Do not forget that the armed forces are the servants of the people. You do not make national policy;it is we, the civilians,who decide these issues and it is your duty to carry out these tasks with which you are entrusted.― A Jinnah
@PPP_Org@pmln_org@PTIofficial@OfficialDGISPR
پتہ نہیں ایسے متکبر اور تمیز سے عاری افسر کو لاہور جیسے اہم شہر کا ڈپٹی کمشنر بنانے کا دانشمندانہ فیصلہ "کس" کا تھا؟
اور ہاں موصوف پہلے فوج میں کیپٹن تھے
چنٹو میئر کا ریگل چوک کا نام تبدیل کرکے ختمِ نبوت چوک رکھنا محض ایک سیاسی حربہ ہے۔
مہناز اختر باجی نے چنٹو کی سیاست اور اس کے تضادات کو کھ�� کر بے نقاب کر دیا ہے۔
یہ جو ادمی پاکستان کی سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی اور دنیا کی ساتویں بڑی سیاسی جماعت کے جنرل سیکریٹری کے سامنے فرعون بن کر کرسی پر جھوم اور جھول رہا ہے یہ ایک ریٹائرڈ آرمی کیپٹن ہے۔ لاہور کا ڈپٹی کمشنر ہے۔ کاغذوں میں پبلک سرونٹ یعنی عوام کا نوکر ہے۔ لیکن حقیقت میں چھوٹا سا کالے رنگ کا وہ فرعون ہے جو گورا جاتے ہوئے پیچھے چھوڑ کر گیا تھا۔
جب تک گورے انگریز کے یہ کالے تحفے موجود ہیں پاکستان تاریکیوں میں ڈوبا ریے گا۔
جس ملک کی عوام کے نوکر، اور سرکاری ملازم حکمران جائیں وہ ملک مافیاز کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ وہاں عوام کو رعایا سمجھ کر کچل دیا ��اتا ہے۔ وہاں نہ انسانی حقوق ہوتے ہیں نہ جمہوریت اور نہ انصاف۔
یہ ڈپٹی کمشنر لاہور کون صاحب بہادر ہیں؟
اگر پاکستان کی بڑی جماعت کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے سامنے یہ اس رعونت سے جھولے جھول رہے ہیں تو سوچیں عام آدمی کو کیا سمجھتے ہونگے؟
ایسے ہی لاٹ صاحبان حکومت کو عوام میں غیر مقبول بناتے ہیں، بنیادی تمیز ؟
مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی والے آزاد کشمیر کے الیکشن میں اپنی اپنی کامیابی کا ڈھول بجا رہے ہیں ۔۔۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہارے ہوئے ہیں اور جیت اسی مسلح سیاسی پارٹی کی ہوئی ہے جس نے حال ہی میں گلگت بلتستان کا الیکشن جیتا اور اس سے پہلے دو ہزار اٹھارہ اور پھر دو ہزار چوبیس والا پاکستانی الیکشن جیتا تھا
یہ”ہارڈ سٹیٹ “ کی تھیوری پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ جِس خِطہ میں مختلف قومیں اور زبانیں بولنے والے لوگ ہوں وہاں ہارڈ سٹیٹ نہیں بنا کرتے۔ ہم مصر و چین نہیں اور نہ ہی شمالی کوریا۔ یہاں صرف ایک دوسرے سے تعاون کی بنیاد پر ہی ریاست چل سکتی ہے اور افراد اور قوموں کے درمیان تعاون کا ہی دوسرا نام آئین ہے۔
آزاد کشمیر ، بلوچستان ، خیبر پختونخواہ لہو لہان ہیں۔ آزادیاں چھین لی گئی ہیں۔ الیکشن بے معنی ہو گئے ہیں اور معیشت تباہ حال ہے۔ یہ”فیلڈ سٹیٹ “ کی نشانیاں نہیں تو اور کیا ہے؟ ہمیں ہارڈ سٹیٹ کی نہیں ، ایک آئینی سٹیٹ کی ضرورت ہے۔ لوگوں اور قوموں کے حقوق کی ضامن۔
ہر بات کا جواب جیل یا گولی نہیں ہوتا۔ عقل کو ہاتھ دیں، پاکستان کسی بڑے سانحہ”Implosion “ سے اَب کُچھ زیادہ دور نہیں۔
بلوچوں نے بندوق اٹھائی ہے، پشتون دہشت گردی کا شکار ہیں، کشمیری سراپا احتجاج ہیں اور سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ پنجابی ، سندھی اور مہاجر گہری نیند سو رہے ہیں۔ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔
پاکستانی ٹی وی چینلز پر کشمیر کے انتخابات پر فوکس اور وہاں ہونے والی ہلاکتوں اور پرتشدد واقعات اور ریاستی کریک ڈاؤن پر مکمل خاموشی نہایت تکلیف دہ ہے۔
میڈیا کا کام طاقت ور سے جواب طلبی تھا، مگر بلوچستان سے لے کر کشمیر تک اور پشتونخوا سے لے کر سندھ تک ہم نے اپنے لوگوں کو بہت مایوس کیا۔
راولا کوٹ کی صورت حا ل پر ایک مہیب خاموشی ہے۔ سیاسی جماعتیں اور میڈیا مُنہ چھپا کر شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کئے بیٹھا ہے، طاقت کا استعمال قطعی طور پر کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ سیاست دان بعد میں لکیر پیٹنے سے بہتر ہے کہ ابھی میدان میں کودیں ورنہ دیر ہو جائے گی۔