متحدہ اپوزیشن نے مولانا فضل الرحمان کی اقتدا میں نماز ادا کی اس موقعہ پر معروف صحافی مطیع اللہ جان ویڈیو بناتے رہے،
جس پر نماز کے بعد مولانا نے استفسار کیا آپ خدانخواستہ مسلمان نہیں ہیں نماز میں شریک نہیں ہوئے؟
جواب میں مطیع اللہ نے کہا جی مجھے سلسل البول کی بیماری ہے جس سبب کپڑے ناپاک رہتے،
جس پر مولانا نے کہا پروردگار آپ کو سلسل البول اور مسلسل بول کی بیماری سے نجات دے،
قطر اور ایران میں انڈین کی طرف سے جاسوسی کے واقعات سامنے آنے کے بعد پاکستان کی بات درست ثابت ھوئی اور اب سعودیہ والے بھی اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ پاکستان سچا ہے👇
ایک سعودی تجزیہ کار نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے عرب ممالک کو خبردار کیا تھا کہ بھارت اسرائیل کے لیے معلومات حاصل کرنے کی غرض سے خلیجی ممالک میں دراندازی کرے گا
اس کے بدلے میں، بھارت کو اسرائیل سے عسکری (فوجی) ٹیکنالوجی کی منتقلی حاصل ہونی تھی
لاہور،کولڈ سٹور کی چيکنگ کے دوران بڑی تعداد ميں خراب سيب ملنے پر گودام سيل کر ديا گیا۔گلے سٹرے پھلوں سے سرکہ اور مربع بنانا مضر صحت عمل ہے،اس کی روک تھام کے ليۓ ٹھوس اقدام کيۓ جا رہے ہيں۔ملاوٹ شدہ،ناقص اور مضر صحت خوراک پر زيرو ٹالرينس وزيراعلی مريم نواز شریف کی توجہ کا مرکز ہے
واہ جی واہ
بندہ فیڈرل منسٹر ہو اور ایسی چولیں مارے تو سمجھ جائیں کہ یا تو نشے میں ہے یا اسے اتہ پتہ کچھ نہیں
سالے ایک ہی بار سارا سال لوڈ شیڈنگ کرو پاکستان کے قرضے بھی اتارو اور آئی پی پیز سے بھی جان چھڑاؤ ـ مگر آئی پی پیز تو بجلی بنے نہ بنے پیسے لینگے عوام پھدو نہیں ہے منسٹر
سلمی بٹ باجی نے یونیلیور جیسی انٹرنیشنل کمپنی کے گودام میں چھاپہ مارا ہے اور پوری دوہزار کلو ایکسپائری آئس کریم پکڑی ہے اس کو فنگس لگا ہوا تھا یعنی مہنگی ترین قیمت لے کر بھی بچوں کو زہر بیچ رہے تھے
آپ سب سلمیٰ بٹ صاحبہ کے کام کو بہت سپورٹ کریں
پہلےکہا چینی زیادہ ہے،7 لاکھ 90 ہزار ٹن برآمد کردی۔کہا قیمت نہیں بڑھنے دیں گے ۔مگر پھر قیمت بڑھی تو 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنا پڑی۔ اب اسی درآمد کی گئی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن دوبارہ برآمد کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔دیکھیے وزیربرائےفوڈ سیکیوریٹی کاموقف
پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں