جس طرح ہمارے یہاں چھوٹے ایکسپورٹرز ہیں ا��ے طرح بیرون ملک چھوٹے امپورٹرز بھی ہیں
کوئی 500 ڈالر کا آرڈر دیتا کوئی 1000 ڈالر کا
اور اتنی سی پیمنٹ کے لیے گورے کہتے کوئی ایسا طریقہ بتاو کہ ہم اپنی موبائل ایپ سے پیسے ٹرانسفر کر دیں
جو کے چائینہ میں عام کرتے ہیں
ویسٹرن یونین منی گرام ریمٹلی وغیرہ
لیکن ہمارے والوں نے سخت پابندیاں لگائی ہوئی کہ ایکسپورٹ کی پیمنٹ بینک اکاونٹ میں ہی آئے وہ بھی بینک کے ذریعے ہی
سو ڈالر وہاں سے فیس لگتی بھیجنے کی
اور تیس چالیس یہاں والے کاٹ لیتے
اب جس کا 500 ڈالر کا آرڈر ہو
کیا وہ اتنی سی رقم کے لیے اتنی فیس ادا کرے گا؟؟
نہیں
لہذا گورے اب پاکستان کی جگہ چائینہ اور دوسرے ممالک کو آرڈر دے دیتے
پرانے گھٹیا نظام کی وجہ سے ملکی کاروبار نہیں بڑھتا
ایک عالم کی موت معمولی واقعہ نہیں ہوتا اور حالات یہ بن چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے والے آرمی چیف کے لیے تعریفی کلمات کہنے والے اب پاکستان میں قتل کر دیے جاتے ہیں۔
دس دن مکمل ان کے خلاف پی ٹی آئی، طالبان، پی ٹی ایم اور پشتون نسل پرستوں نے بدترین سوشل میڈیا مہم چلائی، قتل کے لیے لوگوں کو آن لائن اکسایا گیا۔ مگر داد دیجئے ہماری حکومتوں کو کہ کے پی والے ان کا تحفظ نہ کر سکے اور مرکزی سوشل میڈیا ٹیموں نے اس مہم کے خلاف کچھ نہیں کیا۔ اربوں کا بجٹ صرف منسٹر کی تعریفوں اور ہم جیسوں کو گالیوں پر لگ رہا ہے جبکہ فتنہ اور انتشار حاوی آ رہا ہے۔
اس ملک میں اب ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے والے محفوظ نہیں ہیں۔
کون ذمہ دار ہے؟
یہ وہ حرام کی پیدائش والا ٹک ٹوکر ہے جس نے مولانا ادریس صاحب کی اے روز تذلیل کی اور سر عام دھمکیاں دی اور یہ اس ویڈیو میں خود سن لیں کیسے افواج پاکستان اور آرمی چیف کو گالیاں دے رہا ہے علما کرام پے وہی بھونکتا ہے جس ککے ماں باپ کا کوئی اتا پتہ نہیں
سعودی عرب میں موجود متعلقہ ڈپلومیٹک چینل سے بھی یہ پوسٹ سعودی اتھارٹیز کو بھجوا دی گئ ہے اور انہوں نے فوری ایکشن کی یقین دہانی کروائی ہے میں ڈنمارک میں سعودی سفیر کو بھی یہ فارورڈ کر رہا ہوں انشاءاللہ یہ بندہ اپنے انجام کو پہنچے گا
� نداء عاجل إلى السلطات المختصة في المملكة العربية السعودية، وإلى العلماء والدعاة الكرام:
الشخص المعروف باسم “ساقي جان 804” أدار حملة كراهية وتحريض ممنهجة ضد العالم البارز مولانا محمد إدريس، رحمه الله.
لقد استمر هذا التحريض لأيام، حيث كان يحرّض الناس ضده بشكل علني وخطير، وبعد نحو 10 أيام فقط من هذه الحملة، تم اغتيال الشيخ قبل يومين في هجوم إرهابي جبان.
مولانا محمد إدريس لم يكن إلا عالمًا بارزًا وصوتًا داعمًا للسلام، وكان منخرطًا في جهود التهدئة والحوار، إلا أن خطاب الكراهية والتحريض ضده ساهم في خلق بيئة خطيرة انتهت بجريمة اغتياله.
❗ إن استخدام أراضي المملكة لنشر حملات تحريض وتعريض حياة العلماء للخطر أمر لا يمكن السكوت عنه.
نطالب بـ:
فتح تحقيق عاجل في هذا الحساب ونشاطه التحريضي.
محاسبة كل من يثبت تورطه في نشر الكراهية والتحريض.
وقف أي منصات تُستخدم لتهديد حياة العلماء والدعاة.
كما ندعو العلماء إلى إدانة واضحة لهذه الحملات التي تزرع الفتنة وتؤدي إلى سفك الدماء.
رحم الله مولانا محمد إدريس، وحفظ الله العلماء من كل سوء
@Saudi_MoiaEN
@MofaSaudiEN
@SPAregions@HRCSaudi1@Absher@Saudi_Gazette