پہلی بار محلے کی دکان سے روٹی خریدنے جانے والے بچے کی خوشی دیدنی تھی۔ جب وہ کامیابی سے روٹی لے کر واپس آیا تو اس کی خوشی کے خوبصورت لمحات اس کی والدہ کے کیمرے میں محفوظ ہو گئے۔ ❤️
افسوس ناک خبر
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی لاہور کی متحرک خاتون کارکن ارم اکمل جو 9 مئی کے واقعات کے بعد کئی ماہ تک کوٹ لکھپت جیل میں قید رہیں، آج طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں، انسانی حقوق کے تنظیموں اور مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے ارم اکمل کے غیر قانونی جیل میں رکھنےاور بے وقت موت پر افسوس اور مزمت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ہر ظلم کا حساب لیا جائے گا ہر ظالم اپنی ظلم کرنے کا حساب دے گا انشاءاللہ
جنرل عاصم منیر کی قید میں عمران خان کے تین سال👇🏽👇🏽
پہلےجنرل باجوہ اور ندیم انجم نے اور پھر ندیم انجم اور جنرل عاصم منیر کی جوڑی نے عمران خان کو فتح کرنیکی کوشش کی، ناکامی کے بعد انہیں توڑنے کی کوشش کی ہر حربہ ہر ظلم کیا گیا یہاں تک کہ خان کو توڑنے کیلیے اڑھائی سو جھوٹے مقدمات درج کیے گئے
جنرل باجوہ ندیم عاصم کو یقین تھا کہ نواز زرداری شہباز مریم محترمہ بینظیر کی طرح عمران خان بھی NRO مانگےگا سرنڈر کرےگا رہائی اور اقتدار کی فریاد کرے گا لیکن انکی یہ حسرت پوری نہ ہوئی
خان کو اٹک جیل کی کال کوٹھڑی میں میں کیڑے مکوڑے مٹی کیچڑ زدہ فرش پر لٹایا گیا دال روٹی دی گئی
جنرل عاصم منیر کو یقین دلایا گیا تھا کہ سر صرف سات دنوں میں یہ آپ کے قدموں میں ہوگا یہ نشہ کرتا ہے ہم انکا نشہ بند کردینگے وہ تڑپے گا اور پتا چلا کہ نشہ کرنے والی اطلاع غلط ہے اور خان نے جیل میں صرف ایکسرسائز والی سائیکل مانگی
اٹک سے اڈیالہ منتقل کیا گیا تین سالوں میں کم از کم تین سو مرتبہ خان کو توڑنے کی کوشش کی گئی امریکہ برطانیہ عرب ممالک سے لوگوں کو بلاکر جیل بھیجا گیا خان کی فیملی کو توڑنے کی کوشش کی گئی
پارٹی راہنماؤں کو وکلا کے ذریعے کوشش کی گئی لیکن ندارد ۔۔ پھر فسطائی حربے قید تنہائی ، روشنی بند ، پانی بند، بجلی بند کرکے اور بچوں بہنوں سے ملاقاتیں بند کرکے بھی دیکھ لیا لیکن جنرل صاحب کی حسرت پوری نہ ہوسکی
عمران خان دشمنی میں جنرل صاحب کا تین سالہ ٹینور مٹی میں مل گیا
پھر آئین توڑا گیا عدلیہ توڑی گئی فوج کا انتظامی مشاورتی ڈھانچہ مسمار کیا گا فیلڈ مارشل سے سالار اعظم بنے پانچ ستارے سجائے تاحیات تاوفات استثنی لینا پڑا اور پانچ سالہ نئی ملازمت
اور تین سال آٹھ ماہ بعد سرعام اپنی شکست کا اعلان کرنا پڑا کہ سسٹم کولیپس کرگیا
اور عمران خان ختم شُد سے سسٹم تباہ شُد تک نوبت آچکی ہے
عوام عمران خاں کے ساتھ ہیں وہ قید میں بھی عزت شہرت استقامت سے مالامال ہے اور جنرل صاحب GHQ میں بیٹھ کر بھی خوفزدہ، انکے اب تک کے تمام منصوبے ناکام ہوچکے ہیں
بیشک سب سے بڑا منصوبہ ساز اللہ تعالیٰ ہے
یزید نے بھی حکومت بچانے کے لیے مسلمانوں کو شہید کیا تھا اب بھی اقتدار بچانے کے لیے مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہے
میرا فتواہ ہے کہ (عاسم منیر) بھی مرتد ہے کافر ہے یذیدی ہے ۔
مولوی صاحب کی باتیں سنیں عاسم منیر یذیدی سے بھی زیادہ گرا ہوا ہے
Today marks 3 years since Imran Khan was unjustly incarcerated.
He is still being denied basic human rights and remains in solitary confinement.
His abominable treatment is an affront to democracy. I will continue to demand the release of all political prisoners, everywhere.
عاطف شیراز، میانوالی کا ایک کم عمر بچہ اور عمران خان کا حامی، صرف اپنے حلقے میں علیمہ خان کی آمد کی ویڈیو بنانا چاہتا تھا، جہاں لوگ ان کا استقبال کر رہے تھے۔ مبینہ طور پر میانوالی پولیس کے ایک اہلکار نے اس کا موبائل فون چھین لیا، اور جب عاطف نے اپنا فون واپس مانگا تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گرفتار کیا گیا اور ایک ماہ کے لیے ایم پی او کے تحت نظر بند کر دیا گیا۔ عاطف ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے؛ اس کے والد چوزے فروخت کر کے گھر کا گزارا کرتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایسے معمولی وسائل رکھنے والا ایک کم عمر بچہ صرف ایک عوامی اجتماع کی ویڈیو بنانے کی کوشش پر جیل پہنچ گیا۔ بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی
@SalmanKNiazi1
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
💥 طلاق کے بعد جب میں پہلی بار اپنے بیٹے سے ملا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک کر کہا، “امی کہتی ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے…” 💔
وہ جملہ…
صرف ایک جملہ نہیں تھا۔
وہ میری پوری زندگی کے خلاف دیا گیا فیصلہ تھا
بغیر میری بات سنے۔
میرا نام حارث ہے۔
اور میں وہ باپ ہوں…
جو اپنے بچوں سے دور نہیں گیا تھا
بلکہ دور کر دیا گیا تھا۔
ایک وقت تھا…
جب یہی بیٹا رات کو میرے سینے پر سر رکھ کر سوتا تھا…
اور بیٹی میرے کندھے پر بیٹھ کر آئس کریم مانگتی تھی۔
گھر چھوٹا تھا…
مگر ہنسی بڑی تھی۔
پھر جھگڑے شروع ہوئے…
چھوٹی باتوں پر…
بڑی آوازوں میں…
میں خاموش رہتا تھا…
کیونکہ میں گھر بچانا چاہتا تھا۔
مگر میری خاموشی…
میرے خلاف استعمال ہونے لگی۔
“تمہیں فرق ہی نہیں پڑتا…”
وہ کہتی۔
میں زیادہ کام کرنے لگا…
کہ شاید مالی سکون گھر میں سکون لے آئے۔
تو کہا گیا—
“تم گھر میں ہوتے ہی نہیں…”
میں بحث سے بچنے کے لیے چپ رہتا…
تو کہا گیا
“تم بات ہی نہیں کرتے…”
میں کبھی غصے میں باہر نکل جاتا…
تو کہا گیا
“تم ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہو…”
ہر چیز…
میرے خلاف ایک ثبوت بنتی جا رہی تھی۔
پھر ایک دن…
عدالت میں دستخط ہو گئے۔
اور میں…
“ابو” سے “ویک اینڈ وزیٹر” بن گیا۔
پہلے میں ہر رات بچوں کو سلاتا تھا…
اب مجھے ہفتے میں دو گھنٹے ملتے تھے۔
پہلے میں ان کی دنیا تھا…
اب میں ایک اپوائنٹمنٹ تھا۔
پہلی ملاقات…
آج بھی یاد ہے۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا…
میرا بیٹا سامنے آیا…
مگر گلے نہیں لگا۔
بس کھڑا رہا۔
میں نے ہاتھ بڑھایا…
اس نے پیچھے کر لیا۔
اور وہ جملہ کہا—
“امی کہتی ہیں آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے تھے…”
میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔
میں نے آہستہ سے کہا
“نہیں بیٹا… میں نے تمہیں کبھی نہیں چھوڑا…”
وہ فوراً بولا
“تو پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہتے؟”
میرے پاس جواب تھا…
مگر اجازت نہیں تھی۔
میں سچ نہیں بتا سکتا تھا…
کیونکہ عدالت نے مجھے “خاموش رہنے والا باپ” بنا دیا تھا۔
اس دن مجھے سمجھ آیا
طلاق صرف رشتہ نہیں توڑتی…
کہانیاں بنا دیتی ہے۔
اور وہ کہانیاں…
ہمیشہ سچ نہیں ہوتیں۔
وقت گزرتا گیا…
میں بچوں سے ملتا رہا…
تحفے لاتا رہا…
کال کرتا رہا…
انتظار کرتا رہا…
مگر ان کے لہجے بدلتے گئے۔
“آپ دیر سے کیوں آئے؟”
“آپ نے ہمیں کال کیوں نہیں کی؟”
“آپ نے ہماری سالگرہ مس کر دی…”
میں ہر بار وضاحت دینا چاہتا تھا…
مگر ہر بار رک جاتا تھا۔
کیونکہ کوئی پہلے ہی انہیں کہانی سنا چکا تھا۔
اور میں…
اس کہانی کا ولن تھا۔
ایک دن…
میری بیٹی نے مجھ سے پوچھا
“ابو… کیا آپ کو ہم سے زیادہ اپنی آزادی پسند تھی؟”
میں مسکرا دیا…
مگر آنکھیں بھر آئیں۔
میں نے کہا
“بیٹا… کبھی کبھی انسان ہار نہیں مانتا… بس ہرا دیا جاتا ہے…”
وہ کچھ نہ سمجھی…
کیونکہ اسے کبھی مکمل کہانی سننے ہی نہیں دی گئی تھی۔
سال گزرتے گئے…
بچے بڑے ہو گئے…
فاصلے بھی۔
پھر ایک دن…
میرا بیٹا میرے پاس آیا۔
اکیلا۔
خاموش۔
اس کے ہاتھ میں کچھ کاغذ تھے۔
“ابو…” اس نے آہستہ سے کہا،
“مجھے یہ فائل امی کی الماری سے ملی ہے…”
میں نے دیکھا
وہ عدالت کے کاغذات تھے…
میری کال لاگز…
میری فیس جمع کروانے کی رسیدیں…
وہ درخواستیں… جن میں میں نے بچوں سے زیادہ وقت مانگا تھا…
وہ دیر تک خاموش کھڑا رہا…
پھر اس کی آواز ٹوٹ گئی
“آپ… گئے نہیں تھے نا؟”
میں نے پہلی بار بغیر ڈرے سچ کہا
“نہیں بیٹا… میں کبھی نہیں گیا تھا…”
وہ بیٹھ گیا…
اور رونے لگا۔
“ہمیں ہمیشہ بتایا گیا کہ آپ نے چھوڑ دیا…”
میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا…
“بیٹا… کبھی کبھی سچ کو وقت لگتا ہے… مگر وہ آتا ضرور ہے…”
وہ میرے گلے لگ گیا…
سالوں بعد۔
مگر اس گلے لگنے میں…
بچپن نہیں تھا۔
ایک خلا تھا…
جو کبھی پُر نہیں ہو سکتا تھا۔
اس دن میں نے سیکھا—
غلط شادی صرف دل نہیں توڑتی…
یہ بچوں کی یادیں بھی بدل دیتی ہے۔
اور سب سے بڑا نقصان یہ نہیں ہوتا
کہ آپ اکیلے رہ جاتے ہیں
بلکہ یہ ہوتا ہے…
کہ آپ کے اپنے بچے
آپ کو غلط سمجھ کر بڑے ہوتے ہیں۔
اور اگر آپ خوش قسمت ہوں…
تو ایک دن وہ سچ جان لیتے ہیں۔
مگر تب تک…
بہت کچھ گزر چکا ہوتا ہے۔
کیونکہ…
وراثت صرف جائیداد نہیں ہوتی…
یادیں بھی ہوتی ہیں۔
اور اگر کوئی انہیں بدل دے—
تو انسان زندہ ہوتے ہوئے بھی
اپنی ہی اولاد کے دل میں مر جاتا ہے۔
محمد علی جناح کا ملٹری اسٹیبلشمنٹ/سسٹم کی مضبوطی میں کردار👁️🗨️
جس فوج کو جاکر جناح صاحب نے کسی اجتماع میں ایک دو جملے سنا دیئے کے آپ قوم کے آقا نہیں بلکہ نوکر ہیں!
نوزائیدہ پاکستان میں اس برطانوی فوجی ماڈل کو آقا انہوں ہی نے بنوایا۔
قیامِ پاکستان کے محض 2 ہفتوں بعد سن 1947 ستمبر 1 وزیرِ خزانہ کو امریکی قونصلیٹ آفس کراچی بھیجا کہ ہمیں 2 ارب ملین ڈالروں کی امریکی عسکری امداد درکار ہے۔
بدلے میں ہم کیا کریں گے؟
"پاکستان امریکہ اور مغربی کیمپ کے ساتھ روس کے خلاف مضبوط فوجی چھاؤنی ثابت ہوگا"۔
اس معاہدے،امریکہ کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو جوڑنے کیلئے یہاں سے،خاص مندوب کے طور پر personal emissary میر لائق علی،میاں ابوالحسن اصفہانی اور غلام محمد امریکہ گئے،اتنی بڑے قرض کے اندر صرف 510 ملین ڈالر مسلح افواج، دفاعی سامان اور پہلے سے موجود ڈھانچے کی بحالی کے لیے تھے جبکہ بقیہ سے نئے طیارے،فوجی ساز و سامان اور سسٹمز خریدنے کی لسٹ تھی۔
امریکہ نے 10 لاکھ ڈالر کی امداد جاری کی جس کے تکمیلی پراسس کیلئے جنرل اسکندر مرزا اور میجر جنرل افتخار خان کے کمانڈ میں فوجی افسران کی ٹیم پینٹاگون گئی۔
فوج کو ایسٹ انڈیا کمپنی ماڈل سے توڑ کر قوم کا نوکر بنانے کے برعکس اُسی ماڈل کو جدید ستونوں پر امریکی طاقت سے مضبوط کرنے کے اپنے اس قدم پر جناح صاحب نے ستمبر 7 کو اسمبلی میں واضع فرمایا
"ہم نظریاتی اور عملی طور پر امریکہ، برطانیہ، فرانس جیسی مغربی کیمپ میں ہیں برعکس روس اور مشرق کے، ہمارے مفادات مغرب کے سرمائے دارانہ کیمپ کے ساتھ مشترکہ ہیں"
سن 1948 میں آنے والے پہلے امریکی سفیر پول ایلنگ کے ساتھ کئی گھنٹے جناح صاحب نے گفتگو انہیں "مشترکہ مفادات" کے مستقبل پر کی،پھر اسی فوج اور "مشترکہ مفادات" نے موت کے گھاٹ اتارا۔
ملک کے سیاہ و سفید پر برطانوی ایسٹ انڈیا ماڈل فوج کو حکومت دلوانے میں foundational role جناح اور پوری لیگی کمپنی کا تھا آج جو سب ہیں وہ اُس لیگی کمپنی کے باقیات ہیں۔
پاکستان کی پوری تاریخ یہی ہے جناح صاحب سے لیکر ہر وزیر اعظم، صدر اسی سسٹم سے اٹھنے والے اور اسکے بندے رہے ہیں کیونکہ سب کا عہدہ اور process یہی سسٹم رہا ہے۔
ہر آنے والا لیڈر،گورنر جنرل،وزیرِ اعظم،صدر فوج اور امریکہ کے مفادات میں پہلے کام کرتا ہے آخر میں ہوائی سوچ میں آواز بلند کرتا ہے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ اٹھا کر اوقات دکھاتی ہے،مارتی ہے، جیل میں ڈالتی ہے یاں اسکندر مرزا جو خود اس کا حصہ تھا،کی طرح جلاوطن کرکے برطانیہ میں ہوٹلوں کے اندر برتن دھونے پر ذلیل کرواتی ہے۔
ہر درخت اپنے جڑ سے ہوتا ہے۔
ہر عمارت اپنے ماڈل اور کاریگروں و مزدوروں کے ڈھانچے پر ہوتی ہے
ہر product اپنی بنانے والی کمپنی کے طئے کردہ Structure کے تحت نتائج اور اثرات دیتا ہے۔
پاکستان اسی ایسٹ انڈین کمپنی سرمائے دارانہ سسٹم کے بقا کیلئے بنایا گیا کہ امریکہ یعنی برطانیہ کے بعد سرمائے دارانہ عالمی سامراجی نظام/ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو یہاں اپنے پنجے مضبوط رکھنے کے ضرورت تھی سوویت یونین کے خلاف چھاؤنی درکار تھی اور یہاں کے وسائل،دولت،سرمایہ لوٹ کر برطانیہ،امریکہ،بینک آف انگلینڈ اور امریکن ریزرو بینک پہنچانا تھا
پہلے یہ کام گورے انگریز کرتے تھے اب وہیں کالے انگریز درکار تھے
تو کوئی سسٹم نہ تب تھا نہ اب ہے سوائے اس "اجتماعی عوامی لوٹ مار" کے جو برطانوی سامراج نے تشکیل دیا اور اُسکے ستونوں پر ہے۔
جناح صاحب نے یہی سسٹم(فرسودہ برطانوی نظام)پڑھا،اسی پر ایمان لایا اُسکے اندر رہ کے برطانوی پارلیمنٹ سے ملنے والے دستاویز پر یہ سرحدیں لیں اور حلف بھی اسی سسٹم کیلئے "وفادار نمائندے" کے طور پر اٹھایا اور آخر میں سسٹم نے وہی کیا جو اب تک کرتا آرہا ہے۔
سن 1970 تک برطانیہ ہی پاکستان کو چلاتا رہا
اسکے بعد گورے انگریزوں نے کالے انگریزوں کو 1935 آئینی شکل پر کاپی پیسٹ کرکے 1973 آئینی گاڑی کے ذریعے مستحکم آگے رکھ دیا کیسٹ جاری و ساری ہے!
پھر تبدیلی اور سسٹم کا شعور خاک آنا؟!
مگر ایسا کیوں ہے؟
کہ تاریخ اور "قومی رہنماؤں" کے نام پر جھوٹ موٹ کے قصے سنا کر موجودہ ظلم کے نظام کے نمائندوں کو،اس ظلم کے نظام/سسٹم کو مستحکم کرنے والے سابقہ نمائندگان سے جدا کرکے پیش کیا جاتا ہے ؟اور اُنہیں کہانیوں میں "مرد مومنین" ثابت کرنے کی ناکام کوششیں ہوتی ہیں؟
اس لیئے کے ان سسٹم اپنے اصل اہداف کے لیئے مقرر کردہ ان ایجنٹوں سے عوامی بیزاری پر ہر بار اسلامی پاکستان،انقلابی پاکستان,نیا پاکستان،جناح کا پاکستان،لیاقت علی کا پاکستان جیسے "جذباتی سحر انگیز" نعروں پر اسی سسٹم کے بقا اور آنے والے 5 سال سے لیکر 30 سالہ دور کیلئے نئے ایجنٹ،نئی شکلیں،نئے روپ و رنگ،جھنڈیاں اور ڈنڈیاں لاکر مایوس،frustrate نوجوانوں اور عوام کو
5 نئے صوبے مطلب 5 نئے وزارِ اعلی 5 نئے گورنر۔ 5 نئے سیکریٹیریٹ۔ ہر صوبے میں کم از کم پندرہ وزرا مطلب 75 نئے وزیر۔ 75 نئے چیف سیکریٹیریز۔
ہر وزیرِ اعلیٰ کی نئی 7 Series BMW۔ ساتھ چار پروٹوکول کی لینڈ کروزرز۔
مطلب 5 BMWs. اور 20 لینڈکروزرز۔
پھر ہر وزیر کی نئے گاڑی۔ کم از کم ٹویوٹا Fortuner. مطلب 75 نئی Fortuners. ہر وزیر کے ساتھ کم از کم دو پروٹوکول کی گاڑیاں مطلب 150 مزید نئی گاڑیاں۔
چیف سیکریٹیرز۔ پولیس چیف۔ ججز اور دوسرے محکمے اور اسٹاف اور اُن کی مراعات تو بالکل الگ ہی موضوع ہے۔
سادہ سا حل ہے کہ تمام اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دیدیں۔ اربوں روپے بھی بچا لیں اور لوگوں کی مشکلات کا حل اُن کے دروازے تک بھی لے آئیں۔
مگر جب تک ہم شاہانہ اور عیاش حل نہیں ڈُھونڈیں گے ہم کیسے ثابت کریں گے کہ ہم پاکستانی اشرافیہ ہیں۔
برباد ہوئے شریف اور زرداری خاندان ۔ بدترین انجام کی طرف اب وہ بگٹٹ ہیں۔ آدم زاد عجلت پسند اور بے صبرے ہیں۔ پروردگار مہلت دیتا ہے۔ صرف وہی جانتا ہے کہ کس کو کب کتنی سزا دی جائے۔کرتوت ان دونوں خاندانوں کے ایسے ہیں کہ بچ نہیں سکتے۔ طعنہ زنی، تحقیر اور تذلیل کرنے کی بجائے سنگین مظالم کا شکار پی ٹی آئی جرآت و جسارت کے ساتھ حکمت سے بھی کام لے تو یہ جلد نمٹ جائیں گے۔ بچتے بہرحال نہیں کہ یہ مکافات عمل کی دنیا یے۔ خدائی قانون کبھی نہیں بدلتا۔ عقل کے اندھے مگر اس کا ادراک نہیں کر سکتے۔ ہر دانا آدمی کو چاہیے کہ ان خاندانوں سے دور رہے۔ ان کی عمارتیں خستہ ہو چکیں ۔کسی وقت بھی ڈھے سکتی ہیں۔ تبدیلی کا وقت آیا چاہتا ہے۔
We urge Pakistani authorities to unconditionally restore Imran Khan and Bushra Bibi Khan’s right to see their family and lawyers.
Both must be given access to adequate medial care and their solitary confinement, which is unlawful, should end immediately.
https://t.co/EFc0exoZVe
ناتمام
ہارون الرشید
داتا گنج بخش کا مزار کہاں واقع ہے؟
عصر رواں کےعادف نے کہا تھا: مرد کامل کوئی نہیں۔ بس ایک رحمتہ اللعالمین صلو علیہ والہ۔
کچھ زاہد صاحب کشف ہوتے ہیں ۔کشف کی نوعیت مگر وہ نہیں جو اکثر سمجھ لی جاتی ہے۔
اٹھاون برس ہوتے ہیں ۔ایک محترم خاتون نےاپنا ایک خواب حافظ محمد اسماعیل کو سنایا۔ وہ گرامی قدر استاد جن سے ہم سب نے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا۔ وہ کوئی معاوضہ قبول نہیں کرتے تھے۔ حضرت مولانا داؤد غزنوی کے لائق شاگرد تھے۔نابینا ہو گئے تھے مگر حافظہ کمال کا پایا تھا۔ غنی ایسے کہ اپنی زرخیز زمین ناقص زمین والے پڑوسی کو تبادلے میں دے دی ۔ فقط اس کا احساس محرومی دور کرے کے لئے۔
قرآن مجید کی طالبہ نے کہا " میں نے سوکھنے کے لئے تار پہ ڈالے گئے کپڑوں پر خون کے چھینٹے دیکھے ہیں۔حافظ صاحب نے رسان سے کہا" اس خواب کی تعبیر یہ ہےکہ مشرقی پاکستان الگ ہو جائے گا"
یہ 1968 تھا۔شیخ مجیب الرحمٰن چھ نکات پیش کرچکے تھےیعنی کنفیڈریشن کی تجویز۔صدر ایوب خاں متفق تھے۔کچھ اور لوگ بھی بعد ازاں اس کی تائید کرتے پائے گئے۔ مگر ذاتی گفتگو ہی میں۔مثلا جماعت اسلامی کے جید رہنما، سید صدیق الحسن گیلانی۔قوم ہیجان کا شکار تھی۔اعلانیہ بات کرنے سے لیڈر لوگ کتراتے۔
پورے بنگال کو شاید ایک الگ ملک ہونا چاہیے تھا۔ شاید کبھی ہو بھی جائے۔حیسن شہید سہروردی کی رائے یہی تھی۔ بنگال کے سب سے زیادہ مقبول سیاستدان کی۔ لارڈ ماونٹ بیٹن سے انہوں نے بات کی۔تو وہ مان گئے ؛ البتہ یہ پوچھا " مسٹر جناح کی رائے اس بارے میں کیا ہے" سہروردی نے بتایا کہ وہ ان سے مل کر آئے ہیں ۔وہ اسے قبول کر تے ہیں۔
متحدہ بنگال میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ 1946 میں بنگال کی250 میں سے150 سیٹیں مسلم لیگ نےجیتی تھیں۔کانگریس کو 52 ملیں۔48 چھوٹی پارٹیاں لے اڑیں ۔آل انڈیا کانگرس بنگال میں کچھ زیادہ مقبول نہیں تھی۔پنڈت جواہر لعل نہرو کے زیر اثر اس تجویز کو برطانوی حکومت نے مسترد کر دیا۔
کہا جاسکتا ہے : تم نے ایک خواب کی تعبیر بیان کی۔ یہ کشف تو نہیں۔جی نہیں یہ کشف ہے ۔ برصغیر نے خوابوں کی تعبیر کرنے والا عبقری شاید کبھی کوئی نہ تھا۔ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سمیت اس میدان میں یہاں کوئی شہسوار نہ گزرا۔ اسلام آباد کی ایک بزرگ خاتون اور خوشاب کے ایک دعوے دار سے رابطہ رہا۔ یہ محترم خاتون ڈاکٹر تھیں۔ یتیم بچیوں کو بیٹیوں کی طرح پالتیں۔
چھبیس برس ہوتے ہیں ،مانسہرہ سے آگے ایک گاؤں میں، ایک نادر روزگار شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ ایک بڑے زمیندار اورحیرت انگیز طور پہ تصوف کے چاروں بڑے سلسلوں میں خلافت کی مسند تک پہنچنے والے۔ منکسر مزاج اور دنیا سے بے نیاز۔ دیکھتے ہی فرمایا: آپ کو مخفی علوم سے دل چسپی کیوں ہے۔ عرض کیا: یوں ہی سرسری سی ہے ۔ وہ بھی علم الاسماء یا قیافہ شناسی کی حد تک۔ ثانی الذکر پیدائشی ہے۔ نہایت نرمی سے کہا : ان چیزوں میں کیا رکھا ہے۔نماز انہماک سے پڑھنی چاہئیے۔ روزہ خوش دلی سے رکھنا چاہئیے۔ عبادات کے تمام تقاضے نبھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ صحابہ کرام کا سادہ سا اسلام ہی بہترین ہے۔
اس کے بعدجتنی بات کی، تمام کشف مگر ایک ایک ایسے لیڈر کی ستائش کی کہ سبھی حیرت زدہ۔ نیویارک کا قصد تھا وگرنہ رکتے اور اکتساب فیض کرتے ۔ان کے مکان پہ اقبال کے اشعار دیواروں پہ رقم تھے۔ فرمایا: اپنی یاد دہانی کے لئے لکھ رکھے ہیں۔ دو باتوں کی نصیحت کی: اپنے غصے پہ قابو رکھو۔ یہ تمہارا اصل مسئلہ ہے۔ دونوں رفقا سے کہا: اسے دھوکہ نہ دینا۔ یہ اعتبار کر لینے والا آدمی ہے۔ ان میں سے ایک واقعی فریب کار نکلا ۔
کشف کے موضوع پر بات کرنے کے لئےایک خطیب کے دعوے نے مائل کیا۔ فرمایا: حضرت مولانا احمد علی لاہوری صاحب کشف تھے۔ ان کا ارشاد یہ تھا کہ جہاں جناب علی بن عثمان ہجویری ، داتا گنج بخش کا مزار بتایا جاتا ہے ، وہاں وہ مدفون نہیں بلکہ شاہی قلعے کے قریب ایک چھوٹے مزار میں۔
سامنے کا نکتہ یہ ہے کہ کشف کوئی حجت ہی نہیں۔ شریعت میں اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ شریعت قرآن و سنت ہے۔ کشف میں ابلیس کی مداخلت ممکن ہے۔
حضرت مولانا احمد علی لاہوری یقینا ایک مخلص اور پارسا بزرگ تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی پہ
آپ نے سخت تنقید کی توانہوں نے کہا: میں جواب دینے کی جسارت نہیں کر سکتا۔وہ زہد کا پہاڑ ہیں۔ ایک ذاتی تعلق بھی ہے کہ میرے مرحوم والد ان کے مرید تھے۔بایں ہمہ وہ ایک بہت ہی سادہ بزرگ تھے۔ اپ کی تحریر کردہ تفسیر پڑھیے تو اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے جاننے والوں سے جو لوگ کبھی ملے وہ اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔
عصر رواں کے عارف نے کہا تھا: مرید مسحور ہو جاتا ہے۔پھر ارشاد کیا : کرامت استاد کی نہیں مرید کی نفسیاتی ضرورت ہوتی ہے۔ مرد کامل کوئی نہیں۔بس ایک رحمتہ اللعالمین صلو علیہ و آلہ۔
The disturbing reports emerging from Rawalakot are consistent with the Pakistani authorities’ long history of unlawful violence against protesters in Jammu and Kashmir.
A prompt, independent, and transparent investigation must be ordered into the security forces’ use of force against protesters.
So long as an internet and mobile services blackout remains in place, it will severely impede the independent verification of the full extent of the situation on the ground.
We urge the Pakistani authorities to restore all communications access and allow media and independent observers into the area