یہ بھی سن لیں ہر پشتون نسل پرست جو کہتا ہماری بجلی لے گے اس کو سنا بھی دیں تربیلا ڈیم چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے خود خیبر پختونخواہ تین ہزار تین سو میگاواٹ واٹ بجلی استعمال کرتا اور بقایات صرف سات سو میگاواٹ بجلی بچتی ہے تربیلا کی تقریباً ساری بجلی تو کے پی میں چوری ہو جاتی ہے تربیلا کی بجلی کہ رائلٹی چالیس ارب سالانہ کے پی کو ملتی ہے جب یہ تربیلا بنا تو پنجاب کے دریاؤں کو بیچ کر پیسے ملے تھے اور جو لوگ متاثر ہوئے ان کو زمینیں بھی پنجاب نے دی تھیں ان بے شرم نسل پرستوں کو شرم بھی نہی آتی ؟
پاکستان کی کل معدنیات اور تیل کی برآمدات تقریباً 500 ملین ڈالر ہیں، جب کہ اکیلے ٹیکسٹائل کی برآمدات 18 بلین ڈالر ہیں اور پنجاب اکیلے 70 فیصد ٹیکسٹائل برآمدات پیدا کرتا ہے... تو مجھے نہیں معلوم کس نے آپ کو بتایا کہ پاکستان خیبر پختونخوا کی معدنیات پر چل رہا ہے؟ ہاں، خیبر پختونخواہ پاکستان کا ایک اہم حصہ ہے اور اسے وفاقی وسائل پر پورا حق حاصل ہے، لیکن اتنی مبالغہ آرائی سے کام نہ لیں۔۔
یہ جو نکھٹو صوبوں کے نسل پرست معدنیات معدنیات کرتے کیا آپ کو پتہ سرکاری دستاویزات کے مطابق پچھلے مالی سال میں پاکستان کی جی ڈی پی جو 407 ارب ڈالر اس میں پورے ملک کی معدنیات مل کر صرف دو فیصد حصہ سالانہ پیداوار اور ریونیو صرف دو ارب ڈالر سالانہ ہے
صرف ٹیکسٹایل کی صنعت اس کے مقابلے میں 19 ارب ڈالر ہے جو پاکستان کی برآمدات کا ساٹھ فیصد ہے یہ سب پنجاب سے متعلق ہے بیرون ملک مقیم پاکستانی چالیس ارب ڈالر بھیجتے ہیں پنجاب تو پاکستان کا کماو پوت ہے باقی کے پی سے زیادہ پشتون تو پنجاب میں رہتے ہیں ایڈے تسی نسل پرست
سعودی تیل کی قیمتیں چھ سال کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ یاد رہے پاکستان کوسعودی تیل مارکیٹ نرخوں سے کم پر فراہم ہوتا ہے۔ تا ہم اب تک کی اطلاعات کے مطابق، ان سب کے باوجود، حکومت کو شرم نہیں آئی۔
اسد کو والدین نے سماعت و گویائی سے محروم بچوں کے اسکول میں داخل کیا تھا۔ تیسری کلاس میں تھا۔
ایک دن اسکول یونیفارم اور اسکول بیگ سمیت آتے ہوئے لاپتہ ہوا تھا۔
اسد کو مبینہ طور پرُایک شیلٹر نے اٹھایا اور اپنے پاس رکھ لیا۔ نارووال سے شاید پہلے ملتان (کیونکہ اسد ملتان لکھ رہا تھا) لیکر گئے اور پھر لاہور لیجاکر رکھا۔
اسکا بچپنا کھالیا،اسکی تعلیم برباد کی،کوئی ہنر نہیں سکھایا ،ماں باپ کے سائے سے محروم رکھا۔
جب جوان ہوا اور (ناقابل ڈونیشن) ہوا تو اسکو بالغ قرار دیکر ادارے سے نکال دیا۔ کچھ دن سڑکوں پر دربدر گھومتا رہا پھر کسی نے اپنی شاپ میں رکھا وہاں کام کرتا اور رات کو سوتا۔
ہم جب اسد سے ملے تھے تو بہت مرجھایا ہوا ٹوٹا ہوا اور بکھرا ہوا تھا۔ جب خاندان ملا تو اسد کی جان میں جان آئی سینہ چوڑا ہوگیا تھا۔
کل جب گھر لیکر جارہے تھے تو جیسے جیسے علاقہ قریب آتا تو راستوں اور نہروں کو دیکھ کر اچلتا اور اشاروں میں کہتا کہ جب چھوٹا تھا تو یہ جگہیں میں نے دیکھی تھیں.
اب سوال یہ ہے کہ ظالموں اسکول یونیفارم میں ملے بچے کو اسکے گھر نہیں پہنچا سکتے تھے؟ اسکول کا نام واضح لکھا ہوا تھا ۔ اسکول لیجاتے وہاں سے پیرنٹس کو بلاکر بچہ حوالے کرتے۔
لیکن ظالموں تم لوگوں نے اسکے اپنے پیٹ کی آگ بڑھانے کے لیے اسے ایندھن بنایا اسکا سب کچھ تم نے چھین لیا۔والدین نے اپنی جمع پونجی لگائی۔بچے کے سترہ سال ضائع ہوگئے۔
ان شاءاللہ تم اس ظلم کا حساب دونوں جہانوں میں دوگے۔تم انسانیت کے دشمن ہو تم ظالم ہو۔
ماں نے جب اسد کو دیکھا تو پاگلوں کی طرح گلے لگ کر روتی رہی۔
ان شاءاللہ مکمل تفصیلی ویڈیو جلد آپ تک پہنچے گی۔
#waliullahmaroof #missingpersons #pakistan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
” اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: تیر بنانے والے کو جو بناتے وقت ثواب کی نیت رکھتا ہو، تیر انداز کو اور تیر دینے والے کو“ ۔
(جامع ترمذی، ۱۶۳۷)
غلام مصطفی کھر پی پی کا لیڈر تھا اس نے دھمکی دی تھی کہ انڈیا کے ٹینکوں پر بیٹھ کر پاکستان آوں گا آج تحریک انصاف کا سوشل میڈیا انڈیا سفارتکار کی تقریر پاکستان کے خلاف شئیر کر رہے ہیں
پی ٹی آئئ کو بطور جماعت بین نا کرنے والے بھی پاکستان سے غداری ہی کر رہے ہیں یہ سہولت کاری ہے
جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں شہید کیا گیا، تو قاتل عبد الرحمن بن ملجم تھا وہی جو خود کو سب سے بڑا مجاہد، حافظِ قرآن اور تہجد گزار سمجھتا تھا۔
اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس لیے قتل کیا کہ اس کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ کے قانون پر نہیں چل رہے تھے، وہ ریاست کا فیصلہ کر رہے تھے۔
اور شہادت کے بعد جب خبر پھیلی تو شام میں کچھ لوگوں نے کہا:کیا علی نماز بھی پڑھتا تھا؟ جو مسجد میں قتل ہو گیا؟
یعنی پروپیگنڈا اتنا زبردست تھا کہ لوگوں کے ذہن میں بٹھا دیا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تو دین پر ہی نہیں ہیں۔ بالکل آج کی طرح - جب فوجی شہید ہوتا ہے تو یہی ٹولہ کہتا ہے یہ تو مرتد تھا، یہ تو ریاست کا غلام تھا۔
یہ سوچ آج کی نہیں ہے، یہ 1400 سال پرانی خوارج کی سوچ ہے،
1وہی نعرہ: تب بھی نعرہ تھا "لا حکم الا للہ" حکم صرف اللہ کا۔ آج بھی یہی نعرہ ہے کہ ہم ریاست کو نہیں مانتے، ہم صرف اللہ کو مانتے ہیں۔
2. وہی طریقہ تب بھی وہ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر مسجد میں قتل کرتے تھے۔ آج بھی یہی لوگ فوجی کو، پولیس والے کو، اور مسجد میں نمازی کو کافر کہہ کر مارتے ہیں۔
3. وہی انجام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا "میں اگر انہیں پاؤں تو قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا" کیونکہ یہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔
تو فرق صاف ہے
فوجی محافظ ہے، خوارج قاتل ہے۔
فوجی اس لیے کھڑا ہے تاکہ مسجد محفوظ رہے۔
خوارج مسجد میں آکر ہی قتل کرتا ہے اور سمجھتا ہے میں نے جہاد کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ ہر داڑھی والا، ہر نعرہ لگانے والا مجاہد نہیں ہوتا۔ مجاہد وہ ہے جو امت کو جوڑے، توڑے نہیں،اور پاک فوج آج امت کو جوڑ رہی ہے پوری دنیا گواہ ہے مکہ دفاعی معاہدہ امت کو یکجاں کرنے کا رستہ ہے۔۔
اس وقت افغانستان نے اپنی ساری فوج پہلی مرتبہ پاکستان سے ملحقہ بارڈر پر جھونکی ہے۔ پاکستان کی دفاع کے لئے پاک فوج اور ایف سی مصروف عمل ہے۔ ایسے میں ملک کے دفاعی نظام کی سپلائی لائن میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جا سکتی۔
تو پھر میں لونگ مارچ کی طرف سے ناں ہی سمجھوں؟؟
سوچنگ
2023 سے 2025 اور 2026 کے اب تک کے عرصے کے طور پر شمار کریں 100 حملے خود کش حملے ہوئے جن میں، 847 جاں بحق اور 1,310 زخمی ہوئے نوے فیصد شھہد اور زخمی پشتون ہیں اور اب نظر ڈالیں حملہ کرنیوالوں پر تمام حملے پشتوں تنظیموں نے قبول کئے حملہ کرنیوالوں میں ایک بھی پنجابی، سندھی، مہاجر، ہزارہ وال یا کوئ اور قومیت شامل نہیں، ہاں بلوچ تنظیموں کے حملے شامل ہیں لیکن وہ دس فیصد سے کم ہیں جن میں بھی 90فیصد پختون اور بلوچ شھید ہیں ! لیکن جب آپ کہیں کہ خدا کیلئے اپنے گریبان میں جھانکنیں اپنے کلچرل اور مذھبی معملات کو دیکھیں آپ کو صرف گالیاں نکالنے والے ملیں گے بہت کم کوئ عقل کی بات کرے گا، بس پنجابیوں کو گالیاں اور فوج کو صلواتیں سنانے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہشتوںوں کو اپنی معاشرت پر گہرے فکرو نظر کی ضرورت ہے!!
حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف گزشتہ چند روز کی کاروائیوں سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب کسی قوم کی صفوں میں اس کے دشمنوں کو واضح شگاف مل جائیں جہاں مورچے بناے جا سکیں یا اس کے پڑوس میں کوی militant group دستیاب ہو جاے تو اس کے لیے ان عناصر تک مالی وسائل و چنگی ہتھیار پہنچانا قطعا” مشکل نہیں ہوتا۔
حوثی militants کا ایسا گروپ ہے جسے سرپرستی کے لیے سعودی عرب کے دشمن دستاب رہے اور انہوں نے ان کی معاونت سے آہستہ آہستہ وہ عسکری طاقت حاصل کر لی کہ سعودی عرب کی سالمیت ہی خطرے میں ڈال دی۔
طالبان ، کے پی اور بلوچستان کے militants کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کے خلاف ہر قسم کی کاروای کے لیے یہ عناصر ہہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔
سعودی عرب اور پاکستان نے ایک طرح کی غلطی کی، ان عناصر کی بڑھتی طاقت کو نظر انداز کرتے رہے۔ نتائج بھی ایک ہی ہیں،
کسی بھی ریاست کو یہ بات ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ایسے عناصر کی بر وقت بیخ کنی نہ کی جاے تو یہ آخر کار ریاست کے وجود کے لیے خطرہ بھی بن جاتے ہیں۔
ہمیں پاکستان کی سالمیت کی جنگ کو اپنی آئندہ نسلوں کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
یہ جنگ ہمیں ماضی کی غلطیوں کا کفارہ سمجھ کر لڑنا ہو گی۔
اب ہمارے پاس کوی دوسرا آپشن نہیں رہا۔
پاکستان بڑا سخت ہاتھ رکھنا پڑے گا ورنہ کسی دن کوئی افغانی ڈرون پاکستان کی کسی اہم تنصیبات کو ہٹ کر دے گا افغانستان میں جہاں سے ڈرون فائر کیا جاتا اُس جگہ کو ملبے کے ڈھیر میں ایسا تبدیل کریں کہ نمک حرام افغان طالبان کی سات نسلیں یاد رکھیں انکی سکولوں اور ہسپتالوں میں لگی فیکڑیاں تباہ کریں
ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ بدترین بحران کا شکار ہے اور وہاں سے پیسہ تیزی سے نکل رہا ہے، یہ موقع تھا کہ کم از کم پاکستانی سرمایہ کار اپنا پیسہ پاکستان واپس لاتے لیکن ہمارے حکمرانوں نے سیاسی درجہ حرارت اتنا اوپر رکھا ہے کہ پاکستان کے اندر ہی جنگ کا سماں ہے، ترکی، ملائیشیا اور سنگاپور اس بحران سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہم ایک دوسرے کے خلاف ہی نبرد آزما ہیں، ہر مسئلہ کو بندوق سے حل کرنے کی ذھنیت نے ملک میں شورش کا ماحول بنایا ہوا ہے، زیادہ نقصان کے بعد بھی بات ہی کرنی ہے اب بھی بات کر لیں، عمران خان سے بات کئے بغیر پاکستان میں سیاسی ماحول میں ٹھہراؤ ناممکن ہے کتنا وقت اور ضائع کرنا ہے بس یہ ہی ہے!!
ایک کروڑ پاکستانی سمندر پار مقیم ہیں ان میں سے پچاس لاکھ تو صرف یو اے ای اور سعودی عرب میں ہیں ان دو ممالک سے تقریباً بیس ارب ڈالر ہر سال پاکستان آتے ہیں یہ جو بری اکانومی کے باوجود آپ کو مارکیٹیں بازار ریستوران بھرے ملتے یہ سب انہی بیس ارب ڈالرز کی وجہ سے ورنہ پاکستان میں شدید برے حالات ہوں ایران اور اس کی پراکسیز ان ہی دو ممالک پر حملہ آور ہیں سوچیں اگر ان ممالک میں سے پچاس لاکھ پاکستانیوں کے روزگار ختم ہوں گے تو کتنے خاندان متاثر ہوں گے یہ ایران اور اس کے پجاریوں کی مسلمان دشمنی ہے
یہ غالبا اسرائیل کی تازہ ویڈیو ہے پرسکون ، آباد ، ہنستا کھیلتا اور یہ سب ایران کا دیا تحفہ ہے جبکہ ایران اور اس کے پراکسیز نے سارے عرب ممالک پر حملے شروع کر رکھے معاملات زندگی بند کر رکھے ہیں
گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے کی تکمیل ایران نے کی ہے
اس مطالبے کی مکمل حمائیت کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو اکٹھا ہو جانا چاھئے، اگر آپ پاکستان میں سیاست کرنا چاھتے ہیں یا اعلیُࣿ عہدے لیتے ہیں تو باہر جائیداد نہیں بنا سکتے!!
سترہ تاریخ سے یہ جہاز لے کر شہباز شریف نکلا ہےکل نیویارک پہنچے ہیں بنگہ دیش کا وزیراعظم بزنس کلاس میں کمرشل پرواز میں گیا ہے جبکہ شہباز شریف نے کفایت شعاری مہم بھی شروع کر رکھی ہے جہاز کا سائز اور کاروں کا فلیٹ چیک کریں مقروض ترین ملک کے شاہانہ حکمران
آپ نے غور کیا کہ باب المندب سے اسرائیلی جہاز گزرنے کی اجازت ہے امریکی جہاز بھی گزر سکتے مگر سعودی جہازوں کو اجازت نہی اس پر حوثی حملہ کر دیتے ہیں جبکہ عاشقان ایران اور عاشقان عمران پاکستان میں حوثیوں کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے جو باقاعدہ امریکہ اور اسرائیل سے ڈیل کر کے سعودیہ پر حملہ آور ہیں
یہ کیسی جنگ جس میں اسرائیل محفوظ سعودیہ غیر محفوظ ہے ؟