International media is covering the emergency imposed in Pakistan’s Khyber Pakhtunkhwa province. Some facts need to be clear.
The federal government has suspended the only remaining elected provincial government in the country under the pretext of “security.” This is not a routine constitutional measure. It is the formalization of Asim Munir’s martial law. “Emergency” is merely the rebranded language of martial law. What we are witnessing is military fascism in Pakistan.
The people of Pakistan have clearly rejected this move. It is forced upon them against their democratic will.
@Reuters@ReutersAsia@AJEnglish@business@TheEconomist@AFP@WIONews@TOLONewsEnglish@trtworld@WorldTimesWT@AJENews@SouthAsiaIndex@gulftoday
ترجمان بنوں پولیس آمن کمیٹی نے ایک اہم ترین کمانڈر ذین اللہ عرف سالار کو ہلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔
کوئی جانی نہیں ہوا، کسی کے گھر کو نقصان نہیں پہنچا، عوام کے جان و مال محفوظ رہے، جیٹ طیاروں اور ڈرون بے بغیر یہ آپریشن ہوگیا، یہی وہ پالیسی ہے جس کا سہیل آفریدی بار بار ذکر رہا یے۔
All our lives, we were indoctrinated to believe that Pakistan’s armed forces would never turn their guns on their own people.
Today, the confirmed and unverified footage emerging from Khyber Pakhtunkhwa, especially Peshawar, is deeply disturbing. Reports of heavy firing and a state crackdown raise terrifying questions.
May Allah protect every innocent life, keep our people safe, and spare Pakistan further bloodshed. Ameen.
No citizen should ever have to fear the guns meant to protect them.
تاریخ اس بات کی گواہی دے گی کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک 37 سالہ نوجوان وزیراعلی نے اپنی حکومت قربان کردی مگر ملٹری آپریشن کیلئے سائن کرنے سے انکار کرکہ پشتون ماؤں بہنوں کو گھروں سے نکالنے پر آمادہ نہیں ہوئے!!!
آج کالعدم BLA نے پاکستانی کوسٹ گارڈز کی دو کشتیوں پر حملہ کیا، حملے میں 15 کوسٹ گارڈز ہلاک ہو گئے
بلوچستان میں تیس دنوں کے اندر یہ پاکستانی فورسز کے لیے دوسرا بدترین دن تھا اس سے پہلے ایک ہی دن میں 18 فوجیوں کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں جلا دی گئی تھیں
بلوچستان ٹوٹ رہا ہے
ن لیگ جب اقتدار سے باہر ہوتی ہے تو جمہوری بنتی ہے لیکن جب اقتدار میں آتی ہے تو ڈیکٹیٹروں کے ساتھ ملکر ملک توڑنے کی ہر سازش کرتی ہے ۔
“یہ 22کروڑ کا ملک اب منافقت سے نہیں چل سکتا یہ کوئی طریقہ نہیں ایک جرنیل مجاہدین بناۓ اور دوسرا انہیں دہشتگرد کہے پچھلے 70سالوں سے یہ چل رہا ہے اگر ایسا چلتا رہا خدانخواستہ خدانخواستہ پھر مشرقی پاکستان جیسا سانحہ ہو سکتا ہے۔”
جب چراغ بجھنے کے قریب ہوتا ہے، تو اُس کی لَو بے تحاشا پھڑپھڑاتی ہے… تڑپتی ہے… آخری زور لگاتی ہے… اور پھر بجھ جاتی ہے!
اسی طرح ظلم اور سفاکیت کے چراغ کو بھی بجھنے کا خوف ہوتا ہے… اور اُس کی پھڑپھڑاہٹ، اُس کے زوال کی علامت بن جاتی ہے!اسی طرح عاصم منیر کا چراغ بھی اب بُجھنے سے پہلے پھڑ پھڑا رہا آپ نے گھبرانا نہیں یہ چراغ پھڑ پھڑا کر خود ہی بُجھ جائے گا