لڑکا آج اللہ کو پیارا ہوگیا ہے۔ اب بیوی بے نظیر انکم سپورٹ میں نام ڈلوانے کیلئے دس لوگوں کی منتیں کرے گی، یتیم بچے رشتے داروں سے بے عزت ہو ہو کر بڑے ہوں گے لیکن بڑوں کو کیا ان کا ٹارگٹ پورا ہو جائے گا۔
کہیں آپ ڈی چوک کا قتل عام بھول تو نہیں گئے
کیا اُس جوان کو بھول تو نہیں گئے جس کی جیب سے 500 روپے اور ایک پرانا فون نکلا تھا جس پر امی کے نام سے 41 مس کالیں تھیں۔
Various reports of an airstrike/quadcopter attacks on civilians in Surab district, as reported on social media and by Balochistan-based online media outlets, are deeply disturbing. The images coming out of the area are very horrifying that show women, men and children under the rubble, disfigured bodies and some uncovered in blood.
As if enforced disappearances, extrajudicial killings, and the criminalisation of dissent through the Fourth Schedule and collective punishment were not enough, the government and military establishment now appears to have resorted to airstrikes and quadcopter attacks against civilian populations.
My heart cries with the loss of innocent lives and pictures of children killed in the attacks shared on social media should be a matter of concern and shame for authorities. One can’t make peace with killing innocent children.
The family members of the civilians killed in the attacks are staging a sit in on main highway with 5 dead bodies of their loved ones. According to locals, two dead bodies were very disfigured and that were buried. At least 20 were injured and some bodies are still under the rubble.
I call for a full, independent, and transparent investigation into this incident. I also urge Pakistan’s civil society organizations and human rights groups to speak out against this barbarism. Silence must not allow such violence to become normalized in Balochistan.
@nchrofficial@HRCP87
محمد حسین بہت ہی معصوم اور سیدھا سادہ نوجوان تھا۔
آج دوسرادن ہے اور کوئی ویڈیو یا کوئی ثبوت نہیں دکھایا گیا کہ محمد حسین کوئی دہشتگرد تھا یا اس کے پاس کوئی اسلحہ موجود تھا۔
یہ واقعہ بھی ایک اور ٹارگٹ کلنگ اور فالس فلیگ آپریشن ہی لگ رہا ہے اور پاکستان میں جاری درندگی، اور فسطائیت کی ایک اور واضح مثال ہے -
ستمبر 27 اسلام آباد
بِالْقِسْطِ-Long March
كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ- سورۃ النساء 4:135
یعنی: “انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو اور اللہ کے لیے گواہی دو۔”
سورۃ الحدید، آیت 25:
لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ
“تاکہ لوگ انصاف قائم کریں۔”
جون کے مہینے میں فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ آئی ہے صرف 14 ملین ڈالر جبکہ ہمسایہ ملک بھارت میں ایک مہینے میں 15 سے 20 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ آئی ! رانا عاطف ۔۔
رمضان شوگر مل نے ایک ارب روپیہ کسانوں کا دینا ہے اور اگلا گنے کا سیزن آ گیا ہے مریم نواز غریبوں کے گھروں میں چھاپا مار رہی ہے رمضان شوگر مل پر چھاپا کب مارنا ہے ؟ کسان رہنما خالد حسین باٹھ
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
🚨رضا ڈار کیس کو تحریک انصاف نے دوبارہ زندہ کر دیا
دو غیر ملکی خواتین پاکستان آئیں انہیں اغوا کیا گیا ریپ کیا گیا ٹارچر کیا گیا وہ خواتین مجسٹریٹ کے سامنے بول کر گئیں کہ ہاں اے ہی مجرم نیں ، آپ کی پنجاب پولیس نے مقدمہ درج کیا آج وہ کیس کہاں ہے اس کا کیا بنا ؟
شیخ وقاص اکرم
ابھی مجھے محمد حسین کی میڈیکل رپورٹ موصول ہوئی۔ اور ادویات کی تفصیل اور ڈاکٹر کی تشخیص اور کاغزات ملے ہیںُ وہ بیچارہ زہنی مریض تھا۔
سوچیں ہم پر کون لوگ مسلط ہو گئے ہیں۔ بیمار مجبور لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے قتل کرتے ہیں ۔ خدا برباد کرے بے شرموں کو
31 جولائی کو فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال 31 جولائی تک 2084 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا ہے۔ جبکہ گزشتہ سال 2025 میں 2597 دہشتگرد مارے گئے، 19 ماہ میں یہ تعداد 4681 دہشتگرد بنتی ہے، تقریباً ڈیڑھ سال میں لگ بھگ پانچ ہزار بندہ مار دیا گیا۔
راولپنڈی واقعہ کو سامنے رکھوں تو مجھے شدید شکوک و شبہات گھیر لیتے ہیں کہ اگر راولپنڈی کے گنجان ترین اور حساس ترین مقام پر دن دیہاڑے قتل ہونے والے شہری کو دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے تو رواں سال جن 2084 لوگوں کو دہشت گرد قرار دے کر مارا گیا، کیا وہ سارے دہشت گرد تھے؟ ان میں سے کتنے محمد حسین تھے جو مار دیے گئے اور ان پر دہشت گردوں کا ٹھپہ لگ گیا؟؟ اس بات کا تعین کیسے ہو کہ یہ سارے واقعی دہشت گرد تھے اور ان میں کوئی بے گناہ نہیں مارا گیا؟؟ پاکستان میں لوگ ایک کتے کے مرنے پر تو غمزدہ ہو جاتے ہیں لیکن انسانوں کا خون شاید کتوں سے بھی سستا ہو چکا ہے، بس دہشتگرد بنا کے مار دو یا مار کے دہشتگرد بنا دو کوئی مسئلہ ہی نہیں
"ye log khud marny ke liye aye hein" Syed muzamil shah said this for dozens of PTI protestors murdered by military on 26 November but crying over Charlie kirk now. Nietzsche's rat.
This asshole Ghias has done a gazillion videos on why Karachi can't be separated from Sindh, still whines about shit PTI did 5 years ago. but hasn't said a SINGLE word against PPP on the Mir Raza murder case. And is somehow drawing parallels to Israelis here?? Beghairat.
A bipartisan group of Members of Congress is urging Secretary of State @marcorubio to press Pakistan over the detention conditions of former PM @ImranKhanPTI and Bushra Imran Khan, and seek an independent assessment of their health, safety & wellbeing. With independent access severely restricted and growing concerns over Khan’s health and safety, urgent verification is needed. The congressional letter cites UN concerns over Khan’s reported solitary confinement and reports that he has lost 85% of vision in his right eye. It also highlights serious concerns over Bushra Khan’s reported detention conditions and medical care.
Thank you to @RepSubramanyam and every Member of Congress who signed.
This is a call of conscience.
@TLHumanRights@amnestyusa@State_SCA@ryangrim
#UPDATE The U.S. Department’s of State @StateDept 2026 Fiscal Transparency Report says Pakistan’s military and intelligence budgets are not subject to adequate parliamentary or civilian public oversight.
The report recommends bringing these budgets under parliamentary or civilian scrutiny.