اسلام آباد@ICT_Police متاثرہ خاتون اور اس کے نومولود بچے کی خبر منظرِ عام پر آنے کے بعد ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز، ایس ایچ او وومن #MisbahShebaz کے ہمراہ متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ انہوں نے متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور احترام کے ساتھ گفتگو کی، ان کے مسائل سنے اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ایس پی سٹی ڈاکٹر ایاز کی کاوشوں سے مذاکرات کے ذریعے متاثرہ خاندان کو 2 لاکھ روپے مالی امداد، 6 ماہ کے گھر کا کرایہ، کپڑے اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا گیا تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی کا نیا آغاز کر سکیں۔ایس پی سٹی #DrAyaz کا یہ اقدام صرف ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ انسانیت، احساسِ ذمہ داری اور عوامی خدمت کی ایک روشن مثال ہے۔ ایسے افسران ہی عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو مضبوط بناتے ہیں۔ ڈاکٹر ایاز ان افسران میں شامل ہیں جو صرف دفتر تک محدود نہیں رہتے بلکہ شہر کے مختلف علاقوں میں خود موجود ہو کر عوام کے مسائل سنتے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتے ہیں۔اسی طرح #SHO وومن مصباح شہباز کی اس موقع پر موجودگی اور متاثرہ خاتون کے ساتھ ہمدردانہ رویہ بھی قابلِ تحسین ہے، جس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ پولیس عوام کی خدمت اور مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہونے کے اپنے فرض کو بخوبی نبھا رہی ہے۔ #SP ڈاکٹر ایاز اور ان کی ٹیم کا یہ انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام خراجِ تحسین کا مستحق ہے اور امید کی جانی چاہیے کہ دیگر افسران بھی اسی جذبۂ خدمت، احساسِ ذمہ داری اور انسان دوستی کے ساتھ عوام کی مدد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
@MohsinnaqviC42@SohailAshrafGor
اسلام آباد: @ICT_Police ایک سب انسپکٹر یورپ کے دورے کرتا ہے، پھر اپنے بچوں کو بھی بیرونِ ملک بہترین یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوا رہا ہے، جبکہ موصوف عرصۂ دراز سے #Reader کی پوسٹ پر برجمان ہے۔ ذرائع کے مطابق انکوائریز کو پینڈنگ میں رکھنا، سسپینڈ جوانوں کو دیوار سے لگانا، ذہنی اذیت دے کر بھاری رشوت لینا موصوف کا اہم پیشہ بن چکا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کسی کے خلاف انکوائری ہو تو اسے دبا کر، چھپا کر رکھا جاتا ہے، اور جب کسی آفیسر کی پروموشن کا وقت آئے تو وہی انکوائری سامنے لا کر بلیک میل کرنا موصوف کا پسندیدہ ہتھکنڈہ ہے۔ اسلام آباد پولیس #SpecialBranch نے آخر آنکھے بند کیوں رکھی ہے؟
کیا موصوف کو احتساب سے استثنا حاصل ہے؟
کیا اسلام آباد پولیس کی انٹیلیجنس ونگ اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ ایک سب انسپکٹر کے بارے میں اتنا بھی معلوم نہیں کر سکتی کہ یہ کالا دھن کہاں سے آتا ہے، کیسے یورپ کے دورے ہوتے ہیں، اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کیسے پورے کیے جا رہے ہیں؟
امید ہے آئی جی اسلام آباد #AliNasirRizvi اس سنگین معاملے پر سخت ایکشن لیں گے۔ جس طرح موصوف نے جوانوں کو ذہنی اذیت دی، سسپینڈ اہلکاروں کو دباؤ میں رکھا، اور ایک “جگا ٹیکس” جیسا نظام رائج کیا، اس کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ادارے کی ساکھ، جوانوں کے وقار، اور احتساب کے نظام کے لیے ضروری ہے کہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال، بلیک میلنگ، اور مبینہ کرپشن کا راستہ روکا جا سکے۔
@MohsinnaqviC42
اسلام آباد میں #COMSAT یونیورسٹی کے سامنے نالے اور اطراف کی سرکاری اراضی سے متعلق سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ کیا نالے کی حدود تبدیل کی گئیں؟ کیا @CDAthecapital کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر قبضے ہوئے؟ اگر ایسا ہوا تو ذمہ دار کون ہیں؟ ذرائع کے مطابق ماضی میں اس معاملے پر ایف آئی آرز اور کیسز بھی درج ہوئے، پھر سب کچھ خاموش کیوں ہوگیا؟ وفاقی حکومت کو اگر اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے تو اس کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں، اور اگر کسی سرکاری اہلکار نے قبضہ مافیا کی معاونت کی ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے
@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@OfficialDGISPR
خان پور
پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو مبینہ طور پر ڈی ایس پی آفس خان پور کے باہر زبردستی ساتھ لے جانے کی کوشش ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
خاتون کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں دفعہ 164 کے تحت اپنے شوہر کے حق میں بیان دے چکی ہے، اس کے باوجود والدین اور رشتہ داروں نے مبینہ طور پر اسے زبردستی لے جانے کی کوشش کی، جبکہ اس دوران ایک خاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بھی ہاتھا پائی ہوئی۔
اسلام آباد: @ICT_Police تھانہ شہزاد ٹاؤن کی حدود سے 14 سالہ بچہ اغوا، شہزاد ٹاؤن پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھے انتظار میں۔ اہلِ خانہ کے مطابق اغوا کاروں کی جانب سے فون کال بھی آ چکی ہے، مگر پولیس تاحال مؤثر کارروائی کرتی نظر نہیں آ رہی۔ اگر اس سستی اور غفلت کے باعث، خدا نہ خواستہ، بچے کی جان کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟ متاثرین کا اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کا مطالبہ اور بچے کی بحفاظت بازیابی یقینی بنائیں پر زور
نو تعینات سی پی او راولپنڈی کی تعارفی میٹنگ صرف چند منتخب صحافیوں تک محدود رکھنے پر صحافتی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اعتراض مدعو صحافیوں پر نہیں بلکہ اس طریقۂ کار پر ہے، جس کے تحت اکثریتی صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کو نظر انداز کیا گیا۔
تعارفی میٹنگ میں تمام رجسٹرڈ اور فعال صحافیوں کو مساوی بنیادوں پر مدعو کیا جانا چاہیے تھا۔
مطالبہ ہے کہ عرصہ دراز سے تعینات عملے میں تبدیلی لائی جائے اور آئندہ تمام میڈیا سرگرمیوں میں ہر صحافی اور ہر صحافتی تنظیم کو بلاامتیاز نمائندگی دی جائے۔
@RwpPolice@OfficialDPRPP
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا
متفرق درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر کی گی
حکومت نے رات کی تاریکی میں عوام پر پیٹرول بم گرایا موقف
پیٹرولیم مصنوعات میں حالیہ اضافے غیر قانونی طور پر کیا گیا موقف
ملک میں پہلے ہی مہنگائی ہے شہری کے روزگار ختم ہو رہے ہیں موقف
حکومت کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کا کم کرنے کا کوئی میکنزم نہیں ہے موقف
عدالت حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو کالعدم قرار دے استدعا
آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کی قیادت میں اسلام آباد پولیس جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تھانہ نون کے ایس ایچ او میاں عمران اور ان کی ٹیم کی غیر قانونی اسلحے کے خلاف کامیاب کارروائی قابلِ ستائش ہے۔ ایسے اقدامات شہریوں کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے نہایت اہم ہیں
@ICT_Police