سندھ میں رہنے والی تمام قومیتوں کو سندھ کی قدیم مہمان نواز دھرتی کا احترام کرتے ہُوئے سندھ سے وفا کا عہد کرنا چاہئیے ۔ سندھ کے تمام باسی خواہ وہ سندھی ہوں ، اُردو بولنے والے ہوں ، پشتون ہوں، پنچابی ہوں ، بلوچ ہوں ، کشمیری ہوں گلگت بلتستان سے ہوں ۔ سب کو مل کر سندھ کو اپنا گھر سمجھ کر کراچی کو سندھ سے علیحدہ کرنے کی ہر سازشی خواہش کے خلاف دیوار بن جانا چاہئیے!!!!
"اگر ہمارے لوگوں کو یہاں میرے ملک پر قبضہ کرنے کا حق ہے، میری کوئی ذاتی، میری کوئی اجتماعی، میری کوئی قومی وطن نہیں ہے؟ پاکستان بننے کے چودہ اگست کو میں بے وطن بن گیا، میرا مال، مال غنیمت بن گیا، جو بھی جہاں سے آئے، جس جنرل کی مرضی ہو، میرے ملک پر، میرے دریا پر، میری آبادی پر، میرے بچوں کے رزق پر قبضہ کر دے، بات سے سخاوت کر دے۔ کیا اس لیے میں نے پاکستان بنایا تھا؟ کیا یہ تھا پاکستان کا مفہوم؟ پاکستان ریزولوشن یہ تھا؟
یہ سندھ، 1940 ریزولوشن کے تحت پاکستان میں شامل ہوا تھا۔ کوئی لاٹری نہیں لکھی گئی۔ کسی جنرل نے ہمیں حکم نہیں دیا تھا کہ تم مسلمان میری بائیک یا آتشیں کرتے ہو اس وقت، کہ مسلمان کے معنی ہو گیا تمہارا ملک میرا ہوگا، تمہاری زمین کو میں فتح کروں گا۔ میں دوسرے اُچکوں اور بدمعاشوں کو بلا کر چلو ملک کو تقسیم کر دوں گا، پھر ہم پاکستان میں شامل ہوتے تو ہم بزرگ۔
وی وڈ ناٹ ہیو اِنٹرڈ پاکستان، جب تک کنڈیشنز ڈو ناٹ گیون ٹو اس،
ہمارے ساتھ فراڈ ہوا۔ ہمیں مس گائیڈ کیا گیا ہے، ہمیں اس وقت جو کہا گیا تھا، وہ کہا گیا کہ یہ اسلام کا ملک ہوگا، بھائ چارہ ہوگا، تمہارے حقوق کا تحفظ ہوگا، جمہوریت ہوگی، اسلام کے روشن اور درخشاں سالوں پر عمل کیا جائےگا۔ ہمیں یہ نہیں کہا گیا کہ جنرل یہاں بیٹھ کر اپنے ایک فاشسٹ آڈیالوجی کے تحت ہمیں حکم دیں گے کہ اسلام یہ ہے۔
اسلام ہمیں کوئی نہیں سکھا سکتا، ہم سب سے بہتر اسلام کے طالب علم ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ اسلام کا روح کیا ہے، ہم عمر رضه کو جانتے ہیں، ہم سارے اساتذہ، ہمارے کرداروں کے ان کے نقطہ نظر سے اچھی طرح واقف کرتے ہیں، ہمیں یہاں لوگوں سے سیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کا روح کیا ہے، جمہوری روح کیا ہے۔"
رسول بخش پليجو.
#SindhIsOne
@AliFahimp Karachi ne pehli bar dehshat gardi 1947 ke baad mehsoos ki jab India se bhag ker aane wale panah giron ne Sindh mein fasad aur balwe ka aaghaz kya
نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے نہ پوچھیے کہ کیا حسین ہے
میرا بادشاہ حسین ہے میرا بادشاہ حسین ہے
عمل کا رہنما بھی جو شاہوں کا ہے شاہ بھی
ایسا شہنشاہ حسین ہے
سنو سنو یہ دین تو حسین کا ہمیں انعام ہے
یہ بات کس قدر حسیں جو کہہ گئے معین الدیں
کہ دین کی پناہ حسین ہے
شہید وہ شہید ہے شہیدوں کو بھی جن پہ ناز ہے
یہ ہو چکا ہے فیصلہ نہ کوئی دوسرا خدا
نہ کوئی دوسرا حسین ہے
دعاؤوں میں نواؤں میں اُنہیں وسیلہ جو بنائے گا
نہ راستے میں موڑ ہے نہ واسطے میں موڑ ہے
ایسی سیدھی راہ حسین ہے
شہید کربلا کا نام جس کو ناگوار ہے
وہ بد نظر ہے بد نصب اُنہیں میں یہ شمار ہے
ارے اُو منکرِ ازل تو مر ذرا قبر میں چل
پتا چلے گا کیا حسین ہے
فنا کے بعد پھر مجھے نئی حیات مل گئی
عذاب سے عتاب سے مجھے نجات مل گئی
سوال جب کیا گیا ہے کون تیرا پیشوا
تو میں نے کہہ دیا حسین ہے
اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم
اللھم ربّنا آمین
We stand firmly with Dr. Abdul Qadeer Memon and family of Saeed Memon. We fully support the call for his safe recovery and extend our solidarity with all those raising their voices for justice and human dignity.
#RecoverSaeedMemon