*عمران خان کے ذاتی معالجین کو اُن تک رسائی دینے سے کون سی قیامت آ جائے گی جو فوج ایسا نہیں ہونے دے رہی؟ عمران خان کی صحت سے متعلق ایسا کون سا سچ ہے جسے چھپایا جا رہا ہے؟*
محسن نقوی، اسٹیبلشمنٹ کے ٹاوٹ صحافی تو ابھی سے ہی لانگ مارچ میں ہزاروں افراد دیکھ کر ہلکان ہونا شروع ہوگئے ہیں، اوئے ٹاوٹس ابھی رکو زرا، ابھی تو لانگ مارچ میں ایک مکمل ریجن کی عوام بھی نہیں ہے
ابھی تو کل جب لانگ مارچ نے کوہاٹ سے پشاور کی جانب روانہ ہونا اصل میدان تو تب سجنا ہے، قافلہ ج پشاور پہنچے گا تو یہ ہزاروں عوام لاکھوں کے سمندر میں تبدیل ہو جائے گی ، ابھی صبر کرو ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے
ہماری ریڈ لائن خان صاحب کی صحت تھی ہم نے مطالبہ کیا کہ ذاتی معالج، جس نے ساری زندگی خان صاحب کا علاج کیا ہے، اسے میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جائے، حکومت نے خود تسلیم کیا کہ خان صاحب کا بلڈ پریشر کنٹرول نہیں ہو رہا تھا خان صاحب جیسے فٹ انسان کا بلڈ پریشر ہائی کیوں ہوا؟ اگر سب نارمل تھا تو لندن سے ڈاکٹر کیوں بلایا گیا؟
اگر لندن سے ڈاکٹر بلا کر علاج کروایا گیا تو کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود عمران خان کے ذاتی معالج کو رسائی نہیں دی جا رہی۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ لانگ مارچ شروع ہوچکا، عمران خان کی تینوں بہنیں جیل میں ہیں، اور حکومت مسلسل ایمرجنسی لگانے کا عندیہ دے رہی ہے!
پاکستان پر مسلط کالے انگریز نہ آئین کو مانتے ہیں نہ جمہوریت کو مانتے ہیں نہ قانون کو مانتے ہیں نہ آزادی اظہارِ رائے کو مانتے ہیں نہ انسانی حقوق کو مانتے ہیں، نہ عوام کے منتخب نمائندوں کو مانتے ہیں، یہ جب بھی پاکستان پر قابض ہوتے ہیں تو 'میرے محب وطن پاکستانیو' سے آغاز کرتے ہیں 90 روز میں الیکشن کا اعلان کرتے ہیں اور پھر سب کچھ روند ڈالتے ہیں اور کئی سالوں قابض رہتے ہیں، اس وقت بھی جو آمر عاصم منیر مسلط ہے وہ اپنی نوکری سے ریٹائرڈ ہو چکا تھا لیکن شریف خاندان نے اس کے ساتھ لندن میں ڈیل کر کے پاکستان پر مسلط کروا دیا اور اب پاکستان کا بیڑہ غرق ہو چکا ہے، عاصم منیر عمران خان سے ذاتی انتقام میں اتنا پاگل ہو چکا ہے کہ اس کو پاکستان کی بھی فکر نہیں، اس نے پاکستانی عوام کو گولیاں ماردیں 9 مئی کا ڈرامہ رچایا 26 نومبر کو قتل عام کیا مریدکے میں قتل عام کیا آزاد کشمیر میں قتل عام کیا اور اب یہ دوبارا ظلم کی تیاریاں کر رہا ہے، دوسری طرف ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے تقریباً آدھا ملک غربت کی لکیر سے نیچے جا چکا ہے لوگوں کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں، بیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے نوجوان مایوس ہیں اور ملک سے جا رہے ہیں۔
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
کچھ لوگ جو اپنے آپ کو صحافی کہتے ہیں، وہ فیک ویڈیوز اور فیک نیوز چلا رہے ہیں تاکہ کسی کو خوش کرکے کما سکیں۔ اگر قلم سے جہاد کے بجائے کمانا مقصد ہے اور صحافت کو دھندے کے لیے کرنا ہے تو دھندے تو اور بھی کافی ہیں اور کمائی بھی شاید اچھی ہو۔ اگر بندہ اتنا گر سکتا ہے، پھر تو کچھ مشکل نہیں، اگر کمانا ہی مقصد ہو۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں تاریخی لانگ مارچ کا قافلہ لاچی پہنچا، جہاں شرکائے قافلہ کا شاندار استقبال کیا گیا۔
لاچی میں لانگ مارچ کے شرکاء کے لیے کھانے اور رہائش کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ کارکنان آج رات لاچی گراؤنڈ میں قیام کریں گے، جہاں قافلے کے شرکاء کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
کل ہنگو، اورکزئی اور کرم کے قافلے بھی کوہاٹ پہنچیں گے اور وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں تاریخی لانگ مارچ کے مرکزی قافلے میں شامل ہوں گے۔ تمام قافلے متحد ہو کر پشاور کی جانب روانہ ہوں گے۔
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے دہشت گردی، امن و امان اور صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے حوالے سے خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگہ 2025 کے مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف کو خط ارسال کردیا۔
اس سال کے شروع میں #DGPMLN نے اپنی سیاسی پریس کانفرنس میں کہا تھا:
”وہ تو کب سے کہہ رہے ہیں آپریشن نہیں ہوگا ہمارا لیڈر کہہ رہا ہے، آپریشن تو ہورہے ہیں آج بھی ہورہے ہیں “
تو جب آپریشن ہورہے ہیں ، عمران خان اور تحریکِ انصاف کے پی حکومت کے منع کرنے کے باوجود ہورہے ہیں تو اب پھر آپریشن کا مسئلہ کہاں سے آگیا؟
ان شاء اللہ 8 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع ہوگا۔ جو قیادت خان صاحب کے بیانیے کے ساتھ نہیں چل سکتی، وہ مہربانی کرکے ایک طرف ہو جائے اور دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع دے۔
پارٹی کے کارکنان ان تمام قیادت پر نظر رکھیں جو صرف خانہ پُری کر رہی ہے، ان کی نشاندہی کریں اور آئندہ کے لیے ان کے ٹکٹوں اور عہدوں کی مخالفت کریں۔
پارٹی میں مزید یہ نہیں چلے گا کہ کچھ لوگ جیلوں میں ہوں، کچھ ہر روز ایف آئی آرز اور نااہلیوں کا سامنا صرف خان صاحب سے وفاداری کی وجہ سے کر رہے ہوں، جبکہ کچھ لوگ نہ کارکنان کا بوجھ اٹھائیں اور نہ ہی خان صاحب کے نظریے کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔
سہیل آفریدی صاحب کی نااہلی کی واحد وجہ عمران خان صاحب سے وفاداری ہوگی۔ اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ خان کے وفاداروں کے خلاف فیصلے آنے کے بعد سب کو اس سسٹم سے نکلنا ہوگا۔