🚨 Dear @Meta@andymstone@finkd@MetaforDevs@MetaforBusiness
We would like to raise a serious concern on behalf of Original Facebook Creators.
A growing number of creators are reporting "Authentic Engagement" restrictions on their Facebook Pages and Profiles. The biggest issue is the lack of transparency. In many cases, creators are not informed which specific post, video, reel, or activity triggered the action.
As a result:
❌ Monetization is disabled
❌ Earned revenue is placed on hold
❌ Reach and growth are affected
❌ Access to effective support becomes difficult
Original creators invest years of hard work, time, creativity, and resources into building their communities. Restricting monetization and holding earnings without providing clear reasons creates significant frustration and uncertainty.
We respectfully request that Meta:
✅ Clearly identify the content or activity that triggered the restriction
✅ Improve transparency in the Authentic Engagement review process
✅ Restore accounts that were incorrectly flagged
✅ Ensure fair and timely appeal reviews
✅ Release legitimately earned revenue after proper review
✅ Provide effective and accountable creator support
We are not asking for special treatment. We are asking for transparency, fairness, and a clear review process for Original Creators who help build and grow the Facebook ecosystem.
#metascamexposed
#Meta #Instagram #Creators #MetaListen #FakeCopyrightStrikes #CreatorRights #facebook #FairReview #Transparency #CSPGlobal
یوم پاکستان پر اس سے شاندار،جاندار،بہترین ویڈیو کوئی نہیں ہوسکتی
بنانے والے نے چھوٹے بڑے تمام ہیروز کو 4منٹ کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے کمال مہارت سے سمودیا ہے۔
جس نے بھی اس تصور پر یہ ویڈیو بنائی ہے وہ قومی اعزاز کا مستحق ہے۔
Strongly condemn the attack by Israeli occupation forces on Al Aqsa mosque during Friday prayers in month of Ramazan. Al Aqsa mosque is the third holiest site for Muslims & today Muslims across the world feel this hurt deeply.
https://t.co/N6uFZfMYaY
ایک امریکی جس نے صدر صدام حسینؒ کی پھانسی کے عمل میں شرکت کی، کہتا ہے کہ وہ آج تک اس واقعہ پر غور و فکر میں ہے اور اکثر یہ پوچھتا ہے کہ اسلام موت کے بارے میں کیا کہتا ہے۔
اس نے کہا: صدام ایسا شخص ہے جو احترام کے لائق ہے۔
رات دو بجے (گرینچ کے مطابق) صدام حسین کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولا گیا۔
پھانسی کی نگرانی کرنے والے گروہ کا سربراہ اندر آیا اور امریکی پہریداروں کو ہٹنے کا حکم دیا، پھر صدام کو بتایا گیا کہ ایک گھنٹے بعد اسے پھانسی دی جائے گی۔
یہ شخص ذرا بھی گھبرایا نہیں تھا۔ اس نے مرغی کے گوشت کے ساتھ چاول منگوائے جو اس نے آدھی رات کو طلب کیے تھے، پھر شہد ملا گرم پانی کے کئی پیالے پئے، یہ وہ مشروب تھا جس کا وہ بچپن سے عادی تھا۔
کھانے کے بعد اسے بیت الخلا جانے کی پیشکش کی گئی مگر اس نے انکار کردیا۔
رات ڈھائی بجے صدام حسین نے وضو کیا، ہاتھ، منہ اور پاؤں دھوئے، اور اپنے لوہے کے بستر کے کنارے بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے لگے، یہ قرآن انہیں ان کی اہلیہ نے بطور تحفہ دیا تھا۔ اس دوران پھانسی دینے والی ٹیم پھانسی کے پھندے اور تختے کا جائزہ لے رہی تھی۔
پونے تین بجے مردہ خانہ کے دو افراد تابوت لے کر آئے اور اسے پھانسی کے تختے کے پاس رکھ دیا۔
دو بج کر پچاس منٹ پر صدام کو کمرۂ پھانسی میں لایا گیا۔ وہاں موجود گواہان میں جج، علما، حکومتی نمائندے اور ایک ڈاکٹر شامل تھے۔
تین بج کر ایک منٹ پر پھانسی کا عمل شروع ہوا جسے دنیا نے کمرے کے کونے میں نصب ویڈیو کیمرے کے ذریعے دیکھا۔ اس سے قبل ایک سرکاری اہلکار نے پھانسی کا حکم پڑھ کر سنایا۔
صدام حسین تختے پر بلا خوف کھڑے رہے جبکہ جلاد خوفزدہ تھے، کچھ کانپ رہے تھے اور بعض نے اپنے چہرے نقاب سے چھپا رکھے تھے جیسے مافیا یا سرخ بریگیڈ کے افراد ہوں۔ وہ لرزاں اور سہمے ہوئے تھے۔
امریکی فوجی کہتا ہے:
"میرا جی چاہا کہ میں بھاگ جاؤں جب میں نے صدام کو مسکراتے دیکھا، جبکہ وہ آخری الفاظ میں مسلمانوں کا شعار پڑھ رہے تھے: لا إله إلا الله محمد رسول الله۔
میں نے سوچا کہ شاید کمرہ بارودی مواد سے بھرا ہوا ہے اور ہم کسی جال میں پھنس گئے ہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں لگتا کہ کوئی شخص اپنی پھانسی سے چند لمحے پہلے مسکرا دے۔
اگر عراقی یہ منظر ریکارڈ نہ کرتے تو میرے امریکی ساتھی سمجھتے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں، کیونکہ یہ ناقابلِ یقین تھا۔
لیکن راز یہ ہے کہ اس نے کلمہ پڑھا اور مسکرایا۔
میں یقین دلاتا ہوں کہ وہ واقعی مسکرایا، جیسے اس نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہو جو اچانک اس کے سامنے ظاہر ہوگئی ہو۔ پھر اس نے مضبوط لہجے میں کلمہ دوبارہ کہا جیسے کوئی غیبی طاقت اسے کہلا رہی ہو۔"
💢 صدام حسین کے بارے میں چند حقائق
1- وہ پہلا حکمران تھا جس نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر میزائل برسائے۔
2- اس نے یہودیوں کو خوف زدہ کر دیا کہ وہ بلیوں کی طرح بنکروں میں چھپ گئے۔
3- وہ جنگوں میں بھی عرب قومیت کے نعرے لگاتا تھا۔
4- اس نے جج سے کہا: "یاد ہے جب میں نے تمہیں معاف کیا تھا حالانکہ تمہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی!" جج گھبرا گیا اور استعفیٰ دے دیا، پھر رؤوف کو لایا گیا۔
5- اس نے کہا: "اے علوج! ہم نے موت کو اسکولوں میں پڑھا ہے، کیا اب بڑھاپے میں اس سے ڈریں گے؟"
6- اس نے شام و لبنان کو کہا: "مجھے ایک ہفتہ اپنی سرحدیں دے دو، میں فلسطین آزاد کرا دوں گا۔"
❣️ آخری لمحے
پھانسی سے قبل امریکی افسر نے صدام سے پوچھا:
"تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟"
صدام نے کہا:
"میری وہ کوٹ لا دو جو میں پہنتا تھا۔"
افسر نے کہا: "یہی چاہتے ہو؟ مگر کیوں؟"
صدام نے جواب دیا:
"عراق میں صبح کے وقت سردی ہوتی ہے، میں نہیں چاہتا کہ میرا جسم کانپے اور میری قوم یہ سمجھے کہ ان کا قائد موت سے خوفزدہ ہے۔"
پھانسی سے قبل اس کے لبوں پر آخری کلمات کلمہ شہادت تھے۔
اور اس نے عرب حکمرانوں سے کہا تھا:
"مجھے امریکہ پھانسی دے گا، مگر تمہیں تمہاری اپنی قوم پھانسی دے گی۔"
یہ کوئی معمولی جملہ نہ تھا بلکہ آج ایک حقیقت ہے۔
منقول
ایک بھائی نے رابطہ کرکے بتایا کہ:
سال 2014 میں ہمارے گاؤں میں تصویر میں نظر آنے والا یہ شخص آیا تھا۔ لوگوں میں افواہ پھیل گئی کہ یہ چور ہے اور کچھ لوگ جمع ہوکر ما*رنے لگے۔
ہمارے ایک بزرگ نے انکی جان چھڑائی، ایک طرف لیجاکر بات کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ قوت سماعت و گویائی سے محروم تھے۔
نا بول سکتے ہیں اور نا سن سکتے ہیں۔
انکو اپنے ڈیرے میں لائے کھانا کھایا اور آرام کروایا۔
ہم نے انکے ورثاء تلاش کرنے کی بہت کوشش کی سوشل میڈیا پر بھی اشتہار چلوائے لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔
اس وقت یہ پنجاب کے شہر ہارون آباد میں اسی بزرگ کے خاندان کے پاس موجود ہے۔ اپنوں کی یاد جب آتی ہے تو بہت دکھی ہوجاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں آپکے پلیٹ فارم سے اس جوان کو اپنے ورثاء مل جائیں۔
ایک بےزبان انسان کی مدد کے لئے آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ ملک کے جس کونے سے بھی انکا تعلق ہو وہاں تک یہ خبر پہنچ جائے۔
اگر یہ معصوم بےزبان ہے تو آپ سن اسکی زبان بنیں۔ان شاءاللہ اسکی دعا آپ کے حق میں اللہ کے حضور ضرور قبول ہوگی۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
03162529829
8 Jan 2026
#waliullahmaroof #Missingperson #MissingChild #Pakistan
ان بچوں کی والدہ بے نظیر انکم سپورٹ کے پیسے لینے گئیں اور تین دن گزرنے کے بعد بھی گھر واپس نہیں لوٹیں۔
پولیس والوں کا کہنا ہے پہلے خرچہ پانی دیں پھر والدہ کو ڈھونڈیں گے۔
DPO اوکاڑہ راشد ہدایت اور متعلقہ SHO سے درخواست ہے کہ اس کیس کو اپنی زیر نگرانی جلد از جلد حل کریں۔
سوشل میڈیا سے گزارش ہے کہ آپ بھی اس پوسٹ کو شئیر کر کے ان بچوں کی آواز بنیں۔
شکریہ
ہارٹ اٹیک میں خود کو بچانے کے لیئے یہ 3 چیزیں ہر گھر میں آپک گاڑی میں آپ کے بیگ میں آپ کے آفس میں ہر وقت آپکے پاس موجود ہونی چاہیئے
1. Angised Tablet
2. Disprin
3. Cardiac Patch
جیسے ہی ہارٹ اٹیک کی علامات محسوس ہوں بغیر وقت ضائع کیجئے angised زبان کے نیچے رکھیں
ہارٹ اٹیک کی علامات سامنے آتے ہی فوراً ڈسپرین کی گولی چبائیں، ثابت نگلنے میں وقت ضائع نہ کریں، ڈسپرین کو چبائیں تا کہ جلدی اثر ہو
اور Cardiac Patch اس کو سینے کے بائیں جانب چپکائیں،
اور فوراً ہسپتال پہنچیں
نیو دہلی کے ایک ماہر ڈاکٹر نے گھٹنوں اور کمر کے جوڑوں کے درد میں مبتلا ہزاروں مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔
اس ویڈیو کلپ کو غور سے دیکھیں، پھر خود آزمائیں یا اُن افراد کو تجویز کریں جو گھٹنوں یا کمر کے درد سے پریشان ہیں۔
بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف 7 دن کے اندر ان کے گھٹنوں اور کمر کا درد نمایاں طور پر کم ہو گیا، بلکہ بعض کے مطابق مکمل طور پر ختم ہو گیا۔
ایک نابینا حافظ صاحب ایک بستی کی گلی میں لاٹھی ٹیکتے ہوئے گذر رہے تھے۔ کہ اچانک ان کے کانوں میں آواز آئی
تیری ماں نوں حافظ یہوے
حافظ صاحب چشم تصور سے اس منظر کو دیکھ کر رک گئے
دو پڑوسی زنانیاں صحن کی مشترکہ دیوار کے آر پار لڑ رہی تھیں
دوسری بولی تیری ماں نو حافظ یہوے
پہلی چیخی تیری دھی نوں حافظ یہوے
دوسری ترکی بہ ترکی بولی تیری دھی نوں حافظ یہوے
بہن خالہ پھھی بھانجی بھتیجی ہر زنانہ رشتے کو نذرِ حافظ کیا گیا
حافظ صاحب فرط مسرت سے لبریز سوچ رہے تھے وہ یہ بھاری ذمہ داریاں کیسے اٹھائیں گے ، کہ اچانک مکمل خاموشی ہوگئی
حافظ صاحب نے کچھ دیر بے یقینی کی کیفیت میں انتظار کیا پھر بڑی درد بھری آواز میں گویا ہوئے
اوئے کتھے ٹُر گئیاں او ؟؟؟ میرے واسطے کی حکم اے کھلوواں کہ جاواں ؟؟؟؟
امریکہ کی باقی دنیا سے لڑائی چل رہی ہے
حافظ صاحب دونوں جانب کے ارادے سن کر پر امید ہیں۔
ہمیں یہ تو پتہ نہیں لڑتی زنانیاں حافظ کا استعمال کرتی بھی ہیں یا نہیں۔ حافظ البتہ بھاری ذمہ داریوں کا سوچ سوچ کر شلوار کندھے پر ڈال کر پھر رہا ہے۔
بریکنگ نیوز🚨: پندرہ سالہ آٹھویں جماعت کی طالبہ مہوش کو اس کے گھر سے جبراً اغوا کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریکارڈ یافتہ مجرم شاکر حجانہ اسے تشدد کے بعد زبردستی عدالت لے گیا تاکہ اپنے حق میں بیان دلوایا جا سکے، مگر بچی نے عدالت میں شور مچاتے ہوئے سچ بتا دیا کہ اسے اغوا کرکے لایا گیا ہے، جس پر ملزم فرار ہوگیا اور بچی اپنی والدہ کے پاس واپس پہنچ گئی۔ افسوسناک طور پر کچھ ہی عرصے بعد اسے دوبارہ گھر سے اغوا کر لیا گیا اور اس بار کوئی مدد کو نہ آ سکا۔ کوٹ ادو پولیس نے دو ایف آئی آر درج تو کر لیں، لیکن ملزم تاحال آزاد ہے جبکہ معصوم بچی اب بھی اغواکار کے قبضے میں ہے۔ یہ صورتحال اس بات پر سنگین سوال کھڑے کرتی ہے کہ آخر یہ مجرم کوٹ ادو اور ڈی جی خان میں اتنا بااثر کیوں ہے۔