داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
لوگ اپنے دیئے جلانے لگے
کچھ نہ پا کر بھی مطمئن ہیں ہم
عشق میں ہاتھ کیا خزانے لگے
یہی رستہ ہے اب یہی منزل
اب یہیں دل کسی بہانے لگے
خود فریبی سی خود فریبی ہے
پاس کے ڈھول بھی سہانے لگے
اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں
ہم یہ کیسا قدم اٹھانے لگے
اس بدلتے ہوئے زمانے میں
تیرے قصے بھی کچھ پرانے لگے
رخ بدلنے لگا فسانے کا
لوگ محفل سے اٹھ کے جانے لگے
ایک پل میں وہاں سے ہم اٹھے
بیٹھنے میں جہاں زمانے لگے
اپنی قسمت سے ہے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے
ہم تک آئے نہ آئے موسم گل
کچھ پرندے تو چہچہانے لگے
شام کا وقت ہو گیا باقیؔ
بستیوں سے شرار آنے لگے
باقی صدیقی
صبحِ آزادی - (اگست 47)
فیض احمد فیضؔ
یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ، یہ وُہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مِل جائے گی کہِیں نہ کہِیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہِیں تو ہو گا، شبِ سُست موج کا ساحل
کہِیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غمِ دِل
جواں لہُو کی پُر اَسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی ، بے صبر خواب گاہوں سے
پُکارتی رہیں بانہیں ، بدن بُلاتے رہے
بہت عزیز تھی، لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا، دبی دبی تھی تھکن
سُنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سُنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت ــــــ اہلِ دَرد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ ، نظر کی امنگ ، دِل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا ، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو، کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں، کمی نہِیں آئی
نجاتِ دِیدہ و دِل کی گھڑی نہِیں آئی
چلے چلو، کہ وُہ منزل ابھی نہِیں آئی
فیض احمد فیضؔ
مجموعہ : (دستِ صبا)
“After you died I could not hold a funeral,
And so my life became a funeral.”
After you died I couldn’t hold a funeral,
So these eyes that once beheld you became a shrine.
These ears that once heard your voice became a shrine.