Proud to be a Pakistani | Cricket Lover | Nature Explorer | Big Supporter of Pakistan Team | Tourist by Passion | Sports Mindset | Babar Azam Ka Deewana
آئی ایم ایف اسپیکر کی تنخواہ 13 لاکھ کرنے کی اجازت دیتا ہے، پنجاب کابینہ کی تنخواہ 700 % بڑھانے کی اجازت دیتا ہے، بعد از ریٹائرمنٹ 2 ہزار مفت یونٹ، ہزار لیٹر پیٹرول کی اجازت دیتا ہے، اربوں کے گورنمنٹ ہاؤسز بنانے کی اجازت دیتا ہے
بس جہاں عوام کو ریلیف ملے وہاں IMF غصہ کر جاتا ہے
تمام سیاح جو پہاڑی علاقوں میں ہیں ان سے گزارش ہے ندی نالوں سے دور رہیں، بارشیں جاری ہیں جس کی وجہ سے طغیانی ہے
اپر دیر رات میں سیاحوں کی ایک گاڑی پانی کراس کرتے ہوئے، نالے میں جا گری خوش قسمتی سے ڈرائیور اور تمام مسافر اس حادثے میں محفوظ رہے___
جلد بازی جان کی بازی___
"میں نے اتنی بے حس حکومت نہیں دیکھی کہ جہاں لوگ بجل�� کا بل دیکھ کر خود کشی کر رہے ہوں اور حکومت ایک کمپنی کی طرح چلائی جا رہی ہو، اسلام آباد میں نئے DHA کیلئے یونیورسٹیز کی 250 ایکڑ زمین وزیراعظم نے 24 گھنٹوں میں DHA کو دے دی، اسوقت 10 سے زیادہ وزیر نہیں ہونے چاہییں لیکن ایک وزارت میں وزیر، مشیر، معاون خصوصی، وزیراعظم کا کوارڈینیٹر اور پارلیمانی سیکرٹری سمیت 5-6 لوگ ہیں، پورے جنوبی ایشیا میں تیل پاکستان میں سب سے مہنگا ہے، ڈیتھ سرٹیفیکیٹ سمیت کئی سروسز کی فیس میں 100 فیصد اضافہ ہو چکا ہے"
سینئر صحافی @SanaullahDawn کا ہائبرڈ نظام کی کارکردگی پر بے لاگ تجزیہ
@DRTPakistan
https://t.co/LPkohboWsl
آئی پی پیز کے حوالے سے رؤف کلاسرا کے خوفناک انکشاف💣
108 پاور پلانٹس میں سے 30 کے بارے میں تو بتایا جا رہا ہے کہ وہ موجود ہیں، جبکہ باقی 78 کو آج تک کسی نے دیکھا تک نہیں، قوم کی جیب سے ہر سال 1,800 ارب روپے نکلوائے جا رہے ہیں جو ضائع ہو رہے ہیں۔ مگر ادائیگیاں مسلسل جاری ہیں۔ اور معاہدے مزید 15 سال کے لیے بڑھا دیے گئے ہیں۔ اگلے سال ی��ی بوجھ 2,000 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان میں کوئلے پر لگنے والے بجلی گھروں جیسے ساہیوال،پورٹ قاسم، حبکو میں جس طرح نیپرا اور چند وفادار بیوروکریٹس کی مدد سے جان بوجھ کر زیادہ لاگت دکھا کر مہنگا ٹیرف لیا گیا اس سے 700/800 ملین ڈالرز تک ایک ایک بجلی گھر نے اس ملک اور قوم کو چونا لگایا ہے۔
سینٹ کمیٹی جہاں کوئلے پلانٹس میں ہونے والی بے ضابطگیوں کا کچا چھٹا کھولا گیا، وہاں سے سینٹر ایمل ولی خان کا جواب سنیں۔
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/7c7oIb7h1Y via @YouTube@NeoNewsUR@fawadnb@NasrullahMalik1@RabeeaSK@AimalWali@afnanullahkh
اس وقت 108 بجلی گھر ہیں جنہیں بجلی پیدا کریں نہ کریں اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں۔نیپرا کا ایک سینئر افسر جو ان پلانٹس کی مانٹرینگ/انسپکشن کا ذمہ دار ہے نے آج تک چھ سالوں میں کسی ایک پلانٹ کا وزٹ نہیں کیا
اۤئی پی پیز کو 5 سال میں 13397 ارب کی کل ادائیگیاں کی گئیں، جن میں سے بجلی کی اصل قیمت نصف سے بھی کم 6121 ارب روپے تھی جبکہ بجلی نہ خریدنے کی رقم(کپیسٹی پیمنٹس) 7275 ارب روپے تھی۔۔۔دنیا اخبار میں ذیشان یوسفزئی کی خبر
@Zeeshan_usafzii
اسے کہتے ہیں منہ انگلیاں سر دھڑ سب کچھ کڑاہی میں~یہ بجلی گھر بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں اربوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔ان کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔اب انکشاف ہوا ہے ان کو چار سالوں میں 7000 ارب روپے کی کیپسٹی چارجز کی مدد میں ادائیگی ہوئی ہے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بلکہ کسی کمائی پر ٹیکس نہیں ہے۔😳
سب بھاری ٹیکس، چارجز، لیوی، بلز، عوام نے دینے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جنہیں اتنا کچھ دیا جارہا ہے۔۔
آپ اگر پہلی مرتبہ مری، گلیات سیروتفریح کے لیئے آ رہے ہیں تو یہ ویڈیو آپ کے لیئے ہے
مری، نتھیاگلی، گلیات کے پرفضا مقامات کی تمام تفصیل جانئے اس ویڈیو میں
برینٹ کروڈ 100 سے 88 پر آ گیا مربن کروڈ 97 سے 84 پر آ گیا لیکن آپ حساب کتاب والی بے غیرتی چیک کریں کہ پورے ایک روپے کی کمی کی گئی ہے کوئی تو پینچود یہ حساب کتاب ہمیں سمجھا دے یاررررر
خام تیل سستا ہونے سے پٹرول سستا نہیں ہوتا عالمی منڈی میں ریفائن شدہ تیل مہنگا ہے: وزیر پٹرولیم
عالمی منڈی میں خام تیل ایک سینٹ بھی مہنگا ہو تو پاکستان میں پڑا ریفائن شدہ تیل آٹو میٹک مہنگا ضرور ہوجاتا ہے... کیسے کیسے کُتی سوچ کے ظالم فرعون مسلط ہوئے ہیں ہم پہ.
یہ ہے پاکستان کا خطرناک ترین ٹریک!
گلگت بلتستان کے علاقے تھگس میں واقع مشہور "ڈیتھ ٹریک" ایک نہایت تنگ پہاڑی راستہ ہے، جہاں ایک وقت میں بمشکل ایک ہی شخص گزر سکتا ہے۔روایات کے مطابق اس راستے کی تعمیر کے دوران کئی مزدور جان کی بازی ہار گئے،اسی وجہ سے اسے "ڈیتھ ٹریک" کہا جاتا ہے💀
میں مندر گئی وہاں مجھے کوئی یہاں ٹچ کر رھا کوئی وہاں ٹچ کر رھا
لیکن گوردوارہ میں مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔
الٹا ھمارے لئے دورازے کھول دئیے لنگر ھروقت ملا۔
کوئی ھندو کئے خلاف بولے تو کہتے ہیں اینٹی نیشنل ھے اینٹی ھندو ھے۔
کہتے ہیں ھم گاو رکشا کرتے لیکن گائے کا گوشت ایکسپورٹ ھوتا
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں %5 کمی ہو چکی ہے دعا کریں یہ سستا ہونے والا خام تیل آج ہی پاکستان پہنچ جائے جیسے مہنگا تیل ہر روز پہنچ جاتا ہے۔اب اگر یہ 5 فیصد سستے تیل والے جہاز نیپال کی طرف نکل گئے تو پھر سستے تیل کیلئے مزید کچھ دن انتظار کرنا پڑے گا۔
مفتاح اسماعیل کی بڑی پیشنگوئی: آئل کمپنیز کو دیے گئے 20 ارب کے فائدے پر حکومت کو نیب انکوائری بھگتنی پڑےگی۔۔!
200 روپے فی لیٹر کا پیٹرول، حکومت 340 روپے میں فروخت کررہی ہے۔
جب میں نے ریفائنریز کے ہوشربا منافعے کمانے کا انکشاف کیا تو رانا احسان، علی پرویز ملک جیسے وزراء مجھے معیشت سکھانے لگے لیکن بعد میں وزیراعظم کو خود اعتراف کرنا پڑا کہ آئل ریفائنریز کو 75 ارب کا فائدہ ملا: مفتاح اسماعیل
#HumNews
@MonaAlamm@Jhagra@IhsaanaKhan@SyedNasirHShah@MiftahIsmail
گرین بسیں اور بے وقوف عوام
پنجاب حکومت کے ٹرانسپورٹ منصوبے کے تحت 2000گرین بسوں کا افتتاح کر دیا گیا۔ افتتاح کی تقریب میں سیاست دانوں ، انتظامیہ اور ��وام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یہ منصوبہ کیا ہے، آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
یہ بسیں چین کی Yutong کمپنی سے خریدی گئی ہیں۔ فی بس کی لاگت 2,20,000 امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی روپیوں میں 6 کروڑ 12 لاکھ روپے فی بس بنتی ہے۔ کل منصوبہ 3,000 بسیں خریدنے کا تھا جن میں سے 1,100 بسوں کا پہلا بیچ (batch) 94 ارب روپے میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے بس سٹاپس یا سٹیشنز کی تعمیر پر 18 ارب 90 کروڑ روپیہ خرچ ہوا۔ اس کے بعد 2,000 بسوں کا اگلا بیچ (batch) آیا جس کی لاگت 168 ارب یا 1 کھرب 68 ارب روپے تھی۔ اس کی فی کس ٹکٹ صرف 20 روپے رکھی گئی جبکہ ان بسوں کو چلانے والی کمپنیوں کو سالانہ 37 ارب 55 کروڑ کی ادائیگی کا معاہدہ کیا گیا۔
��ادہ سادہ یہ کہ ان تمام بسوں کی خریداری اور سٹیشنز کی تعمیر پر (280.9=18.9+168+94) 280.90 ارب یا 2 کھرب 80 ارب 90 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اس سے پنجاب حکومت کے لئے خریدے گئے 11 ارب والے گلف سٹریم جہاز جیسے 25 جہاز خریدے جا سکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اس سے بھارتی پنجاب کے بجلی کے اس منصوبے جیسے، جس میں ہر گھر کو مایانہ 300 یونٹس مفت مل رہے ہیں، 9 منصوبے لگائے جا سکتے تھے جس سے پنجاب تو کیا سارا پاکستان سُکھی ہو جاتا اور غریب عوام 199 اور 201 یونٹ والے عذاب سے آزاد ہو جاتے۔ لیکن حکمران بجلی کا منصوبہ لگائیں کیوں؟ کیوں کہ بجلی بنانے کے کارخانے (آئی پی پیز) انہی حکمرانوں کے ہیں اور یہ کیوں چاہیں گے ان کے یہ بھرپور منافع بخش کارخانے بند ہوں۔
اب عوام کو بھی دیکھ لیں۔ اپنے ٹیکس سے خریدی گئی بسوں پر حکمرانوں اور سیاست دانوں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے ہیں جیسے بسیں چلنے سے ان کی زندگیوں کے سارے غم دھل جائیں گے۔ بینرز پر سیاست دانوں کی تصویریں ہیں جیسے ان بسوں کا سارا خرچہ یہ اٹھائیں گے۔ یہ منصوبہ بھی بے نظیر پروگرام کی طرح عوام کو بھکاری بنانے کا ہی منصوبہ ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جا سکتے تھے مگر اس حکومت کو کمائی سے زیادہ خرچے اور اپنی تصویروں کی نمائش کا شوق ہے۔ عوام بھی بسوں میں ایسے خوش ہو رہے تھے جیسے پہلے کبھی بس دیکھی نہ ہو۔
آخر میں شکایت یہ کہ اس طرح کے تجزیئے اور تحریریں جن کی طرف سے ہونی چاہیئیں تھیں، ان کے قلم خاموش ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ اب وہ قلم رکھ دیں اور بوٹ پالش کی ڈبیاں اٹھا لیں۔
میم @MaryamNSharif آپ کیسے میرے ٹیکس کے پیسوں سے کشمیر کو بسس دے سکتی ہیں؟؟؟
دن رات مہنگے سے مہنگا چلان میرے صوبے کے باسی بھریں
تمام صوبوں کی چوری شدہ بجلی کے بل میرے صوبے کے باسی بھریں
پیرا فورس کے بھاری جرمان�� اور مار پیٹ میرے صوبے کے باسی بھگتیں
اور آپ ایک الیکشن کمپین میں اعلان کر کے ہمارا حق کشمیر کو کیسے دے سکتی ہیں؟؟؟