A_Theist!
Student of the Department of Media and development communication, SCS, University of the Punjab.
You can talk to me about Philosophy and Literature.
میٹرو ٹی وی کراچی بند کردیا گیا ، جس سے میڈیا انڈسٹری میں پہلے سے موجود بےروزگاروں میں مزید 100 سے زائد کا اضافہ ہوگیا ۔ سوال یہ کہ اگر چینل مالکان چینل چلا نہیں سکتے تھے تو انہیں پیمرا نے اجازت کیسے دی ؟ کیا پیمرا ان بے روزگاروں کی فوری نوکری کے خاتمے پر کوئی معاونت کر سکتے گا ؟
From Lahore to Colorado!
We proudly celebrate our distinguished alumnus, Kanwar Muzamil, from the pioneer batch of the Department of Media & Development Communication. Kanwar has secured admission to Colorado State University, USA for a fully funded MS program in Journalism.
We're not safe in homes, schools, markets, colleges, mosques or even in our own Capitol. Who's responsible??? What government is doing?? Pakistanis need answers!!!
#Islamabad#stopterrorism
People of Pakistan, now we should start asking the authorities about security failures. Isn't this a security failure?? How many more? Wr have already lost near 80K lives and still we hear such news. Why is state failing to protect us? Why why why?!!
#Islamabad#jawabdo
People of Pakistan, now we should start asking the authorities about security failures. Isn't this a security failure?? How many more? Wr have already lost near 80K lives and still we hear such news. Why is state failing to protect us? Why why why?!!
#Islamabad#jawabdo
بسنت کی خوشیوں کے سنگ دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی خبر سے بڑا رنج پہنچا۔۔۔
ہماری جنریشن بچپن میں تھی تو ہر روز یہ خبریں آتی تھیں اور اب ہم جوان ہوئے ہیں تو ایک بار پھر سے یہی حال ہے۔ ۔ ۔
#Islamabad#Blast
شاید ہم اتنے بھی برے نہیں۔ جاوید اختر نابینا ہیں اور آٹھ سال سے اسلام آباد میں اکیلے فروٹ کی ریڑھی لگاتے ہیں۔ نماز کے وقت ریڑھی کو چھوڑ کر قریبی مسجد میں نماز پڑھنے جاتے ہیں۔
I wonder why I used to celebrate these pseudo-intellectuals of Jang group in my teenage!!
I somwhoq agree with the conclusion drawn, but premises are so hollow!
بدقسمتی نصیبو لعل کی یہ ہے کہ اُس کا تعلق اشرافیہ سے نہیں ہے، وہ میشا شفیع نہیں ہے، اُس نے شکیرا کی طرح اپنی برینڈنگ نہیں کی، آج بھی وہ فقیرانہ انداز میں رہتی ہے اور اُس طبقے کے ساتھ اٹھتی بیٹھتی ہے جسے ہم ’میراثی‘ کہتے ہیں۔ نصیبو کو چونکہ انگریزی نہیں آتی اِس لیے وہ ہم میں سے نہیں۔ اسی اشرافیہ کے لوگ جب کسی کیفے میں جاتے ہیں تو ’ففٹی شیڈز آف گرے‘ میں ایلی گاؤلڈنگ کے گانے ’Touch me like you do‘ پر جھوم اٹھتے ہیں۔ جبکہ یہی گانا اگر نصیبو گائے تو فحش کہلاتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایلی گاؤلڈنگ سے پہلے نصیبو لعل یہ گانا 2007 میں گا چکی ہے، بول تھے: ’پا دے چِٹّے دن ماہیا ہنیر وے، جتھوں مرضی جوانی نوں چھیڑ وے۔‘ اب آپ ہی بتائیں Touch me like you do کیا اِس کی نقل نہیں؟ کہنے والے کہیں گے کہ نرگس نے اِس پر فحش رقص کیا، ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا، مگر ففٹی شیڈز کے کردار کرسچن گرے نے جو کچھ انستازیہ سٹیل کے ساتھ کیا، وہ کیا فحاشی کے زمرے میں نہیں؟
https://t.co/U75Z84syvp
In a first, Balochistan hired 111 accountants through an AI-driven process. Each candidate got a unique online test, instant results, and auto-issued appointment letters— delivered by @PakSarfrazbugti the same day. All future recruitments there will now use this AI system.
مسئلہ میڈیا لیٹریسی کا ہے نہ کہ کسی خاص نسل کا۔ سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے کو ڈی۔کوڈ کرنے کے لیے میڈیا لٹریٹ ہونا ضروری ہے نا کہ کسی خاص جنریشن سے ہونا۔ طرفہ تماشہ ہے کہ ایوب خان، ضیا اور بھٹو کے ہاتھوں بیوقوف بننے والی نسلیں جین زی کو لیکچر دے رہی ہوتی ہیں۔
جین زی کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر ہو رہے پروپیگنڈے کوحرف آخر سمجھتے ہیں،انہیں تاریخ اور ماضی سے دلچسپی نہیں، اسلئے جب کوئی انہونی ہوتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ موضوع کتنا ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو، یہ اسے میمز بنا کر ہنسی مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں۔بلال غوری کا روزنامہ جنگ میں کالم https://t.co/OjG1tOYQm7
جین زی کے بہت سارے مسائل ہیں مگر ایک رویے کو دنیا بھر کی ایک نسل پر جنرلائز کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ جین زی کے جائز مسائل کو قبول بھی کر لیا جائے تو یہ کہنا کہ جین زی کتابیں نہیں پڑھتے ایک صریح غلطی ہو گی۔ وقت ملے تو اعداد و شمار دیکھ لیجیے گا۔
جین زی کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر ہو رہے پروپیگنڈے کوحرف آخر سمجھتے ہیں،انہیں تاریخ اور ماضی سے دلچسپی نہیں، اسلئے جب کوئی انہونی ہوتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ موضوع کتنا ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو، یہ اسے میمز بنا کر ہنسی مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں۔بلال غوری کا روزنامہ جنگ میں کالم https://t.co/OjG1tOYQm7
Mr. Ghauri, this is not limited to GenZ only. It's a post-literate society. This is an age of infodemic and hypereality. Even if GenZ is most effected by this, other living generations are also not safe. This pseudo generational war must be stopped.
جین زی کتابیں نہیں پڑھتے، سوشل میڈیا پر ہو رہے پروپیگنڈے کوحرف آخر سمجھتے ہیں،انہیں تاریخ اور ماضی سے دلچسپی نہیں، اسلئے جب کوئی انہونی ہوتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ موضوع کتنا ہی سنجیدہ کیوں نہ ہو، یہ اسے میمز بنا کر ہنسی مذاق میں اُڑانا چاہتے ہیں۔بلال غوری کا روزنامہ جنگ میں کالم https://t.co/OjG1tOYQm7
ایرانی آرٹسٹ فاطمہ جو معذور ہیں اور اپنے پاؤں سے پینٹنگ بناتی ہیں، انہوں نے اپنے پسندیدہ کھلاڑی کرسٹیانو رونالڈو کی شاندار پورٹریٹ بنائی۔
جب رونالڈو ایران آئے تو انہوں نے فاطمہ کو خود جا کر سرپرائز دیا. یہ لمحہ واقعی دل کو چھو لینے والا تھا۔
صرف گذشتہ دو سال میں 15 لاکھ ہنر مند پاکستانی ملک چھوڑ کر بیرون ملک جا چکے ہیں جن میں ہزاروں ڈاکٹر اور انجینئرز بھی شامل ہیں زیادہ تر پروفیشنلز ملک اس لئے چھوڑ رہے ہیں کہ انکی تنخواہ پر ٹیکس بہت زیادہ ہے اور بیرون ملک انہیں بہت کم ٹیکس ادا کرنا پڑیگا
افغان مہاجرین کا پاکستان سے واپس جانا میرے لئے بھی تکلیف کا باعث ہیے۔ ان میں میرے دوست بھی شامل ہیں اور میرے بچوں کے دوست بھی۔ میں نے ان کے لئے کئی کالم لکھے۔ لیکن ریاستوں کے سینے میں دل نہیں ہوتا وہ عام انسانوں کی طرح ایکٹ نہیں کرتیں اور نہ کرسکتی ہیں۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ریاست دوسری ریاست کو کھلم کھلا دشمن قرار دے، اس کے خلاف پراکسی جنگ کرے، پورے معاشرے کو اس کے خلاف موبلائز کرے اور دوسری ریاست اس کی دس فی صد آبادکو مائیگرنٹس کے طور پر مہمان رکھے۔ وہ اس ریاست کے ایک شہری کو بھی خطرہ محسوس کرے گی اور اس کی کڑی نگرانی کرے گی۔ ہوسٹائل ریاستیں ایک دوسرے شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہیں اس کی بہترین مثال بھارت اور پاکستان ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کو کھلے بارڈر دیئے۔ افغانوں کو بغیر ویزا پاکستان آنے کی اجازت دی۔ پچاس پچاس ہزار افغان ایک دن میں آیاکرتے تھے۔ انہیں پاکستان بھر میں آزادانہ رہنے اور کام کرنے کی اجازت دی۔اتنے بڑے سیکورٹی چیلنج کے بعد یہ توقع کرنا کہ پاکستان کا رویہ ایک ریاست کی بجائے ایدھی فائونڈیشن جیسا ہوگا ایک معصومانہ انسانی خواہش ہوسکتی ہے لیکن ایسا دنیا میں کہیں نہیں ہوسکتا۔تاہم ہمیں اچھے انسان،اچھے مسلمان اور اچھے پاکستانی کے طور پر واپس جانے والے افغان بھائیوں کی بھرپور مدد کرنی چاہیئے اور کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیئے کہ وہ ان کی مجبوریوں کا فائدہ اٹھانے