پاکستان میں الیٹ کیسے لوٹتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے کروڑوں روپے فیس لینے والی بیکن ہاؤس یونیورسٹی کو چیرٹی یعنی خیراتی ادارے کے طور پر رجسٹر کرنے کا بل پنجاب اسمبلی کی کمیٹی میں ڈسکس ہو رہا ہے اب خیراتی ادارہ بنے گا تو اربوں کے ٹیکس معاف اور بیرون ملک سے امداد بھی لے سکیں گے اور جب ایسے ادارے ٹیکس نہی دیتے تو مہنگا پیٹرول بجلی گیس عوام کو بیچنے پڑتے ہیں بیکن ہاؤس سمیت تمام اکیٹ ادارے اسلام آباد میں اسی چیرٹی کے نام پر پوش سیکٹر میں بڑے پلاٹ بھی لے چکے ہیں
آپ نے ہاکی کے کھیل میں کلیم اللہ سے سمیع اللہ کو گیند پاس کرنے کی کمینٹری تو سنی ہوگی ،وزیراعظم شہباز شریف بھی میدان سیاست کے “شہباز سینئر”ہیں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیوشن ایونیو سے متعلق CDAکے حق میں فیصلہ دیا تو اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیئے فوری نوٹس لے لیا اور یکم مئی 2026 کو اعلی سطح کی کمیٹی قائم کردی ۔کمیٹی کی سفارش پر یکم جون 2026 کو مزید تحقیقات کے لیئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دیدی جسے 60دن میں رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی۔یہ مدت پوری ہونے کے بعد بال عدلیہ کی کورٹ میں جا پہنچی ہے کیونکہ اپارٹمنٹ مالکان حکم امتناع لے چکے ہیں اور عبدالحفیظ شیخ پاشا کی اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری ہے ۔۔یوں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔۔یہ کم بخت راوی تب بے چین ہوتا ہے جب کچی آبادی میں کسی غریب کا گھر گھرانا ہو
پاکستان میں اکثریت بے ایمان ہے اور غلاظت کو غلط نہی سمجھتی ہے یہ مبینہ طور پر شان اچار بنایا جا رہا ہے شان مصالحے بھی ایسے ہی غلیظ ہوں گے میری والدہ کہتی تھیں کہ ڈبے والے مصالحے پھوہڑ عورتوں کا جگاڑ ہے ہمارے گھر پاکستان میں بھی اور یہاں ڈنمارک میں بھی ڈبے کا ہر مصالحہ مکمل بند ہے ہر مصالحہ ثابت آتا اور بوقت ضرورت گھر پر پیس لیتے ہیں چیک کریں آپ کیا کھا رہے ہیں بازار سے کھانے سے مکمل پرھیز کیجئے اپنی جان پر صحت پر رحم کیجیے
میرے ایک فالور ایجوکیشن کنسلٹنٹ ہیں بیرون ملک بچوں کو تعلیم کے لیے بھجواتے ہیں ایک مسلہ جس کی انہوں نے نشاندہی کی جس کی وجہ سے سٹوڈنٹ آف لوڈ ہو رہے ہیں وہ سٹڈی گیپ کا ہے یورپ میں آسٹریلیا اور امریکہ میں گیپ ائیر ایک معمول کی بات ہے اکثر فارن یونیورسٹیاں اسے اچھا سمجھتی ہیں یہ یہاں کا کلچر ہے اب اگر کسی سٹوڈنٹ کو یورپی ملک نے ویزا دے دیا ہے یونیورسٹی نے داخلہ دیا ہے تو پھر ایف آئی اے کا کام نہی کہ سٹوڈنٹ کے گیپ ائیر پر اعتراض کر کے اسے آف لوڈ کر لیں وہ اتنا چیک کریں کہ ویزہ یا یونیورسٹی جیبوئن ہے یا نہی اس کے بعد کسی کا مستقبل مت تباہ کریں
پنجاب حکومت کا سب سے بڑا ظلم ریڑھی والوں اور چھوٹے کاروبار والوں کے روزگار کو تباہ کرنا ہے اس ظلم پر آپ بھی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں پاکستان میں غربت سرکاری اعدادوشمار میں بڑھ رہی ایسے میں اگر کوئی روزگار کمانے کی کوشش کرے تو اس کا روزگار تباہ نہی ہونا چاہیے
جب ہم کہتے ہیں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےقاتلین شیعہ تھے تو ایک دم سے شیعوں کو تپ چڑھ جاتی ہے آوجاہلو اپنی کتابیں خود پڑھو تمھاری آنکھیں کھل جائیں گئی کہ دنیا کے تمام رزیل وبدکار لوگ اسی مزہب میں ملیں گےاور دنیا کی بدترین غلاظت اور گندگی بھی یہیں پر ہی ملےگی زاکر بتاتے نہیں
یہ مزدور پیشہ لوگ ہیں ان کے بچوں کو معمولی موسمی بخار نزلہ زکام کیلئے ولیکا اسپتال لایا گیا ۔ وہاں عملے نے ایک ہی سرنج درجنوں بچوں کو لگائی ۔ جس سے ان کو ایچ آئی وی ایڈز ہوگیا ۔ اب بچوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ چکی ہے اور ان کے والدین کا ایچ آئی وی منفی آچکا ہے ۔
اہلِ علاقہ اور والدین کے مطابق ہسپتال میں ڈسپوزایبل سرنجز اور دیگر سامان کی قلت کی وجہ سے ایک ہی سرنج ایک سے زیادہ بچوں پر استعمال کی جا رہی تھی۔
انکوائری میں بھی انفیکشن کنٹرول کے طریقہ کار میں سنگین کوتاہیاں، حفاظتی سامان کی کمی اور سنگل یوز اشیاء کے غلط استعمال کے شواہد ملے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسکریننگ کے بعد تقریباً 120 افراد (زیادہ تر بچے) ایچ آئی وی مثبت پائے گئے۔ کچھ رپورٹس میں اموات کی تعداد 6 سے 9 تک بتائی گئی۔حکومت نے آرٹ (اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی) سینٹر قائم کیے، وسیع اسکریننگ کی، 37 ملازمین کے خلاف کارروائی شروع کی اور متاثرہ بچوں کے علاج و بحالی کے لیے فنڈ مختص کیا۔
تاہم متاثرہ خاندانوں کو صرف طبی مسائل نہیں بلکہ سماجی بدنامی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ کئی بچوں کو اسکولوں سے نکال دیا گیا اور کرایہ دار والدین کو گھر خالی کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ لوگ بیماری کے خوف سے ان سے دور بھاگنے لگے۔
مئی 2026 میں ایک وکیل نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں آزادانہ انکوائری، مقدمہ درج کرنے اور متاثرہ بچوں کے لیے تاحیات علاج و معاوضے کا مطالبہ کیا گیا۔ 11 اگست 2026 کو سماعت کے دوران متاثرہ والدین نے عدالت میں شدید احتجاج کیا، جس کے بعد ججز چیمبر میں چلے گئے اور فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
یہ واقعہ پاکستان میں طبی غفلت اور انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کی ایک اور مثال بن گیا ہے، جہاں غریب خاندانوں کے بچے علاج کے نام پر خطرناک بیماری کا شکار ہو گئے۔
اللہ لاہور کو پاکستان کو اور امت مسلمہ کو ان شر پسندوں سے محفوظ رکھے آمین
کہیں سیدنا علی تمام انبیاء سے افضل اور کہیں خمینیی اور اسکا وصی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم و سیدنا علی سے افضل
عجیب و غریب عقائد کا مجموعہ ہیں ر ا ف ضی
سیدنا ابوبکر انکے نزدیک فدک کے باغ کے معاملہ میں نا انصافی کرنے والے سیدنا عمر سیدہ فاطمہ کو مارنے والے سیدنا عمر و عثمان کے قاتل انکے ہیروز
اللہ ہی ہدایت دے ادارے پتہ نہیں ان جیسوں کو کب تک ڈھیل دیتے رہیں گے جو پاکستان کی خارجہ داخلہ کسی پالیسی کو نہیں مانتے ایران کو ہی فقط اپنا وطن سمجھتے ہیں
اسکی خاطر اپنے وطن کے فوجیوں کو زندہ جلانے کے لئے تیار ہیں ہر وقت ملک میں انتشار اور فرقہ واریت کو ہوا دینے والے ہیں
یہ جواد نقوی پاکستان میں کھلے عام بکواس کر رہا ہے اور اس کو تحفظ محسن نقوی کا ہے یہ ٹولہ اب پاکستان ترکی سعودیہ تعلقات خراب کرنے نکل پڑا ہے
نقوی صاحب سسٹم کو چھوڑیں پہلے یہ آپ کے جو یہ رشتہ دار ان کو کنٹرول کریں پاکستان میں فساد مت مچانے دیں یہ آپ کی ڈیوٹی ہے
آٹھ ہزار ارب ہر سال قرضہ کے سود کی وجہ یہ ہے
یہ پنجاب میں تعلیم کی قائمہ کمیٹی کی کاروائی ہے اسے غور سے سنیں چیک کریں جب حکمران افسر شاہی کے پیچھے چلتے تو وہ کمشن اور کرپشن کے لئے سرکاری خزانہ کیسے لٹاتے ہیں
ایک پروگرام شروع ہوا کہ سرکاری سکول کا کمرہ بارہ لاکھ میں پرنسپل خود بنوا دے بہت کامیاب تھا مگر سیکٹری نے روک دیا اب وہی کمرہ چالیس لاکھ تک بن رہا ہے کام روکنے سے سیالکوٹ میں بچیاں سکول میں مر گئیں مگر سیکٹری نے پورا پلان بدل دیا بارہ لاکھ میں بننے والا کمرہ چالیس لاکھ تک پہنچا دیا اس طرح کمشن ٹھیکداری میں آٹھ سو ارب کا تعلیم کا بجٹ جا رہا جبکہ جاہل وزیر تعلیم ٹک ٹاک اور تماشوں میں مصروف رہتا ہے
مریم نواز کو افسر شاہی اس طرح بدنام کروا رہی ہے
یہ وہ میانوالی کا نیا مدر اینڈ چائیلڈ ہسپتال جس میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کو شفٹ کیا اور مریم سے فروری میں افتاح کروایا اس میں یہ بلڈ ٹسٹنگ لیب کا رستہ ہے جہاں سیوریج کا پانی کھڑا ہے سوچیں چار مہینے میں یہ حالت ہو چکی ہے
مریم صاحبہ کو سب اچھے کی رپورٹ دے رہے ہیں
آپ کو بتایا تھا کہ پنجاب میں وزیر تعلیم صاحب نے چن چن کر یوتھیوں کو ٹھیکے پر سکول دیے ہیں ادریس انجم بارے تفصیل بتائی تھی جو منسٹر ایجوکیشن رانا سکند حیات صاحب کا کوارڈینیٹر ضلع رحیم یار خان ہے اس نے کل ایک نیا کارنامہ کیا ہے خواتین کے ایک امتحانی سینٹر گورنمنٹ گرلز ہائ سکول پٹرول پمپ صادق آباد میں وزٹ کیا ہے۔ اور فی میلز کی تصاویر بناتا رہا ہے، انتہائ بدتمیزی سے پیش آیا ہے ان کو ہراساں کرتا رہا زنانہ سینٹر گیا اور خواتین جو پردہ دار تھیں ان کو دوپٹے تک نہی کرنے دیے اور تصاویر بنا لیں یہ سکول ہیڈ ٹیچر اور سپریٹینڈنٹ کا بیان ہے آپ پڑھیں اور چیک کریں پنجاب میں تعلیمی میدان میں کیا جھنڈے گاڑ رہے ہیں
اصحاب رسول ﷺ کی سوشل میڈیا پر گ ستا خ ی وں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور حکومت خام وش تم اشائی بنی ہوئی ہے اس محرم میں انکی گ س تا خ یوں کا
سلسلہ حد سے تجاوز کرچکا ہے بار بار حکومت کو توجہ دلانے کے باوجود ابھی تک کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی
#RespectForSahaba
#SahabaEKiram
#Muharram
#RuleOfLaw
#ReligiousHarmony
#Pakistan
#LawAndOrder
#IslamicValues
#PeaceAndStability
#AhleSunnat
#MarkaziJamiatAhleHadithPakistan
#IslamicAwareness
#ایڈمن-پوسٹ
افسوسناک اور تشویشناک صورت حال ہے
کہ اصحاب رسول صل اللہ علیہ وسلم
کی سوشل میڈیا پر گستاخیوں کا
سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے
اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے
اس محرم میں انکی گستاخیوں کا
سلسلہ حد سے تجاوز کرچکا ہے
بار بار حکومت کو توجہ دلانے کے باوجود
ابھی تک کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی
آخر یہ چل کیا رہا ہے ۔ جیو ٹی وی کا کوئی ڈرامہ ہے ضبط نام سے ۔ اس میں بھی ایکٹرس اسلامیات کی کتاب اٹھاکر پھینک رہی ہے جس پر مسجد نبویﷺ کی تصویر بنی ہوئی ہے۔
ڈرامے کا پورا سیٹ پلاننگ سے تیار کیا جاتا ہے ۔ اب یہ تو نادانستہ یا غیر ارادی نہیں ہوسکتا۔
ندیم رانا صاحب آپ کی یہ ٹویٹ NCCCIAکے دائرہ اختیار میں آتی ہے قاضی فائز عیسی کا مکمل انٹرویو کا لنک ساتھ پوسٹ کر رہا ہوں یہ انٹرویو تین سال سے زائد عرصہ پہلے دیا گیا تھا جھوٹ بولنا اور جھوٹ کو پھیلانا شاید آپ جیسے لوگوں کا شیوا بن چکا ہے اس پوری وڈیو کو سن کر بتائیں جو آپ نے لکھا ہے اور جو اے آئی کے زریعے آواز کی ٹیمپرنگ کی گئی ہے کتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے اپنی آئی ڈی میں لکھ رہے ہو کہ تم حقیقی ہو لیکن اتا پتا کوئی نہیں جھوٹوں کی جماعت کاجعلی اکاؤنٹ لگتے ہو https://t.co/VukAqf6Q9r
🚨🚨 جیو کی چند دن کی نمائشی معطلی کافی نہیں ہے۔
جیو نے “سفر عشق” کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری چلائی جس میں AI کی مدد سے نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسم اور تمام اہل بیت کے تصوراتی جسم بنائے۔ پاکستان میں جیو نے شروع سے ہی مذہب میں خرابی کی بنیاد رکھی ہے۔ مشرف دور میں انہوں نے حدود قوانین کے خلاف لمبی اشتہاری مہم چلائی، وہ قوانین پھر تبدیل ہو گئے۔ رمضان میں کھیل تماشے والی ٹرانسمیشن، عالم آن لائن کے نام پر عامر لیاقت جیسے کردار جیو کی ہی عطا ہیں۔ غرض مذہب کے حوالے سے باریک وارداتوں کی لمبی تاریخ ہے، چند دن کی معطلی سے کیا ہوگا؟ یہ یوٹیوب پر چلتے رہیں گے۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، وہ بند ہونے چاہییں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ وزارت اطلاعات انہیں بچا رہی ہے۔