ہمارے دھرنے کو پورے 4 ماہ ہو گے ہیں، ان 4 ماہ میں ہم نے ظلم کا ہر دور دیکھا اپنے بھائیوں کی لاشیں اٹھائیں، جن پے مان تھا وہ ہمیں نہیں ماریں گے انہوں نے وہ اسلحہ ہم پے استعمال کیا جو انڈیا کے لیے لیا تھا وہ ہم پے چیک ہوا، ان چار ماہ میں ہمیں بس نفرت اور گولی سکھائی گئی۔
پاکستان میں اب فوج کا وجود نہیں رہا بلکہ یہ ایک مکمل عسکری سیاسی پارٹی بن چکی ہے، جس کا چیئرمین عاصم منیر ہے اور ڈی جی آئی ایس آئی اس پارٹی کا جنرل سیکریٹری ہے۔
امریکہ نے جس مشرف کو ٹیشو کی طرح استمعال کیا اسے علاج کے لیے ویزہ دینے سے انکار دیا ۔
قانون قدرت ہے وہ ہر ظالم کو نشان عبرت بناتا ہے ڈالروں کی خاطر اپنی قوم کے خون کا سودا کرنے والے کو ڈالر بھی نہیں بچا سکے ۔ عاصم منیر کا انجام اس سے۔ یادہ عبرت ناک ہو گا ۔انشاء اللہ ۔
🟢 The bonds between Afghanistan and Pakistan are historic and unbreakable: General Hamid Gul (may Allah have mercy upon him). Pre-2015 - exact date unknown.
Short term divergence due to the political leadership in one country or both will not change this historical fact which goes deeper than short-term "national" interests espoused by some day.
پاکستان کا سینیئر 100 سالہ روئیداد خان بلک بلک کر رویا
عمران خان کو جیل میں ڈالنا جیل میں رکھنا ایسا ہے جیسے محمد علی جناح کو جیل میں رکھا گیا ہے۔۔آج اگر جناح ہوتے تو کیا کہتے ؟
ہم نے ان کی بہنوں کو کیوں گرفتار کیا؟ انہوں نے کیا کرنا تھا؟
یہاں ڈی چوک میں آپ نے سیدھا بچوں پر گولیاں برسائیں۔
آخر کیوں؟
مریدکے میں تحریک لبیک والے آئے تو آپ نے درجنوں افراد کو مار دیا۔
اہل تشیع کے تقریباً اٹھائیس بچے آپ نے مار دیے۔
کشمیر میں ایک سو سے زائد افراد مارے گئے۔
آپ آخر کیا کر رہے ہیں؟
کشمیر جل رہا ہے، گلگت بلتستان رو رہا ہے، باجوڑ کے حالات خراب ہیں، اور شدید سردی (زمستان) کے مہینے میں آپ نے آفریدیوں کو اپنے ہی علاقوں سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ اپنے ہی ملک میں، سخت سردی میں چھوٹے چھوٹے بچوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔
کیا ان سب کا کوئی اثر نہیں ہوگا؟ خدا کو مانیں، ایسا مت کریں۔ پشتونخوا وطن کے لوگوں کی خاموشی کو کمزوری ہرگز مت سمجھیں؛ یہ لوگ بندوق کے دھنی ہیں اور دشمنی کا مطلب بخوبی سمجھتے ہیں۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
ناروے کی ایک حامیِ فلسطین (فلسطین حامی کارکن) پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں: "ہم پچھلے 500 دنوں سے زیادہ عرصے سے فلسطین کے لیے رو رہے ہیں۔ انسانیت کے دشمن ہمیں کبھی شکست نہیں دے سکتے۔"