مولانا فضل الرحمن سے ہزار اختلاف سہی لیکن یہاں بات اصول کی ہے ۔ فضل الرحمن نے جو باتیں پچھلے دنوں اسلام آباد میں کیں اور جو آج پشاور میں کیں ہیں یہ اس ملک کی تلخ حقیقت ہیں ۔ ریت میں سر چھپائے رکھنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے بلکہ مزید گھمبیر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ آخری حل یہی ہے کہ فتووں کی فیکٹریاں اور غدار قرار دینے کی روش چھوڑ کر حل نکالیں
جتنی آواز عمران خان کے لئے دنیا کے سیاستدانوں،دانشوروں،صحافیوں،سپورٹس پرسن عوام اور سوشل میڈیا پر اٹھائی گئی ہے شاید ہی دنیا میں کسی سیاسی قیدی کے لئے اٹھائی گئی ہو
لیکن اتنے پریشر کے باوجود پاکستانی اسٹبلشمنٹ خان کے ساتھ بدترین سلوک کررہی ہے کیونکہ عالمی اسٹبلشمنٹ کا حکم ہے
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
عمران خان کو یہ نہیں معلوم تھا کہ دن کونسا ہے ، تاریخ کیا ہے اور مہینہ کونسا چل رہا ہے وہاں عمران خان کو علیمہ خانم کی ریلیوں کی خبر کہاں سے ہوگئی؟
ہمیں علم ہے سب فلم ہے۔
مریم نواز نواز شریف اور عاصم منیر یہ تین لوگ تھے جنہوں نے یہ فیصلہ کیا عمران خان کو شفاء نہیں لے جایا جائے گا پمز کا چکر لگوا کر واپس اڈیالہ بھجوایا جائے گا
محسن نقوی اپنی گیم چلا رہا ہے محسن نقوی اپنے آپ کو ہر ممکنہ عاصم پوسٹ کے لئے پوزیشن کر رہا ہے یعنی عاصم منیر رہے نہ رہے نقوی رہے گا
عادل راجہ
The problem isn't simply that Pakistan cricket has collapsed in the last few years. The problem is that the person responsible has been promoted to lead the national security, foreign policy and politics of the country.
It's a great strategy, if the goal is to undo the country.
حکومت کا دعوی اور پمز اسپتال کی اصل حقیقت
دو سال سے سٹی اینجیو گرافی خراب، اب کوئی وزیر مشیر بتائے گا کہ عمران خان کا ٹیسٹ کیسے ہوگیا جبکہ مشین ہی دو سال سے خراب ہے۔!!!
ذوالفقار علی بھٹو ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ آخری دس ماہ تک انہیں موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس طرح اب عمران خان کو رکھا ہوا ہے۔
بھٹو کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ قید تنہائی میں ڈالا گیا۔ آخر میں بھٹو وہاں تعینات افسر کو کہتے تھے ضیاء کو کہو just finish it now اب برداشت نہيں ہوتا۔
بھٹو ہی نہيں کوئی بھی انسان ایسا جسمانی اور ذہنی ٹارچر برداشت نہيں کرسکتا۔ سب یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ظالموں اب ختم کرو۔
عمران خان تین سالوں سے زیادہ عرصے سے اس طرح کی صورتحال میں قید ہے۔ 9 ماہ سے بدترین ذہنی اور جسمانی ٹارچر سہہ رہا ہے۔ بہنوں کو کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہو رہی ہیں۔
عمران خان کو اللہ نے ایمان دیا ہے۔ ایک مضبوط جسم اور ذہن دیا ہے۔ ان تینوں کی وجہ سے وہ بھٹو سے دوگنا عرصہ تک سروائو کر گیا۔ لیکن انسان کا جسم اور ذہن دونوں کا ایک breaking point ہوتا ہے یہاں پر پہنچ کر وہ ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم جواب دے جاتا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظالموں کا تو حساب ہوگیا ہی کہ انہوں نے ایک بےگناہ انسان پر فرعون بن کر یہ ظلم کیوں کیا؟ کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے سوال نہيں ہوگا کہ انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ذرا سوچیں آپ کے نامہ اعمال میں کیا ہے جو پیش کریں گے؟
اگر اسی خاموشی اور بےحسی پر پکڑے گئے تو کیا کریں گے؟
یا آپ کو آخرت اور روز جزا اور سزا پر یقین نہيں ہے؟
بریکنگ نیوز ، محسن نقوی کو توہین عدالت کیس میں فریق کیوں نہیں بنایا ؟ ڈاکٹر عظمی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے ایکس پر وضاحت جاری کر دی
" 1. اعظم نذیر تارڑ اور عطا تارڑ نے بیان دیا تھا اس لئے ان کو فریق بنایا گیا ہے
2. وزیر اعظم کو اس لئے پارٹی بنایا گیا ہے کیونکہ یوسف رضا گیلانی کیس میں سپریم کورٹ نے طے کیا تھا کہ عدالتی فیصلے پر عمل نا ہو تو ذمہ دار وزیراعظم ہو گا اس لئے فریق بنایا گیا
3.محسن نقوی کو اس لئے فریق نہیں بنایا گیا کیونکہ اس نے اس فیصلے متعلق کوئی بیان نہیں دیا اگر میٹریل دستیاب ہو یا عدالت چاہے تو اس کو فریق بنا سکتی ہے
4.سیکرٹری داخلہ کو اس لیے فریق بنایا گیا ہے کیونکہ وہ 1973 کے رولز آف بزنس کے مطابق داخلہ ڈویژن کا ہیڈ ہوتا ہے"
آپ لوگوں کو یہ نشان یاد ہے
محمد مرسی کیلئے لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکلے تھے ۔ لیکن مصری فوج نے ان پر ٹینک چڑھادئے ۔ سنائپرز سے نشانے لگا کر سروں پر گولیاں ماری گئیں ۔ سکیورٹی فورسز نے اونچی عمارتوں کی چھتوں سے مظاہرین پر اندھا دھند گولیاں برسائیں ۔
یہ واقعہ 14 اگست 2013ء کو پیش آیا ۔ جب لاکھوں مصری محمد مرسی کیلئے دھرنا دے رہے تھے ۔ یہ دھرنا قاہرہ میں رابعہ العدویہ مسجد کے باہر ہورہا تھا ۔ سکیورٹی فورسز، پولیس اور فوج نے بلڈوزروں، بکتر بند گاڑیوں اور اسلحے کا استعمال کرکے دھرنے کے شرکاء پر دھاوا بول دیا۔
مصری فوج باقاعدہ جنگی گاڑیاں لے آئی ۔کیمپوں کو آگ لگا دی گئی، مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور ہزاروں کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
اس خونریز کارروائی میں ایک ہی دن میں سینکڑوں (تقریباً 5 ہزار سے زائد ) مظاہرین جاں بحق ہوئے، جسے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں جدید تاریخ کا بدترین قتلِ عام قرار دیتی ہیں۔
اس کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت سیکڑوں افراد موقع پر جاں بحق ہو ئے ۔ مجموعی طور پر ہزاروں لوگ جاں بحق ہوئے اور ہزاروں آج بھی جیلوں میں ہیں ۔
عدالتی احکامات کا احترام کیا جانا چاہیے اور قانون کی حکمرانی برقرار رکھی جانی چاہیے۔ سیاسی اختلافات کسی بھی صورت کسی قیدی کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا جواز نہیں بن سکتے۔ سینئر کشمیری رہنما میرواعظ عمر فاروق
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan@MirwaizKashmir
مرسی کو مستقل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔ چھ سال کے دوران انہیں صرف تین بار اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی، اور ان ملاقاتوں میں بھی سکیورٹی اہلکار موجود رہتے تھے۔ وہ اپنی فیملی سے جو بھی بات کرتے، اسے ریکارڈ کیا جاتا تھا۔
مرسی بارہا شکایت کرتے رہے کہ انہیں مناسب طبی سہولیات اور علاج فراہم نہیں کیا جا رہا، مگر ان کی فریاد کسی نے نہ سنی۔ جیل میں انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات میسر نہ آنے پر ان کی صحت مسلسل بگڑتی رہی۔ بعد ازاں ان کی موت کے حالات کی تحقیقات میں بھی جیل میں طبی نگہداشت اور علاج کی فراہمی سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے
عمران خان کا اپنی بہن ڈاکٹر عظمیٰ کو بتانا کہ یہ میرے ساتھ مصر کے مرسی جیسا سلوک کر رہے ہیں، انتہائی تشویشناک ہے۔
محمد مرسی 17 جون 2019 کو قاہرہ کی عدالت میں مقدمے کے دوران بے ہوش ہو کر گر گئے اور سرکاری طور پر دل کے دورے سے ان کی موت ہوگئی۔ ان کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ جیل میں طبی علاج سے محرومی اور سخت حالات کی وجہ سے انہیں جان بوجھ کر قتل کیا گیا۔ ذمہ دار مصری حکومت اور صدر عبدالفتاح السیسی کو قرار دیا جاتا ہے جنہوں نے 2013 میں فوجی بغاوت کے ذریعے انہیں برطرف کیا تھا۔ ترکی کے صدر اردوان سمیت کئی رہنماؤں نے اس موت کو قتل قرار دیا ہے۔ ترکی کے صدر اردوان سمیت دنیا کے کئی رہنماؤں نے اس موت کو قتل قرار دیا تھا۔
عمران خان کے ساتھ بھی محمد مرسی جیسا سلوک کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہیں اس لیے اسے راستے سے ہٹانے کے لیے یہ گھناؤنا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔