میں نے جے یو آئی کے سینر لیڈر سینٹر کامران مرتضی سے پوچھا شہباز شریف اپنے پانچ سال پورے کریں گے؟
جواب میں کہنے لگے آج تک کسی وزیراعظم نے پورے تو نہیں لیے اور ساتھ ہی معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اضافہ کیا کہ یہ بھی طے ہے اس سے زیادہ اچھا بلکہ بیبا وزیراعظم بھی فوج کو نہیں ملے گا۔
مکنل پروگرام لنک
👇
https://t.co/ZklTbFRo8D via @YouTube@NeoNewsUR@KamranM69045926@MoulanaOfficial@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@CMShehbaz
@Asadrchaudhry ہر دور کا سسٹم ہی خراب رہا لیکن سسٹم بنانے والے اور خراب ڈیکلیئر کرنے والوں کو بھی سوچنا چاہیے کہ اب عوام خوب سمجھ چکی ہے کہ سسٹم خراب کہاں سے ہوتا ہےاور کیونکر ہوتا ہے افسوس تو اس بات کا ہے کہ سیاسی جماعتیں ان کے سربراہ مہرے کیوں بنتے ہیں
راتوں رات پیٹرول کی قیمت بڑھاتے تمھیں شرم نہی آئی دل نہی ہلا عوام جو روٹی نہی کھا سکتی دوائی نہی لے سکتی اس کے لئے پیٹرول بڑھا دیا : سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب
یہ پاکستان ھے ھم سب کا مشترکہ وطن، یہ پاکستان ایک آئین کے تحت چلتا ھے جیسا کہ ھمیں بتایا گیا ھے اور اس آئین نے ھر ایک کے لیے حدود متعین کردی ھیں لیکن ایک عجیب منظر ھمارے سامنے ھے
قصور کے جلسے کے بعد کچھ صحافی اپنے یوٹیوب چینلز سے مولانا فضل الرحمن صاحب کے خلاف میدان میں آئے گالیاں دیں الزامات لگائے غداری کے فتوے لگاۓ دشنام طرازی کی اور جو غلاظت نکالی جاسکتی تھی وہ نکالی گئی،
لیکن اس سے بھی عجیب بات یہ کہ ISPR کے زیراھتمام ورکشاپس ھوتی ھیں ان میں انہی لوگوں کو دعوت دے کر بلایا جاتا ھے، ابھی حال ھی میں پچھلے ھفتے کوئٹہ کینٹ کا دورہ کروایا تو یہی لوگ شریک تھے اب کل ھی ورکشاپ کے اختتامی تقریب سے دارالحکومت میں فیلڈ مارشل صاحب مہمان خصوصی تھے تو وھی لوگ اور چہرے تھے جو پچھلے دس دن سے مولانا صاحب کو گالیاں دے رھے ھیں۔
تو @OfficialDGISPRصاحب بحیثیت ایک پاکستانی کے میرا سوال ھے کہ آخر ھمارے خون پسینے کی کمائی سے ان لوگوں کی آبیاری کیوں کی جارھی ھے جو سیاسی لوگوں اور جماعتوں کو گالیاں دیتے ھیں؟؟؟ آپ ان کو اون کرتے ھیں یا اس سے لاتعلقی کا اظہار کریں گے؟؟ اگر آپ ان سے لاتعلقی کا اظہار نہیں کرینگے تو انگلیاں آپ کی طرف اٹھیں گی۔ دعوت فکر ھے
آپ ملاحظہ کیجئے
#مولانا_چھاگئے
#کرپٹ_چوکیدار
#کالےچینلز_کی_مشتاقیاں
#پیڈ_ٹرینڈ_فلاپ
#کرائے_کے_باکو
جمعیت کے ابابیلوں کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا
حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ
جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن
میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقیؔ
میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
#مولانا_کے_سنگ
#سرحد_یا_سیاست
#ہائبرڈ_راج_نامنظور
#معدنیات_کی_لوٹ
#ڈالر_کی_جنگ
خواجہ آصف صاحب کشمیر کے حوالےسے بات کریں تو اس کا مفہوم یہ خود طے کرتے ہیں جب مولانا صاحب کچھ کہیں گےتو اس کا مفہوم وہ بتائیں گے ناں ، یہ مولانا صاحب کے خطاب کا مفہوم کیوں نکالنے پر مصر ہیں ۔ یہ دوہر معیار ختم کرنا ہوگا ۔
#قائدانقلاب_مولانا#سیاسی_چوکیدار#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔
تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟
تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟
اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔
اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔"
لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔
یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔
اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟
دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔
تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔
میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں:
سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ
اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔
لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے....
کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب
#قائدانقلاب_مولانا
#سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ
#شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
میں نے باجوڑ میں ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، ایک جلسے کے۔
میں روزانہ پشتونخوا میں اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔
میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔
کبھی یاد ہے کہ تم کبھی میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو ؟
مجھے کہتے ہو، ”تم نے غلط بات کی ہے“
میں کہتا ہوں، تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔
معافی کہتے ہو، فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے...
#قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن
بار بار گزارش کر رہا ہوں ۔ متبادل اکاؤنٹ لازمی بنا کر اسی میں ایڈ کرلیں ۔ ایک اکاؤنٹ سے کرنے کا کام پوسٹ، ری پوسٹس، لائیکس ، کمنٹس یہ کام سب کریں ۔ نئے احباب یاد رکھیں کسی کی پوسٹ کاپی پیسٹ نا کریں ، دو جملے لکھیں ، شائستگی سے لکھیں اپنے ہاتھ سے لکھیں۔
ایک ساتھی کا تحفہ
#قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
اسلام آباد میں اتوار کو جمعیت علماء اسلام پاکستان کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان خصوصی خطاب کریں گے، آئندہ کا لائحۂ عمل دیں گے۔
اسلام آباد میں اتوار کو جےیوآئی کے زیراہتمام آل پاکستان وکلاء کنونشن ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان خصوصی خطاب کریں گے، آئندہ کا لائحۂ عمل دیں گے۔
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
گر تو برا نہ مانے ۔۔
بیان پر بات کرنے کے ساتھ اس منصوبے کا ذکر بھی ہونا چاہیے کہ یہ کس عظیم “سائنسدان” کا مشورہ تھا کہ جے یو آئی کو سسٹم سے آؤٹ کیا جائے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات اُس وقت بھی سب کے سامنے تھے۔ باریوں کے حساب سے تو کارنر پی ٹی آئی کو کرنا تھا۔مولانا فضل الرحمٰن نے، سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت ہونے اور سٹریٹ پاور رکھنے کے باوجود، ہمیشہ مرکزی دھارے کی سیاست کی اور تشدد کی مذمت کی۔ وہ ریاست یا اسٹیبلشمنٹ کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ معاون بنے۔ ذرا تصور کریں، وہ آج بھی آزاد کشمیر کی کالعدم جائنٹ ایکشن کمیٹی سے کہہ رہے ہیں کہ وہ احتجاج چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔
اگر مولانا اس سسٹم کے اندر ہوتے تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال میں تمام سٹیک ہولڈرز کے لیے مددگار ثابت ہوتے اور بہتر راستہ نکالنے میں معاونت کرتے۔ ایک بیان کی مذمت کراتے کراتے ہر ایشو پس منظر میں چلا گیا۔ ٹی وی ٹاک شوز میں مذمت کرانے کی کوشش، جے یو آئی کے مہمان شرکا کی مزید تیز و تند گفتگو کی نذر ہو گئی۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مولانا سے رابطہ کر کے کہا جاتا کہ جلسوں میں ایسی گفتگو مناسب نہیں۔ بہت زیادہ امکان تھا کہ مسئلہ اسی وقت حل ہو جاتا، باہمی رنجشوں میں میں بھی کمی آتی ۔ معتدل سیاسی قوتوں کو سسٹم سے نکالنے کی قیمت بالآخر خود سسٹم کو ہی چکانا پڑتی ہے۔ اب یہ امتحان بن گیا ہے کہ پرچہ کریں یا نہ کریں، گرفتار کریں یا نہ کریں۔ دونوں صورتوں کے اپنے اپنے مضمرات ہیں۔
اسی طرح جماعتِ اسلامی کو سسٹم سے آؤٹ کرنے کا فیصلہ بھی غلط تھا۔ کراچی کی میئرشپ دے دی جاتی تو کروڑوں لوگوں کا بھلا ہو جاتا۔ پیپلز پارٹی کے پاس تو پہلے ہی بہت کچھ ہے۔ جے یو آئی اور جماعتِ اسلامی، دونوں جماعتوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ وطنِ عزیز کے ہر حصے میں موجود لوگوں کو جوڑ کر رکھنے کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔ ان کی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھایا جانا چاہیے۔
ملکی حالات کسی بھی حوالے سے اچھے نہیں۔ فریقین کو جان لینا چاہیے کہ اگر بیانات میں احتیاط لازم ہے تو اقدامات میں بھی دوراندیشی ضروری ہے۔
“جو دوست ہیں، وہ مانگتے ہیں صلح کی دعا
دشمن یہ چاہتے ہیں کہ آپس میں جنگ ہو۔”
کبھی آپ نے سوچا مولانا فضل الرحمان پر نصف درجن سے زائد خودکش حملے کیوں ہوئے؟ کیونکہ دہشتگردوں اور خوارج کی نظر میں مولانا واجب القتل ہیں، مگر کیوں؟ اس لئے کہ وہ پاکستان کے آئین، قانون، پارلیمان اور جمہوریت کیساتھ کھڑے ہیں یعنی وہ خوارج کے مقابلے میں ریاست کیساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے فقط خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ دہشتگردوں اور خوارج کیخلاف باقاعدہ تقاریر کیں جو ریکارڈ پر موجود ہیں، ایک بندہ جس کی 40 سالہ جمہوری جدوجہد ہے اسے غدار اور باغی قرار دینا انتہائی بدقسمتی ہے، ریاست پہلے اپنے گریبان میں جھانکنے، اگر میری جانب کوئی اشارہ کرے کہ آپ کے دامن پہ داغ لگا ہے بجائے اس کے کہ میں اس داغ کو دھوؤں الٹا اشارہ کرنے والے کے گلے پڑ جاؤں، ستم ظریفی اور شومی قسمت تو دیکھئے کہ جنہیں یہ بھی نہیں پتا کہ TANQEED "ت" سے لکھی جاتی ہے یا "ط" سے وہ بھی مولانا فضل الرحمان پر تنقید کر رہے ہیں
#مولانا_کی_للکار اور انکے کارکنان سے سوال ؟
کہ باجوڑ 2023 حملے میں آپ کے کئی کارکنان شہید اور زخمی ہوئے اور مجھ سمیت پورا پاکستان اسکو شہید تسلیم کرتے ہیں کیونکہ بے گناہ معصوم لوگ تھے۔ آرمی چیف اور وزیراعظم نے بذات خود سی ایم ایچ ہسپتال پشاور میں زخمیوں کی عیادت کی۔
👈سوال یہ ہے کہ یہ لوگ جو ایک سیاسی جلسے میں موجود تھے انکا مقصد کوئی جہاد یا تبلیغ نہیں تھا۔ بلکہ ایک سیاسی جلسہ تھا اور دنیاوی مقصد جیسے اقتدار کو حاصل کرنا یا فضل الرحمان کو سپورٹ کرنا تھا تاکہ حکومت حاصل کرسکیں
👈اگر ہم آج یا آئیندہ آپ کے شہیدوں کے بارے میں کہیں کہ ہم پر احسان مت جتائیں آپ لوگ تو اقتدار حاصل کرنے کی خاطر جلسے کررہے تھے تو آپکو کیسا لگے گا۔ کیا آپ یہ درد برداشت کر پائیں گے ؟؟؟
‼️اللہ نہ کریں کہ ہم کبھی کسی سیاسی کارکن کے لئے ایسے الفاظ ادا کریں۔ 🙏
لیکن بات صرف احساس کی ہے جو ایک مسلمان کو ہونا چاہئیں ذ جبکہ شیطان اپنی حرکتوں پر خوش ہوتا ہے کہ میں نے مسلمانوں کو تکلیف دی