عجیب زندگی پائی ہے اس شخص نے میں نے جب سے اسے دیکھا ہے، ایک ہی اصول پر کھڑا پایا ہے،بھلا ہو عاصمہ شیرازی صاحبہ کا، جنہوں نے ہم��ں بتایا کہ یہ شخص تو مقبول بیانیے کے پیچھے کھڑا ہے
عجیب سرپھرا شخص ہے، راحیل شریف کو برا بھلا کہتا تھا، ظہیرالاسلام کو کوستا تھا، فیض حمید اور جنرل باجوہ پر سوال اٹھاتا تھا،جمیل فاروقی، ابراہیم سمیع، اوریا مقبول جان اور ہارون الرشید کی صحافت پر برستا تھا، ہمیں اس کی یہ باتیں بہت بری لگتی تھی ،ہم بھی تب عاصمہ شیرازی صاحبہ کی طرح اس کے مقبول بیانیے سے نفرت کرتے تھے، ہمیں بھی غیر مقبول بیانیہ بہت پسند تھا، فرق صرف اتنا تھا کہ اس وقت عاصمہ شیرازی صاحبہ شریف خاندان کے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے اسی مقبول بیانیے سے عشق فرما رہی تھیں
پھر وقت بدلا، حالات بدلے، اقتدار کے چہرے بدلے اور بیانیوں کے رخ بھی بدل گئے، عاصمہ شیرازی صاحبہ نے بھی حالات کی نزاکت کو سمجھا اور عوام میں مقبول بیانیے کو چھوڑ کر اس بیانیے کا انتخاب کر لیا جس میں جرنیلوں پر تنقید گناہ اور ان کے سامنے سر جھکانا دانش مندی قرار پایا، ایسا بیانیہ جس سے چینل پر بیس تیس لاکھ کی نوکری بھی محفوظ رہتی ہے اور شریف خاندان کی نظروں میں وفاداری کا بھرم بھی قائم رہتا ہے
لیکن یہ سرپھرا آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کل کھڑا تھا
آج بھی اسی بیانیے کا پرچار کرتا ہے جس سے طاقتور جرنیل ناراض ہوتے ہیں، جس کی قیمت حوالات کی صورت میں چکانی پڑ سکتی ہے، جس کے لیے چینل کی لاکھوں روپے کی نوکری قربان کرنا پڑتی ہے اور ملک کے سب سے طاقتور مافیا سے ٹکر مول لینی پڑتی ہے
اس ضدی شخص کو کوئی سمجھائے کہ اصول بھی کوئی چیز ہوتے ہیں جنہیں حالات، اقتدار اور شریف خاندان کی سیاسی ضرورتوں کے مطابق بدلنا پڑتا ہے
اسے کوئی بتائے کہ مشرف کی آمریت کو برا کہنا ہے لیکن عاصم منیر کے آمرانہ طرزِ عمل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے اسے کوئی سمجھائے کہ جنرل باجوہ اگر 2022 تک برا تھا تو اس کے بعد شریف خاندان نے بیانیے کی سمت بدل کر ا��ے اچھا قرار دے دیا، اب ہم کون ہوتے ہیں اسے برا کہنے والے؟
آخر کس جرنیل کو آمر کہنا ہے، کس کی آمریت کو وقت کی ضرورت قرار دینا ہے کس کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور کس کے سامنے خاموشی اختیار کرنی ہے، یہ فیصلہ ہمارے اصول نہیں بلکہ شریف خاندان کی سیاسی ضرورتیں کریں گی
لیکن یہ سرپھرا شخص ہے کہ سمجھنے کو ��یار ہی نہیں، کل بھی آمریت کے خلاف تھا، آج بھی آمریت کے خلاف ہے کل بھی طاقتوروں سے سوال کرتا تھا، آج بھی طاقتوروں سے سوال کرتا ہے
اسے کوئی سمجھائے کہ ہمارے ہاں اصولوں پر قائم رہنے والے کو صحافی نہیں، مقبول بیانیے کا پیروکار کہا جاتا ہے اور شریف خاندان کی خواہشوں کے ساتھ اصول بدلنے والے کو غیر جانب دار صحافت کا علمبردار
کیونکہ یہاں مسئلہ آمریت سے نہیں، مسئلہ صرف یہ ہے کہ شریف خاندان آمر کے خلاف کھڑا ہے یا حق میں
آپ نے عمران خان کے ساتھ جو باتیں کی ہیں، یا جہاں آپ کی بات اٹک گئی ہے، آپ خود اس کا تدارک نہیں کر سکتے۔
سیاسی شخصیات پر بھروسہ کریں۔ آپ نے عمران خان سے کیا گفتگو کی، کیا مطالبات رکھے اور انہوں نے کیا جواب دیا؟
ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم عمران خان سے ملاقات کریں گے، ان کی صحت کا جائزہ لیں گے، اور جہاں آپ کا معاملہ الجھ گیا تھا، اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
سچ کے علاوہ کسی اور بات سے یہ الجھاؤ پیدا نہیں ہوگا۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کو صیغہ راز میں رکھیں گے۔
اگر عمران خان کی باتیں غلط ہوئیں، تو ہم سب کے سامنے واشگاف الفاظ میں کہیں گے کہ وہ غلط ہیں۔ اور اگر ان کی باتیں درست ہیں، تو کیا آپ انہیں طاقت کے زور پر دبانا چاہتے ہیں؟ کیا انہیں ختم کرنا مقصود ہے؟
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی سے خطاب جو قومی اسمبلی نے سینسر کر دیا تھا.
میرے پاکستانیوں، خصوصاً پنجاب کے لوگوں، اگر ہم نہ نکلے تو سہیل آفریدی کی ساری محنت اور یہ موقع ضائع ہو جائے گا۔
میں کل ملتان سے لاہور جاؤں گا اور وہاں سے اسلام آباد۔
میں اپنے بوڑھے جسم کے ساتھ جتنی وفا جمہوریت اور اس ملک کے ساتھ کر سکتا ہوں، میں کروں گا۔ اگر میرا بازو کمزور ہے تو مجھے یقین ہے کہ میرے نوجوان میرا بازو بنیں گے۔
یہ افضل جہاد ہے۔ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے۔ اپنی آخری سانس تک لڑوں گا۔
تسلی رکھیں! یہ فوجی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے۔
تسلی رکھیں! عمران خان جلد ہمارے بیچ ہوگا۔
دوٹوک وارننگ
اگر گورنر راج یا ایمرجنسی جیسا کوئی غیر آئینی اقدام اٹھایا گیا تو پاکستان تحریک انصاف کے 25 سینیٹرز 76 ایم این اے 106 پنجاب اسمبلی ممبران 91 خیبرپختونخوا کے ایم پی اے مجبور ہوں گے کہ ہم مستقل طور پر ایوان سے دور ہو جائیں ہم مجبور ہوں گے کہ ہم کور کمیٹی سے فیصلہ لیں کہ ہم آئیندہ کبھی کسی فورم پر حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھ سکیں گے ۔
بیرسٹر گوہر علی خان کی سوات میں گفتگو
مزاحمت کا نشان،ضمیر کا قیدی،عوام کے حق حکمرانی کا علمبردار،ہار نہ ماننے والے کپتان کو سالگرہ مب��رک ہو۔۔۔
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے۔
Happy Birthday to our leader, Imran Khan! 🎂
Your relentless struggle, courage, and unwavering resolve for the nation continue to be a guiding light for us all. May Allah grant you health, long life, and even greater glory. ✨
#اکتوبر5_یوم_عمران_خان#HappyBirthdayImranKhan
ایسا وزیر اطلاعات میں نے آج تک نہیں دیکھا جو ٹی وی چینل پر بیٹھ کر یہ کہتا ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلی دہشتگردوں سے ملا ہوا ہے پاکستان کی کوئی حیثیت ہے وزیر اطلاعات ہیں آپ آپکا بیان پوری دنیا میں گردش کرے گا آپ سیاسی انتقام میں اتنے اندھے ہو گئے ہیں کہ ایک صوبے کے وزیر اعلی پر اتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں
شوکت یوسفزئی
عمران خان کے اہل خانہ کا بیان
۲۷ ستمبر ۲۰۲۶
* نورین نیازی اور ان کی عمران خان سے ملاقات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
* اس ملاقات سے منسوب بیان میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ گردش کرنے والی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔
* نورین نیازی نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق آخری بار ۲۵ اگست ۲۰۲۶ کو اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے اس ملاقات کی کوئی تفصیلا ت کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیں۔
* یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ اس طرح کی من گھڑت کہانی ایک ایسے وقت میں پھیلائی جا رہی ہے جب وہ خود غیر قانونی طور پر حراست میں ہیں اور ان کے پاس ان دعوؤں کا جواب دینے یا وضاحت کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔
ہم ان جھوٹی خبروں کی سخت تر دید کرتے ہیں!
منجانب
عمران خان کا خاندان
"ستائیس ستمبر والا لانگ مارچ اب چار اکتوبر کو ہے آپ لوگوں نے نکلنا ہے چار اکتوبر کو پاکستان کی تقدیر اور تاریخ دونوں بدلے گی ان شاء اللہ۔
یہ جو مسخرے،جوکر اور ٹی وی چینلز پر ٹاؤٹ لگے ہوئے ہیں گورنر راج گورنر راج میں لعنت بھیجتا ہوں اس کرسی پر جو مجھے میرے مقصد سے پیچھے ہٹائے
ایک لوٹا جو تحریک انصاف چھوڑ گیا تو اس وقت عمران خان نے کہا تھا کہ " وہ شخص چھوٹا ہوتا ہے جو کرسی اور عہدے کے پیچھے بھاگتا ہے ، اپنا کردار اتنا عظیم کرو کہ وہ کرسی تقاضا کرے کہ مجھے یہ شخص چاہیے " ہمیں نہ عہدہ چاہئے نہ کرسی چاہئے ہمیں بس ملک میں آئین،قانون و انصاف ،جمہوریت اور حقیقی آزادی چاہیے،"۔ وزیراعلی سہیل آفریدی