پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اک نیوز وائرل ہوی ملتان کے مشہور ڈاکٹر احسن منیر کو گرفتار کر لیا گیا ہے انکی بیوی کی طرف سے انزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ان سے غیر فطری عمل کرتا ہے ۔۔
جس پر ڈاکٹر صاحب کو فوری گرفتار کر لیا جاتا ہے پورے سوشل میڈیا پر ان پر شدید تنقید کر کے انہیں معاشرے کیلے نشان عبرت بنادیا گیا ۔ اب اس واقعہ کی حقیقت سن لیں ۔۔
ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ کو پہلے ہی طلاق مل چکی تھی دونوں میں شادی کے اک سال بعد لڑے جھگڑے شروع ہو گئے ان کے درمیان علحیدگی چل رہی تھی دو طلاقیں پہلے دے چکے تھے ۔ حال ہی میں انکی تیسری طلاق کا نوٹس گیا جسکے بعد بیوی نے اپنے شوہر سے بدلہ لینے کیلے یہ سب جھوٹ کہا ۔۔
عدالت میں بھی جج برہم ہوا کہ مدعی کی طرف سے کوی نہی ایا میڈیکل رپورٹ میں بھی ایسا کچھ ثابت نہی ہوا ۔۔
جسطرح سے میڈیا سوشل میڈیا نے ڈاکٹر کو معاشرے میں عبرت کا نشان بنادیا تھا کیا وہ اب اس عورت کے پاس جائیں گے کوی میڈیا والا سوال کرے گا اتنا گھٹیا انزام کیوں لگایا یا پھر مرد ہے لگا دو انزام بدنام تو ہو جاے گا باقی بعد میں دیکھا جاے گا ۔۔
جانتے ہیں یہ ملتان کے سب سے بڑے سکن اسپیشلسٹ ڈاکٹر اظہر منیر کا بیٹا تھا جو خود بھی ڈاکٹر تھا ۔ صرف اک جھوٹے واقعہ پر پنتیس سال کی انکی خدمت کو مٹی میں ملادیا ۔۔
راہ چلتے کو بھی عورت اپ پر انزام لگا دے اپ کو جیل جانے سے کوی نہی روک سکتا یا تو کئی ماہ تک رپورٹ نہی اتی ا بھی جاے تو پھر اک درخواست سے دوبارہ مدعی کی تسلی کیلے فرانزک کرایا جاتا ہے میڈیکل بورڈ تشکیل کیا جاتا ہے تب تک بندہ جیل میں رہے گا ۔
کوی شک نہی اس ملک میں عورتوں پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر ایسی عورتوں کا کیا کریں گے جو اپنی ہی حسد انا کا شکار ہو کر ایسی حرکات کرتی ہیں ۔ اگر مرد گناہ گار ہوتا ہے تو سارے مرد ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کہ اس شخص کو سزا دیں ۔
جب مرد بے گناہ ہوتا ہے پورا معاشرہ یہ کہتا ہے بس عورت مظلوم تھی اثررسوخ چل گیا ہو گا ۔ اس لیے باہر ا گیا ہے کچھ تو ہوا ہو گا ورنہ اتنا بڑا انزام کون لگاتا ہے ۔
اب یہ شخص باہر اے گا اک اک کو صفای دیتا پھرے گا یہ اس ملک میں اکثر ایسا ہوتا ہے شادی سے پہلے تعلق ہو جب ان بن ہو جاے تو زیادتی کا کیس ٹھوک دو شادی کے بعد یا طلاق کے بعد شوہر سے بدلہ لینا ہو تو یہ شرمناک انزام لگا دو ۔۔
Your lucky enough Bro
ان کا کوئی مائی باپ نہیں ہے،
ہر بندے کو علیحدہ بل بھیجتے یہ نمونے
@PTAofficialpk ستو پی کے سو رہا ہے،
شرم کرو چوولو
تنخواہ حلال کرو
#ShamePTCL#ShamePTA
Actual fraud of @PTCLOfficial Flash fibre. Kindly switch from these fraudsters too. I am doing the same.
My 20 MBPS Bill = 3669 /-
Website 30 MBPS package prices = 3499/-
Dear @PTCLOfficial
کوئی شرم ہوتی ہے،
کوئی حیا ہوتی ہے،
یہ کونسا طریقہ ہے، بغیر کسی نوٹس اور بتانے کے،
ہر مہینہ بل بڑھا رہے رہو، اور سروس کا معیار ٹکے ٹوکری بھی نہیں ہے،
حرامی پن کی حد ہوتی ہے۔
@PTAofficialpk
ستو پی کے سو رہے ہو؟
ہوش میں آو، تنخواہ حلال کرو۔
#ShamePTCL#ShamePTA
Dear @KElectricPk@imranrana21
What is this behavior???
If you have to always reject the self reading, an initiative by @GovtofPakistan & @MoWP15
Than why you added this option in mobile app????
Looks like @KElectricPk still working in decdes ago in the age of 2025
#SelfReading
In just 1 year Bill of @SSGC_Official rose 30% for domestic user, but in return very poor, pathetic and disgusting customer services we are getting,
It's been 10 days since a complaint was lodged, no one bother to fix, evrytime i call 1199, thy'll say priority is applying.
#Shame
ذبیح اللہ نے اپنی پریس کانفرنس میں جو الزامات لگائے اسے نظر انداز کر میں صرف غیر جانبدار مصدقہ حقائق پر بات کررہا ہوں ۔۔۔۔ امریکہ اور پاکستان کے علاوہ کس ملک نے افغانستان کو دہشت گرد کہا ؟ اقوام متحدہ میں قرار دادیں ریکارڈ ہیں پھر جب ہم نے افغانستان کو دشمن کہہ دیا تو پھر وہ جس کے پاس مرضی جائے جس سے مدد لے ہمیں اعتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ پاکستان کی امریکہ نواز حکومتوں کو وہ وقت یاد نہیں جب یہ افغانی آپ کیساتھ مل کر انڈیا سے لڑے تھے لیکن امریکی اشارے پر مشرف نے افغانیوں کے قتل عام کے بدلے ڈالر لیے ۔حالات کو ایمانداری اور غیرجابدارآنہ نظر سے دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب روس افغانستان میں گھسا تو پاکستان نے امریکی اشارے پر ڈالروں کے عوض مجاہدین تیار کئیے اور لاکھوں افغانیوں کو دہشت گرد گوریلا جنگ لڑنے کی ٹرینگ دی اور انھیں پناہ دی اور پناہ دینے کے پیسے بھی وصول کیئے لوگوں کو حقائق کا علم نہیں ہے ۔۔۔۔۔
پھر جب امریکہ افغانستان میں گھسا تو پاکستان ان ہی مجاہدین کو جن کو خود پاکستان نے ٹریننگ دے کر تیار کیا تھا کو امریکی اشارے پر دہشتگرد کہا اور پھر انھیں مارنے میں امریکہ کی مدد بھی کی ان کے رہنماوں کو ڈرون کے ذریعے ہلاک کرنے میں پاکستان کی سرزمین استعمال کی گئ یہ دوہرا رویہ کسی کو نظر نہیں آتا ؟ اس سب کے باوجود افغانی طالبان پاکستان کو اپنا محسن ملک قرار دیتے رہے ہیں بیانات آن دی ریکارڈ موجود ہیں اب دوبارہ پھر افغانستان کے خلاف بڑے پیمانے پر کاراوآئی کرنے کیلئے اسے پاکستان دشمن کہا جارہا ہے۔ جب متقی بھارت کے دورے پر تھے تو جمعرات کو کابل پر بمباری کردی گئ ۔۔تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ایران بھی افغانستان کا ہمسایہ ہےاور بھی کئی ریاستیں انکی ہمسائیہ ہیں ایران ہے ترکمانستان ہے ازبکستان ہے تاجکستان ہے تو افغانستان وہاں دہشت گردی کیوں نہیں کراتا ؟ وہاں دہشتگردی کیوں نہیں کراتا افغانستان ؟ ایران سے ہماری جھڑپ ہوئی تو ہم نے جواب دیا اور کہا کہ جنگ سے مسلہ حل نہیں ہوگا پھر دونوں نے مذاکرات کیئے ! بھارت سے جنگ ہوتی ہے ہم کہتے ہیں جنگ سے مسائل حل نہیں ہوتے بات چیت سے مسلہ حل ہونا چاہئے ! تواب افغانستان پر دوہرا معیار کیوں ؟ پہلے بھی بارہا آپ افغانستان سے بات کرتے رہے تو اب کیوں نہیں ؟ صرف اس لئے کہ بگرام ایئرپورٹ تک پہچنے کیلئے امریکہ کو سہولت فراہم کی جائے ؟ طالبان کا شکوہ حق بہ جانب ہے وہ کہتے ہیں پاکستان نے امریکہ کو اڈے دیئے ہم پر حملہ کرنے کیلئے لیکن ہم نے انکی مجبوری سمجھ کر معاف کیا لیکن افغانستان آزاد ہوا تو پاکستان کو چاہئے تھا سب سے پہلے ہماری حکومت کو تسلیم کرتا لیکن آج تک امریکہ کے حکم پر ہمیں تسلیم نہیں گیا جبکہ چین اور روس تسلیم کرچکے دوست اور ہمسائیہ ایسے ہوتے ہیں ؟ یہ وہ حقائق اور سوالات ہیں جنھیں غیر ملکی تجزیہ نگار اور ماہرین بیان کرتے ہیں اگر انکے ان حقائق کو تسلیم کرلیا جائے تو انکا یہ الزام درست لگتا ہے کہ "پاکستان کو موجودہ اسٹیبلیشمنٹ نے ایک اسلامی ریاست کو انتہائی کامیابی کے ساتھ امریکی کالونی بنادیا ہے جو اب اسرائیل کو بھی تسلیم کریگا اور افغانستان کے بعد ایران کے خلاف بھی امریکہ کا سہولتکار بنے گا" عالمی ماہرین کے اس الزام کو غلط ثابت کرنے کیلئے ہمیں مثبت حکمت عملی اپنانی ہوگی !
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے۔۔۔۔
مسلسل دو ہفتے لاکھوں کیوسک پانی گزارنے ، ملینز ایکڑ رقبے پر فصلیں برباد کرنے، ہزاروں گھر تباہ کرنے اور لاکھوں لوگوں کو اُجاڑنے کے بعد دریائے چناب بالکل شانت ہوگیا۔
برصغیری دریاؤں کا مزاج بھی یہاں کے لوگوں جیسا ہے۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔
تین چار ہفتوں کے اندر اندر دریا کا ایک ملیئن کیوسک کے ریلے گزارنے کے بعد یوں خُشک ہوجانا ایک ڈراونی یاد دہانی ہے کہ ہمیں بہت سخت موسمی حالات کے لیے تیار ہوجانا چاہئے۔
اہو تسیں وی آکھو سارے آپ گڈی آپ ڈور
میں سدناں تسیں پکڑ لیاؤ بلھےؔ شاہ دا چور
میری بکل دے وچ چور نی میری بکل دے وچ چور.
بلھےؔ شاہ دا چور
بلھےؔ شاہ دا چور.
ترکی، ساوتھ کوریا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال کچھ بھی ہو ہم انقلاب کے ڈھول بجانا شروع کر دیتے مگر یہ بھول جاتے کہ جہاں آپ حکومت وقت پر سوال کرنے کیلئے اکٹھے نہیں ہو سکتے، پچھلی حکومتوں کی غلطیوں کو ماننے اور ان سے توبہ کیلئے جرات پیدا نہیں کر سکتے، کسی بھی قومی معاملے میں ایک سوچ نہیں اپنا سکتے، بنیادی انسانی حقوق کیلئے ایک جگہ نہیں بیٹھ سکتے، ابھی آج اس وقت آنکھوں کے سامنے سیلاب متاثرین ہمارے سامنے مر رہے ہیں، جانور مر رہے ہیں ہم انکی مدد کیلئے اپنے ہی ملک ان کے پاس انکی مدد کرنے نہیں پہنچ سکتے، متحد ہو کر سیاسی، مذہبی، لسانی وابستگی سے اوپر اٹھ کر انکے لئے آواز تک نہیں اٹھا سکتے یا اگر آواز اٹھاتے ہیں تب بھی کوئی سیاسی پہلو نکال کر تو پھر جو بو رہے ہو وہی کاٹو گے
نہ پہلے یہاں کوئی انقلاب آیا نہ آئے گا اب تو حالات یہ ہیں کہ اتنی تقسیم ہو چکی کہ کچھ انقلاب لا رہے ہوں گے اور اتنی ہی تعداد میں سامنے انقلاب روکنے والے بھی عوامی جتھے ہی ہوں گے پہلے گالیاں دیتے پھر یہی بے شرم ایک دوسرے کو گولیاں مار کر خوش ہو رہے ہوں گے
او بھائی اپنی سیلف ڈویلپمنٹ کا سوچو اپنے خاندان کا سوچو اتنا انقلاب بھی لے آئے تو آپ جیسا کوئی ہیرو نہیں ہو گا
جیسے بابے ہیں ویسے ہی انقلابی ہیں
کوئٹہ سے پشاور جانیوالی جعفر ایکسپریس سے پہلے حفاظتی نگرانی کے لئیے ایک پائلٹ انجن بھیجا جاتا ہے، اس نگران پائلٹ انجن پر 3 گولیاں فائر ہوئیں خطرے کو بھانپتے ہوئے ایک محفوظ مقام پر ٹرین کو ساڑھے دس بجے روک دیا گیا لیکن سیکیورٹی کلئیرنس ہوتے ہی دوبارہ سے ٹرین منزل کی جانب روانہ۔۔۔
@ch_sajaad سر جی امید تو پہلے بھی کبھی نہیں تھی صرف آپ کی باتیں سن کر ایک امید جاگی تھی کہ اگر آپ جیسا بندہ کہہ رہا ہے تو شاید کچھ عقل آ گئی ہو لیکن نہیں وہ پنجابی میں کہتے ہیں نا ان کی عقل گوڈوں میں ہے،
ملک کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے....