الحمدللہ آٹھوں گمشدہ افراد رات گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔چھوڑنے اور لے جانے کے طریقے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ کسی شریر اور بدباطن شخص نے کسی کو مغالطے میں مبتلاء کر کے اس کام پر اکسایا ہے۔بہرحال آزمائش اللہ کی طرف سے ہی آتی ہے البتہ منہ مخلوق میں سے کوئی کالا کرتا ہے۔الحمد للّٰہ کے جلد بازیابی ہو گئی۔جن لوگوں نے کوششیں کیں،دعائیں کیں،اظہار ہمدردی کیا یا دل میں ہمدردی محسوس کی ان سب کے شکر گزار ہیں۔محبوسین اور ان کے متعلقین کو جو تکالیف ہوئیں ان کیلئے دعا گو ہیں کہ رب تعالیٰ بدلے میں انھیں اجر عظیم سے نوازے اور اس تکلیف کو ان کیلئے توشہ آخرت بنائے
آمین
پاکستان میں کیسے کیسے معجزات ہوتے ہیں ؟
جرمنی اور جاپان کی سرحدیں تو چلیں غلطی سے ملتی ہیں لیکن ایک سو نوے ملین پونڈ دیکھ کر "می لارڈ" اور "منی لانڈر" سچ مچ مل جاتے ہیں
گلگت میں ان معصوم طالبات کو سیر و تفریح کیلے آئے بلوچستان کے ایک نااہل نواب زادے کو ویلکم کرنے کیلے قطار میں کھڑا کرنا ایک نہایت افسوسناک عمل ہے جبکہ بلوچستان میں اس بندے کی کوئی عزت نہیں کرتے ہیں. جو نہ صرف ان بچیوں کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے ۔
ایسی سرگرمیاں نہ صرف طلبہ و طالبات کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ نوجوان نسل کے اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہیں۔
ہماری ناموس کو لائن میں کھڑے کرنے والے بے ضمیر بد نما بد کردار افراد کی نشاندہی اشد ضرورت ہے۔۔۔
سوشل میڈیا پر فقط مذمت کافی نہیں بلکہ جو افراد اپنی ذاتی مفادات کے لئے ہماری بچیوں کو لائنوں میں کھڑے کرتے ہیں ایسے افراد کو عبرت ناک سزا دی جائے بصورت دیگر یہ دلال لوگ ہماری ثقافت و روایات کو یونہی پامال کرتے رہیں گے انکو لگام دی جائے عوامی مطالبہ ۔۔۔۔۔۔🙏🏻🙏🏻
"جمہوریت شرک ہے۔جمہوریت اسلام سے متصادم ہے۔جمہوریت کے قائل لوگ کافر ہیں"۔
ایسی سوچ کے لوگ شدت پسند ہیں، خوارج ہیں،گمراہ ہیں۔
ٹھیک ہو گیا جی!
"جمہوریت اور اسلام میں کوئی تصادم نہیں اگر جمہوریت اسلامی نظامِ حکومت کو serve کر رہی ہو"۔
اِس سوچ کے لوگوں کو بھی اٹھا لو!
ہیں جی؟
🤔
اب تو لوگ اپنے انتقام اور بدلہ لینے کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے بھی دہشت گردی کا سدباب کرنے والے اداروں کی کرائے پر دستیاب کالی بھیڑوں کو استعمال کرنے لگے ہیں:
لاہور سے جن ساتھیوں کو خفیہ اہلکاروں نے جبری اغواء کیا ہے ان میں ایک کیمرہ مین بھی ہے جو ایک ٹی وی چینل پر کام کرتا ہے۔وہ بیچارہ مزدوری کی خاطر آیا اور لپیٹے میں آ گیا۔اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں۔اسے تو معاف کر دیا جائے تاکہ اپنے بوڑھے والدین کی نگہداشت کر سکے
سر چھیڑ صرف وہ بنتے جو اعتدال کی بات کرتے ہیں۔اسکے برعکس خلافت کے نام پر انتہا پسندانہ بیانیہ بنانیوالے یونیورسٹیوں میں،مین سٹریم میڈیا پر اور سرکاری تقریبات میں مدعو کیے جاتے ہیں تاکہ فیض نیٹ ورک کو نیا خون ملتا رہے اور ڈالروں والے گلشن کا کاروبار بھی سدا بہاریں بکھیرتا رہے۔
لاہور سے 8 افراد کو سیکورٹی اہلکاروں نے اغوا کرلیا۔ حکومت سے تحقیقات اور انصاف دلانے کی اپیل
**تاریخ:** یکم ستمبر 2024
**مقام:** حالی روڈ گلبرگ 3، لاہور
یکم ستمبر 2024 کو لاہور میں "جمہوریت بمقابلہ خلافت" کے موضوع پر ایک اہم سیمینار منقعد ہوا، جس کا مقصد نوجوانوں کو جمہوری اقدار کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور خلافت کے نام پر پھیلنے والی پرتشدد سوچ کو روکنا تھا۔ یہ سیمینار جماعت شبان المسلمین کے تحت منقعد کیا گیا، جو مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کی قرآنی فکر اور عدم تشدد کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ جماعت کا مقصد معاشرے میں اسلامی اصولوں کے ساتھ جمہوری طریقے سے مثبت تبدیلی لانا ہے، اور اس کا کسی بھی قسم کی تخریب کاری یا فرقہ وارانہ سوچ سے کوئی تعلق نہیں۔
سیمینار کے دوران مقررین نے پر امن اور آئینی جدوجہد کی اہمیت پر لیکچرز دیے، جس میں نوجوانوں کو جمہوری راستہ اپنانے اور عدم تشدد پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دی گئی۔ سیمینار میں یہ پیغام دیا گیا کہ اسلامی جمہوریت کے ذریعے ہی معاشرتی ترقی اور ملکی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، سیمینار کے اختتام پر ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ سیمینار کی انتظامیہ کے آٹھ افراد کو سول وردی میں ملبوس نامعلوم سکیورٹی اہلکاروں نے اغواء کر لیا۔ تاحال ان افراد کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے، اور ان کے اغواء کے پیچھے کار فرما عوامل کے بارے میں بھی کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ یہ واقعہ سیمینار کے شرکاء اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے نہایت تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔
واقعے کی تفصیلات کے مطابق، سیمینار کے اختتام پر انتظامیہ کے ان افراد کو سول وردی میں موجود سکیورٹی اہلکاروں نے زبردستی گاڑیوں میں بٹھایا اور نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔
لاپتہ افراد کے نام یہ ہیں
- احسن فاروق
- محمد احمد
- عاطف افضل
- ایثار شوکت
- عبد المالک
- بلال یاسن
- بلال غازی
- کیمرہ مین سنیم اللہ
یہ قومی اداروں میں گھس بیٹھے۔۔۔کون لوگ ہیں۔۔۔۔
جو ملک میں انتشار اور تخریب چاتے ہیں۔۔۔
متعدل فکر کی تویج کی کوششون کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔۔
عدم تشدد اور تخریب کاری کے خلاف بات کرنے والوں کو نشانہ عبرت بنا رہے ہیں۔۔۔
یہ چاہتے کیا ہیں؟؟؟؟
@OfficialDGISPR@GovtofPunjabPK@IGP_Punjab
ہمارے ملک کے اداروں کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں۔آج لاہور میں ہم نے معتدل سوچ کو پروان چڑھانے کیلئے خلافت کی حقیقت اور جدید ریاست میں اس کے کردار پر ایک فکری نشست کا اہتمام کیا۔ ساتھ ہی پر امن اور عدم تشدد پر مبنی حکمت عملی کی افادیت کو اجاگر کیا گیا۔ جس کے فورا بعد ریاستی اداروں نے ہمارے نصف درجن سے زائد کارکنوں کو اغوا کر کے ہمیں آئیندہ ایسی کوشش کرنے سے باز رہنے کا واضح پیغام پہنچا دیا۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
@khalidmabbasi خالد صاحب ان نام نہاد اداروں کا سافٹ ویئر اپڈیٹ اس طرح کیا جاتا ہے
یہ طاقت کی زبان سمجھتے ہیں، اور طاقت کو سجدہ کرتے ہیں۔ طالبان کے پاس طاقت بھی ہے دلیل بھی لہازا پاکستانی فوج کے افسروں کو اکثر اپنا تھوکا چاٹنا پڑتا ہے۔
@Taimur_Laal لال صاحب عورتوں کے حقوق کے بارے میں اپ کو فکر مند ہوتے ہوئے دیکھ کر انکھوں میں انسو اگئے اپنی یہ تھوڑی سی فکر ماں رنگ بلوچ اور نتاشہ کی گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہوئے بیٹی اور باپ پر بھی نچھاور کیجیے اور خاص طور پر اوکاڑا یونیورسٹی میں چھت پر جو لڑکا لڑکی کو حق دے رہا تھا اس پر بھی روشنی
@AsmaAzam71 جو اصطلاحیں گھڑی جا رہی ہیں ماڈرن مہذب سلیقہ مند اور کیئرفلی کیئر لیس والی صلاحیت نے نوجوانوں کی انکھوں کا بہترین سامان مہیا کیا ہے پہلے تو لوگ مرتے تھے ویزا لگوا کر دبئی کہ سمندر پر جانے کے لیے اب یہ سہولتیں ملک کے اندر موجود ہیں اور ایسی ساری عورتیں دعاؤں میں جنت الفردوس مانگتی
@AsmaAzam71 جی بالکل عورت اور مرد معاشرے کی دو اکائیاں ہیں جن سے پورا معاشرہ بنتا ہے ان کے مسئلے ہی سارے مسئلوں کی جڑ ہیں
پرانے دور میں نوجوانوں کو لڑکیاں دیکھنے کے لیے چوری چھپے شادی میں جانا پڑتا یہ سکولوں کے باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑتا لیکن اب بغیرتی کے نام پر
آزادکشمیر پولیس نے 10 دن تک زرنوش کی اہلیہ کی منت سماجت کےباوجود انکی گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کی۔زرنوش کی والدہ پہلے سے ہی کینسر اور دل کی بیماری سےلڑ رہی ہےاور اب زرنوش کی جبری گمشدگی کا غم بھی لگ گیا،زرنوش کی یہ چھوٹی بچی بھی اپنےابو کی بازیابی کیلئےمظاہرے میں شریک تھی
@Taimur_Laal ہر بندہ کےاوس میں ہے جو اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے اللہ تعالی قران پاک میں فرماتے ہیں کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنے نفس کو اپنا الہ بنا لیا ہو
اپنے مطلب کی تعبیریں نکالنے والے بھی اصل دین سے کیوس کا شکار ہیں اللہ ہی رحم فرمائے
لال اے لال اے
@Taimur_Laal ڈاکٹر صاحب اپ جن کا کھاتے ہیں ان کے لیے بولتے ہوئے پیٹ میں درد اور منہ میں چھالے پڑتے ہیں اوکاڑا یونیورسٹی میں کیا ہوا نتاشا نے کیا کیا فیصلہ واد اور بہاولپور کی یونیورسٹیوں میں کیا ہو رہا ہے دھیان کریں اپ جیسے بچے تو نہیں ا رہے
"گڈ ٹو سی یو" سے "گڈ مارننگ" تک کہانی یہ بنتی ہے کہ فیض صاحب کے دور میں عدالتیں گڈز فارورڈنگ ایجنسی کے طور پر کام کرتی تھیں جس کیلئے "ٹرک" آتے جاتے رہتے تھے
والدِ محترم رحمہ اللہ کی کم ازا کم تیس سال پرانی تقریر! جس میں پاکستان کے جن مسائل اور انکی وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے وہ آج بھی جوں کی توں موجود ہیں بلکہ بڑھ گئی ہیں۔ والدمحترم رحمہ اللہ نے ان مسائل ک جو واحد یقینی حل اور علاج اس وقت بھی تجویز کیا تھا اور آج بھی وہی حل ہے۔
اسکے علاوہ جتنی بھی کوششیں کی گئیں اور کی جائیں گی وہ سب لاحاصل ہیں !
آپ اس کلپ کو سماعت فرمائیں، کمینٹ بھی کریں اور شیئر بھی !! جزاکم اللہ خیرا