امریکی دباؤ پر بارڈر بند کرنے والے وہی ہیں جو آج تک گیس نہیں لے سکے ایران سے۔
زرا اندازہ کریں یہ ایران کو اس وقت میں بارڈر بند کرکے دھمکی دینے چلے گیے جیسے ایران نے سب کچھ ان سے لینا ہوتا ہے، وہ صرف اسمگلنگ کا تیل ہی بند کردیں تو انہٰں سمجھ آجائے
ایک وقت تھا جب گھٹیا اور مطلب پرست افراد نے عمران خان کو “طالبان خان” کا نام دیا۔
مگر خان کے اپنے الفاظ سنیے:
“جو بے گناہ لوگوں کو قتل کرتا ہے، وہ دہشت گرد ہے۔”
سیاسی القاب اپنی جگہ، لیکن کسی بھی موقف کو سمجھنے کے لیے اصل بیان سننا ضروری ہے۔
الزام لگانے والے نہ پڑھے لکھے ہیں اور نہ ہی کوشش کرتے ہیں۔
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کے اغواء پر خاموشی ناقابلِ قبول ہے! فوری طور پر ان کی موجودگی اور سلامتی واضح کی جائے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجینسی عوامی مینڈیٹ اور جمہوری حق کی سنگین پامالی کی گئی ۔عوام کے ووٹ کو طاقت کے زور پر روندہ گیا ۔ خیبر پختونخوا کسی کی جاگیر نہیں؛ یہ عوام کا صوبہ ہے، اور اس کے مینڈیٹ پر طاقت کے ذریعے ڈاکا کسی صورت قبول نہیں۔ آج عوام کی جانب سے مسترد شدہ ٹولے کو طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا ھے ۔ جن کا مقصد دہشتگردی ختم کرنا نہیں تحریک انصاف کو نشانہ بنا نا ھے ۔
مراد سعید کے گھر پر چھاپے یا کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویش ناک ہیں۔ اختلافِ رائے کی بنیاد پر کسی سیاسی رہنما یا اس کے اہلِ خانہ کو ہراساں کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ گھروں کی حرمت، شہریوں کے بنیادی حقوق اور سیاسی آزادیوں کا احترام کیا جائے؛ سیاسی انتقام اب بند ھونا چاہیے۔
منتخب نمائندوں ، تحریک انصاف کے تنظیمی ساتھیوں ، آئی ڈی ایف کے ڈاکٹر صاحبان کی گمشدگی قانون کی حکمرانی پر سنگین سوال ہے؛ ان کی موجودگی اور سلامتی سے متعلق فوری وضاحت دی جائے۔
حنا پرویز بٹ نے تصدیق کردی ہے کہ پولیس مقابلے جعلی ہیں اور مریم نواز کے حکم پر ہوتے ہیں۔ حالات کے پلٹا کھانے اور ایک تحقیقاتی کمیشن بننے کی دیر ہے۔ حنا پرویز صاحبہ وعدہ معاف گواہ بنیں گی اور مریم نواز پر سینکڑوں جعلی پولیس مقابلوں کے مقدمات بنیں گے۔
اتنے لوگ مارنے کی سزا بھی یقینا بہت سخت ہوگی۔
مراد سعید کی معذور و بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک، غیر اخلاقی اور پختون روایات کے منافی ہیں۔
مراد سعید کی والدہ دہشت گردی سے متاثرہ ہیں جو طویل عرصے سے بیمار ہے، جبکہ ان کے بھائی بھی کینسر کی جنگ لڑ رہا ہے، ایسے نازک حالات میں ایک شدید متاثرہ خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا اور شہریوں کی تذلیل کرنا بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود بیمار خواتین، بزرگوں اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جبکہ بالکل اسکے متضاد ہو رہا ہے۔
متعلقہ حکام تھوڑی شرم کر لے پختون اور انسانی ریاوات کا ہی پاس رکھ لے آئین و قانون کا تو ویسے ہی جنازہ اٹھا لیا ہے۔
My question for the Biden Administration: By indulging in a regime change conspiracy to remove a democratically elected PM of a country of over 220 mn people to bring in a puppet PM, do you think you have lessened or increased anti-American sentiment in Pakistan?
An immediate inquiry needs to be held on the police firing on unarmed protesters killing at least 25 and injuring hundreds.
In France despite protesters hurling petrol bombs at the police, not once were they fired upon by the police
Under the smokescreen of arson, which any independent investigation will show was pre planned to justify the crackdown on PTI, there is no mention in the media discourse of the massive violations of our fundamental right to protest peacefully
And no mention of an inquiry into the killing of at least 25 peacefully protestors and wounding of around 600.
#بلوچ کے پاس اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کی آخری امید سوشل میڈیا ہے مگر اس ریاست سے یہ ہضم نہیں ہوریا انٹر نیٹ ہی بند کر دیا گیا ہے ریاست بلوچ نسل کشی اورجبری گمشدگی جیسے سنگین مسئلے سے چاہےجس قدر چشم پوشی کرے اور حقائق جھٹلائے، لیکن راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا
#Balochistan #BalochFightForHumanRights
میں کیسے ایک یتیم بچے کے ملزم کو اپنے سامنے فرار ہوتا دیکھ سکتا تھا۔
دوپہر 4:40 منٹ جب وسیم شہید بھاگتا ہوا اپنی جان بچاتا ہوا رائل آرچرڈ میں اس انسان کے گھر کے سامنے پہنچا تو توقیر نے اپنی گاڑی کیساتھ اس کو شہید کر دیا۔
گھر میں موجود سید نسیم عباس بخاری نے جب یہ سب دیکھا
1/4
مشال یوسفزئی کی یہ سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے پچھلے 36 گھنٹوں میں پورے میڈیا اور پورے سوشل میڈیا کو نان ایشوز کے پیچھے لگا دیا ہے ، میڈیا کے بڑے بڑے نام اس وقت مشال یوسفزئی کے دفاع میں سامنے آ چکے ہیں ، پاکستان کا مسئلہ مشال یوسفزئی نہیں ہے اور نہ ہی اصل مسائل وہ ہیں جو مشال بیان کررہی ہے ، جتنا مشال کو ڈسکس کیا جائے گا ، اتنا ہی اس کا مقصد پورا ہوگا ، کل مشال کی اتنی ڈیمانڈ تھی کہ بڑے بڑے صحافیوں نے منت ترلے کرکے اپنے پروگرام میں ٹیلی فون کال پر اس کا ٹائم لیا ، آج بھی پورے نیشنل میڈیا پر مشال یا مشال کی باتیں ڈسکس ہوں گی ، سوشل میڈیا بھی اس ٹریپ میں آ چکا ہے
نجی سوسائٹی میں گاڑی تلے کچلے جانے والے کمسن وسیم عباس کی المناک موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کئی سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے
محترمہ زری اشرف نے ایک اہم نکتے کی نشاندہی کی ہے کہ پندرہ سالہ یتیم بچہ، جو یتیم خانے کی تحویل میں تھا، آخر مزدوری کرنے کے لیے باہر کیسے پہنچا؟ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اس کی نگرانی کا فریضہ کس نے ادا کرنا تھا؟
دوسری جانب آج عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلاء کا شدید ردعمل بھی اس مقدمے کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے
قیصر عباس صابر ایڈووکیٹ نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے اپنی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرنے سے مقدمہ کمزور ہو سکتا ہے اور اس کا فائدہ ملزم کو پہنچنے کا اندیشہ ہے
سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ ایک معصوم بچے کی جان چلی گئی، مگر ملزم کا اطمینان اور اس پورے معاملے میں اٹھنے والے سوالات انصاف کے نظام پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ رہے ہیں
وسیم عباس کو انصاف ملنا چاہیے، صرف اس کے کچلے جانے کے واقعے کا نہیں بلکہ ان تمام سوالات کا جواب بھی سامنے آنا چاہیے جن کا تعلق اس کی زندگی، اس کی نگرانی اور اس کی موت سے ہے
اگر دنیا کی عدالتوں میں انصاف نہ بھی مل سکا تو رب العالمین کی عدالت میں نہ کوئی اثر و رسوخ کام آئے گا اور نہ کوئی حقیقت چھپ سکے گی
یاد رہے اس ضمن میں کلیدی کردار اس تصویر والے شخص نے کیا ہے جس نے 15 پر کال کی اور اپنے گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سوشل میڈیا پر ڈال کر کیس کو صحیح سمت میں ڈالا
#آفاق_سومرو