جسٹس مسرت ہلالی 7 جولائی 2023 سے لیکر آج 7 اگست 2026 تک 3 سال سے زائد عرصہ سپریم کورٹ کی جج رہیں پشاور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس تھیں جہاں سے ان کو سپریم کورٹ لایا گیا تھا
کل سے میں ڈھونڈ رہا ہوں ان کا لکھا ہوا کوئی ایسا فیصلہ مجھے مل جائے جس کی بنیاد پر ان کو ان کی ریٹائرمنٹ پر خراج تحسین پیش کیا جائے کہ بطور جج انہوں نے آزادانہ منصفانہ اور قابلیت کی بنیاد پر بہت اچھا کام ہو لیکن ایسی ججمنٹ مجھے تو مل نہیں رہی آپ کو ملے تو مجھے بھی بتا دینا
البتہ سویلینز کے ملٹری ٹرائلز ، مخصوص نشستیں جن کا مینڈیٹ تھا ان سے لیکر دوسروں کی جھولی میں ڈالنا اور بلے کا نشان لینے کے فیصلے میں ان کے اسی طرح ہی یاد رکھے جائے گا جس طرح قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کو یاد رکھا جا رہا ہے اس کے لئے الفاظ کچھ بھی ہو سکتے ہیں
رانا ثنا اللہ اور مرحوم مشاہد اللہ نے عمران خان پر منشیات کے عادی ہونے کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ جیل نہیں کاٹ سکیں گے۔ عمران خان نے تقریباً تین سال جیل میں گزار کر یہ دعویٰ غلط ثابت کر دیا۔ بعد ازاں رانا ثنا اللہ نے کھلے عام اعتراف کیا کہ ان کا اندازہ غلط تھا، اور یہ بھی تسلیم کیا کہ عمران خان کے بارے میں لگایا گیا الزام درست نہیں تھا!شہزاد اقبال۔
جس دن عمران خان کو وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا،
تو تحریک انصاف کے ایم این ایز افسردہ تھے، سب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے آرام سے، یہاں تک کہ عمران خان بھی اپنے گھر آرام کر رہے تھے،
لیکن پورے پاکستان میں عوام عمران خان کے حق میں بہت بڑی تعداد میں باہر نکل آئی،
اس رات کے بعد سے عمران خان کی سیاست کا منظر نامہ بدل گیا تھا، شہزاد اقبال
بریکنگ نیوز: عمران خان سے ملاقات کی کہانی بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کُھل کر بیان کر دی !!
میری عمران خان سے سپریم کورٹ کے حکم پر اُن کے جیل سیل میں ملاقات ہوئی تو مجھے اُن کا واش روم گندا لگا تو عمران خان نے کہا کہ ٹھیک ہے میں نے اپنی خواہشات محدود کر دی ہیں مجھے معلوم ہے کہ میں قید میں ہوں، عمران خان نے کہا میرا کھانا، سِیل، سیکیورٹی سب ٹھیک ہے، قیدِ تنہائی کی بھی خیر ہے صرف میری آنکھ کا مسئلہ دیکھیں، میری آنکھ 85 فیصد ضائع ہو چکی ہے، بیرسٹر سلمان صفدر
مظہر عباس اسٹیبلشمنٹ کے چودہ طبق روشن کرتے ہوئے
کم سے کم صحافت کا کچھ حق تو ادا کیا!
جو کچھ محسن نقوی نے کہا وہ انکی ذاتی رائے نہیں تھی۔
محسن نقوی تو کاکروچ بھی اپنی مرضی کے لانا چاہتے ہیں۔
اس ملک میں نظام عوامی نمائندوں کا مسئلہ ہے ۔ ان لوگوں کا مسئلہ نہیں ہے جنکو سیاست میں حصہ لینے کی آئینی اور خود انکے کوڈ میں اجازت نہیں ہے۔
جس ملک میں وزیراعظم کو اختیار نہیں، عدالت معزول، سیاست معزول، سیاست دان معزول ہو۔ چیف جسٹس اپنی مرضی سے عدالت نہیں جا سکتا۔ میڈیا آزاد نہیں ہے،
وہاں بااختیار بلدیاتی اداروں کی بات ہو رہی ہے۔ پہلے آپ خود طے کریں کہ آپ اس ملک میں کونسا نظام چاہتے ہیں ۔
چند سال پہلے آپ ہائبرڈ سسٹم لائے اب وہ بھی آپکو اچھا نہیں لگ رہا۔ کیا ہم غیر جماعتی فارمولے کی طرف جا رہے ہیں۔
جب تک آپ آئین کی سپرمیسی کو نہیں مانیں گے۔ جس عدلیہ نے ملک کا آئین توڑا اسکو آپ نے نہ صرف لیگل پروٹیکشن دی بلکہ کہا آپ چاہیں تو آئین میں مزید ترامیم بھی کر لیں۔
79 میں بھٹو کی پھانسی کے بعد غیر جماعتی انتخابات کروائے آپ نے تو انھیں بھی پاور نہیں دی۔آپ نے سیاسی نظام کو برادریوں میں تقسیم کیا۔ پھر آپ برملا کہتے ہیں کہ یہ اتحاد آپ بنواتے ہیں ۔ مہران بینک کا اسکینڈل سب کے سامنے ہے چار بینکوں سے پیسے جمع کر کے نمائندے منتخب کروائے گئے یہ سب سیاسی جماعتیں نہیں کرتیں ۔
غیریقینی کی صورتحال ہی پاکستان کا مسئلہ ہے۔آپ ملک میں استحکام آنے ہی نہیں دیتے ۔سیاست کو گالی بنا دیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنا کوئی فیصلہ خود نہیں کر سکتی ۔ کسی کے لیے آپ بارہ مئی چھوڑا ہوا ہے کسی کے لئے نو مئی ۔ مقدمات سے آپ کنٹرول کر رہے ہیں۔ آپ بلوچستان اور آزاد کشمیر کے معامالات سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسی بحث چھیڑ تے ہیں ۔
نواز شریف نےمحسن نقوی کو جواب دینے سےاس لیے روکا ہےکیونکہ انہیں پتا ہے کہ یہ تقریر ان کے اصل محسنوں کی طرف سے کرائی گئی اور اگر ن لیگ نے جواب دیا تو یہ جواب محسن نقوی کو نہیں ن لیگ کے اصل محسنوں کو ہو گا اور ان کی اتنی جرات نہیں اس لیےنواز شریف چوں بھی نہیں کر رہے،مطیع اللہ جان
راولا کوٹ سے رات سے تشویشناک خبریں آرہی ہیں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اس ملک کے ایگزیکٹو ہیڈ ہیں کیا ان کو اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں ؟؟ کیا آنکھیں بند کرنا حل ہے ؟؟
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔