تھوڑا بدل گیا ہوں میں، نہیں کوئی تکلیف نہیں ہے بس اب زندگی صیح نہیں لگ رہی، لوگوں سے کم بات کرتا ہوں فون نہیں اُٹھاتا، میں لوگوں کو rude لگنے لگا ہوں پتہ نہیں یہ دور کب بیتے گا، زندگی کے اس دور سے مُسکرا کے گُزر رہا ہوں۔
دوست کبھی نہیں بچھڑتے بس وقت اور حالات کی زد میں آ جاتے ہیں گفتگو خاموش ہو جاتی ہے۔
احمد فراز فرماتے ہے۔
جزترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
تو کہاں ہے مگر اے دوست پرانے میرے
چیزیں واقعے ٹھیک ہو جاتی ہے وقت بھی اخر کار کروٹ بدل لیتا ہے زخم بھر جاتے ہیں اور حالات بھی سنبھل جاتے ہیں مگر ان سب کے بیچ ہم وہ نہیں رہتے جو کبھی ہوا کرتے تھے کچھ بھروسے کم ہو جاتے ہے کچھ مسکراہٹیں محتاط ہو جاتی ہیں اور دل سیکھ لیتا ہے ہر بات پر یقین نہ کرنا۔
مجھے کسی نے ایک بار کہا تھا کہ آپکو تھوڑا چلاک ہونا چاہیے یہ دنیا سیدھے لوگوں کے لیے نہیں ہے اس دن نہیں سمجھ آئی تھی بات ، آج جب لوگ فائدہ اٹھا لیتے ہیں یہ آسانی سے بیوقوف بنا لیتے ہیں تب لگتا ہے ارے یار زیادہ بھُولے رہ گئے ہم۔
مشکلوں کا دور آئے تو چپ رہنا سیکھنا دوست، وقت جب برا چل رہا ہوتا ہے نہ تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑا جاتا ہے، انتظار کرنا اور وقت کو سدھرنے دینا، دیکھنا اسکے بعد زمانہ تیرے بِن بولے سب سمجھ جائے گا۔
دوست بہت ضروری ہوتے ہیں ایک سہارا ہوتا ہے کہ تم ہی اکیِلے گدھے نہیں ہو کوئی اور بھی ہے جو تمہاری ہی طرح ہے خراب سے خراب جگہ پر بھی comfortable feel کروا دیتے ہیں یہ دل نہیں توڑتے، ان سے روز بات نہ بھی ہو پھر بھی پہلے کی طرح ہی بات ہوتی ہے بس دوستیاں ایسی ہی ہوتی ہے🫠