اس ویڈیو کودیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جانوروں سے بدتر ہے یہ لوگ
ایک دس سال کی بچ�� کو اپنے گھر کی عورتوں کے سامنے اس حیوان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس پھول جیسی گڑیا کو سسک سسک کر مرنے کے لئے زمین پر پھینک دیا،
اور جب وہ مر گئی تو گریبان سے اٹھا کر دیکھا کہ واقعی ہی مر گئی ہے اور پھر زمین پر پٹخ دیا، یا رب کہاں ہے قیامت، کہاں ہے تیرا قہر اور تیرا عذاب🥲
#JusticeForFatima
اس ویڈیو کودیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جانوروں سے بدتر ہے یہ لوگ
ایک دس سال کی بچی کو اپنے گھر کی عورتوں کے سامنے اس حیوان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس پھول جیسی گڑیا کو سسک سسک کر مرنے کے لئے زمین پر پھینک دیا،
��ور جب وہ مر گئی تو گریبان سے اٹھا کر دیکھا کہ واقعی ہی مر گئی ہے اور پھر زمین پر پٹخ دیا، یا رب کہاں ہے قیامت، کہاں ہے تیرا قہر اور تیرا عذاب🥲
#JusticeForFatima
ضلع خیرپور کی تحصیل رانی پور میں بااثر پیر اسد شاہ کی حویلی میں کام کرنے والی 10 سالہ فاطمہ تشدد سے جان بحق ہو گئی جبکہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں.کل اس درندے نے بچی کے گھر والوں کو فون کر کے کہا کہ فاطمہ کچھ دن سے بیمار تھی اور آج فوت ہ��گئی ہے اس کی لاش لے جاؤ.جب بچی کو غسل دیا گیا تو اس کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح نظر آئے لیکن غریب ورثاء نے پوسٹ مارٹم اور میڈیکل کے بغیر بچی کو دفن کر دیا.عین ممکن ہے تشدد کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی ہے لیکن ملزم بااثر ہیں پولیس نے ملزم کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ بچی کے ورثاء کے مطابق اس کے پیٹ میں درد تھا اور وہ فوت ہو گئی اس کے جسم پر کوئی تشدد کے نشانات نہیں ہیں.نگران وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹس لے کر انکوائری کروائیں.
جج عاصم حفیظ کے مطابق بچی کو ہم نے نہیں مارا،پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ بچی تو آپکے گھر میں رہتی تھی اسکو گہرے زخم کیسے آئے؟ یہاں تک کہ کیڑے پڑ گئے،ہڈیاں کیسے ٹوٹ گئیں؟وہ زخم تو ڈنڈوں،چمچوں اور ناخنوں کے ہیں جو ڈائن کے دیے گئے گھاؤ ہیں.میڈیکل بورڈ کے مطابق زخم پرانے ہیں یعنی مار پیٹ کر علاج بھی نہیں کرایا گیا پھر جج نے کہا کہ 8 جولائی سے بچی کچھ بیمار تھی اسکا علاج ہو رہا تھا اگر ہو رہا تھا تو اسکی میڈیکل رپورٹس بھی ہوں گی اور جس ڈاکٹر سے دوائی لے رہے تھے اسکا نام پتہ بتاؤ پولیس جانچ کرے گی.جنرل ہسپتال کے مطابق اسکو کوئی کیمکل یا زہر دی گئی ہے جس کی وجہ سے طبیعت بار بار خراب ہو رہی ہے یہ زہر کس نے اور کیوں دینے کی کوشش کی؟آخری بات یہ کہ آپ نے کہا والدین نے جھوٹ بول کر بچی کی عمر 16 یا 17 سال بتائی تھی کام دیتے وقت آپ نے بچی کا برتھ سرٹیفکیٹ کیوں نہیں دیکھا اس سے ثابت ہوا آپ نااہل نکمے،جھوٹے اور راشی جج ہو؟سول جج اپنی بیوی کو بچانے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہا ہے لیکن جتنے جھوٹ بولو گے اتنے زیادہ سوالات پیدا ہوں گے.معصوم بچی کو تشدد کرنے والے تم دونوں میاں بیوی ہو اور اس کیس سے جان نہیں چھوٹے گی
#رضوانہ_کو_انصاف_دو