آج محلات میں ہیں،
جس وقت باقی پاکستان میں انڈسٹری لگ رہی تھی کے پی میں مجاہدین بھرتی کیے جا رہے تھے،
جنید اکبر خان
سیلاب متاثرین کے لیے کوئی دن عذاب سے کم نہیں گزر رہا۔
علی پور میں آج ہی ایک نوجوان راشن لینے گیا اور پانی میں ڈوب گیا۔
لاش کو اپنی مدد آپ کے تحت سیلاب متاثرین پانی سے خود نکال رہے ہیں علاقے میں کہرام۔برپا ہے حکومتی امداد نا پہنچ سکی
عمران خان نے واضح پیغام دیا ہے کہ یہ آپریشن نہیں ہونا چاہیئے، یہ غلط ہو رہا ہے۔ وہ 2004 سے یہ بات کرتے آ رہے ہیں کہ ہمارے بےگناہ لوگ مارے جاتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اپنے لوگوں کو نہیں مرنا چاہیئے۔ ہمیں عمران خان کو باہر نکالنا ہے، تاکہ ٹیبل ٹاک ہو سکے۔ عمران خان کی حکومت میں یہ چیزیں نہیں ہوتی تھیں۔“
علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو