اگر یہاں کسی جنرل کرنل کر اولاد ہوتی پھر بھی کیا ایسے ہی ہوتا ؟
یہ 5000 رینجرز کی نفری اور اسلام آباد پولیس بچوں کو بچانے کے وقت کہاں تھی ؟ متاثرہ والد کا سوال
میڈیکل ٹیسٹ، سی ٹی اینجوگرافی کے بغیر حکومت کو کیسے معلوم ہو گیا کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ پرانے وقتوں میں حکیم حضرات نبض دیکھ کر بیماری بتا دیا کرتے تھے۔ کیا پمز ہسپتال میں بھی کوئی ایسا حکیم رکھا ہوا ہے جو بغیر مکمل ٹیسٹ کے سب کچھ بتا دیتا ہے؟
شفقت عباس اعوان
ان کو ماہانہ آمدن (تنخواہ) چاہیے، دو ارب کا منصوبہ بنایا گیا، ایک ارب پمز پر بھی لگا دیتے تو آج یہ معصوم بچے شہید نہ ہوتے، جو بات بھی نہیں کر سکتے تھے، میرا دوست ہے اس نے بیٹے کا نام 'عباس' رکھ دیا تھا، منت کے ساتھ مانگا اور آج وہ عباس نہیں ہے، اپوزیشن کی بڑی آوازیں کیوں نہیں نظر آرہیں؟ یہ بالکل بے ہودگی اور بکواس ہے، پورا نظام تباہ و برباد ہو چکا ہے، یہ سراسر کرپشن ہے، جاں ای بچے کا رشتہ دار!!!
مطیع اللہ جان 🔥🔥
یہ فیشن ایبل بیان بن گیا ہے کہ میں نے خود کو احتساب کے لیے پیش کردیا ہے۔ احتساب سے پہلے استعفی دینا چاہئے اگر غیرت اور عزت باقی ہے۔ ان لوگوں کی سیاسی پرورش کراچی میں ہوئی جہاں فون پر آئے روز بوری بند لاشوں کی دھمکی دیتت تھے۔
مصطفی کمال ایک نہایت بدتمیز اور اخلاق سے گرا ہوا شخص ہے کچھ دن پہلے پریس کانفرنس میں دیر سے آنے پے جب صحافیوں نے شکوہ کیا تو یہ صحافیوں کو ہی اس کا قصور وار ٹھکرانے لگ گیا...
اور آج یہ پمز ہسپتال میں بچوں کے والدین کو دھمکیاں دے رہا
یہ آگ اللہ کی قدرت سے نہیں بلکہ پمز ہسپتال والوں نے جان بوجھ کر لگایا ہے ۔ دروازے کیوں لاک تھے ڈاکٹر کدھر تھے ایک ڈاکٹر کا ایک بال نہیں جلا اور صرف بچے جلنے تھے ۔ پمز ہسپتال میں متاثر خاتون کا درد بھرا بیان 🚨🚨
یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ حکومت کو لاشیں چھپانے اور لواحقین کی آواز دبانے کی اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے۔ 💔
زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ہر بار نمک چھڑکا جاتا ہے۔ پمز سانحے میں بھی لواحقین کو تسلی دینے کے بجائے پولیس لاشوں کو اپنے حصار میں لے رہی ہے اور میڈیا کو دور رکھا جا رہا ہے۔آخر ایسا کیوں؟ لواحقین کو اپنے پیاروں کا آخری دیدار اور اپنی فریاد دنیا تک پہنچانے کا حق بھی نہیں؟
وہاں موجود سینئر صحافی عمر دراز سے سنیے، وہ اس صورتحال کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔
@umardarazgondal
نکاحِ متعہ کیا ہے؟
نکاحِ متعہ سے مراد ایسا وقتی نکاح ہے جس میں مرد اور عورت ایک خاص وقت (چند دن، ہفتے یا مہینے) کے لیے مہر کے عوض باہمی رضامندی سے تعلق قائم کرنے کا معاہدہ کرتے ہیں اور مدت ختم ہوتے ہی یہ نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جنگ اور سفر کے شدید حالات کی وجہ سے وقتی طور پر اس کی رخصت دی گئی تھی، لیکن بعد میں اسے قیامت تک کے لیے قطعی طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔
نکاحِ متعہ کی ممانعت کب ہوئی؟
نکاحِ متعہ کو غزوہ خیبر (7 ہجری) اور بالخصوص فتح مکہ / غزوہ اوطاس (8 ہجری) کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے واضح حکم کے ذریعے منسوخ (منسوخ/خارج) کر دیا گیا اور اس کی حرمت کو قیامت تک کے لیے نافذ کر دیا گیا۔
ممانعت سے متعلق صحیح احادیث
غزوہ خیبر کے موقع پر ممانعت:
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
"رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا۔"
(صحیح بخاری: 5115، صحیح مسلم: 1407)
فتح مکہ کے موقع پر قطعی حرمت کا اعلان:
حضرت سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھا، آپ ﷺ نے فرمایا:
"اے لوگو! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ پس جس کے پاس ایسی عورتوں میں سے کوئی ہو تو وہ اسے چھوڑ دے اور جو کچھ تم نے انہیں دیا ہے اس میں سے واپس نہ لو۔"
(صحیح مسلم: 1406)
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا مؤقف:
جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے نکاحِ متعہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:
"وہ حرام ہے، اور اگر رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی شخص ایسا کرے گا تو وہ زنا کے زمرے میں آئے گا۔"
(سنن نسائی: 3367)
شرعی نتیجہ
اہل سنت و الجماعت کے تمام فقہاء اور جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نکاحِ متعہ منسوخ ہو چکا ہے اور اب اسلام میں نکاح صرف وہی جائز ہے جو مستقل تعلق، گواہوں کی موجودگی، ولی کی رضامندی اور دائمی رشتے کی نیت کے ساتھ ہو۔ وقتی یا معاہداتی نکاح اسلامی شریعت میں مکمل طور پر باطل اور حرام ہے۔