@OryaMaqboolJan سروس تو بند ہے یہ فون کیسے کر رہی وہ بھی آئ فون سے سرف نیٹ وائ فائ پر چل رہا اور وہ کسی کے گھر یا دفتر ميں ہو گا ان کو بول رہی محترمہ جن سے بات ہوئ
@iqrarulhassan اوے بے قرار اپنے نام کے ساتھ سید کاٹ دے تجھے گالی دینے کو بہت دل کرتا سید ہے نہیں تو بس لکھا ہے اس لیے کاٹ دے اپنی اصل قوم پر آ امیر المنافقین صاحب فیصل آباد سے کراچی جا کر سید بن گئے ہو سر عام کر سیاست پر بحث نہ کر تو صرف اٹھا جن کے اٹھا رہا تاکہ ان کو لگے تو اٹھا رہا ہے
@MohsinMeer10@ImranRiazKhan کیوں کہ ہتھنی کے دانت بھی ظالموں نے کاٹ کے بیچ لیے تھے سندھ میں تو انسان کی کوئی قدر نہیں یہ تو بے چاری ہتھنی تھی آپ اس چڑیا گھر کے شیر بھی دیکھ لیں آپ کو ہتھنی کی موت پر افسوس نہیں ہو گا کیونکہ وہ دکھ سے آزاد ہو گئ
یہ 12 سالہ بچی مسکان ایک مہینے سے اغوا ہے ، ڈیفنس c تھانہ لاہور کی حدود میں ایک گھر میں ملازمہ تھی ، گھر کے مالک کا کہنا ہے گم ہوگئی تو ہوگئی اس میں کیا بڑی بات ہے۔پولیس نے خود اس بچی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کردیا ،
اس کے باپ نے اس کی بازیابی کیلئے مقدمہ درج کروایا توکو بھی اغوا کر لیا گیا ہے، آخری بار پولیس اس کے غریب باپ کو ساتھ لے گئی تھی۔ ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ہائیکورٹ کی طرف سے لڑکی کی کو ڈھونڈ کر عدالت میں پیش کرنے کا حکم نامہ بھی موجود ہے۔ وہ کیس واپس لینے کیلئے اس کی فیملی پر پریشر ڈالا جا رہا ہے۔
اس کے کیس کو توجہ اس لیے نہیں مل رہی کیوں کہ یہ ایک غریب کی بیٹی ہے۔
میڈیا والے دوستوں سے توجہ کی گزارش ہے ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ پروگرام ریکارڈ کرنا چاہیں تو تفصیلات کیلئے رابطہ کریں اور اس پوسٹ کو شیئر کردیں تاکہ معصوم مسکان کی تلاش میں کوئی مدد ہو سکے
مہربانی کرکے اس پوسٹ کو زیادہ شیر کریں،تاکہ معصوم مسکان کی تلاش میں کوئی مدد ہو سکے
ایک پردیسی کہتا ہے:
جب میں نے باہر جانے کی پکی تیاری کر لی تو روانگی والے دن میرے والد نے بہت ساری دعاؤں اور نصیحتوں کے ساتھ مجھے الوداع کہا۔
پردیس اور پردیس میں کام کاج اور کمائی میری توقع کے مطابق نہ تھی۔ مجھے مشکلات سے لڑتے لڑتے دو سال بیت گئے۔
دو سال کے بعد وطن میں ایک دن میری اماں اور والد کہیں گئے ہوئے تھے کہ گھر میں چور آ گیا۔ ہمارے گھر سے اسے کیا ملنا تھا، ہمارا ایک گدھا بندھا کھڑا تھا چور وہی کھول کر لے گیا۔
دو دن کے بعد چور ہمارے گدھے کو لیکر بازار بار برداری کیلئے گیا۔پھل اور سبزیوں سے لادا۔
رش میں چور کی توجہ کہیں اور ہوئی تو گدھا چل پڑا۔ ہمارے گھر کا راستہ تو گدھا جانتا ہی تھا اس لئیے اس نے شام کو دروازے پر آ کر منہ مارنا شروع کر دیا۔
میرے والد نے شور سن کر دروازہ کھولا تو سامنے اپنے گمشدہ گدھے کو پھلوں اور سبزیوں سے لدا پھندا کھڑا دیکھ کر بہت خوش ہوا۔
میری اماں کو بلا کر دکھاتے ہوئے کہا: دیکھ، یہ میرا گدھا دو دن غائب رہا ہے اور بدلے میں پورا بازار لیکر آیا ہے۔ اور تیرے بیٹے کو گئے دو سال ہو گئے ہیں اور آج تک ایک پیاز کا دانہ بھی نہیں بھیج سکا۔لہذا خود کو ثابت کیجئے، باہر جا کر والدین کو مت بھولئیے.
منقول