ٹنڈوری، سنٹرل کرم — ایک گھر پر ماٹر گولے کے گرنے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں بچے اور خواتین شامل تھے، شہید اور آٹھ زخمی ہوگئے۔ پشتون وطن کے دکھ غزہ سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت عطا فرمائے اور نہتے پشتونوں کو حفاظت دے۔
@HamidMirPAK@BBCUrdu
منشور برائے شمالی وزیرستان: اساتذہ و منتظمین سے اہم اپیل
ہمارا علاقہ برسوں سے جنگ زدہ رہا ہے؛ ناکارہ بم، آئی ای ڈیز اور بے پھٹنے والے مارٹر گولے عام منظر ہیں۔ ایسے خطرناک ماحول میں بچوں کو بروقت اور مؤثر آگاہی دینا زندگی بچا سکتی ہے۔ براہِ کرم اپنے طلبہ و بچوں کو درج ذیل احتیاطی ہدایات سے آگاہ کریں:
- مشکوک اشیاء کو ہاتھ نہ لگائیں، قریب نہ جائیں اور دوسری طرف سے نشان لگا کر فوراً انتظامیہ کو اطلاع دیں۔
- کھلے میدان، جنگلات یا ملبے کے پاس کھیلنے سے روکیں۔
- کسی بھی مشکوک چیز کی تصویر لیں مگر قریب جا کر مت چھوئیں۔
- جب اطلاع دیں تو واضح مقام اور ممکنہ خطرے کی نوعیت بتائیں۔
- بچوں کو ہمت دیں کہ وہ کسی بھی شے کے بارے میں بالغ کو بتائیں — سزا یا ڈانٹ کا خوف نہ ہو۔
- اسکول میں حفاظتی آگاہی سیشنز اور مشقیں کرائیں، اور والدین کو بھی شامل کریں۔
ہم مل کر اپنے بچوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ براہِ کرم یہ پیغام اپنی اسکول کمیونٹی اور والدین تک پہنچائیں۔
@mjdawar@ShafiqAhmadAdv3@a_siab@Adv_dawar@HamidMirPAK@AsadAToor@BBCUrdu
شمالی وزیرستان، تحصیل میرعلی کا بڑا ہسپتال، جو آپریشن ضربِ عضب کے بعد فوجی مورچوں میں تبدیل کر دیا گیا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ایک عوامی ہسپتال کے بجائے ایک قلعے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
ہسپتال میں عام شہری آزادانہ طور پر داخل نہیں ہو سکتے۔ مریضوں اور ایمرجنسی کی صورت میں آنے والوں کو بھی گیٹ پر روک کر تلاشی دی جاتی ہے، ان کا اندراج کیا جاتا ہے، اور پھر پنجابی فوجی اہلکاروں کی اجازت سے اندر جانے دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہسپتال کو بغیر کسی وضاحت کے بند کر دیا جاتا ہے اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سب سے افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ گاؤں موسکی کا قبرستان ہسپتال کے ساتھ واقع ہے۔ جب گاؤں میں کسی کا انتقال ہو جاتا ہے تو قبر کھودنے کے لیے بھی پہلے انہی پنجابی فوجی اہلکاروں سے اجازت لینا ضروری ہوتا ہیں۔ اجازت ملنے کی صورت میں بھی صرف محدود تعداد میں لوگوں کو قبرستان جانے دیا جاتا ہے، جبکہ تین یا چار افراد سے زیادہ کی اجازت نہیں دی جاتی۔
آج بھی ایک المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافر مولانا ناجد اللہ مرحوم کے جنازے کو اپنے آبائی گاؤں کی جنازگاہ میں ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کی وجہ بھی پنجابی فوج کی جانب سے اجازت نہ ملنا تھی۔
عوامی مقامات، ہسپتالوں اور مذہبی و تدفینی امور پر عائد ایسی پابندیاں مقامی آبادی کے لیے شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا باعث بن رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کا احترام کیا جائے اور ان مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔
@mjdawar@Adv_dawar
گزشتہ روز فدا اختر جوکہ ایک پرائیویٹ سکول ٹیچر تھے کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے نشانہ بنے، فدا اختر ایک غریب گھرانے سے وابستہ تھے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان کو چاہئے کہ شہید کو شہداء پیکیج کا اعلان کریں اور مزید ایسے واقعات کو رکنے کیلئے حکمت عملی بنائی جائے۔
اس سلسلے میں گاؤں عیدک نے غیر معینہ مدت تک بنوں میروم شاہ روڈ کو احتجاجاً بند کیا ھوا ہے۔ ایک انسان کی موت ساری انسانیت کی کا قتل ہے۔
@BBCUrdu@HRCP87
Today marks 140 days that Imaan and Hadi have spent in prison. For 140 days, families whose loved ones were forcibly disappeared, falsely accused of blasphemy, or threatened with demolition and displacement have been left without legal representation. That cost appears to trouble neither the judges, nor those who rule over them. #ReleaseImaanAndHadi
بچپن میں جب اخبار فروش آواز لگاتا تھا وطن 3 روپے، انقلاب 2 روپے، جنگ 4 روپے عوام 1 روپیہ، تو میں یہ ہی سمجھتا تھا کہ وہ اخبار کی قیمت بتا رہا ہے.
#Pakistan
The woman marked in red was shot dead yesterday by a Talib militant in Herat province of Afghanistan.
Her crime? She wanted equal rights. To study to work and to live as equally as any other human being in this planet earth.
The silence of media, actors that hold medium is disappointing but what is more heart wrenching is the cold reaction and silence of Afghan men within the country.
QUETTA: “We already received threats and intimidation. This attack proved that someone can throw acid on us, shoot us, or rape us inside the hospital itself.”
Dr. Mahnoor remains under treatment. The full extent of the damage to her eyesight and body will only become clear as her recovery progresses.
شمالی وزیرستان کے رہائشیوں نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ جاری آپریشنز کے دوران عام شہریوں کی جان و مال اور املاک کا تحفظ یقینی بنایا جائے مظاہرین نے موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروسز کی فوری بحالی، عوامی مشکلات کے خاتمے اور معمولاتِ زندگی کی جلد بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔ @a_siab@mjdawar@HamidMirPAK@BBCUrdu
We categorically denounce any aggression against healthcare personnel — physicians, nurses, paramedics, porters, custodial staff. Such assaults undermine public welfare and must not be tolerated.
#JusticeForDrMahNoor#AcidAttack#Quetta#DrMahnoor#Pakistan@HRCP87@BBCUrdu
#SaveMedicalProfessional
ہمارے علاقے میں کئی دنوں سے سڑک اور موبائل نیٹ ورک کا شدید مسئلہ چل رہا ہے عوام سخت پریشانی کا شکار ہیں،لیکن افسوس کہ کوئی سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا نیٹ ورک بند رہنے سے زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہےمتعلقہ حکام سے اپیل ہےکہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لے