کیا آج بھی پاکستان میں مقبول ترین جماعت تحریک انصاف ہی ہے یا اب کوئی اور ہے ؟
اس سروے کے نتیجے سے { نامعلوم } کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ مقبول جماعت کونسی ہے -•
#عید_خان_اور_مزاحمت_کے_نام
“میں ساری زندگی جیل کی چکی میں گزار لوں گا لیکن فرعونیت اور یزیدیت کے سامنے نہیں جھکوں گا!!
قانون کی حکمرانی میری تحریک کا مرکزی مقصد ہے، جس سے ہم جنگل کا قانون ختم کریں گے-
جب سیاسی جماعت پر تمام دروازے بند کر دئیے جائیں ان پر ظلم کیا جائے، عدلیہ آزاد نہ ہو تب ان کے پاس سوائے پر امن احتجاج کے کوئی دوسرا راستہ نہیں بچتا۔
میں اپنی پارٹی، کارکنان اور سپورٹرز کو ہدایت کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ ایک بھرپور ملک گیر تحریک کے لیے تیار ہو جائیں۔ اس بار صرف اسلام آباد نہیں پورے پاکستان کی کال دوں گا-
پارٹی کے تمام لوگوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں آپ میں سے کوئی بھی “الیکٹیبل” نہیں ہے۔ آپ سب نظریے کے زور پر جیت کر آئے ہیں۔ مجھے سب کے بارے میں معلوم ہے کہ کون وکٹ کے دونوں اطراف کھیل رہا ہے، جو پارٹی احکامات پر عمل پیرا نہیں ہو گا اس کی جماعت میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ مجھے جب بھی موقع ملا پارٹی انتخابات کرواؤں گا۔ پارٹی میں الیکشن کروانا ناگزیر ہے تاکہ ورکرز اوپر آ سکیں۔
نو مئی صرف آدھے گھنٹے کا کیس ہے۔ اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج چرانے والے ہی اصل ذمہ دار ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے نو مئی کیا تھا تو CCTV فوٹیجز سامنے لے آئیں۔
پولی گرافک ٹیسٹ تو شہباز شریف کا ہونا چاہیئے اور اس سے پوچھنا چاہئیے کہ وہ فارم 47 سے آیا ہے یا 45 سے۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم ہوں، جس کے لیے جیل میں علیحدہ کیٹیگری ہوتی ہے لیکن مجھے جیل میں عام قیدیوں والی سہولیات بھی نہیں دی گئیں- مجھے جیل کے جس سیل میں 22 ماہ سے قید کیا ہوا ہے وہ ایک “چکی” ہے۔ اسی ملک میں چوروں کو وی وی آئی پی سیل میں رکھا گیا جو کسی “سویٹ”سے کم نہیں تھے۔
یہاں جنگل کا قانون نافذ ہے اور ایک کرنل کے کہنے پر تمام عدالتی احکامات ہوا میں اڑا دئیے جاتے ہیں- میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری بہنوں کو مجھ سے ملنے نہیں دیا جاتا۔ میری کتابوں سے پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے کہ ڈھائی ماہ سے مجھ تک کوئی کتاب نہیں پہنچنے دی گئی، صرف وہی کتابیں دی جاتی ہیں جو پہلے ہی پڑھ چکا ہوں- میں ایک سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں لیکن میری جماعت کے لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی حالانکہ ان کے پاس عدالتی احکامات موجود ہوتے ہیں-
صرف مجھے اذیت دینے کے لیے میری اہلیہ کو سزائیں سنائی گئیں اس سے زیادہ گھٹیا پن کیا ہو سکتا ہے۔ ایک ہفتے میں میری اہل خانہ یا وکلاء سے صرف 30 منٹ کی ملاقات کروائی جاتی ہے۔ میری اہلیہ پر صرف سہولت کاری کا جھوٹا الزام تھا جو ثابت بھی نہیں ہو سکا۔
کل ہائی کورٹ کے باہر ہونے والے احتجاج میں تمام اپوزیشن اراکین لازمی شرکت کریں۔چھبیسیوں ترمیم کے بعد عدلیہ بلکل مفلوج اور بےاثر ہو چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بارہا وعدے کرنے کے باوجود بھی ہمارے کیسز نہیں لگا رہا-
سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل کے حق میں فیصلہ دے کر اپنے ہی عدالتی نظام پر عدم اعتماد کر دیا ہے-
بھارت کے جواب میں ہماری فورسز خصوصاً پاک فضائیہ نے زبردست جواب دیا ہے اور پوری قوم نے بھی ساتھ دیا۔ میں جیل میں مقید ہوں مگر یہاں بھی لوگوں نے پاکستان کے جواب پر خوشی منائی۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی دوران ٹرائل کارکنان، وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو اور سوالات کے جوابات
“تمام پاکستانیوں کو بحیثیت قوم چوکس اور متحد رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ نریندر مودی پاکستان پر حملے سے اپنی اندرونی ساکھ کو بڑھاوا دینا چاہتا تھا، اس کے مذموم عزائم ناکام ہو چکے ہیں اور وہ زخمی ہے- وہ اپنی رسوائی کے بعد مزید حماقت کرے گا، جس کے لیے ہمیں بطور قوم تیار رہنا چاہیے۔
ان حالات میں ملک و قوم کو اتحاد اور یگانگت کی بہت ضرورت ہے۔ اس اتحاد کے لیے بہت ضروری ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کی خاطر آئین و قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ظلم کے خاتمے کے لیے جس کے پاس اختیار ہے اس سے بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مجھے اپنے لیے کسی ڈیل یا آسائش کی ضرورت نہیں۔
نون لیگ کی کٹھ پتلی حکومت سے کسی بھی قسم کی گفتگو یا مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ اس حکومت کا جھوٹے اقتدار سے چمٹے رہنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ حکومت ہے جس نے پاکستان کی اخلاقی اقدار اور آئینی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ پاکستان کا جو تہذیبی و اخلاقی ڈھانچہ تھوڑا بہت قائم تھا، وہ ان لوگوں نے پچھلے دو سال میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ چور ہونا یا ڈاکو ہونا اس وقت اقتدار کی علامت بن چکا ہے۔
آج کے حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ “امر بالمعروف” پر یقین رکھتے ہیں، اگر آپ نیکی اور سچائی کا راستہ دکھاتے ہیں، تو آپ جرم کے مرتکب سمجھے جاتے ہیں۔ آج کے پاکستان میں جن کو این آر او ملتا ہے، وہی سب سے بڑے عہدوں پر براجمان ہوتے ہیں۔ جو چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں، انہیں معافی ملتی ہے- لیکن جو سچ کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ جیل میں ڈالے جا رہے ہیں۔
جب عوام 9 مئی کو ظلم کے خلاف سڑکوں پر پرامن احتجاج کے لیے نکلی، تو ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ ڈاکٹر یاسمین راشد اور عندلیب عباس دونوں ایک ہی گاڑی میں سوار تھیں لیکن ایک نے پریس کانفرنس کر کے سچ کے خلاف مؤقف اختیار کیا، وہ آج باہر ہے، اور جو سچ کے ساتھ کھڑی رہیں، وہ آج بھی جیل میں ہیں۔
شاہ محمود قریشی پر بھی شدید دباؤ تھا کہ وہ سائفر کیس میں میرے خلاف بیان دیں، لیکن جب انہوں نے سچ کا ساتھ دیا، تو وہ آج اس کیس سے بری ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں۔ اگر وہ جھوٹ کے ساتھ ہوتے، تو آزاد گھوم رہے ہوتے۔
الیکشن کی لوٹ پر کھڑی فارم 47 حکومت کے بلند و بانگ کھوکھلے دعووں کے باوجود پاکستان کی معیشت ڈوب رہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا حصول ناممکن ہے۔ معیشت کی بدحالی دراصل ملک میں آئین و قانون کے نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔
جھوٹ اور فریب پر مبنی یہ نظام آزاد عدلیہ کا سامنا نہیں کر سکتا۔ 8 فروری 2024 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ کو لوٹنے کے بعد مسلسل عدالتی نظام پر ایک حملہ جاری ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم اسی حملے کی ایک کڑی ہے جسے اعظم تاررڑ اوراحسن بھون نے نون لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کی “فیکٹری” میں مینوفیکچر کیا- اس کا مقصد تھا کہ ایک قاضی فائز عیسٰی کی جگہ کئی قاضی فائز پیدا کرو، ہر کورٹ میں ایک قاضی فائز بٹھاؤ اور پورا انصاف کا نظام دفن کر دو-
اقتدار پر قابض ناسمجھ لوگ جھوٹے نظام کو بچانے کے لیے ملک کے ہر علاقے میں پاکستانیوں پر ظلم کر رہے ہیں۔ چادر اور چار دیواری کو پامال کر دیا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین، بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی اغواء کاری اور ان پر تشدد روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔
حضرت علی کا مشہور قول ہے: کفر کا نظام چل سکتا ہے، مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔
پاکستان میں رائج ظلم، جبر اور نانصافی کا نظام بھی انشأللہ ذیادہ دیر نہیں چلے گا!
میری بہنوں نے مجھے قاسم اور سلیمان کے پہلے انٹرویو کے مندرجات اور انٹرویو کی پاکستانی عوام کی جانب سے بےحد پذیرائی اور پسندیدگی کے بارے میں بتایا جسے سن کر بہت خوشی ہوئی-
ملک میں اس وقت انسانی حقوق مکمل طور پر معطل ہیں۔ میرے ساتھ جیل میں غیر انسانی سلوک مسلسل جاری ہے۔ میرے بچوں سے کئی کئی ماہ میری بات نہیں کروائی جاتی- میری کتابیں تک نہیں پہنچنے دی جاتیں اور نہ ہی میرے ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی ہے- یہ سب عدالتی احکامات اور قوانین کی مسلسل توہین ہے-
میں اپنے پارٹی لیڈرز، خواتین اور ورکرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو اس وقت بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ وہ تمام افراد جو ناجائز فوجی عدالتوں کی وجہ سے جیل میں ہیں، وہ بہادری کا استعارہ ہیں۔”
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں گفتگو (20-05-2025)
“پاکستانی قوم کو بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم نے ہمارے انصاف کے نظام کا جنازہ نکال دیا ہے اور ملک اس وقت مکمل ڈکٹیٹر شپ میں جا چکا ہے- سویلینز کا ملٹری ٹرائل قانونی قرار دینا اسی ترمیم کا نتیجہ ہے۔ ایوانوں میں اس ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے تو صرف کٹھ پتلی تھے اور احکامات کی پاسداری کر رہے تھے۔
دنیا کی کسی جمہوریت میں اپنے شہریوں کے ساتھ ایسا مذاق نہیں ہوتا کہ انہیں احتجاج کرنے پر ملٹری کورٹس کے حوالے کر دیا جائے۔ اس طرح کے فیصلوں سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہوتی ہے۔
نو مئی کے واقعات میں اپنے بچوں کو سزائیں دینے کے بجائے توجہ ہندوستان سمیت دیگر اندرونی و بیرونی مسائل پر مرکوز ہونی چاہیے۔ یہ وقت نوجوانوں کو متحد کرنے کا ہے۔
جن نوجوانوں کو ملٹری کورٹس سے دس ، دس سال کی سزائیں دلوائی گئی ہیں ان کا جرم صرف احتجاج کرنا ہے۔ بارہا کہتا ہوں کہ نو مئی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوائی جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ اصل مجرمان کون ہیں اور سزائیں کن کو ملنی چاہئیں ۔ یوں کسی آرمی افسر کے کہنے پر قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کو برباد کرنا ظلم ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کا دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ ججز اب صرف ایک سرکاری ملازم کی حیثیت رکھتے ہیں اور کوئی آزادانہ فیصلہ نہیں لے سکتے۔ ججز کو ایک فرد واحد سب فیصلے لکھ کر دیتا ہے جو کہ نظام انصاف کی موت ہے۔ میرے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمات اسی لیے چل رہے ہیں کیونکہ عدلیہ آزاد نہیں ہے۔
القادر ٹرسٹ کیس سمیت میرے خلاف بنائے گئے تمام کیسز بوگس ہیں اس لیے مرضی کے ججز لانے کے باوجود میری اپیلیں مسلسل التوا میں رکھی جا رہی ہیں- جس دن میرے مقدمات میرٹ پر سنے گئے سب کا خاتمہ ہو جائے گا۔
میرا تمام پارٹی عہدیداران کے لیے واضح پیغام ہے کہ وہ تحریک چلانے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ میری پہلی ترجیح تحریک اور پارٹی کی تنظیمِ نو ہے۔
جنید اکبر پر مجھے پورا اعتماد ہے۔ اگر وہ تنظیمی ذمہ داریوں پر فوکس رکھنے کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی چلا سکتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اہل خانہ اور وکلأ سے ملک میں جاری لاقانونیت اور فسطائیت پر گفتگو
(13-05-2025)
2/2
“پاک بھارت حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ “فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے”- جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-
مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں-
میں پاک فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مودی کی طرح سویلنز اور سول تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے پاکستان پر حملے میں شامل طیاروں اور تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کر کے کامیابی حاصل کی-
نریندرمودی پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو گا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ کرنے کی کوشش کرے گا جیسا جموں کشمیر میں کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا۔ میں 2019 میں بھی اس حوالے سے پیشنگوئی کر چکا تھا- مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
دوران جنگ فوری ردعمل دینا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔
حالت جنگ میں فوج کو عوام کی حمایت کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور قوم کا مورال بہت اہمیت رکھتا ہے جو فوج کا سہارا بنتا ہے۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو "آئیسولیٹ" نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات میں بھارت کے پاکستان پر حملے اور پاکستانی قوم کے جوابی ردعمل کے حوالے سے گفتگو
(13-05-2025)
1/2
گوجرانوالہ کامونکی میں طلباء روڈوں پر نکل آئے جی ٹی روڈ بند کر دیا
پنجاب کالج میں بچی سے زیادتی کا معاملہ مریم نواز لی نااہل حکومت کے گلے پڑے گا دیکھنا
انصافیو ہائی اپنے طلباء کے احتجاج کو ہائی لائٹ کرو انکی آواز اٹھائیں