گورنر راج لگنے سے پہلے کہا تھا کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے تابوت کا آخری کیل ثابت ہو گا ۔ ابھی عوام پر امن ہے مگر یہ خون میں لت پت جوتے دیکھ کر لگتا ہے قبائیلوں کو کنٹرول کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا ۔
مراد سعید پر آج پوری رجیم تنقید کر رہی ہے اب تھوڑا پیچھے جائیں اور سوچیں پی ٹی آئی کا لبادہ اوڑھ کر کون مراد سعید ہر بے جا تنقید کرتا رہا ہے آپ کو مہرے نظر اجائیں گے۔
شکریہ
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
کےپی کے،پاکستان کا ایک آئینی صوبہ ہےجسکے عوام کے مینڈیٹ، حقوق اور خودمختاری کو اگر ایمرجینسی اور گورنر کاغنڈاراج لگایاجائےگاتوپھراس میں مجھےسب کی تباہی نظر آتی ہے،
جوتے پالش کرنے والی سیاسی پارٹی کے 11 رکنی گدھ کمیٹی میں شامل 👇
#KhyberPakhtunkhwa#RuleOfLaw#ProvincialAutonomy
امریکہ نے دنیا بھر سے ریئر ارتھ منرلز نکالنے کی کوششیں اور معاہدے کئے۔ کہیں قانون نے روک دیا کہیں عوام سامنے آگئی اور کہیں سیاستدان، NGOs اور حکومتیں ڈٹ گئیں۔ وجہ یہ منرلز نکالتے وقت پھیلنے والی خوفناک تابکاری ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ ابتک دریافت نہیں ہوا۔
ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منرلز کا بکسہ پیش کیا اور منرلز نکالنے کے لیے دربدر امریکی کمپنیوں کو ٹرمپ لے زریعے اپنا وطن پیش کردیا۔ اور امریکی آنکھ کا تارہ بننے کی پوزیشن میں آگئے۔
اب قبائلی علاقوں سے معدنیات نکالنے کے لیے فیلڈ مارشل کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ مل چکا۔ عملدرآمد کے راستے کی آخری رکاوٹ صوبائی حکومت کو بھی گرا دیا گیا۔ کام شروع ہوا تو تابکاری پھیلے گی اور قبائلی بدترین مسائل اور دردناک خاموش موت کا شکار ہوں گے۔
امریکی کمپنیاں صرف منافع چاہتی ہیں اس لیے وہ کبھی بھی عالمی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھیں گی اور نہ ہی ان پر یہاں ایسا کوئی دباؤ ہوگا۔ ویسے بھی مہنگے پروٹوکولز بھی کچھ حد تک ہی تابکاری سے بچا سکتے ہیں اسکی تباہی کو روک نہیں سکتے۔ اگر روکنے کا کوئی طریقہ ہوتا تو امریکہ اپنے ملک، یورپ اور دیگر ممالک سے یہی منرلز نکال رہا ہوتا۔
افسوس فیلڈ مارشل کے زاتی مفاد پر مبنی ایک فیصلے نے لاکھوں قبائلیوں اور انکی نسلوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اب پاکستانیوں خصوصاً قبائلیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ اس غیر انسانی اور قاتل مائیننگ کے خلاف لڑنا ہوگا یا ہمیشہ کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بہت دور نئے گھر بنانے ہوں گے۔ یا پھر تابکاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں دینی ہوں گی۔
بریکنگ نیوز 🚨صحافی اطہر کاظمی کا انکشاف 🔥🔥
کل ایک حکومتی شخصیت سے بات ہو رہی تھی کہ کیا عمران خان صاحب کو بتایا گیا ہے کہ آپ کی KP حکومت کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان کو اسی وقت فوراً بتادیا گیا تھا تاکہ وہ ڈپریشن میں چلے جائیں اور ہمارے ساتھ ڈیل کرنے پر مجبور ہو جائیں لیکن آگے سے عمران خان کی طرف سے جو جواب آیا وہ بہت زیادہ مضبوطی والا تھا۔ عمران خان نے کہا مجھے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میرا وزیر اعلٰی ڈٹ گیا ہے، اپنے لوگوں کے خون کا سودا نہیں کیا، غیرت کو نہیں بیچا۔ مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے۔ یہ لوگ قوم کی نظروں میں گرچکے ہیں۔ اپنے آپ کو مزید کھل کر ننگا کررہے ہیں۔ مجھے حکومت جانے کا کوئی غم نہیں کیونکہ ہم حق پر ہیں۔
خیبرپختونخواہ میں فوجی افسران تعیناتی سے خوفزدہ ہیں۔ پولیس اور ایف سی کو آگے کیا جارہا ہے، مگر وہاں بھی سپاہیوں کیجانب سے بغاوت کاسامنا ہے۔ اسی لئے فرقہ واری اور قومی تفریق کی بنیاد پر تعیناتی کی جارہی ہے۔ عاصم منیر اللہ تجھے غارت کرے۔
غیر قانونی گورنر راج اور غیر آئینی ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہیں ہم گھر گھر کمپین کریں گے اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے
ایم پی اے عبد الغنی آفریدی کا باڑہ احتجاج کے مقام پر خطاب