مزاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست ہر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔
ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا:
1۔وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور، پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر مؤثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔
2۔وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے۔
یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔
کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔
3۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔
ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں، جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
4۔جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلاء اور مجاز/نامزد رفقاء سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔
ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا۔ تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔
5۔عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔
تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریقۂ کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔
خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشری بی بی سرفہرست ہے اُن کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔
6۔خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔
اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔
7۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر مؤثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔
تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پُرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔
بحثیت پختون مجھ پر چالیس سال سے اسی سوچ کے جرنیل مسلط ہے جو مجھے اپنی ہی سرزمین پر مار رہا ہے میرا بے گناہ خون بہا رہا ہے
اب جب مجھے انسانی سہولیات نہیں مل رہی اپنا حق مانگ رہا ہوں تو بھی مجھے دہشتگرد کہہ رہا ہے
یہ کتنے بے ضمیر بے شرم لوگ ہے
اندر کی بات یہ ہے کہ حکومت کو خدشہ ہے کہ اس بار اسلام آباد آنے والوں میں کثیر تعداد میں دہشت گرد شامل ہو جائیں گے جو بڑے خون خرابے کا سبب بن سکتے ہیں۔
اسلام آباد راولپنڈی کے شہری گرچہ تکلیف میں ہیں مگر یقین رکھیں حکومت حفاظتی انتظامات بلاوجہ نہیں کر رہی۔
وزیرستان میں 75 سال سے ایف سی آر قانون نافذ تھا اب چار سال سے ضم ہوچکا ہے لیکن وفاق ہر سال سو ارب روپے دیں گا لیکن وفاق پنجاب استعمار جرنیل وہ حق نہیں دیں رہے اس لیے وزیرستان ہر لحاظ سے باقی پاکستان سے چالیس سال پیچھے ہے
وزیرستان کی بربادی آپریشن کے پیسوں پر اسلام آباد آباد کیا گیا ہے
چالیس سال سے حالت جنگ میں جرنیلوں نے عرب و عجم کے لوگوں کو ٹریننگ دی ادھر کیمپیں بنائی
دیوان جیسوں سے کیا گلہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے کہی ہوئی باتوں پر یقین رکھتے ہیں وہاں پر زندگی میں کبھی گئے نہیں
ہائے میرے وسائل سے مالامال وزیرستان آپ کے سڑکوں پر لوگ خون کے آنسوں بہا رہے
@IamHaiderSN ایکسپرٹ مصروف ہے اس وقت بلوچستان میں دہشتگردوں کو ٹریس کرنے میں
فوج کے ترجمان نے تازہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمیں سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں
کونسی پارلمنٹ کی بات ہورہی ہے جس میں فارم سینتالیس کے ذریعے بٹھائے گئے لوگ بیٹھے ہے
کس جمہوریت کی بات ہورہی ہے جس میں وفاقی غنڈہ گردوں کے ذریعے صوبائی حکومت کے وزیروں کی گاڑیوں کی ٹائروں پر فائرنگ کی جاتی ہے
کونسے جمہوریت کی بات ہورہی ہے جس کا وزیر داخلہ ایک فیلڈ مارشل کا رشتہ دار ہوں جو ٹی وی چینل پر کبھی بلوچستان کو ایک ایس ایچ او کی مار یا ونس فار آل کی دھمکیاں دی جاتی ہوں
عمران خان کی ملاقات اس لیے ضروری ہے کہ وہ اس ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے
اس کے بغیر کوئی ملک چلا کر دیکھائے ہم بھی دیکھ لے
پختون خواہ میں دہشتگردوں کی ٹریننگ کیمپ عمران خان یا سہیل آفریدی نے نہیں لگائے تھے
یہ جی ایچ کیو کے جرنیلوں کے پالیسوں کی وجہ سے بدامنی پھیلی بے گناہ لوگوں کی زندگیاں برباد ہوئی
تاریخ یاد رکھے گی کہ جب قومی سلامتی اور امن و امان کے اہم فیصلے درکار تھے، PTIنے پارلیمان کے فورم پر اتفاقِ رائے کے بجائے جیل میں ملاقات کو ترجیح دی۔ میں نے28سالہ پارلیمانی رپورٹنگ میں پارلیمان کو اتنا بے اختیار اور بے بس کبھی نہیں دیکھا۔افسوس باتیں جمہوریت کی اور فیصلے ۔۔؟
دنیا کی کوئی طاقت ہمیں لانگ مارچ میں جانے سے نہیں روک سکتی، ہم اپنی کشتیاں جلا کر نکلے ہیں
صدر انصاف یوتھ ونگ بلوچستان عزیز خان کاکڑ
@PTIofficial@ahmad__bobak
۱۹۴۸ سے لے کر آج دن تک پاکستان کے دفاع کے لیے بنا وردی بنا کسی تمغے کی تمنا کے سربکف رہے ہیں ہم۔
کشمیر آزاد کرانا تھا تو اپنی منشاء سے آپ سے آگے چلے ہم۔
افغانستان کو غاصب روسیوں سے نجات دلانی تھی تو آپ کا تھمایا اسلام کا علم سینے سے لگایا ہم نے۔
امریکہ کی خوشنودی آپ کو مطلوب تھی، سلامیاں ہماری ماؤں کو ملیں۔ ہم نے قبول کیں۔ ایک بھرم تھا جانے کم فہمی تھی یا خوش فہمی۔ جو اس حقیقت سے آنکھیں موڑے بیٹھے رہے ہم کہ تم مرو تو شہید۔ ہم مریں تو کولیٹرل ڈیمج۔
ہمارے لیے بے گھری۔ تمہاری لیے پلاٹ۔
تم ملک بیچ کھاؤ تو بھی سینے پہ تمغے سجاؤ۔
ہم سر بھی واریں اور اپنے گلے میں لٹکیں بغاوت کی دفعیں بھی گنیں۔
ہم بے موت مرنے سے انکار کریں تو دہشت گرد ہیں۔
امن کا سوال کریں تو غدار ہیں۔
تو پھر وفادار کون ہے؟ تم؟
یا تمہارے قدم بوس یہ زباں دراز؟
Insha'Allah, today we will commence the first phase of our long march from Gandi Chawk Lakki Marwat—
Today, Sunday, October 4, at 1 PM, proud Pakistanis from the districts of Tank, Dera Ismail Khan, South Waziristan, North Waziristan, Bannu, and Lakki Marwat will join the long march from Gandi Chawk Lakki Marwat. The caravan will halt for the night near Karak.
On October 5, at 12 PM, the proud people of Karak will join us. Departure from there will be at 12:30 PM, and we will halt for the night near Kohat—
On October 6, at 12 PM, Pakistanis from the districts of Kohat, Hangu, Kurram, and Orakzai will join us. Departure from Kohat will be toward Peshawar, and we will spend the night near Peshawar Matni.
On October 7, departure will be at 12:30 PM from Budh Bair in Peshawar. Pakistanis from Khyber District will join us at Budh Bair. The remaining constituencies of Peshawar will join us at Kohat Road Bridge and the Motorway Toll Plaza. And we will spend the night near Charsadda Interchange.
On October 8, departure will be at 12:30 PM from Charsadda Interchange. There, the districts of Charsadda and Mohmand will join us.
The people of the entire Khyber Pakhtunkhwa will gather at Khairabad on October 8 and spend the night there. Insha'Allah, the plan for the next phase will be announced there.
@MuradSaeedPTI عمران خان کو مائنس کرنے والے آج بھی نیند کی گولیاں کھا کر سوئے گے
وہ جیل میں قید ہوکر بھی بڑے بڑے ایوانوں میں بیٹھے چھوٹوں بونوں کا جینا حرام کر چکا ہے
عمران خان پر ریڈ کراس لگانے والوں کچھ اور سونائی دیں رہا ہے کہ نہیں
صرف عمران خان ہی اس ملک کا لیڈر ہے
@SohailAfridiISF مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
عمران خان نے کہا تھا کہ مفاہمت نا سیکھا
مزاحمت سے ہی ہم نے حقوق لینا ہے
صحافیوں اور حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کو سمجھ لینا چاہیے یہ وہ عمران خان نہیں رہا ۔
عمران خان نے بیس سال کی عمر سے ریڈ کارپٹ دیکھا ہے اور شاہانہ زندگی گزاری ہے، کیا وہ ڈیل کے لیے تین سال سے جیل کاٹ رہا ہے؟ وہ ہر گز ڈیل نہیں کرے گا۔ صحافی ایم بی سومرو
پختون آپس میں لڑتے ہیں لیکن جب باہر سے کوئی آتا ہے تو پھر اکھٹے ہو کر اس کے خلاف لڑتے ہیں
سہیل آفریدی کے ساتھ اگر کسی قسم کا چیڑ کیا گیا وفاق فوج آئی ایس آئی کی طرف سے ہم پختون خواہ کے نوجوان اس کا بدلہ لے گے
پی ٹی آئی سہیل آفریدی اپنا آئینی حق استعمال کررہے ہیں احتجاج رکھنے والے ایک بات یاد رکھے ہم سے ہمارا حق اگر چھین لیا گیا تو پر دمادم مست قلندر ہوگا
@enkidureborn@ShafiJanPTI@ShahidkhattakSk@_IrfanSaleemPTI@SohailAfridiISF
#عوامی_سمندر_سڑکوں_پر
#سر_بکف_میدان_میں
#لانگ_مارچ
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
انشأللہ آج گنڈی چوک لکی مروت سے ہم لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ شروع کریں گے-
آج بروز اتوار، 4 اکتوبر، دوپہر ایک بجے گنڈی چوک لکی مروت سے ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، ساؤتھ وزیرستان، نارتھ وزیرستان، بنوں اور لکی مروت کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے غیور پاکستانی لانگ مارچ کا حصہ بنیں گے۔ رات کو یہ قافلہ کرک کے قریب پہنچ کر پڑاؤ کرے گا۔
5 اکتوبر دن 12 بجے کرک کے غیور عوام ہمیں جوائن کرینگے۔ وہاں سے روانگی 12:30 بجے ہوگی اور رات کو کوہاٹ کے قریب پڑاؤ کریں گے-
6 اکتوبر کو 12 بجے کوہاٹ، ہنگو، کُرم اور اورکزئی اضلاع کے پاکستانی ہمیں جوائن کریں گے۔ کوہاٹ سے پشاور کی طرف روانگی ہوگی اور پشاور متنی کے قریب رات گزاریں گے۔
7 اکتوبر کو پشاور بڈھ بیر کے مقام سے دن 12:30 بجے روانگی ہوگی۔ بڈھ بیر کے مقام پر ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔ پشاور کے باقی حلقے کوہاٹ روڈ پل اور موٹروے ٹول پلازا پر ہمیں جوائن کریں گے۔ اور رات ہم چارسدہ انٹرچینج کے قریب گزاریں گے۔
8 اکتوبر کو 12:30 بجے چارسدہ انٹرچینج سے روانگی ہوگی۔ وہاں ضلع چارسدہ اور مہمند ہمارے ساتھ شامل ہوں گے۔
پورے خیبر پختونخوا کے لوگ 8 اکتوبر کو خیر آباد کے مقام پر اکٹھے ہونگے اور وہاں رات گزاریں گے۔ انشأللہ آگے کا لائحہ عمل وہاں پر دیا جائیگا۔