“اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے
جو اس نے کوشش کی۔
اور یہ کہ اس کی کوشش، جلد ہی
دیکھی جائے گی۔
پھر اسے اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اور یہ کہ سب کو آپ کے پروردگار
ہی کے پاس پہنچنا ہے۔
اور یہ کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے۔”!!
(سورہ النجم : ۳۹-۴۳)🕌🌹
"میں" ھوں انسان
"میں" خود پیدا ھوا نہ "میں" خود دفن ھو سکوں گا
لیکن
ساری زندگی "میں" نے اپنی "میں" میں گزار دی ھے
"میں" نے یہ کیا
"میں" نے وہ کیا
"میں" یہ ھوں
"میں" یہ کر سکتا ھوں
#صباح_الخـــــــير#กามิน
*کیا ابھی بھی کھائیں گے لوگ😭*
میکڈونلڈ کھلم کھلا اعتراف کر رہا ہے کے ہمیں فخر ہے کہ 30000 فلسطینی شہید ہو گئے اور ہم اسرائیلی فوج کی مدد کرتے رہیں گے چاہے جو بھی ہو ۔
ہم میں اگر غیرت ہوتی تو آج ایک فرینچائز پاکستان میں نہ ہو تی ۔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻خدارا بائیکاٹ کر و اور اس تصویر کو پھیلا ؤ ۔
جو پانچ چیزوں سے بچا لیا گیا، اسے دنیا اور آخرت کے ہر شر سے محفوظ کر دیا گیا:
خودپسندی، رِیا، تکبر، دوسروں کی تذلیل اور شہوت!
محدث فضیل بن عیاض رحمہ اللّٰہ
(حلية الأولياء، ٩٥/٨)
شجرہِ نسب کو کیسے تلاش کر سکتے ہیں ؟
محکمہ مال کے ریکارڈ میں موجود قیمتی راز .......
اگر کسی کو اپنا شجرہ نسب معلوم نہیں ہے تو آپ اپنے آباؤ اجداد کی زمین کا خسرہ نمبر لے کر (اگر خسرہ نمبر نہیں معلوم تو موضع اور یونین کونسل کا بتا کر بھی ریکارڈ حاصل کر سکتا ہے ) اپنے ضلع کے محکمہ مال آفس میں جائیں یہ آفس اکثر ضلعی کچہریوں میں ہوتا ہے اور جہاں قدیم ریکارڈ ہوتا ہے اس کو محافظ خانہ کہا جاتا ہے ۔ محافظ خانہ سے اپنا 1872ء / 1880ء یا 1905ء کا ریکارڈ (بندوبست) نکلوائیں ۔1872ء / 1880ء یا 1905ء میں انگریز نے جب مردم شماری کی تو انگریزوں کو کسی قوم سے کوئی غرض نہ تھی ہر ایک گائوں میں جرگہ بیٹھتا جس میں پٹواری گرداور چوکیدار نمبردار ذیلدار اس جرگہ میں پورے گائوں کو بلاتا تھا۔ ہر ایک خاندان کا اندراج جب بندوبست میں کیا جاتا تو اس سے اس کی قوم پوچھی جاتی اور وہ جب اپنی قوم بتاتا تو پھر اونچی آواز میں گاؤں والوں سے تصدیق کی جاتی اسکے بعد اسکی قوم درج ہوتی۔ یاد رہے اس وقت کوئی شخص اپنی قوم تبدیل نہیں کرسکتا تھا بلکہ جو قوم ہوتی وہی لکھواتا تھا۔ بے شمار اقوام ان بندوبست میں درج ہیں ..... اپنے ضلع کے محکمہ مال میں جاکر اس بات کی تصدیق بھی کریں اور اپنا شجرہ نسب وصول بھی کریں ۔وہی آپکے پاس آپکی قوم کا ثبوت ہے خواہ آپ کسی بھی قوم میں سے ہوں اگر آپ کے بزرگوں کے پاس زمین تھی تو ان کا شجرہ نسب ضرور درج ہو گا ۔
ہندوستان میں سرکاری سطح پر زمین کے انتظام و انصرام کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، جو شیر شاہ سوری سے لے کر اکبر اعظم اور انگریز سرکار سے لے کر آج کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ پنجاب میں انگریز حکمرانوں نے محکمہ مال کا موجودہ نظام 1848ء میں متعارف کرایا ۔
محکمہ مال کے ریکارڈ کی ابتدائی تیاری کے وقت ہر گائوں کو ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ قرار دے کر اس کی تفصیل، اس گائوں کے نام کی وجہ ، اس کے پہلے آباد کرنے والے لوگوں کے نام، قومیت ،عادات و خصائل،ان کے حقوق ملکیت حاصل کرنے کی تفصیل ، رسم و رواج ، مشترکہ مفادات کے حل کی شرائط اور حکومت کے ساتھ گائوں کے معاملات طے کرنے جیسے قانون کا تذکرہ، زمینداروں ، زراعت پیشہ ، غیر زراعت پیشہ دست کاروں ، پیش اماموں تک کے حقوق و فرائض ،انہیں فصلوں کی کاشت کے وقت شرح ادائیگی اجناس اور پھر نمبردار، چوکیدار کے فرائض وذمہ داریاں ، حتیٰ کہ گائوں کے جملہ معاملات کے لئے دیہی دستور کے طور پر دستاویز شرط واجب العرض تحریر ہوئیں جو آج بھی ریونیو ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
جب محکمہ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے زمین کی پیمائش کی گئی۔ سابق پنجاب کے ضلع گڑگانواں ،کرنال وغیرہ سے بدون مشینری و جدید آلات پیمائش زمین شروع کر کے ضلع اٹک دریائے سندھ تک اس احتیاط اور عرق ریزی سے کی گئی کہ درمیان میں تمام ندی نالے ،دریا، رستے ، جنگل ، پہاڑ ، کھائیاں ، مزروعہ ، بنجر، آبادیاں وغیرہ ماپ کر پیمائش کا اندراج ہوا۔ ہر گائوں کی حدود کے اندر زمین کے جس قدر ٹکڑے ، جس شکل میں موقع پر موجود تھے ان کو نمبر خسرہ ،کیلہ الاٹ کئے گئے اور پھر ہر نمبر کے گرد جملہ اطراف میں پیمائش ’’کرم‘‘ (ساڑھے5فٹ فی کرم) کے حساب سے درج ہوئی۔ اس پیمائش کو ریکارڈ بنانے کے لئے ہر گائوں کی ایک اہم دستاویز’’ فیلڈ بک‘‘ تیار ہوئی۔ جب ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ (حد موضع) قائم ہو گئی تو اس میں نمبر خسرہ ترتیب وار درج کر کے ہر نمبر خسرہ کی پیمائش چہار اطراف جو کرم کے حساب سے برآمد ہوئی تھی، درج کر کے اس کا رقبہ مساحت کے فارمولا اور اصولوں کے تحت وضع کر کے اندراج ہوئے۔ اس کتاب میں ملکیتی نمبر خسرہ کے علاوہ گائوں میں موجود شاملات، سڑکیں ، راستے عام ، قبرستان ، بن ، روہڑ وغیرہ جملہ اراضی کو بھی نمبر خسرہ الاٹ کر کے ان کی پیمائش تحریر کر کے الگ الگ رقبہ برآمدہ کا اندراج کیا گیا۔ اکثر خسرہ جات کے وتر، عمود کے اندراج برائے صحت رقبہ بھی درج ہوئے پھر اسی حساب سے یہ رقبہ بصورت مرلہ ، کنال ،ایکڑ، مربع ، کیلہ درج ہوا اور گائوں ، تحصیل ، ضلع اور صوبہ جات کا کل رقبہ اخذ ہوا۔ اس دستاویز کی تیاری کے بعد اس کی سو فیصد صحت پڑتال کا کام تحصیلدار اور افسران بالا کی جانب سے ہوا تھا۔ اس کا نقشہ مساوی ہائے کی صورت آج بھی متعلقہ تحصیل آفس اور ضلعی محافظ خانہ میں موجود ہے، جس کی مدد سے پٹواری کپڑے پر نقشہ تیار کر کے اپنے دفتر میں رکھتا ہے۔ جب نیا بندوبست اراضی ہوتا ہے تو نئی فیلڈ بک تیار ہوتی ہے۔
اس پیمائش کے بعد ہر ’’ریونیو اسٹیٹ‘‘ کے مالکان قرار پانے والوں کے نام درج ہوئے۔ ان لوگوں کا شجرہ نسب تیار کیا گیا اور جس حد تک پشت مالکان کے نام صحیح معلوم ہو سکے ، ان سے اس وقت کے مالکان کا نسب ملا کر اس دستاویز کو مثالی بنایا گیا ،
بقیہ کمنٹس میں
انسان کو یہ جان لینا چاہیے کہ دو چیزیں سب سے زیادہ قیمتی ہیں: اس کا قلب اور اس کا وقت؛ اگر وہ اپنے وقت کو ضائع اور دل کو برباد کر دے گا تو فوائد سے محروم ہو جائے گا!
امام ابن الجوزی رحمہ اللّٰہ
(حفظ العمر، ٥٩)
خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ زور والا (اور) زبردست ہے
اللَّهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
سُورَةُ الشُّورَىٰ - 19
آج کیوں نہ ایک بہترین بزنس آئیڈیا کے بارے میں بات کی جائے ۔ چھوٹی سی انویسٹمنٹ اور بہت زیادہ محنت سے ہم اس بزنس کو بڑھا سکتے ہیں۔ اور اس میں آپ کا بزنس آنے والے فیچوچر میں ایک برینڈ کے طور پر جانا جائے گا ۔ ہم نے بھی دیکھا ہو گا کل ایک عام سی پراڈکٹ آج برینڈ بن گئی ہے۔ اور سوشل میڈیا کی بدولت یہ بلکل ممکن ہے۔
آپ کے پاس کوئی بھی چیز سستی ملتی ہے یا کوئی چیز آپ پہلے ہی سیل کررہے ہیں یا آپ کوئی چھوٹی سے چھوٹی پراڈکٹ بھی اپنی بنا رہے ہیں ۔ اس کو آپ فیس بک پر شاپ بنا کر سیل کر سکتے ہیں ۔ ایک بہترین سا پیج بنائیں اپنی کیٹاگری سلیکٹ کریں اور اس پہ آپ جو پراڈکٹس سیل کرنا چاہتے ہیں اس کے متعلق انفارمیشن شئیر کریں اپنی پراڈکٹس کے ریلیٹڈ آڈینس اگھٹی کریں ۔ اور جب تھوڑے سے فالوورز ہو جائیں تو پراڈکٹ لانچ کردیں۔
اگر افورڈ کر سکیں تو ایڈ بھی رن کریں آپ جتنی نیرو اور جتنی اچھی اڈینس ٹارگٹ کریں گے آپ کے سیل کے چانسز بڑھ جائیں گے ۔
آپ اگر ایک پراڈکٹ فیس بک پر سیل کررہے ہیں اس کے دو فائدے ہیں ایک تو آپ کی پراڈکٹ سیل ہو رہی ہے دوسرا آپ کی دوکان آہستہ آہستہ برینڈ بن جائے گی ۔ اگر اپ محنت کریں اور صبر سے کام لیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے
اس کے علاوہ اگر آپ ابھی دوکان وغیرہ نہیں بھی بنانا چاہتے نہ بنائیں آپ اپنی کیٹیگری جس میں آپ فیچوچر میں کام کرنا چاہتے ہیں اس کے ریلیٹڈ فیس بک پر پیج بنائیں اور اچھی اچھی انفارمیشن شئیر کریں کم سے کم آپ کا پیج گرو ہوگا آپ کو آڈینس ملنا شروع ہوجائے گی ۔
یہ آئیڈیا آپ کو کیسا لگا کمنٹ سیکشن میں ضرور اپنی راۓ دیجیۓ اگر آپ کے ذہن میں بھی کوئی ایسا آئیڈیا تو اسے بھی ضرور شئیر کیجئے ۔
معلومات اچھی لگیں تو اسے دوسروں سے شیئر کیجئے ۔
مذید ایسی معلومات کے لیے فالو کیجئے ۔
جزاک اللّہ خیرا 🥀
"اخلاص تو الله اور بندے کے درمیان ایک راز ہے، جِسے نا کوئی فرشتہ جانتا ہے، کہ اُسے لکھ سکے؛
نا کوئی شیطان کہ اُسے برباد کرسکے، اور نا ہی کوئی خواہش کہ اُسے پھیر سکے!"
امام جنيد رحمه الله
(مدارج السالکین : 92/2)
حضرت ابو حمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں:
نبی اکرم ﷺ جب سجدہ کرتے تو:
(1) اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور
(2) اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور
(3) اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے.
ترمذی 270
(ابوداؤد 734؛ مشکوٰۃ 801)
اللہ اپنی اسکیم میں مداخلت پسند نہیں کرتا !
سورہ یوسف وہ واحد طویل سورت ھے جو یہود کے سوال کے جواب میں بیک وقت نازل ھوئی !
اس کو بیک وقت نازل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہود یہ نہ کہہ سکیں کہ نبی پاک ﷺ کسی سے پوچھ پوچھ کر قسطوں میں جواب دیتے ھیں !
یہ سورہ یوسف سے شروع ھونے والی داستان سورہ القصص میں جا کر مکمل ھوتی ھے جہاں اس کی انتہا ھوئی ھے !
یہود کا سوال یہ تھا جو کہ مکے کے مشرکوں کے ذریعے کیا گیا تھا کہ اگر وہ اللہ کے نبی ھیں تو ان سے پوچھو کہ بتائیں بنی اسرائیل فلسطین سے مصر کیونکر منتقل ھوئے !
جواب میں پورا قصہ یوسف بیان کیا گیا ،، اذھبوا بقمیصی ھذا فألقوہ علی وجہ ابی یأت بصیراً " وأتونی بأھلکم اجمعین " میری قمیص لے جا کر میرے ابا جی کے منہ پہ ڈالو ،، وہ دیکھنے لگ جائیں گے اور اپنی اپنی فیملیوں سمیت سارے میرے پاس آ جاؤ " گویا یوسف کو پہلے لے جا کر بادشاہ بنایا تا کہ بنی اسرائیل کے لئے پناہ گاہ میسر ھو پھر انہیں وھاں شفٹ کیا گیا !
دوسرا یہ کہ بڑے پیارے انداز میں تعریض فرمائی کہ ،،جو یوسف کے بھائیوں نے اس کے ساتھ کر کے بادشاہ بنوایا ،،آج اے مشرکینَ مکہ اور یہودِ مدینہ تم ٹھیک ٹھیک وھی کچھ محمد ﷺ کے ساتھ کر رھے ھو ،، مگر نہ برادرانِ یوسف میری اسکیم کو روک سکے تھے اور نہ تم روک سکو گے، " لقد کان فی یوسف و اخوتہ آیاتٓ للسائلین !ا ان سوال کرنے والوں کے لئے یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں بڑی نشانیاں ھیں !!
یاد رکھو اللہ اپنے ٹارگٹ تک بڑے لطیف اور غیر محسوس طریقے سے پہنچتا ھے !
کوئی اس کے اگلے قدم کو preempt نہیں کر سکتا !
یوسف کو بادشاھی کا خواب دکھایا ،، باپ کو بھی پتہ چل گیا ، ایک موجودہ نبی ھے تو دوسرا مستقبل کا نبی ھے ! مگر دونوں کو ھوا نہیں لگنے دی کہ یہ کیسے ھو گا !
خواب خوشی کا تھا ،، مگر چَکہ غم کا چلا دیا !
یوسف دو کلومیٹر دور کنوئیں میں پڑا ھے ،،خوشبو نہیں آنے دی !
اگر خوشبو آ گئ تو باپ ھے رہ نہیں سکے گا ،، جا کر نکلوا لے گا ! جبکہ بادشاھی کے لئے سفر اسی کنوئیں سے لکھا گیا تھا !
سمجھا دونگا تو بھی اخلاقی طور پہ بہت برا لگتا ھے کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لئے اسے کنوئیں میں ڈال کر درخت کے پیچھے سے جھانک جھانک کے دیکھ رھا ھے کہ قافلے والوں نے اٹھایا ھے یا نہیں ! لہذا سارا انتظام اپنے ھاتھ میں رکھا ھے !
اگر یوسف کے بھائیوں کو پتہ ھوتا کہ اس کنوئیں میں گرنا بادشاہ بننا ھے اور وہ یوسف کی مخالفت کر کے اصل میں اسے بادشاہ بنانے میں اللہ کی طرف سے استعمال ھو رھے ھیں تو وہ ایک دوسرے کی منتیں کرتے کہ مجھے دھکا دے دو !
یوسف عزیز کے گھر گئے تو نعمتوں بھرے ماحول سے اٹھا کر جیل میں ڈال دیا کہ ، ان مع العسرِ یسراً ،،
جیل کے ساتھیوں کی تعبیر بتائی تو بچ جانے والے سے کہا کہ میرے کیس کا ذکر کرنا بادشاہ کے دربار میں ،،مگر مناسب وقت تک یوسف کو جیل میں رکھنے کی اسکیم کے تحت شیطان نے اسے بھلا دیا یوں شیطان بھی اللہ کی اسکیم کو نہ سمجھ سکا اور بطورِ ٹول استعمال ھو گیا ،،اگر اس وقت یوسف علیہ السلام کا ذکر ھو جاتا تو یوسف سوالی ھوتے اور رب کو یہ پسند نہیں تھا ،، اس کی اسکیم میں بادشاہ کو سوالی بن کر آنا تھا ، اور پھر بادشاہ کو خواب دکھا کر سوالی بنایا اور یوسف علیہ السلام کی تعبیر نے ان کی عقل و دانش کا سکہ جما دیا ،، بادشاہ نے بلایا تو فرمایا میں : این آر او " کے تحت باھر نہیں آؤں گا جب تک عورتوں والے کیس میں میری بے گناھی ثابت نہ ھو جائے ،،عورتیں بلوائی گئیں،، سب نے یوسف کی پاکدامنی کی گواھی دی اور مدعیہ عورت نے بھی جھوٹ کا اعتراف کر کے کہہ دیا کہ : انا راودتہ عن نفسہ و انہ لمن الصادقین ،،،
وھی قحط کا خواب جو بادشاہ کو یوسف کے پاس لایا تھا ،، وھی قحط ھانکا کر کے یوسف کے بھائیوں کو بھی ان کے دربار میں لے آیا ،، اور دکھا دیا کہ یہ وہ بےبس معصوم بچہ ھے جسے تمہارے حسد نے بادشاہ بنا دیا ، فرمایا پہلے بھی تم میرا کرتہ لے کر گئے تھے ،جس نے میرے باپ کی بینائی کھا لی کیونکہ وہ اسی کرتے کو سونگھ سونگھ کر گریہ کیا کرتے تھے ،، فرمایا اب یہ کرتہ لے جاؤ ،، یہ وہ کھوئی ھوئی بینائی واپس لے آئے گا !
اب یوسف نہیں یوسف کا کرتا مصر سے چلا ھے تو : کنعان کے صحراء مہک اٹھے ھیں، یعقوب چیخ پڑے ھیں : انی لَاَجِدُ ریح یوسف لو لا ان تفندون ،، تم مجھے سٹھیایا ھوا نہ کہو تو ایک بات کہوں " مجھے یوسف کی خوشبو آ رھی ھے : سبحان اللہ ،،جب رب نہیں چاھتا تھا تو 2 کلومیٹر دور کے کنوئیں سے خبر نہیں آنے دی ،،جب سوئچ آن کیا ھے تو مصر سے کنعان تک خوشبو سفر کر گئ ھے !
واللہ غالبٓ علی امرہ ولٰکن اکثر الناس لا یعلمون ! اللہ جو چاھتا ھے وہ کر کے ھی رھتا ھے مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں جانتی !
👇