خاور مانیکا بولے تو ضمیر جاگ گیا ہے، عون چودھری عدت کیس میں گواہ بنے تو ضمیر جاگ گیا ہے، اعظم خان کو ایک ماہ اغوا رکھ کر بیان لیں تو ضمیر جاگ گیا ہے، جج ارشد ملک بولے تو ضمیر جاگ گیا ہے، عثمان ڈار اور صداقت عباسی سے زبردستی انٹرویو کروائے جائیں تو ضمیر جاگ گیا ہے، لوگوں سے زبردستی عمران خان کے خلاف بیانات دلوائے جائیں، پریس کانفرنسز کروائی جائیں اور پارٹی چھڑوائی جائے تو ضمیر جاگ گیا ہے۔ ان س�� کا ضمیر تو جاگ سکتا ہے لیکن اگر کمشنر اپنے جُرم کا خود اعتراف کر رہا ہو تو اسکے ضمیر پر کچھ بیشرم لوگوں کو شک کیوں ہو رہا ہے؟
الحمدللہ. یہ میرے حلقے کی عوام اور عمران خان کی کامیابی ہے. جس طرح حلقے کی عوام نے تمام رکاوٹوں کے باوجود میری الیکشن کمپین کی اور مجھے سرخرو کیا میں ہمیشہ انکا شکرگزار رہوں گا.