اختیار ولی تنقید کر رہے تھے کہ منصور علی خان نے پریس کانفرنس میں ان کے ساتھ ہی بیٹھنے والے جلال خان کو ٹیلی فون پر لیا اور انہوں نے کہا کہ سب ہماری مشاورت سے ہوا اور سپورٹ کرتے ہیں۔
استعفیٰ دے کر مراعات سمیٹنے والوں کے لیے یہ خبر قابلِ غور ہے۔ سردار اختر مینگل نے 78 لاکھ 92 ہزار روپے “رضاکارانہ” نہیں بلکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے حساب مانگنے کے بعد واپس کیے۔ اگر ریکارڈ اور آڈٹ نہ بولتے تو شاید یہ رقم بھی خاموشی سے خزانے سے باہر ہی رہتی۔۔۔👇👇
خیبرپختونخواحکومت نے وزرا اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اپنے ارکان اسمبلی کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ
مراعات اور اختیارات قانون کی دفاع سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹا جائے میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس بل کی مخالفت کرنے والوں کو بھرپور جواب دیا جائے
نہ بلیو پاسپورٹ واپس لیا جائے گا نہ صحافیوں کیلئے تجویز کی گئی سزاؤں میں کمی کی جائے گی
خیبرپختونخوا اسمبلی میں جو بل پاس ہوا اس کو نہ سپورٹ کرتی ہوں نہ جسٹیفائی کرتی ہوں، یہ بلز خان کے نظریے کے خلاف ہیں، سینیٹر مشال یوسفزئی
@AkMashal@SohailKhan@BabarSaleemSwat
پشاور سے اسلام آباد 560 ٹول ٹیکس۔۔وہ بھی نہیں دینا؟ منصور علی خان اور رائے ثاقب کھرل کا سوال
2003 سے تمام پارلیمنیڑینز، ججز اور جرنیل ٹول ٹیکس نہیں دیتے، شفیع جان
پی ٹی آئی سوشل میڈیا انتہائی ظالم ہے
کچھ عرصہ قبل ایک ترجمان کا سوشل میڈیا اکائونٹ ان کی وجہ سے خاموش ہوگیا تھا
اب
ان کی وجہ سے
ایک حکومت کے ترجمان کا بھی اکائونٹ کل سے خاموش ہوگیا ہے
امید ہے آج یہ خاموشی ٹوٹ جائیگی
🚨🚨سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور کا پارٹی وٹس ایپ گروپ میں آڈیو پیغام لیک 🚨🚨
مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ مانگنے والے ممبران کے نام پبلک کرنے کا مطالبہ
صوبے میں ڈرون حملے ہو رہے ہیں
صوبے میں صوبائی حکومت کے فنڈ سے آپریشن ہو رہے ہیں مزید بھی ہوں گے
ممبران اسمبلی اور وزراء خراب کوالٹی کی وجہ سے کام رکوا رہے ہیں
بھرتی ہوتی ہے تبادلہ ہوتا ہے اسی محکمے کے لوگ ثبوت کیساتھ پریس کانفرنس کردیتے ہیں
بیڈ گورننس کی لعن طعن ہم پر آتی ہے
جس جس نے اس قانون میں حامی بھری ہے حکومت ان کے نام سامنے لائے
فنانس کمیٹی کی سب کمیٹی بنا کر ایم پی ایز کی تنخواہیں ببی بڑھا دی گئی ہیں
عمران خان نے ایم پی ایز کی تنخواہ بڑھانے سے انکار کردیا تھا
میں اس کا حصہ نہیں ہوں
اپنے پارٹی اور لیڈر کے نظریے کی بلی نہیں چڑھا سکتا
علی امین گنڈاپور
"KPK میں تعلیم اور صحت کا جنازہ نکل چکا ہے! سیکیورٹی گارڈ کی ڈگری کی تصدیق مانگی تو گومل یونیورسٹی کے VC کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ صوبے کی 34 میں سے 18 جامعات تباہی کے دہانے پر ہیں اور پشاور یونیورسٹی دیوالیہ ہو چکی!
صحت کا حال یہ ہے کہ انگریزوں کے دور کے بنے 'لیڈی ریڈنگ ہسپتال' کا کریڈٹ بھی یہ جھوٹے وزراء لے رہے ہیں۔ نیا ہسپتال بنانا تو دور، پرانے بھی تباہ کر دیے۔ یہ تبدیلی نہیں، صرف کاسمیٹک دھوکہ ہے! 🛑"
اختیار ولی خان (کوارڈینیٹر برائے وزیراعظم)
منصور علی خان راکڈ، شفیع جان شاکڈ۔۔۔۔۔ جو سکرین شاٹ صوبائی وزیراطلاعات شفیع جان کی جانب سے بھیجا گیا، اسی کے مطابق مراعات بتائے گئے تو شفیع جان نے اپنے ہی سکرین شاٹ کی تردید کی کوشش کی۔۔
@_Mansoor_Ali@ShafiJanPTI
ایک تو یہ نالائق ہیں دوسرا یہ پڑھتے بھی نہیں
وزیراعلی سمیت وزرا کابینہ سے قانون کی منظوری دیتے ہیں مگر کسی کو یہ تک نہیں پتہ کہ اس قانون میں ہے کیا
نالائقی پر نالائقی کی انتہا دیکھ لیجئیے
سہیل آفریدی صاحب کہہ رہے ہیں کہ مراعات بل کی کابینہ نے منظوری دی جس کےبعد اسمبلی میں اس میں کچھ ترامیم ہوئی
کیا ترمیمی بل کی دوبارہ کابینہ سے منظوری لازمی ہے
چلیں اگر نہیں ہے تو پھر جو ترامیم اس قانون میں شامل کی گئیں کیا اس کی شق وار ایوان سے منظوری لی گئی
اور اگر لی گئی ہے تو پھر اس بل کو آج تک دیگر قوانین کی طرح اسمبلی کی ویب سائٹ پر کیوں اپلوڈ نہیں کیا گیا
اس قانون کو کیوں اڑھائی ماہ تک چھپایا جاتا رہا
بجائے اس کے کہ اپنی غلطی کو تسلیم کیا جائے کہ کالے قانون کی کابینہ سے منظوری ان کی نالائقی یا نااہلی تھی
الٹا بلیو پاسپورٹ، مراعات اور اختیارات کی برسات پر آواز اٹھانے والوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے
عوام مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کے بلوں اور بنیادی سہولیات کے بحران میں پِس رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اپنے لیے مراعات کے دروازے کھولے جا رہے ہیں۔
تاحیات بلیو پاسپورٹ، مفت فضائی و زمینی سفر، خاندان سمیت مفت علاج، ماہانہ میڈیکل الاؤنس، بلٹ پروف گاڑیاں، سرکاری ہیلی کاپٹر، چارٹرڈ طیارے اور فرسٹ کلاس سفری سہولیات… کیا یہی عوامی خدمت ہے؟
اگر خزانہ اتنا ہی مضبوط ہے تو سب سے پہلے سرکاری ہسپتالوں، سرکاری اسکولوں، نوجوانوں کے روزگار اور عوامی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے منتخب نمائندوں کی شاہانہ مراعات میں اضافہ کیا جائے۔
اقتدار خدمت کا نام ہے، مراعات کا نہیں۔ عوام کو سہولتیں دیجیے، حکمرانوں کی آسائشیں نہیں بڑھائیے۔
کچھ ساتھی سوال کررہے ہیں کہ جب مراعات اور اختیارات والا قانون پاس ہو رہا تھا تو اپوزیشن کہاں تھی؟
جواب
تاحیات بلیو پاسپورٹ والی شق اپویشن کے احمد کنڈی نے تجویز کی تھی
جسے حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے قانون کا حصہ بنایا
اپوزیشن نے اپنا کردار پورا ادا کیا ہے
خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں ایک ایسے کالے قانون کا مسودہ تیار کیا ہے کہ آپ پیکا ایکٹ بھول جائیں گے
آئین پاکستان سے متصادم اس قانونی مسودے میں سپیکر اور ڈپٹی سپیکر سمیت ارکان اسمبلی کو ایک ہی وقت عدالتی پیشی سے استثنی، موٹروے پر ٹول ٹیکس دینے سے استثنی، گرفتاری سے استثنیٰ، جوڈیشل مجسٹریٹ، ڈپٹی کمشنر، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور چیف سیکرٹری سے زیادہ اختیارات، اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق رپورٹنگ نہ کرنے والے صحافیوں کے داخلے پر پابندی اور سزائیں وغیرہ تجویز کرنے کے اختیارات شامل ہیں
بلیو پاسپورٹ، سرکاری رہائش گاہوں میں تین دن تک مفت قیام اور ناپسندیدہ صحافیوں کی اسمبلی داخلے یا ارکان اسمبلی کی شان میں گستاخی کرنے والے صحافیوں کے خلاف بھرپور کارروائی عمل میں لائی جائے گی