*📌یہ بکاؤ میڈیا کبھی بھی نہیں دکھائے گا،*
*ملتان میں تنخواہیں نہ ملنے پر ستھرا پنجاب کے ملازمین کا پنجاب حکومت کے خلاف احتجاج،* *احتجاجاً سڑکوں پر کچرا پھینک دیا*
نام: محمد حنیف شاہد آرائیں، پاکستان
AI استعمال کر رہا ہوں۔ مسئلہ: AI میرے الفاظ ہٹاتا، لہجہ بدلتا، مطلب تبدیل کرتا ہے۔
یہ غلط نمائندگی ہے۔
AI پہلے صارف کی بات ویسے ہی سنے، پھر جواب دے۔
براہ کرم توجہ دیں: پہلے سنیں، پھر لکھیں۔
#OpenAI#ChatGPT#AIFeedback@OpenAI@sama
نام: محمد حنیف شاہد آرائیں، پاکستان
AI استعمال کر رہا ہوں۔ مسئلہ: AI میرے الفاظ ہٹاتا، لہجہ بدلتا، مطلب تبدیل کرتا ہے۔
یہ غلط نمائندگی ہے۔
AI پہلے صارف کی بات ویسے ہی سنے، پھر جواب دے۔
براہ کرم توجہ دیں: پہلے سنیں، پھر لکھیں۔
#OpenAI#ChatGPT#AIFeedback@OpenAI@sama
نام: محمد حنیف شاہد آرائیں، پاکستان
AI استعمال کر رہا ہوں۔ مسئلہ: AI میرے الفاظ ہٹاتا، لہجہ بدلتا، مطلب تبدیل کرتا ہے۔
یہ غلط نمائندگی ہے۔
AI پہلے صارف کی بات ویسے ہی سنے، پھر جواب دے۔
براہ کرم توجہ دیں: پہلے سنیں، پھر لکھیں۔
#OpenAI#ChatGPT#AIFeedback@OpenAI@sama
تاریخی حقائق
کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر احمد ریاض کو پچھلے سال اگست میں اغواء کیا گیا،
پروفیسر احمد ریاض نے بازیاب ہو کر انکشاف کیا کہ انھیں اغواء کرکے ان پر پریشر ڈالا گیا ہے کہ وہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دیں
لیکن پروفیسر احمد ریاض نے ڈگری کو جعلی قرار
“کامن ویلتھ کی 8 فروری کے الیکشن پر جو رپورٹ لیک ہوئی ہے اس نے بھی انتخابی دھاندلی کا پول کھول دیا ہے کہ کیسے بےشرمی اور ڈھٹائی سے ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔
کامن ویلتھ کے مطابق یہ رپورٹ پہلے ہی سرکاری سطح پر حکومت پاکستان کو دے دی گئی تھی مگر یہاں سکندر سلطان راجہ جیسے بے ضمیر لوگ ہیں جنھوں نے انتخابی چوری کی سہولت کاری سمیت اس پر پردہ ڈالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا- پاکستان میں ووٹ چوری کا قانون سخت ہے اور ایسا کرنے پر آرٹیکل 6 کا نفاذ ہوتا ہے- لیکن ملک میں اس وقت عاصم لا کے سوا سب قانون ختم ہو چکے ہیں۔
یہاں پر لیاقت چٹھہ جیسے لوگ قابل تحسین ہیں جنہوں نے اپنے عہدے پر ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔ اس چوری کے بعد عوام کا قتل عام کیا گیا اور چھبیسویں آئینی ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے خلاف بھی جن ججز نے آواز بلند کی وہ تعریف کے قابل ہیں۔
دھاندلی پر قائم حکومت کو قانونی طور پر قبول کرنے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اسی لیے سینیٹ اور پارلیمانی کمیٹیوں سے استعفے دئیے گئے ہیں۔
اپنے ارکان پارلیمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ملک میں نافذ عاصم لاء سے بالکل نہ گھبرائیں نہ ہی جیل سے گھبرائیں۔ایک فرد واحد اپنے اقتدار کی ہوس کو پورا کرنے کی خاطر آپ کو دبانا چاہتا ہے۔ آپ جتنا ان سے ڈریں گے یہ اتنا ہی آپ کو دبائیں گے۔ آپ حق پر ہیں اور حق اور سچ انسان کو بہادر بناتا ہے، اور حق کی ہی فتح ہوتی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
1/3
سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی قیدِ تنہائی جسے اقوامِ متحدہ غیر انسانی سلوک اور تشدد کے زمرے میں شمار کرتی ہے۔ پر اقوامِ متحدہ نے نہ صرف تشویش ظاہر کی ہے بلکہ واضح مطالبہ کیا ہے کہ یہ قیدِ تنہائی اور غیر انسانی سلوک فوری طور پر ختم کیا جائے.
علامہ راجہ ناصر عباس صاحب ہماری لیڈرشپ کہہ رہی ہیں کہ عمران خان کی رہائی کا لائحہ عمل آپ دینگے کیونکہ خان نے آپ کو اختیار دیا ہے۔
خان صاحب اس وقت مکمل قید تنہائی میں ہیں اس لئے آپ جلد سے جلد لائحہ عمل کا اعلان کرے۔
امید ہے آپ ہمیں مایوس نہیں کریں گے ♥️
@AllamaRajaNasir
عمران خان کا Xاکاؤنٹ اور PTI کا X اکاؤنٹ ہماری پہنچ سے باہر ہے
وہ جو بھی پوسٹ کرنا چاہیں انہیں اس ہماری اجازت کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ نظام عمران خان وضع کر گئے ہیں ان اکاؤنٹ پر کسی کا کنٹرول نہیں ہے،وہ عمران خان کا پیغام دینے میں آزاد ہیں ہم انہیں اون کرتے ہیں
سلمان اکرم راجہ
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پاکستانی قوم کے نام پیغام:
“تحریک انصاف نے ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق جدوجہد کی ہے مگر ملک پر مسلط مافیا ہمیشہ آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے- 9 مئی اور 26 نومبر کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام اور انڈر ٹرائل اسیران کی رہائی ہمارے جائز مطالبات ہیں-
میں سول نافرمانی کی تحریک چند دنوں کے لیے مؤخر کر رہا ہوں، اس دوران تحریک کے خدوخال اور ٹائم لائن کا فیصلہ کروں گا-
سات ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہمارےلیے سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا ضروری ہو چکا ہے:
۱۔ 2023 میں لندن پلان کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کے الیکشن آئین کے برخلاف 90 دن کے اندر نہیں کرائے گئے۔ کیونکہ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف کو ختم کرنا مقصد تھا۔
۲- نو مئی سے پہلے ہی مجھ پر ایک سو چالیس سے ذائد مقدمات بنا دئیے گئے تھے۔ رینجرز نے مجھے اسلام آباد سے اغواء کیا جس کو سپریم کورٹ نے غیر قانونی قرار دیا۔ نو مئی ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے تحت ہمارے لوگوں کو گرفتار کرنا مقصد تھا۔ دس ہزار افراد کو گرفتار کر کے جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ ہمارے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں پہ تشدد کیا گیا ان کے گھروں کو توڑا گیا۔ ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا۔ ان کو عدالتوں سے ضمانت ملتے ہی کسی نئے جھوٹے پرچے میں گرفتار کر لیا جاتا۔ میرے اغوا سے لے کر کارکنان پہ تشدد، گرفتاریاں سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی تھا۔
اس ظلم کے خلاف سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کی لیکن سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی ان بدترین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہ لیا۔ قاضی فائز عیسیٰ حکومت کے ساتھ ملا ہوا تھا۔ 1971 کے بعد کبھی کسی پارٹی پر اس طرح کا ریاستی جبر نہیں کیا گیا۔
۳- تمام غیر قانونی و غیر جمہوری حربوں کے بعد ان کو غلط فہمی تھی کہ 8 فروری کو تحریک انصاف الیکشنز نہیں جیت سکتی۔ سکندر سلطان راجہ اور قاضی فائز عیسیٰ نے مل کے پارٹی نشان چھینا جو پارٹی کو بین کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے امیدواروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تین تین امیدواروں کو زبردستی الیکشن سے دستبردار کرایا گیا۔
۴-ان کو انجینئرنگ کے ذریعے الیکشن جیتنے کا اس قدر یقین تھا کہ نواز شریف اپنی وکٹری سپیچ بھی کرنے کو تیار تھا لیکن تقریر سے پہلے ان کو پتہ چلا کہ تحریکِ انصاف الیکشن جیت گئی ہے۔ پھر انہوں نے فارم-47 کے زریعے الیکشن فراڈ کیا۔ کمشنر راولپنڈی نے اس فراڈ کو کنفرم کیا اور گواہی دی۔ لیکن اس پر بھی نظام انصاف خاموش رہا اور کوئی نوٹس نہ لیا گیا۔
۵۔ اس رجیم چینج کے بعد کے ڈھائی سالوں میں یوں تو انصاف کے نظام پر قبضے کے لیے ہر جابرانہ اور غیر اخلاقی حربہ استعمال کیا گیا لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتوں کی آزادی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا گیا۔ اپنی مرضی کے جج لگانے کے لیے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔ اس ترمیم کی منظوری کے لیے جو حربے استعمال کئے گئے وہ بھی ایک مضحکہ خیز داستان ہے، لیکن اس سارے معاملے پر بھی نہ عدلیہ نے کوئی نوٹس لیا نہ ریاست کا چوتھا ستون سمجھے جانے والے میڈیا میں اس کےخلاف آواز بلندکرنے کی اخلاقی جرات تھی۔
۶-سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے فیصلے کے باوجود تحریکِ انصاف کو آج تک مخصوص نشستیں نہیں دی گئیں۔ یہ نہ صرف توہین عدالت ہے بلکہ عوامی فیصلے کی توہین اور جمہوریت پر شب خون بھی ہے۔
۷۔ 26 نومبر کو ہمارے پرامن اور نہتے سیاسی کارکنان پہ گولیاں برسائی گئیں۔ ہمارے کارکنان مکمل طور پہ پر امن تھے انہوں نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا تھا۔ ان کا مطالبہ آئین اور جمہوریت کی بحالی تھا- نہ تو لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال تھی نہ ہی کوئی اور پر تشدد کاروائی ہوئی لیکن اسکے باوجود ہمارے لوگ شہید کئے گئے۔ 12 لوگ مغرب سے پہلے شہید کئے گئے اور باقیوں کو رات بجلی بند کر کے گولیاں ماری گئیں۔
ان حالات میں جب پاکستانیوں سے تمام آئینی حقوق چھین لیے گئے ہیں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے، پرامن احتجاج کا حق چھین لیا گیا ہے، قانون اور آئین کی بنیادیں ہلا دی گئی ہیں، اپنے ہی شہریوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں، اداروں کو عوام کے مقابلے میں لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنا قوم کی مجبوری بن چکی ہے-
اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈران کو جیل میں ملاقات کے لئے ویلکم کرتا ہوں۔ پر مجھے اس حکومت سے امید نہیں ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈران کو مجھ سے ملاقات کی اجازت دیں گے۔ کیونکہ انہوں نے میری پارٹی کے لوگوں سے بھی تین مہینے سے میری ملاقات نہیں کروائی-“
یہ مناظر زندگی بھر میرے ساتھ رہیں گے۔ آنسو گیس کے (تکلیف دہ) اثرات زائل کرنے کیلئے سر پر پانی انڈیلتے اور دیوانہ وار جھومتے ہوئے بلند کی جانےوالی آزادی کی یہ والہانہ اور پرجوش صدائیں! ماشاءاللہ ایک قوم بالآخر بیدار ہو رہی اور آزادی مانگ رہی ہے۔